مشرق وسطیٰ میں نئے کھیل کا خاکہ

ابابیل

Senator (1k+ posts)
263-600x330.jpg


مشرق وسطیٰ میں نئے کھیل کا خاکہ


''وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ ورسم شاہبازی''

طویل عرصہ تک امریکہ کی گود میں بیٹھ کر عرب ممالک نے اپنا یہی حال کر لیا تھا۔ دولت تو گویا آسمان سے برس رہی تھی۔ رفاہ عامہ کے بھی کئی کام ہوئے لیکن تعلیم و تحقیق کے میدان میں پیشرفت نہ ہو سکی۔ جنگجو نسل کے طور پر درخشاں تاریخ اور کارنامے قصہ پارینہ ہو چکے تھے۔ عرب ہونے کا مطلب ہی یہی ہوتا تھا کہ مال و دولت کی فراوانی اور تن آسانی کے ساتھ فضول خرچی میں کسی طور پیچھے نہ رہا جائے۔ عیاشی کی داستانیں تو عام تھیں ہی لیکن امریکہ اور یورپ کے بڑے بڑے جوئے خانے بھی انہی کے دم سے آباد رہے۔ تمام عرب ممالک سے قدرے ہٹ کر سعودی عرب کا دنیا اور خطے کی سیاست میں اہم کردار بہر طور موجود رہا۔ افغانستان میں روسی جارحیت کے بعد جہاد شروع ہوا تو کئی سعودی نوجوانوں نے لڑائی میں عملی طور پر شرکت کی۔ یوں تو دیگر عرب ممالک سے بھی مجاہدین کی آمد ہوئی مگر یہ نوٹ کیا گیا کہ جہاد کے حوالے سے سعودی نوجوان غیر معمولی جوش و خروش رکھتے تھے۔ 2001 ء میں خود امریکہ ان مجاہدین کی زد میں آیا تو معلوم ہوا کہ ٹوئن ٹاور تباہ کرنے کے منصوبے میں شامل 18 میں سے 16 نوجوانوں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔


سعودی حکومت نے بھی دیگر عرب ممالک کی طرح امریکہ کو ہی اپنا سب سے اہم اور مخلص دوست قرار دے رکھا تھا۔ 1979 ء کے انقلاب ایران کے بعد عرب ممالک کا خصوصاً دفاعی حوالے سے امریکہ پر انحصار پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور امریکہ خطے میں اپنا کھیل کھیلنے کیلئے سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا۔ 1990 ء کی دہائی کے آخر میں وہ وقت بھی آیا کہ جب کئی فورمز پر یہ بحث کھلے عام ہونے لگی کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ دونوں ممالک چاہے اگر دوسرے کے خلاف کتنے ہی اشتعال انگیز بیانات یا دھمکیاں کیوں نہ دیتے رہیں جنگ کی نوبت کبھی نہیں آئے گی۔


یہ سال 2000 ء کی بات ہے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کسی اور موضوع پر ہونے والے سیمینار سے قبل ایک انتہائی سینئر مدیر نے ایک جواں سال ایڈیٹر سے کہا کہ آجکل امریکی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں، صورتحال بے حد خطرناک ہوتی جارہی ہے آپکا کیا خیال ہے کہ امریکہ، ایران پر کب حملہ کرے گا۔ ''ایسا کبھی نہیں ہو گا'' جواں سال ایڈیٹر نے پورے اعتماد کے ساتھ بلند آواز میں جواب دیا۔ توجیہہ یہ پیش کی گئی اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے اسے برباد کردیا یا پھر محض اندرونی خلفشار کا شکار کر دیا تو پھر عرب ممالک کے سروں پر لٹکانے کیلئے کونسی تلوار باقی رہ جائے گی۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ نے طے کر رکھا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹم بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسکے سوا باقی تمام معاملات پر یا تو صرف نظر کا مظاہرہ کیا گیا یا پھر خفیہ انداز میں غیر معمولی رعایتیں دی گئیں ۔آج جب جوہری معاملے پر امریکہ اور ایران میں معاہدہ ہو چکا ہے تو اوبامہ کا یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ حملے کا آپشن اس لیے استعمال نہیں کیا گیا کہ اس سے جنگ چھڑ سکتی تھی۔ یہ امریکہ ہی تھا کہ جس نے اسرائیل کو شہ دے کر عراق کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرائیں اور پھر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بے بنیاد کہانی عام کر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی۔


