ملا عمر کا عید پیغام اور اس کی حقیقت

allahkebande

Minister (2k+ posts)
اس دفعہ عید کا پیغام بڑی دیر سے آیا، شاید طالبان کو اپنی پالیسی وضع کرنے میں تاخیر ہوگئی ۔ جہاں تک جہاد کا تعلق ہے تو افغانستان میں جنگ ملا عمر نے خود مسلط کروائی ۔ القاعدہ بڑے آرام سے ملا عمر کو بے وقوف بنا کر نکل گئی اور افغانوں کو جنگ کرنے کے لئے چھوڑ گئی ۔ ملا عمر پر لازم ہے کہ ایمن الزواہیری سے ان افغان اموات کا حساب لیں جو کے بچائی جاسکتی تھیں اگر اسامہ بن لادن نے مرد بن کر اپنی جنگ خود لڑی ہوتی ۔

شیخ بن لادن نے ملا عمر کو چونا لگا کر افغانستان کو میدان کارزار بنوایا اور خود چھپ کر بیٹھے رہے اور بزدلوں کی طرح بیڈروم میں مارے گئے ۔ نادان افغان ابھی بھی ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں ۔ جنہیں ملا عمر آوارہ اور بے باک کہتے ہیں یہ وہی نوجوان نسل ہے جس کو انہوں نے اپنے امارت کے دور میں نظر انداز کیا ۔ شریعت کے نفاذ کے چکر میں ملا عمر اتنے مست تھے کہ یہ بھی نہ سوچا کہ نظام تعلیم و تربیت سے بدلا جاتا ہے نہ کے ڈنڈے کے زور سے ۔ ملا عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی فراست کی مثالیں بہت خوب دیں ہیں مگر ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں زیتون کی شاخ کچھ عجیب دکھائی دیتی ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ملا عمر نے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور دوسری طرف ان کے طالبان نے گذشتہ پندرہ سال سے ذیادہ شہری اس سال پھڑکا دئیے ہیں - ملا عمر کے پاکستان اور ایران کے بارے میں جذبات اب انہیں چین سے سونے نہیں دیں گے ۔

دولت اسلامیہ واضع طور پر خطے کی حکومتوں پر کفر و الحاد کے فتوے لگا چکی ہے اور ملا عمر کا خطے میں امن کا خواب در حقیقت داعش سے جنگ کا اعلان ہے ۔ طالبان خیر منائیں کے ان کا مقابلہ اس گروہ سے ہے جو امریکی فوجوں کی طرح جنگی اصولوں کی پابندی نہیں کرتا اور جس کی تلواروں پر چمکتا خون مسلمانوں کا ہے ۔ ملا عمر کا پیغام محض نشستن، گفتن و برخاستن سے زیادہ نہیں ۔ طالبان نے پچیس سال افغانوں کا بینڈ بجایا ہے کبھی شریعت کے نام پر تو کبھی جہاد کے نام پر مگر اب داعش کی شکل اپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ہے ۔


http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150715_mulla_omar_peace_talks_rh

newsweek-400x300.jpg


images

article-1300886-0AB453D8000005DC-387_964x642.jpg

 
Last edited by a moderator:

cheetah

Chief Minister (5k+ posts)
American troops following the warring principles what a joke in enmity of Taliban you are denying the facts, Mullah Zaeef was arrested despite the fact he was performing the duties as a diplomat. Taliban taken as POWs were smothered in tanker. Under what law Guantanamo bay was established and how there prisoners were treated permissible ?
 

Ibrahim92

MPA (400+ posts)
Jis group ki jo marzi hay jhooti statement likh kay Mullah OMER k naam pay laga dettay.

Official Statement ya LATTER kia hota hay aur kesa hota hay ! JHOOT Phaylanay walooon ko is say kia is ka CHURAN BIKNA chahiye bass.
 
