ملک دیوالیہ ہونے کا صرف 10 فیصد امکان ہے، وزیر خزانہ کا دعویٰ

11darnewdawa.jpg

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بلوم برگ نے دیوالیہ ہونے کے خدشات کو 10فیصد کی کم ترین سطح پر رکھا، آئندہ ایک سال میں دیوالیہ کےامکانات کو کم ترین سطح پر رکھا گیا ہے،یہ اس رپورٹ کے بالکل الٹ ہے جو ہمارے ایک سیاسی رہنما نے بتایا تھا۔

اسحاق ڈار نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے تمام مالیاتی وعدوں کی پاسداری جاری رکھے گا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی رہنما نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے امکانات کو93 فیصد پیش کیا جو کہ درست نہیں ہے، پاکستان اپنی ادائيگیوں کی تکمیل بروقت مکمل کرے گا۔


اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی گئی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی ایک فیصد بڑھا کر 16 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد یہ دوسری مانیٹری پالیسی ہے، اس سے قبل بڑھتی مہنگائی کے پیش نطر مانیٹری پالیسی مسلسل سخت کی جارہی تھی اور اس پالیسی کے تحت رواں سال اب تک شرح سود میں 625 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
 

Arshak

Minister (2k+ posts)
Munshi Dar is an habitual liar.He gave false data about Pakistan’s GDP to IMF.A person who admitted on oath that he laundered money on behalf of Sharifs has no credibility.Everyone knows Pakistan is bankrupt.It can’t pay it’s debt instalments.PDM criminals are responsible for detailing the economy which was on the right path.
 

انقلاب

Minister (2k+ posts)
11darnewdawa.jpg

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بلوم برگ نے دیوالیہ ہونے کے خدشات کو 10فیصد کی کم ترین سطح پر رکھا، آئندہ ایک سال میں دیوالیہ کےامکانات کو کم ترین سطح پر رکھا گیا ہے،یہ اس رپورٹ کے بالکل الٹ ہے جو ہمارے ایک سیاسی رہنما نے بتایا تھا۔

اسحاق ڈار نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے تمام مالیاتی وعدوں کی پاسداری جاری رکھے گا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی رہنما نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے امکانات کو93 فیصد پیش کیا جو کہ درست نہیں ہے، پاکستان اپنی ادائيگیوں کی تکمیل بروقت مکمل کرے گا۔


اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی گئی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی ایک فیصد بڑھا کر 16 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد یہ دوسری مانیٹری پالیسی ہے، اس سے قبل بڑھتی مہنگائی کے پیش نطر مانیٹری پالیسی مسلسل سخت کی جارہی تھی اور اس پالیسی کے تحت رواں سال اب تک شرح سود میں 625 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
دس فیصد ان کھوتی دماغوں کا آئی کیو ہے جو تجھے ملک کی معیشت کا مسیحا سمجھ رہے تھے
 
Sponsored Link