عرب ممالک کو خاصی تاخیر سے سہی لیکن آہستہ آہستہ معاملے کے پراسرار پہلوئوں کا اندازہ ہونے لگا۔ پھر یہ سوال بھی اٹھائے جانے لگے کہ طالبان، القاعدہ، داعش اور اس طرح کی دیگر تنظیموں کے حوالے سے امریکہ زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرتا ہے اور دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے '' خون کی پیاسی'' حزب اللہ ہو یا اسکے معاون گروپ انکی جانب میلی نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا جاتا ،اسامہ کو پاکستان میں ڈھونڈ کر مارا گیا۔ ملا عمر روپوش، ابوبکر بغدادی پے در پے حملوں کے بعد زیر زمین چلے گئے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری نہ جانے کہا ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ہیرو بن کر ابھرنے والے مقتدیٰ الصدر ہو ںیا پھر لبنان میں بیٹھ کر امریکہ اور اسرائیل کیلئے براہ راست خطرہ بننے حسن نصراللہ جو آئے روز ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطاب بھی کرتے ہیں۔ امریکہ نے آخر کس کھاتے میں انہیں نظر انداز کر رکھا ہے۔



عراق، لبنان، شام اور یمن میں ایرانی مداخلت کے مسلسل واقعات نے بالآخر عرب ممالک کو اپنی پالیسی میں ترمیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ حوثی باغیوں کے ذریعے یمن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اطلاعات کے بعد یمن میں حوثی باغیوں کیلئے جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ عسکری تربیت کا سلسلہ 2004 ء سے ہی شروع کر دیا گیا۔ ایک لاکھ کی بڑی تعداد میں جدید اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ حوثی جنگجوئوں کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ان باغیوں کو حیلوں بہانوں سے جدید امریکی اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا تھا۔ امریکہ کا منصوبہ یہی تھا کہ پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ایک خطے پر قبضہ کرنے کیلئے حوثیوں کی پشت پناہی کی جائے،پھر یہ بھی کہ دنیا بھر کو تیل کی فراہمی کے اہم ترین مرکز باب المندب پر حوثیوں کا جھنڈا گاڑ کر سعودی حکومت کو معاشی حوالے سے بھی لاچار کیا جائے۔ اس سارے خطے کے متعلق امریکی عزائم کی بھنک سعودی قیادت کو پہلے ہی پڑ چکی تھی۔


شاہ عبداللہ مرحوم کے دور میں ہی جب کبھی امریکی حکام بلکہ صدر اوبامہ ریاض آئے تو ملاقاتوں میں گرمجوشی نہ ہونے کے برابر تھی۔ بعض مواقع پر تو واضح طور پر دیکھا گیا کہ اعلیٰ امریکی شخصیات کے ساتھ موجود سعودی حکومت کے اکابرین کے چہروں سے بیزاری ٹپک رہی تھی۔ محض بیزار ہی نہیں، عرب اس مرتبہ چوکنا بھی تھے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کیلئے عرب ممالک کا فوجی اتحاد حرکت میں آیا تو خود امریکہ میں کھلبلی مچ گئی۔ امریکی کانگریس میں ارکان نے اس حوالے سے اوباما پر کڑی تنقید کی،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جائے کہ دوست ملک سعودی عر ب نے اس حملے کے حوالے سے امریکہ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ امریکی انتظامیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف بظاہر یہ بیان بازی کر کے عرب ممالک کے سامنے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی تھے۔