Last edited:

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
دوسروں کو مرد بننے اور اموات کا بدلہ لینے کا مشورہ وہ دے رہے ہیں جنہوں نے لیٹ کر جان بچائی اور چھ مہینے کا بچہ جنگی قیدی بنا کا آقا و مولا کے حوالے کر دیا

ہینگ لگی نا پھٹکری، لیٹ جانے والوں نے ایک طرف لیٹ کر ڈالر کمائے دوسری طرف اسامہ بن لادن کو آرام سے ایبٹ آباد پہچانے اور قیام تعام مہیا کر کے ریال کھائے

غیر ملکی افواج نے کچھ ہفتے جہوریت کی بمباری کرے افغانوں کی خوب تعلیم و تربیت کی. اسی تربیت کا نتجہ ہے کے پندرہ سال بعد طالبان سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں

طالبان پہلے ہی دام میں ہیں. جمہوریت بچاؤ ساری تعلیم و تریبت اکارت جاتی نظر آ رہی ہے
 
Last edited:

abdlsy

Prime Minister (20k+ posts)
Biggest COWARD AWARD OF MUSLIM HISTORY GOES TO MULLA OMAR AND International COWARD CHAMPION EVERY YEAR FROM 2002 till 2015 and still coward.

Defination of musalman sephasalar kuch bhee hoe apnae deeen, apnae haq PURR BAHDUREE sae Buss MURR MITHOE like Tipu sultan, Salahuddin, Mughals, Sahabae kurram, never heared in muslim history that one hides in a cave like useless Mullah omar, since 2002 till today, UBB toe baharr aaaoe coward, NATO jaa chukka hae.
 
Last edited:

اداس ساحل

MPA (400+ posts)
دوسروں کو مرد بننے اور اموات کا بدلہ لینے کا مشورہ وہ دے رہے ہیں جنہوں نے لیٹ کر جان بچائی اور چھ مہینے کا بچہ جنگی قیدی بنا کا آقا و مولا کے حوالے کر دیا

ہینگ لگی نا پھٹکری، لیٹ جانے والوں نے ایک طرف لیٹ کر ڈالر کمائے دوسری طرف اسامہ بن لادن کو آرام سے ایبٹ آباد پہچانے اور قیام تعام مہیا کر کے ریال کھائے

غیر ملکی افواج نے کچھ ہفتے جہوریت کی بمباری کرے افغانوں کی خوب تعلیم و تربیت کی. اسی تربیت کا نتجہ ہے کے پندرہ سال بعد طالبان سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں

طالبان پہلے ہی دام میں ہیں. جمہوریت بچاؤ ساری تعلیم و تریبت اکارت جاتی نظر آ رہی ہے

اللہ نے عقل تو بن لادن کو بھی عطا کی تھی کیا اس نے ریال اور ڈالر کی بجائے مسلمانوں کی فلاح کے بارے میں سوچا ؟

دہشت گرد اللہ کے کلام کو جنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے

جس طور سے سے آج ابوبکر البغدادی مسلم دنیا کو فتح کرنے چلا ہے، اس کی لپیٹ میں افغانستان بھی آئے گا اور ملا عمر اور اس کے طالبان بھی ۔

بمباری تو طالبان پر ہوئی جنہوں نے مادر وطن کو القائدہ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا تو پھر وہ کاہے کے افغان رہے ؟

یہ تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ کروڑوں افغانوں نے ووٹ کی سیاہی سےدہشت گردی کا منہ کالا کردیا ۔

فکر مت کریں، داعش کا ٹارگٹ بھی ننگرہار میں چھپے طالبان ہی ہیں، جمہوریت نہیں
 

اداس ساحل

MPA (400+ posts)
Jis group ki jo marzi hay jhooti statement likh kay Mullah OMER k naam pay laga dettay.

Official Statement ya LATTER kia hota hay aur kesa hota hay ! JHOOT Phaylanay walooon ko is say kia is ka CHURAN BIKNA chahiye bass.


جیسے آپ البغدادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ مغربی میڈیاکی باتوں پر کان نہ دھرا جائے اسی طرح شھامت ڈاٹ کام طالبان کی نمائندگی کرتی ہے اور ہر ایرا غیرا اس پر نہیں چیزیں لگاتا ہاں اگر آپ کو علم ہے کہ ملا عمر وفات پا چکے ہیں تو یہ اور بات ہے ۔ نیچے آفیشل اسٹیٹمنٹ ہے


 

Khair Andesh

Chief Minister (5k+ posts)

