ناران کاغان سے واپسی پر اغوا ہونیوالے نوجوانوں کا سراغ نہ مل سکا

naran11k11h22.jpg


ناران کاغان سے واپسی پر اغوا ہونیوالے نوجوانوں کا سراغ نہ مل سکا، لواحقین کا احتجاج

ملک کے طول وعرض میں شدید گرمی سے پریشان شہری جہاں چند خوشگوار لمحے گزارنے کیلئے ناران کاغان کا رخ کرتے ہیں اور خوشگوار یادیں لے کر واپس آتے ہیں وہیں کچھ لوگوں کیلئے یہ سفر تکالیف کا باعث بن گیا ہے۔


ذرائع کے مطابق سرگودھا کے ایک گائوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 9 افرادسیروتفریح کی غرض سے ناران کاغان گئے تھے، واپسی کے سفر میں وہ 2 گاڑیوں سمیت لاپتہ ہو گئے جن کا 15 دن گزرنے کے بعد بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ناران کاغان سے واپسی پر لاپتہ ہونے والے افراد میں سے ایک نوجوان کی والدہ اپنے بچے کی گمشدگی کا صدمہ نہ سہہ سکی اور دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئی ہے۔


سرگودھا کے گائوں چک 75 جنوبی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 9 نوجوان 2 گاڑیوں میں سوار ہو کر سیروتفریح کی غرض سے 22 جون کو روانہ ہوئے تھے اور واپسی پر لاپتہ ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کی گمشدگی کو 15 دن گزر چکے ہیں تاہم اب تک ان کا پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں ہیں؟ اطلاعات کے مطابق ان تمام افراد کے موبائل فون بھی اب تک بند جا رہے ہیں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے سرگودھا اور فیصل آباد میں موجود اے ٹی ایمز سے رقم بھی نکلوائی گئی ہے۔

گمشدہ نوجوانوں میں سے ایک نوجوان کی والدہ صدمہ نہ سہہ سکیں اور دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئی جس کے بعد ان کے لواحقین نے لاش کو سڑک پر رکھ کر لاپتہ نوجوانوں کو بازیاب کروانے کے لیے احتجاج کیا۔


احتجاج کے باعث سرگودھا کوٹ مومن روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گئی، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو انصاف دلانے کی یقینی دہائی کروائی لیکن اب تک واقعے کی رپورٹ بھی درج نہیں ہو سکی۔