ایک ایسے موقع پر کہ جب پاکستان نے بھی مدد کرنے سے معذرت کر لی تھی اور سعودی عرب خود کو سنگین خطرات میں گھرا محسوس کر رہا تھا امریکہ نے یمن میں بمباری جاری رکھی لیکن یہ حوثیوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہاں موجود القاعدہ عناصر کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔ عرب ممالک کے اتحاد خصوصاً سعودی فضائیہ نے شاندار جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑائی کا پانسہ پلٹ دیا۔ اس پوری لڑائی کے دوران ایران کی مذہبی ،سیاسی اور فوجی قیادت نے کئی بار سعودی عرب پر براہ راست حملے کی دھمکیاں دیں لیکن کسی نے کوئی اثر نہ لیا۔ سمندری حدود میں سعودی اور مصری جنگی بیڑے ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے نہ صرف موجود رہے بلکہ اسکا علانیہ اظہار بھی کرتے رہے۔


حوثی باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کیلئے جب کبھی بھی کوئی دھونس نما پیغام آیا تو بمباری مزید شدید کر دی گئی۔ یہ سب اس امر کی واضح علامتیں ہیں کہ خطے میں کسی بھی ایڈونچر کی صورت میں سعودی عرب اور اتحادی ممالک بھرپور حملہ کر کے جواب دینگے۔ یمن بحران کا فائدہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کو عوامی طور پر بھی پہنچا۔ سعودی شہری اس بات پر مسرور پائے گئے کہ ان کے فوجی افسر اور اہلکار محض خوشنما تمغوں والی وردیاں زیب تن کر کے گھوم پھر نہیں رہے بلکہ عملی طور پر جنگ میں شریک ہو کر لڑائی کے جوہر دکھارہے ہیں۔ بعض شہری تو اسقدر پرجوش پائے گئے کہ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اب ہمیں شام کے عوام کو اسدی آمریت سے بچانے کیلئے دمشق پر حملہ کر دینا چاہیے۔


امریکی عزائم آشکار ہونے پر سعودی حکومت نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنے کی پالیسی بھی ترک کر دی۔ فرانس کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوہری معاہدہ کے فوری بعد فرانس کے صدر نے کھل کر اپنے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ایران تجارتی پابندیوں کے خاتمے کے بعد حاصل ہونے والی رقوم کو دوسرے ممالک میں عدم استحکام کیلئے استعمال نہ کر سکے۔ جدید اسلحہ، لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی معاملات کے حوالے سے معاملہ اب صرف فرانس تک محدود نہیں۔ سعودی حکومت نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے وزیر دفاع محمد بن سلمان جو سعودی شاہ کے صاحبزادے اور نائب ولی عہد بھی ہیں کو خصوصی مشن پر روس بھجوایا۔ صدر پیوٹن نے روسی حکومت کے تمام بڑوں کے ہمراہ سعودی حکام کا پرجوش استقبال کیا اور بات چیت میں براہ راست شریک ہوئے۔ ان مذاکرات میں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول پر بھی بات کی گئی۔(دیگر عرب ممالک کا بھی مطالبہ ہے کہ انہیں ایران کے مساوی ایٹمی تنصیبات کی اجازت ملنی چاہیے) ۔


امریکہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کرنے میں اس لیے جلدی کی کہ اسے خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے تشویش لاحق ہو چکی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا شور و غوغا تو کجا کانگریس کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا۔ جائنٹ وینچر کے تحت مختلف ممالک میں کی جانے والی کارروائیاں بھی منصوبے کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہیں۔ یمن میں میدان حوثیوں کے پیروں سے کھسک رہا ہے۔ عدن اور دیگر کئی اہم مقامات کے بعد اب کسی بھی وقت صنعا کے حوالے سے بھی ایسی خبر آسکتی ہے۔ حوثیوں کا گڑھ صعدہ اتحادی طیاروں کی بمباری کا خصوصی ہدف بن چکا۔ باقی آدھے ملک پر تو پہلے ہی سے القاعدہ قابض ہے۔ شام کے معاملے میں بھی پسپائی یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ اب تو بشار الاسد خود تسلیم کر رہے ہیں کہ فوج کی تعداد بہت کم رہ گئی۔ تمام قوتیں ایک شہر سے ساحلی پٹی کو بچانے پر صرف کی جارہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں شاید یہ بھی ممکن نہ رہے۔