جیسے آپ البغدادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ مغربی میڈیاکی باتوں پر کان نہ دھرا جائے اسی طرح شھامت ڈاٹ کام طالبان کی نمائندگی کرتی ہے اور ہر ایرا غیرا اس پر نہیں چیزیں لگاتا ہاں اگر آپ کو علم ہے کہ ملا عمر وفات پا چکے ہیں تو یہ اور بات ہے ۔ نیچے آفیشل اسٹیٹمنٹ ہے

اس مرتبہ عید کا پیغام ذیادہ جامع، اور غیر روایتی اور پہلے سے ذیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
اس میں؛
اپنے عزم کا اعادہ ہے
یہ بات ٹھیک ہے کہ ملک کے بہت سے وسیع علاقے مجاہدین نے فتح کردیے ہیں مگر ہماری یہ جہادی مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہماراملک مکمل طورپر کفری جارحیت سے پاک ہوگا اور یہاں اسلامی نظام کی مکمل حاکمیت ہوگی ۔
داعش کارڑ یا کسی بھی اور طریقے سےمجاہدین کو آپس میں لڑواکر انہیں کمزور کرنے کے خواب دیکھنے والوں کےلئے بری خبر ہے
لہذا ہمارے ملک میں جہادی صف کو متحد رکھنا ایک شرعی فریضہ ہے ۔ اس لیے ہم نے تمام مجاہدین کو حکم دے دیا ہے کہ اپنا اتحاد مضبوط رکھیں اور جو لوگ اختلاف کرتے ہیں ، جہادی صف خراب کرتے ہیں یا مجاہدین کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا راستہ سختی سے روکیں ۔
مستقبل کی امریکی استعماری حکومت کے اثر سے سو فیصد پاک، افغانوں کی اپنی اسلامی حکومت کا خاکہ اور خوشخبری ہے۔
امارت اسلامی کی تشکیلات میں ملک کے تمام حصوں اور تمام لسانی طبقات سے صالح اور سمجھدار لوگ شریک ہیں ، جوگذشتہ 36 سالہ تجربات اور پھر آخری بیس سالوں کی ذمہ داریوں سے بہت کچھ حاصل کرچکے ہیں ۔ لہذا کوئی اس تشویش کا شکار نہ ہو کہ اگر امارت اسلامی کی حکومت آگئی تو کیا ہوگا ۔ میں آپ سب کو اطمینان دلاتاہوں کہ آنے والا انقلاب ایسا نہیں ہوگا جس طرح کمیونسٹ حکومت کے خاتمے سے سب کچھ ختم ہوکر رہ گیا تھا ۔
پروپیگنڈوں کا جواب ہے۔
کچھ حلقے مجاہدین پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ پاکستان اور ایران کے لوگ ہیں ۔ ان کے یہ خیالات اور الزامات انتہائی ظالمانہ اور خلاف حقیقت ہیں ۔ کیوں کہ ہماری گذشتہ تاریخ اور رواں صورتحال ان دعووں کی تصدیق نہیں کرتی ، اور آئندہ کی تاریخ بھی اس تہمت کے خلاف گواہی دے گی ، ان شاء اللہ۔
خون خرابہ سے ہر ممکنہ حد تک بچنے کی تلقین ہے۔
مجاہدین بھائیو ! ابھی جب اللہ تعالی نے فتوحات کے دروازے تم پر کھول دیے ہیں تو کوشش کرو کہ مخالف صف کے لوگوں کودعوت کے ذریعے باطل راہ سے نجات دلاو۔ ان کو حفاظت اور باعزت زندگی کے راستے مہیا کرو۔
اور تمام مسلمانوں سے اعانت و مدد اور دعا کی اپیل ہے۔
پوری دنیا خصوصا افغانستان کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ فتوحات کے اس شروع ہونے والے سلسلے میں جس طرح گذشتہ 14 سال تک جان ومال سے مجاہدین کی مدد کی ، اب پہلے سے بھی زیادہ ان کی مدد اور ان کا تعاون کریں ۔ اس بات پر تمھاری توجہ رہے کہ جہاد ہم میں سے ہر شخص پر فرض عین ہے ۔ اگر کوئی شخص خود جہادی محاذ پر نہیں جاسکتا وہ ایک مجاہد کی تیاری اور جہادی صفوں کے ساتھ مالی ، سیاسی اور ثقافتی وابلاغی طریقوں سے تعاون کرکے جہادی فریضہ ادا کرسکتا ہے
 

