
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے،جس میں کمیٹی نے لگژری اور غیر ضروری اشیا کی درآمد پر 30 جون 2022 سے پابندی کے خاتمے کی توثیق کردی۔
کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر پانچ بنیادی اشیا پر سبسڈی کو جاری رکھنے کی منظوری دی،جانوروں میں لمپی اسکن بیماری کے پیش نظر نیشنل ڈیزیز ایمرجنسی نافذ کرنے سے متعلق سمری کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کو چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز اور این ڈی ایم اے کے ساتھ ملاقاتوں و مشاورت کے ساتھ لاگت میں شراکت داری کا پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے افغانستان سے پاکستانی روپیوں میں درآمدات کی اجازت کے علاوہ پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنیکی بھی منظوری دے دی،جس کیلئے امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترامیم کی جائے گی،ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت افغانستان کیلئے 1 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم درآمد کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔
ای سی سی نے ٹیلی کام لائسنس کے اجرا کے لیے کمیٹی قائم کی،اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے فنڈز منظوری بھی دی گئی،وزارت اقتصادی امور اور وزارت منصوبہ بندی کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری اوربینک آف خیبر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں مالی سال 2021-22 کیلئے ملنے والی غیر ملکی امداد کو توپے میں استعمال کیلئے ٹیکنیکل سپلمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