عراق میں سرکاری فوج، ایران نواز ملیشیا اور امریکی فضائیہ کی مشترکہ کارروائیوں کے باجوود رمادی جیسے قصبے کا قبضہ نہیں چھڑایا جا سکا۔ حالات کشیدہ ہی نہیں بلکہ خطرات پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ بحرین کی صورتحال پر سعودی حکام کی براہ راست نظر ہے۔ اس لیے چند سال قبل وہاں ہونے والے ہنگاموں کو کچلنے کیلئے سعودی فوج مختلف شہروں میں داخل ہو گئی تھی۔ یوں کہیے کہ مشرق وسطیٰ کے نئے کھیل میں پورا خطہ جنگی ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اب تمام سٹیک ہولڈروں کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہونگے۔


امریکہ کسی کا دوست ہے نہ آئندہ ہو گا۔ ایک سرکش اور گھمنڈی عالمی طاقت ،منافقت پر مبنی سفارتکاری کے تحت صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول اور پوری دنیا کو مستقل تابع کرنے کے مشن پر ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ پابندیاں اٹھ جانے کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کی کڑی نگرانی کی جائیگی۔ امریکہ کسی صورت ایٹم بم نہیں بنانے دے گا۔ اندرونی تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھانا اس وقت خود حکومت ایران کی مجبوری بن چکی ہے۔ قدامت پسندوں اور اعتدال پسندوں کی کشمکش کے کئی مناظر سامنے آ چکے۔ ایرانی عوام بیرونی دنیا سے میل جول اور آزادی کے خواہاں ہیں۔ ایران کیلئے بھارت اہم تجارتی پارٹنر ہے تو چین بھی اپنے لیے ایسا ہی مقام چاہتا ہے۔ پڑوسی پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن سمیت کئی معاملات پر پیش رفت سے دونوں ممالک بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی سرگرمیاں تجارتی اور اقتصادی مواقع تک محدود رکھنا ہونگی۔ انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی شاید اب نہ چل سکے۔ پھر بھی ایسا کیا گیا تو عرب ممالک کے ساتھ ٹکرائو کے امکانات بڑھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلقات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ مانا کہ اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا جھکائو ایران کی جانب ہے لیکن ملکی مفادات پر ضرب لگتے دیکھی تو پالیسی بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ پاکستانی اشرافیہ آنے والے دنوں میں بھی ہر فیصلہ امریکی منشاء کے مطابق کرے۔

Source

0c4265b1-d834-4e46-87d1-9db380ecb65a_3x4_142x185.jpg


نوید چودھری
 
Last edited by a moderator:

Hardware

MPA (400+ posts)

عالم اسلام میں فتنہ قادیانیت کا بیج بونے کے بعد انگریزوں نے ایک پل آرام نہیں کیا اور ہم مسلمانون نے ایک پل کام نہیں کیا
 

Hardware

MPA (400+ posts)

سورج، ساحل کی ریت اور شاہ سلمان

150727161320__84506786_gettyimages-472240742.jpg


سعودی عرب کے شاہ سلمان تین ہفتوں کی چھٹیوں پر جنوبی فرانس پہنچ گئے ہیں لیکن یہ کوئی معمولی چھٹیاں نہیں ہیں۔

شاہ سلمان کے سکون اور آرام کی غرص سے ساحل کو عام لوگوں کے لیے بند کیے جانے اور ان کے وِلا سے 300 میٹر تک کے علاقے کو خالی رکھنے پر مقامی افراد پہلے ہی ناراض ہیں۔
ان کے فرانس آنے پر بہت سے کاروباری حضرات ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت زیادہ خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودیوں کے آنے سے علاقے میں آمدن ہو گی۔
تو سعودی شاہ کی چھٹیوں کی فہرست اصل میں ہے کیا؟