Khair Andesh

Chief Minister (5k+ posts)
اللہ نے عقل تو بن لادن کو بھی عطا کی تھی کیا اس نے ریال اور ڈالر کی بجائے مسلمانوں کی فلاح کے بارے میں سوچا ؟

دہشت گرد اللہ کے کلام کو جنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے

جس طور سے سے آج ابوبکر البغدادی مسلم دنیا کو فتح کرنے چلا ہے، اس کی لپیٹ میں افغانستان بھی آئے گا اور ملا عمر اور اس کے طالبان بھی ۔

بمباری تو طالبان پر ہوئی جنہوں نے مادر وطن کو القائدہ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا تو پھر وہ کاہے کے افغان رہے ؟

یہ تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ کروڑوں افغانوں نے ووٹ کی سیاہی سےدہشت گردی کا منہ کالا کردیا ۔

فکر مت کریں، داعش کا ٹارگٹ بھی ننگرہار میں چھپے طالبان ہی ہیں، جمہوریت نہیں
جس طرح آج کے مسلمان ٹیپو سلطان کی شیر کی ایک دن والی زندگی پر فخر کرتے ہیں، اسی طرح مستقبل کے مسلمان اس بات پر بھی فخر کریں گے کہ ان کے اسلاف میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنا تن من دھن، حکومت سب کچھ قربان کیا مگر اپنے مہمان کو کفار کے ہاتھوں نہیں بیچا۔
اور (الحمد لللہ)یہ تو خدا کی نصرت اور اس کافضل ہے کہ طالبان افغانستان کی ایک حقیقت ہیں، جس کا انکار مشکل ہے، مگر اگر کبھی حالت یہ ہوتی کہ آخری مجاہد بھی جام شہادت نوش کر جاتا، تب بھی وہ کامیاب ٹھہرتے ، کہ فتح اور شکست کا معیار ہی یہ ہے کہ جو اپنے نظریہ پر جما رہا، اور گردن کٹوانا تو گوار اکی مگر وقت کے طاغوت کے آگے جھکنے سے انکار کیا، وہی تاریخ کا فاتح اور ہیرو ہے ہے۔

باقی کوئی جتنی مرضی کہانیاں بنا لے، الزام لگا لے، تاریخ کی گواہی یہی ہو گی۔
 

Ibrahim92

MPA (400+ posts)

جیسے آپ البغدادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ مغربی میڈیاکی باتوں پر کان نہ دھرا جائے اسی طرح شھامت ڈاٹ کام طالبان کی نمائندگی کرتی ہے اور ہر ایرا غیرا اس پر نہیں چیزیں لگاتا ہاں اگر آپ کو علم ہے کہ ملا عمر وفات پا چکے ہیں تو یہ اور بات ہے ۔ نیچے آفیشل اسٹیٹمنٹ ہے




there,s no sign of Mullah Omer Mujahid to be alive these days,Those Political indivisuals are using his Name and hiding the Truth.

[h=1]Statement of ‘Uthman Ghazi[/h] [h=1]Amir of the Islamic Movement in Uzbekistan[/h]

http://justpaste.it/ghazi3170
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
اللہ نے عقل تو بن لادن کو بھی عطا کی تھی کیا اس نے ریال اور ڈالر کی بجائے مسلمانوں کی فلاح کے بارے میں سوچا ؟

دہشت گرد اللہ کے کلام کو جنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے

جس طور سے سے آج ابوبکر البغدادی مسلم دنیا کو فتح کرنے چلا ہے، اس کی لپیٹ میں افغانستان بھی آئے گا اور ملا عمر اور اس کے طالبان بھی ۔

بمباری تو طالبان پر ہوئی جنہوں نے مادر وطن کو القائدہ کے ہاتھوں بیچ دیا تھا تو پھر وہ کاہے کے افغان رہے ؟

یہ تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ کروڑوں افغانوں نے ووٹ کی سیاہی سےدہشت گردی کا منہ کالا کردیا ۔

