مظاہر نقوی کو 10 کروڑ ادائیگی کے بینک ڈرافٹس سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش

mizhai11hh311.jpg


ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرصدارت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں نجی بینک منیجر نے جسٹس (ر) مظاہر علی نقوی کو 5,5 کروڑ روپے مالیت کے بینک ڈرافٹس کا ریکارڈ پیش کر دیا۔


جوڈیشل کونسل اجلاس میں گواہ چوہدری شہباز بھی پیش ہوئے جن سے اراکین کونسل نے سوال کیا کہ کیا آپ کی مرحوم اہلیہ بسمہ وارثی کا کیس کبھی مظاہر نقوی کی عدالت میں زیرسماعت رہا ہے؟ جس پر گواہ نے بتایا کہ اہلیہ کے چیک ڈس آنر کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج مظاہر نقوی کی عدالت میں چلتا رہا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران لاہور وکیپیٹل سمارٹ سٹی کے مالک زاہد رفیق نے حلفیہ بیان میں کہا کہ پچھلی 4 دہائیوں سے تعمیرات کے شعبہ میں ہوں اور 8 کمپنیاں میری زیرملکیت ہیں، مظاہر نقوی سے ملاقات لینڈ پرووائیڈر صفدر کے ذریعے ہوئی۔ جوڈیشل کونسل نے ادائیگی بارے سوال کیا تو زاہد رفیق نے بتایا کہ ہم نے راجہ صفدر کو ادائیگی کی تھی۔

زاہد رفیق سے مظاہر نقوی سے ملاقاتوں بارے سوال پر اس نے بتایا کہ مظاہر نقوی کے گھر میں ان سے 2 دفعہ ملاقات ہوئی، ان کے دونوں بیٹوں کو بھی جانتا ہوں، ہماری کمپنی ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ مظاہر نقوی کے بیٹوں کی لاء فرم کو ادا کرتی رہی۔ مظاہر نقوی کی بیٹی کو لندن میں ایمرجنسی پیسوں کی ضرورت پڑنے پر راجہ صفدر نے مجھے ادائیگی کرنے کو کہا تو میں نے دبئی میں دوست کے ذریعے ادائیگی کی۔

زاہد رفیق کا کہنا تھا کہ مظاہر نقوی کی بیٹی کو 5 ہزار پائونڈز کی رقم لندن بھجوائی جو ہمیں اب تک واپس نہیں کی گئی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا راجہ صفدر نے آپ کی کسی اور جج سے کبھی ملاقات کروائی؟ جس پر انکار کرتے ہوئے کہاکہ مظاہر نقوی کے 2 بیٹوں کو 16 اپریل 2019ء کو 500 مربع گز 54،54 لاکھ مالیتی پلاٹ دیئے جن کی 10 فیصد رقم ادا ہوئی لیکن دونوں پلاٹس انہیں ٹرانسفر ہو چکے ہیں۔

مظاہر نقوی کے بیٹوں کو لاہور سمارٹ سٹی میں 80،80 لاکھ روپے مالیت کے 2 کمرشل پلاٹس بھی دیئےجو انہوں نے بیچ دیئے، کتنے میں بیچے اس کا علم نہیں، ان کے ایک بیٹے کی شادی میں بھی شرکت کی۔ پراسیکیوٹر عامر رحمان نے کہا کہ مظاہر نقوی کے خلاف الائیڈ پلازے کے حوالے سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔

چیئرمین جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مظاہر نقوی صاحب اگر چاہیں تو گواہان پر اپنے وکیل کے ذریعے جرح کر سکتے ہیں، دوبارہ سے کہہ رہے ہیں لیکن اگر کوئی پیش نہ ہوا تو یہ سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس دفاع کیلئے کچھ نہیں ہے۔ جوڈیشل کونسل اجلاس کی کارروائی کو ملتوی کر کے زاہد رفیق کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متعلقہ دستاویزات کل تک پیش کریں۔
 

Nebula

Minister (2k+ posts)
Raja sardar har aik koo 5 lakh pond kisii Kay kehna per Dai daita hai. Itnaa Seedha saadha Bhola hai. Kisi doost Kay zarya..money laundering Kari. UK Mai 10 saal kii qaid milay gi. Naam tu Bata uss doost kaa.