کمرہ نظارے کے ساتھ تخت

150727161500__84508406_hi028327807-1.jpg

دنیا کے سب سے امیر شاہی خاندانوں میں سے ایک کے سربراہ کے طور پر شاہ سلمان کا عالی شان رہائش کا شوقین ہونا حیران کن بات نہیں ہے۔
ولیرئیس میں ان کا ولا فرنچ ریوییرا کی چٹانوں کے درمیان بنا ہوا ہے جو ایک دلکش تصویر کی مانند سینکڑوں میٹر تک ساحل پر پھیلا ہوا ہے۔


اس وِلا کو سنہ 1932 میں ماہرِ تعمیرات بیری ڈائیرکس نے تعمیر کیا تھا اور ماضی میں یہاں بہت سی مشہور شخصیات قیام کرچکی ہیں۔ ان شخصیات میں ونسٹن چرچل، ریٹا ہے ورتھ اور مارلن منرو شامل ہیں۔
اب آئندہ تین ہفتوں تک یہاں شاہ سلمان کے خاندان والے اور قریبی ساتھی قیام کریں گے۔
وِلا میں نئی کھڑکیاں اور تازہ پھول لگا دیے گئے ہیں جبکہ کچھ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ شاہ سلمان کے لیے بالکنی میں ایک تخت بھی رکھا گیا ہے تاکہ شاہ کو باہر کا نظارہ کرتے ہوئے کوئی خلل محسوس نہ ہو۔
زبردست ٹرانسپورٹ
150727162104__84508408_hi028328416.jpg


سعودی شاہ اور تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل اُن کے قافلہ کو لے کر سعودی ائیر لائن کے دو بوئنگ 747 جہاز سنیچر کو نیس کے ہوائی اڈے پر اترے ہیں۔
جس کے بعد79 سالہ شاہ اور ان کے مہمانوں کو ان کی ذاتی رہائش گاہ تک پہنچانے کے لیےگاڑیوں کی دس قطاریں پہلے سے ہی موجود تھی۔
مقامی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ سعودی مہمانوں کے لیے تقریباً 400 لگژری سلون گاڑیاں منگوائی گئی ہیں۔


150727162225__84504253_hi028328380.jpg


ان گاڑیوں کو شاہ کے رشتہ داروں اور دوستوں کو علاقے کے سیاحتی مقامات اور ساحلوں پر لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق ایک ڈرائیور کا کہنا ہے کہہمیں سعودی مہمانوں کو ریستورانوں میں لے جانے کے لیے کہا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں سینٹ ٹروپے، موناکو، نیس اور مختلف وِلاز لے جانا ہے کیونکہ وہ کچھ پراپرٹی خریدنا چاہتے ہیں۔

اچھے ساتھی، اور وہ بھی بہت سے

150727162310__84506790_gettyimages-462345144.jpg


موسم گرما کی چھٹیاں اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ لیکن ایک ہزار قریبیوں اور چاہنے والوں کو بلانا شاید بہت زیادہ ہے۔
شاہ سلمان کے قریبی ان کے ساتھ سمندر کے سامنے والی عالی شان رہائش گاہ میں رہیں گے جبکہ باقی 700 ساتھی کان کے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کریں گے۔

تیل سے مالا مال سرزمین سے آنے والے مہمانوں کی وجہ سے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
بعض مقامی لوگ شاہ اور ان کے مہمانوں کو بہت زیادہ توجہ دینے پر اکتائے ہوئے ہیں جبکہ باقی ان کے آنے پر خوش ہیں۔
فور سٹار ہوٹل مونٹیانی جہاں سعودیوں نے آدھے کمروں کی بکنگ کروائی ہے کے ڈائریکٹر سری رینہارڈ کا کہنا ہے کہاس سے ہماری معیشت پر تو اثر پڑے گا ہی لیکن اس کے ساتھ ریستوران اور ڈرائیوروں وغیرہ کو بہت فائدہ ہوگا۔
علیحدہ بیچ