فکر مت کریں، داعش کا ٹارگٹ بھی ننگرہار میں چھپے طالبان ہی ہیں، جمہوریت نہیں

اسامہ بن لادن کے نزدیک افغانستان کو روسی استبداد سے آزاد رکھنے میں مسلمانوں کی فلاح ہے سو اس نے وہ کیا

کلام الله دہشت گردوں کے عمل کرنے کے لئے ہے بھی نہیں اور صرف تحصیل و ایصال ثواب کی کتاب بھی نہیں ہے

داعش کے ہاتوں جمہورے بچ جائیں گے؟

لگتا ہے طالبان اور القاعدہ کی ڈیل آپ ہی نے کروائی تھی اور انہی پیسوں کے بدلے ایبٹ آباد میں اسامہ کے قیام و طعام کا انتظام بھی کیا
وہی سیاسی بھارتی قونصل خانوں کی صورت میں پاکستان کا منہ چڑا رہی ہے. ایسے ووٹوں کی سیاہی امریکی خود امریکہ میں قبول نہیں کریں گے لیکن تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو یہ بات کون سمجھائے

داعش کا ٹارگٹ طالبان بھی تو جمہوریوں کی ٹانگیں کو کانپ رہی ہیں. دیوار پر چار حروف لکھے دیکھ کا جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے
 

Shanzeh

Minister (2k+ posts)

شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ستم ظريفی ديکھيں کہ طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے حمايتی ايک ايسے شخص کی تعريف ميں زمين آسمان کے قلابے ملا رہے ہيں جو تن تنہا ہزاروں بے گناہ شہريوں کی موت کا ذمہ دار ہے اور جس کے حواری آج صرف اس بنياد پر اپنی اہميت برقرار رکھنے ميں کامياب ہيں کہ وہ انتہائ بزدلانہ طريقے سے عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہے ہيں اور کھوکھلے بيانات جاری کر رہے ہيں۔

طالبان کے ليڈر کی جانب سے عيد کے مبارک موقع پر "امن" اور"سلامتی" جيسے الفاظ کا استعمال خاصا حيران کن ہے کيونکہ ان کی خود ساختہ "تحريک آزادی" نے ہميشہ عيد، نماز جمعہ، جنازوں اور ديگر مذہبی اجتماعات کو بڑے پيمانے پر عام انسانوں کے خلاف خونی حملوں کے ليے استعمال کيا ہے۔

باوجود اس کے کہ ان کی تاريخ، افغانستان اور پاکستان ميں عام انسانوں کے خلاف بزدلانہ اور بے رحم حملوں سے عبارت ہے، اب بھی ايسے راۓ دہندگان موجود ہيں جو ان حملوں کی "کاميابی" کی بنياد پر انھيں افغانستان ميں فتح کی تھپکی دے رہے ہيں۔

افغانستان کے "مقدس آزادی کے سپاہيوں" کی کاميابی کے ليے دعا گو ہونے اور اپنے وطن کی آزادی کے نعرے کے تحت خود ساختہ جہاد کے ضمن ميں کلمہ خير کہنے سے پہلے بہتر ہوتا کہ ملا عمرايک نظر ان مظالم پر بھی ڈاليں اور بے گناہ شہريوں کے دانستہ قتل کے اعداد وشمار کو بھی ملحوظ رکھيں جنھيں يہ لوگ اسلام کا نام لے کر جائز قرار دے رہے ہيں۔

اگر کاميابی کا نيا معيار يہ ہے کہ معصوم بچوں اور خواتين سميت کتنے بے گناہ افراد کو قتل کيا جا چکا ہے تو پھر يقینی طور پر يہ دہشت گرد گروہ اس تعريف اور توصيف کے مستحق ہيں جو يہ خود اپنے ہی ليے کر رہے ہيں۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ ہمارا مشترکہ دشمن بے گناہ جانوں کی حفاظت کی ہماری حکمت عملی اور فيصلے کو ہماری شکست اور کمزوری سے تعبير کرتا ہے۔ ليکن حقيقت يہی ہے کہ فتح کے جو غلط دعوے اور تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی بنياد صرف ان بے گناہوں کا خون ہے جو روزانہ جنگی حکمت عملی کے نام پر ان دہشت گردوں کی جانب سے بہايا جا رہا ہے۔