150727162510__84508410_hi028248024.jpg

شاید شاہ کی فہرست میں بیچ یعنی ساحل سب سے زیادہ ہیں۔
ویلیرئس کے مینشن کے ساتھ موجود ساحل جو عام طور پر چھٹیوں پر آئے اور سن باتھ کے لیے آئے لوگوں سے کچھاکچھ بھری ہوتی ہے۔
تاہم سعودی شاہ کے سکون اور آرام کی غرص سے ساحل کو عام لوگوں کے لیے بند کیا گیا ہے اور ان کے وِلا سے 300 میٹر تک کے علاقے کو خالی رکھنے کا کہا گیا ہے۔
فرانس میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے سعودی شاہ سلمان کی آمد پر مشہور ساحلی تفریحی مقام فرینچ ریوییرا تک عوام کی رسائی پر پابندی کے خلاف پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

http://www.bbc.com/urdu/world/2015/07/150727_saudi_king_french_holiday_zh
 

WatanDost

Chief Minister (5k+ posts)
الله سعودیہ اور ایران کے"فقہی جنوں " کو دوسروں پرمسلط
کرنے کے شر سے امت کو محفوظ و مامون فرمائے -آمین
 

Hardware

MPA (400+ posts)

تفریحی مقام کی بندش کا تنازع، شاہ سلمان فرانس سے چلے گئے


150802221942_french_beach_624x351_ap.jpg



سعودی عرب کے شاہ سلمان نے فرانس کے ساحل سمندر پر واقع مشہور تفریحی مقام فرینچ رویرا تک عوامی رسائی ہر پابندی سے پیدا ہونے والے حالات کے بعد وہاں چھٹیاں گزارنے کا دورانیہ مختصر کر دیا ہے۔
تفریحی مقام تک عوام کی رسائی پر پابندی سکیورٹی کے تناظر میں عائد کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق شاہ سلمان نے وہاں تین ہفتوں کا وقت گزارنا تھا تاہم وہ آٹھ دن قیام کے بعد ہی مراکش روانہ ہوگئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق اس کے ہمراہ کم از کم ایک ہزار افراد پر مشتمل وفد شامل تھا۔
ساحلی قصبے ویلیرئس میں تقریبا ایک لاکھ افراد نے عوامی مقام کی بندش کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے۔
ساحل پر واقع میراندول نامی تفریحی مقام بھی شاہ سلمان کے ذاتی رہایش کے قریب ہے اور فرانسیسی حکام نے اسے سعودی حکمران کے سکیورٹی کے پیش نظر سیل کرنے کی حامی بھری تھی۔
اس عمل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فرانس کے برابری کے قوانین کے مخالف ہیں۔

دوسری جانب ایک سعودی ذرائع نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شاہ سلمان کی روانگی ان کی چھٹیوں کے پروگرام کا حصہ تھی اور اس کا تعلق اس میڈیا کوریج سے نہیں ہے جو انھیں یہاں آنے پر ملی۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ شاہ سلمان رواں موسم گرما میں دوبارہ اپنی قیام گاہ آئیں گے۔
ایک مقامی اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ساحل سمندر کو پیر کی صبح عوام کے لیے کھول دیا جائے۔
ساحل پر عوام کی آمد پر پابندی کے علاوہ حکام نے ساحل سمندر پر سیمنٹ کی سِلیں بھی رکھیں تھیں تاکہ شاہ سلمان کو اپنی قیام گاہ سے ساحل تک جانے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اہلکار کے مطابق ان سلوں کو آئندہ ہفتوں میں ہٹا لیا جائے گا۔
شاہ سلمان اور دیگر افراد کے آمد سے مقامی لوگوں میں ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔
کچھ لوگ ساحل کی بندش پر برہم تھے اور بہت سے تاجروں نے سعودی فرمانروا کی آمد سے خوش بھی تھے۔


http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150802_shah_salman_french_breach_sh
 

Galaxy

Chief Minister (5k+ posts)
Very well written.It is reality.We all know america is nobody's friend especially since it is under strong Jewish control.
 
I haven't read such kind of a bullshit column is my entire life

Why Iran was not attacked?... because Iran never exported terrorism to west ... Israel is a different Issue!

All the Saudi weapons are American even America providing help in present war!

Americans 5th fleet is in Gulf ... and all the Gulf countries including Saudi Arabia has American Basis and are protected by USA 5th fleet that's why Iran cannot attack Saudi Arabia!

Only one thing is true in this column ...America using Iran to enslave Sunni Arab regimes and Saudi Arabia to enslave Shia Iran as well as other Sunni Muslim states

Saudi Arabia and Gulf countries are nothing without America... If America leaves this oil rich region , China , India , Iran, Russia all are ready to occupy it

Arabs cannot fight war because of limited water resources and food insecurity
Most of the Gulf states import majority of their food products ... without food u cannot fight a invading force for long
Most of drinking water comes form distilled sea based plants ...these plants will become the first target of the invading army ... without water u cannot resist
 

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
کالم نگارکے علم میں نہیں کہ ایران نے امریکہ سے گیارہ سال جنگ لڑی ہے جو امریکی ایجنٹ صدام کے تھرو لڑی گئی کئی ملینز مسلمان شہید ہوے اور اربوں ڈالر کا اسلحہ دونوں اطراف سے استمعال ہوا ، سعودیہ نے اس جنگ میں صدام کو دس ارب ڈالر اور کویت نے چار ارب ڈالر عنایت کیے
آج ایران نے اپنی شرائط پر ایک معاہدہ کر لیا ہے تو اسکا کریڈٹ اسکی سفارت کاری میں مہارت اور ثابت قدمی کو جاتا ہے کسطرح ایران نے سالہا سال تک امریکی پابندیاں برداشت کیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کا ازلی پٹھو سعودیہ گزشتہ پچاس سال سے امریکہ کی گود میں بیٹھا طالبانی فتنے کو فیول دیتا آرہا ہے
سعودیہ اور امریکہ کے تعلقات اس وجہ سے خراب ہوے کہ سعودیہ نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کا کہا تھا، یہ مطالبہ رد کر دیا گیا کیونکہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کا معاینہ کروانے پر ایگری تھا
پھر امریکہ کے ساتھ سعودی شاہ اس وقت روٹھ گیا جب امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی پوری تیاری کر لی تھی لگتا تھا کہ رات کو حملہ ہوجاۓ گا لیکن روس کی سخت وارننگ کے بعد یہ حملہ موخر کر دیا گیا تھا
رہی بات یمن کی تو وہاں کے ننگے پیر پھرنے والے عوام پر کلسٹر بموں کی بارش کر دی گئی ہے ہزاروں شہری ہلاکتیں ہو چکی ہیں یو این او نے خبردار کیا ہے کہ ایک دو ماہ میں ڈیڑھ لاکھ بچے بھوک اور بیماری سے ہلاک ہوجائیں گے ،بلڈنگیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں ،سعودی اتحادی فوج میں ابھی تک جرات نہیں ہوئی کہ زمینی کاروائی کر سکیں ،مذاکرات بھی ہو رہے ہیں ،جسدن سودی فوج یمن میں داخل ہوئی وہ انکا قبرستان بن جاۓ گا کیونکہ انکے قبیلے طالبان کی طرح بہت جنگجو ہیں
کچھ حقائق کا ادرک میں نے کروا دیا ہے کالمسٹ صرف فرقے اور ذاتی نظریات کے مدنظر کالم لکھیں گے تو انکے تجزیے کوی نہیں پڑھے گا
 

Altaf Lutfi

Chief Minister (5k+ posts)
I haven't read such kind of a bullshit column is my entire life

Why Iran was not attacked?... because Iran never exported terrorism to west ... Israel is a different Issue!

All the Saudi weapons are American even America providing help in present war!

Americans 5th fleet is in Gulf ... and all the Gulf countries including Saudi Arabia has American Basis and are protected by USA 5th fleet that's why Iran cannot attack Saudi Arabia!

Only one thing is true in this column ...America using Iran to enslave Sunni Arab regimes and Saudi Arabia to enslave Shia Iran as well as other Sunni Muslim states

Saudi Arabia and Gulf countries are nothing without America... If America leaves this oil rich region , China , India , Iran, Russia all are ready to occupy it

Arabs cannot fight war because of limited water resources and food insecurity
Most of the Gulf states import majority of their food products ... without food u cannot fight a invading force for long
Most of drinking water comes form distilled sea based plants ...these plants will become the first target of the invading army ... without water u cannot resist

ھا ھا ! ھم کس بے زاری ، برھمی، رعونت اور بدتمیزی کے ساتھ کسی کے مشاھدات کو کچرا کہہ دیتے ھیں، تمھارے اس پوسٹ کا پہلا پیرا میرے اندر وہی بے زاری پیدا کر رھا ھے جس کا اظہار آپ خود کر رھے ھو، اگر اس غریب نے غلطی سے اپنی بات کہہ ھی دی ھے تو نفاست اور سلیقے سے جوابی دلیل دو، اگر اُس کا علم خام ھے تو آپ بھی کون سے رینڈز کارپوریشن کے چیف ریسرچر ھو ؟ اپنا اپنا نکتہِ نگاہ ھے

یہ جو آپ نے اس جدید دور میں خلیجی ریاستوں پر امریکی غلبے اور اس کے بعد امکانی طور سے فرانس، انڈیا ، چین کے قبضے کی بات سوچی ھے، دنیا تو اس گن بوٹ دور سے عشروں قبل نکل چکی ھے، منہ کھولنے سے پہلے کچھ پڑھ لینا چاھیے
 

ھا ھا ! ھم کس بے زاری ، برھمی، رعونت اور بدتمیزی کے ساتھ کسی کے مشاھدات کو کچرا کہہ دیتے ھیں، تمھارے اس پوسٹ کا پہلا پیرا میرے اندر وہی بے زاری پیدا کر رھا ھے جس کا اظہار آپ خود کر رھے ھو، اگر اس غریب نے غلطی سے اپنی بات کہہ ھی دی ھے تو نفاست اور سلیقے سے جوابی دلیل دو، اگر اُس کا علم خام ھے تو آپ بھی کون سے رینڈز کارپوریشن کے چیف ریسرچر ھو ؟ اپنا اپنا نکتہِ نگاہ ھے

یہ جو آپ نے اس جدید دور میں خلیجی ریاستوں پر امریکی غلبے اور اس کے بعد امکانی طور سے فرانس، انڈیا ، چین کے قبضے کی بات سوچی ھے، دنیا تو اس گن بوٹ دور سے عشروں قبل نکل چکی ھے، منہ کھولنے سے پہلے کچھ پڑھ لینا چاھیے

You are wrong the direct occupation is not in the protocols of the present Western World Order!

This world order has been recently challenged by Russia in Cremia!

Russia , China , India and Brazil are the future Powers of the world .... They will decide what will be the new Protocols of the New World in Future!

and occupation can be of different kinds .... Nowadays, Gulf states are under American occupation in the name of Security!
 
Last edited:

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
You are wrong the direct occupation is not in the protocols of the present Western World Order!

This world order has been recently challenged by Russia in Cremia!

Russia , China , India and Brazil are the future Powers of the world .... They will decide what will be the new Protocols of the New World in Future!

and occupation can be of different kinds .... Nowadays, Gulf states are under American occupation in the name of Security!
If American umbrella removes from Saudia and UAE even states like Pakistan can occupy them in 24 hours.
 

Altaf Lutfi

Chief Minister (5k+ posts)
You are wrong the direct occupation is not in the protocols of the present Western World Order!

This world order has been recently challenged by Russia in Cremia!

Russia , China , India and Brazil are the future Powers of the world .... They will decide what will be the new Protocols of the New World in Future!

and occupation can be of different kinds .... Nowadays, Gulf states are under American occupation in the name of Security!

آپ روس، چین، انڈیا، برازیل والی جس تنظیم کا ذکر کر رھے ھیں، "برکس" کا، وہ معاشی تعاون کی تنظیم ھے، فوجی اور دفاعی تعاون کی نہیں، برازیل مشرقِ وسطیٰ کے معاملات سے واجبی دلچسپی رکھتا ھے، اس کے مفادات بنیادی طور سے جنوبی کُرے میں ھیں
 
Sponsored Link