طالبان قيادت کا يہ دعوی صريح غلط ہے کہ ايک ايسی سوچ يا فلسفہ جو نا صرف يہ کہ تشدد کی ترغيب دے بلکہ کم سن بچوں کو خودکش بمبار بنا کر ہتھيار کے طور پر استعمال کرنے کو درست قرار دے وہ مذہبی ثقافتی يا روايتی وابستگيوں سے قطع نظر کبھی بھی عوامی پذيرائ حاصل کر سکتی ہے۔ بلکہ حقيقت تو يہ ہے کہ گزستہ ايک دہائ کے دوران دہشت گردی کی لہر اور ان دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دانستہ ايک حکمت عملی کے تحت بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانا ايسے عوامل ہيں جن سے عام لوگ اب يہ شعور اور ادارک رکھتے ہيں کہ ان کا مستقبل کبھی بھی ان عناصر کے ہاتھوں ميں محفوظ نہيں رہ سکتا جو خوف اور تشدد کی بنياد پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے پر يقين رکھتے ہيں۔

افغانستان ميں اپنے تئيں جن "معزز سپاہيوں" کی عظيم فتوحات کا ذکر اپنی کھوکھلی تقارير اور جذباتيت پر مبنی پيغامات ميں کيا جا رہا ہے وہ نا صرف يہ کہ تناظر سے ہٹ کر غلط تاثر پيدا کرنے کی بھونڈی کوشش ہے بلکہ ان ہزاروں معصوم افغان شہريوں کے ذکر کے بغير نامکمل ہے جو گزشتہ کئ برسوں کے دوران مساجد، بازاروں، سکولوں، جنازوں اور ديگر عوامی مقامات پر خودکش حملوں اور بم دھماکوں ميں مارے جا چکے ہيں۔

شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg

 

allahkebande

Minister (2k+ posts)
there,s no sign of Mullah Omer Mujahid to be alive these days,Those Political indivisuals are using his Name and hiding the Truth.

Statement of ‘Uthman Ghazi

Amir of the Islamic Movement in Uzbekistan



http://justpaste.it/ghazi3170

ابو بکر البغدادی کو ایک سال سے کسی نے نہیں دیکھا ۔ وہ بھی ملا عمر کی طرح غائب ہیں اور داعش والے ان کا نام استعمال کررہے ہیں ۔
اسلامک موؤمنٹ آف ازبکستان کوئی طالبان کی ترجمان نہیں ۔ طالبان نے کب ملا عمر کی موت کی خبر جاری کی ؟
 

اداس ساحل

MPA (400+ posts)
جس طرح آج کے مسلمان ٹیپو سلطان کی شیر کی ایک دن والی زندگی پر فخر کرتے ہیں، اسی طرح مستقبل کے مسلمان اس بات پر بھی فخر کریں گے کہ ان کے اسلاف میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنا تن من دھن، حکومت سب کچھ قربان کیا مگر اپنے مہمان کو کفار کے ہاتھوں نہیں بیچا۔
اور (الحمد لللہ)یہ تو خدا کی نصرت اور اس کافضل ہے کہ طالبان افغانستان کی ایک حقیقت ہیں، جس کا انکار مشکل ہے، مگر اگر کبھی حالت یہ ہوتی کہ آخری مجاہد بھی جام شہادت نوش کر جاتا، تب بھی وہ کامیاب ٹھہرتے ، کہ فتح اور شکست کا معیار ہی یہ ہے کہ جو اپنے نظریہ پر جما رہا، اور گردن کٹوانا تو گوار اکی مگر وقت کے طاغوت کے آگے جھکنے سے انکار کیا، وہی تاریخ کا فاتح اور ہیرو ہے ہے۔

باقی کوئی جتنی مرضی کہانیاں بنا لے، الزام لگا لے، تاریخ کی گواہی یہی ہو گی۔


ایک قاتل شخص کیسے کسی باضمیر شخص کا مہمان ہوسکتا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تو مسلمان اور یہودی کے بیچ ہونے والے تنازعہ پر یہودی کا ساتھ دیا تھا کیونکہ وہ حق پر تھا ۔ اسامہ بن لادن ایک قاتل تھا اور ملا عمر نے اسے پناہ دے کر افغانوں کلچر کا منہ کالا کیا نہ کہ اپنے اسلاف کی تقلید کی

اور اب جب ملا عمر کی گردن کٹ ہی چکی ہے تو یہ جعلی خط کیوں نکل رہا ہے اس کے نام سے؟

 

Shanzeh

Minister (2k+ posts)
Mullah Zaeef was arrested despite the fact he was performing the duties as a diplomat.

شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ امريکی حکومت نے افغانستان ميں کبھی بھی طالبان کی حکومت کو تسليم نہيں کيا تھا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی حمايت سے افغانستان ميں ہونے والی فوجی کاروائ کے بعد افغانستان ميں طالبان کی فعال حکومت کا کوئ وجود نہيں تھا۔

يہ بات نہيں بھولنی چاہيے کہ جس حکومت کی جانب سے کسی سفارت کار کی سفارتی حيثيت کا تعين يا منظوری دی جاتی ہے جب اس حکومت کا اپنا وجود ہی نہ رہے تو اس سفارتی حيثيت کی بھی کوئ اہميت باقی نہيں رہ جاتی۔

ايک جنگی صورت حال يا فوجی غلبے کی صورت ميں جينيوا کنونشن کے سفارتی استثنی سے متعلق قوانين ايک ايسا قانونی معاملہ ہوتا ہے جس پر عمل درآمد ايک سواليہ نشان بن جاتا ہے۔ جب سال 1990 ميں عراق نے کويت پر قبضہ کيا تھا تو کويت ميں موجود غیر ملکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بند کرنے کے ليے اقدامات کيے گۓ تھے۔

جہاں تک ملا ضعيف کا تعلق ہے تو پاکستان ميں ان کی گرفتاری کے وقت انھيں سفارتی استثنی حاصل نہيں تھی کيونکہ افغانستان ميں طالبان کی وہ حکومت ہی موجود نہيں تھی جو انھيں يہ سہولت فراہم کر سکتی۔

اس کے علاوہ يہ بات بھی غور طلب ہے کہ ملا ضعيف ايک ايسی حکومت کے اعلی عہديداروں کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے تھے جو عالمی دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دينے اور ان کی حمايت کرنے کے جرم ميں شامل تھے۔ يہ ايک ايسی حقيقت ہے جسے اقوام متحدہ نے نہ صرف يہ کہ تسليم کيا بلکہ سرکاری طور پو طالبان کی حکومت کو سيکورٹی کونسل کی کئ قراردادوں کے ذريعے باور بھی کروايا۔

"کومبيٹنٹ اسٹيٹس ريوو" ٹريبيونل کے سامنے الزامات کے حوالے سے جو دستاويز پيش کی گئ تھی اس کے مطابق

گرفتار ہونے والا طالبان کا رکن تھا۔

گرفتار ہونے والے شخص نے يہ خود تسليم کيا تھا کہ اس نے سال 1996 ميں طالبان میں شموليت اختيار کی تھی۔

طالبان کے لیڈر کی جانب سے گرفتار ہونے والے شخص کو اقغانستان کے سنٹرل بنک کا صدر مقرر کيا گيا تھا۔

اس کے علاوہ طالبان کے ليڈر کی جانب سے گرفتار ہونے والے شخص کو افغانستان کی معدنيات اور انڈسٹری سے متعلق وزارت ميں ڈپٹی وزير کے عہدے پر فائز کيا گيا تھا۔

اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے شخص کو طالبان حکومت نے کابل ميں ٹرانسپورٹ کی وزارت پر فائز کيا جہاں پر 3 ماہ کام کيا۔

گرفتار ہونے والے شخص کا آخری عہدہ پاکستان ميں طالبان حکومت کے سفير کی حيثيت سے تھا جہاں پر 18 ماہ تک دسمبر 2001 ميں اپنی گرفتاری تک کام کيا۔

طالبان کی تحريک کے ابتدائ دنوں میں طالبان اور القا‏ئدہ کے فعال کمانڈرز افغانستان کے شہر کابل اور گرد ونواح کے علاقوں سے گرفتار ہونے والے شخص کو طالبان کے "ڈپٹی ڈيفنس" کی حيثيت ميں رپورٹ کيا کرتے تھے۔

پاکستان ميں طالبان کے سفير کی حيثيت سے ان کے طالبان کی سينير ليڈرشپ کے ساتھ قريبی تعلقات تھے۔


شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg
 

Shanzeh

Minister (2k+ posts)
Under what law Guantanamo bay was established and how there prisoners were treated permissible ?


شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

گوانتاناموبے ميں موجود قيد خانے کی قانونی توجيہہ اور وہاں پر قيديوں کو رکھنے کی منطق کے ضمن ميں آپ کی راۓ "اينمی کمبيٹنٹ" سے متعلق قوانين اور ان زمينی حقائق کے تناظر ميں ہونی چاہيے جو نو گيارہ کے سانحے کے بعد ہمارے سامنے ايک چيلنج کی صورت ميں موجود تھے۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ گيارہ ستمبر 2011 کے حملے امريکہ کے خلاف اقدام جنگ کے مترداف تھے۔ ان حملوں کی نوعيت اور شدت ايک جنگ کے مساوی تھی۔ ان حملوں ميں کم ازکم ايک ہدف پينٹاگان خالص عسکری نوعيت کا تھا۔ يہ بھی ياد رہے کہ امريکی تنصيبات پر يہ پہلے حملے نہيں تھے بلکہ اس سے پہلے قريب دس سالہ عرصے ميں امريکی شہريوں اور امريکی تنصيبات پر لاتعداد حملے کيے گۓ۔

ستمبر 18 2001 کو کانگريس نے امريکی صدر کو يہ اختيار ديا تھا کہ وہ ان حملوں کے جواب ميں طاقت کا استعمال کر سکتے ہيں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ اور نيٹو نے بھی اس بات کی توثيق کی تھی کہ امريکہ کی جانب سے جارحانہ کاروائ اقوام متحدہ کے چارٹر اور نيٹو ٹريٹی کے عين مطابق ہو گی۔ ستمبر گيارہ 2001، بلکہ اس سے بھی کچھ سال پہلے امريکہ قانونی طور پر بھی اور زمينی حقائق کے عين مطابق بھی حالت جنگ ميں ہے۔ اس ضمن ميں آپ کو يہ بھی ياد رکھنا چاہيے کہ اسامہ بن لادن نے قريب ايک دہائ پہلے عوامی سطح پر امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کيا تھا۔ حالت جنگ کی صورت ميں کچھ ايسے قوانين اور ضوابط کا اطلاق حکومت کی صوابديد پر ہوتا ہے جن کا استعمال امن کی حالت ميں ممکن نہيں ہوتا۔ انھی قوانين ميں امريکی صدر کو يہ اختيار بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک "اينمی کمبيٹنٹ" کو زير حراست رکھ سکتے ہيں جب تک یہ حملے رک نہيں جاتے۔

جب آپ قيديوں کو گوانتاناموبے ميں رکھنے کی منطق پر بات کرتے ہیں تو آپ کو ان زمينی حقائق اور سيکورٹی کے حوالے سے درپيش خدشات بھی مد نظر رکھنے چاہيے جو 911 کے واقعے کے بعد درپيش تھے۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود تھے کہ دہشت گردوں کے مزيد سيل مختلف ممالک ميں اسی طرح کی مزيد کاروائياں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت اور مقصد ان دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان معلومات کا حصول تھا جس کی بنياد پر دہشت گردی کی مزيد کاروائيوں کو روکا جا سکے۔ ميں آپ کو يہ بھی ياد دلانا چاہتی ہوں کہ جو افراد 911
جيسے دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرتے ہيں وہ معمولی مجرم نہيں ہوتے۔

يہ امريکی انتظاميہ کا فيصلہ تھا کہ ان مجرموں کو قيد رکھنے کے ليے گوانتاناموبے، جو کہ امريکی حکومت کے دائرہ کار کے اندر آتا ہے ايک محفوظ اور موزوں مقام ہے۔

علاوہ ازيں ميں واضح کر دوں کہ امريکی حکومت گوانتاناموبے کو بند کرنے کے ليے پوری تندہی سے کام کر رہی ہے تاہم اس ضمن ميں حتمی نتيجہ کئ بيرونی حکومتوں کے باہم تعاون پر منحصر ہے۔

شانزے خان ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg