مخصوص نشستیں کیس:تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست کا متن

Kashif Rafiq

Prime Minister (20k+ posts)
ptidahai1111h.jpg

صدیق جان

پی ٹی آئی نے پانچ صفحات کی درخواست میں قاضی فائز عیسیٰ کے تمام دعووں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا،آخری پیراگراف میں نام لیے بغیر واضح کردیا کہ جعلی اسمبلی سے ایکسٹیشن والی ترامیم کرانے کی تیاریاں ہیں،

آئیے،دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کیا کچھ لکھا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف اور چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مخصوص نشستوں کے بارے مقدمے میں فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی. درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے روبرو مقدمے کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے متعلق کچھ ایسی باتیں کیں جو درحقیقت درست نہیں اور اس کا مناسب جواب آنا ضروری ہے تاکہ معاملے کو درست انداز میں دیکھا جاسکے۔

استدعا ہے کہ پی ٹی آئی کو شامل مقدمہ ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ معاملے میں عدالت کی معاونت کی جاسکے. مزید کہا گیا ہے کہ اس سارے مقدمے کا دارومدار آئین کے آرٹیکل 51 ذیلی آرٹیکل 6 ڈی اور ای پر ہے اور مذکورہ آرٹیکل یہ کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ملیں گی. کوئی بھی سیاسی جماعت دو طریقوں سے جنرل سیٹس حاصل کرسکتی ہیں یا پارٹی امیدوار انتخابات میں براہ راست کامیاب ہوجائے اور یا پھر منتخب آزاد ارکان کامیابی کے نوٹیفکیشن کے تین دن کے اندر اندر اس میں شامل ہوجائے.
https://twitter.com/x/status/1806124789754450089
آزاد ارکان شامل ہونے کے بعد اسے پارٹی کی حاصل کردہ مجموعی ارکان کی تعداد میں شامل کیا جائے گا اور اسی مجموعی تعداد پر پارٹی کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مخصوص نشستیں دیدی جائیں گی. الیکشن کمیشن نے 2018 کے عام انتخابات میں آرٹیکل 51 ذیلی آرٹیکل 6 ڈی اور ای کی درست تشریح کرکے ایک سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی مخصوص نشستیں دیں جس نے عام انتخابات میں براہ راست کوئی سیٹ نہیں جیتی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کا بنیادی مقصد عوامی مینڈیٹ کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا قیام ہے. جبکہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے سے نہ تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حثیت حقیقی نمائندہ کے مطابق ہوگی اور نہ ہی یہ اسمبلیاں عوام کی مرضی کا مظہر ہونگیں. پی ٹی آئی نے 8 فروری کے انتخابات کے بعد آئین کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنے اراکین کو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کا کہا۔

پی ٹی آئی نے بار بار انٹرا پارٹی الیکشن کرائے، سپریم کورٹ کے 13 جنوری کے فیصلے کے بعد بھی انٹرا پارٹی الیکشن کرائے گئے لیکن ہر بار الیکشن کمیشن نے نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراضات اٹھائے جبکہ یہ سلوک کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں کیا گیا. یہ کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کے عام انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے اور انتخابی نشان حاصل کرنے کےلیے یہ ٹکٹ 13 جنوری شام چار بجے کے مقررہ وقت تک اپنے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرانے کا کہا گیا لیکن سپریم کورٹ نے اسی دن پشاور ہائیکورٹ کے 10 جنوری کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر رات گئے تک سماعت کی۔

سماعت کے دوران یہ دیکھتے ہوئے کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ممکنہ طور پر کالعدم ہوجائے گا،اس نے پی ٹی آئی کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کردی کیونکہ یہ امکان پیدا ہو گیا کہ اب پی ٹی آئی کے امیدواروں کو مشترکہ انتخابی نشان نہیں ملے گا. اس صورتحال میں پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ متبادل انتظام کیا اور مذکورہ پارٹی نے پی ٹی آئی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے۔

پی ٹی آئی کی طرف سے اپنے امیدواروں کو پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹ حلف نامے کے ساتھ متعلقہ ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرانے کا کہا گیا. یہ انتظام اس لیے کیا گیا تاکہ پی ٹی آئی امیدوار ایک مشترکہ انتخابی نشان پر انتخابات میں حصہ لے سکیں اور ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کو حق رائے دہی سے محروم ہونے سے بچایا جاسکے۔

پی ٹی آئی کے بہت سے امیدواروں نے مقررہ وقت سے پہلے پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹ حلف نامے سمیت اپنے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرلیے لیکن عین اسی وقت پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین قومی ٹی وی پر نمودار ہوئے اور پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹوں سے لاتعلقی ظاہر کی. جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ جن امیدواروں نے پی ٹی آئی سے تعلق کا حلف نامہ دیا ہے ان کی طرف سے پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹ منظور نہ کیے جائیں۔

الیکشن کمیشن کے خط کے بعد پی ٹی آئی امیدواروں نے نظریاتی کے ٹکٹ اور حلف نامے واپس لے کر پی ٹی آئی کے ٹکٹ جمع کرادیے بہت سے امیدواروں کے ٹکٹ کو ریٹرننگ افسران نے ان کی فائل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جبکہ بہت سارے ریٹرننگ افسران نے اسے سپریم کورٹ کی طرف سے معاملے کے تعین سے مشروط کردیا

اس دوران الیکشن کمیشن ٹکٹ جمع کرانے کاوقت بڑھاتا رہا اور رات 12 بجے تک بڑھایا گیا جبکہ سپریم کورٹ نے رات 11 بجے مختصر فیصلہ سنا کر الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کرلی. جس کے نتیجے کے طور پر تمام ریٹرننگ افسران نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ مسترد کردیے اور بعض نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دے کر انہیں آزاد امیدواروں کےلیے مختص انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے. جسکے نتیجے میں ایک قومی اسمبلی کے حلقے کی صوبائی امیدواروں کو الگ الگ انتخابی نشانات ملے جس سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پہچاننے میں مشکلات پیدا ہوئیں. لیکن 8 فروری کو پاکستان کے عوام نے ان تمام مشکلات کے باوجود آٹھ کر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا. عوام کے اس اجتماعی ردعمل کا اثر یہ ہوا کہ انتخابی نتائج مرتب کرتے وقت 8 اور 9 فروری کے درمیانی رات کو شب خون مار کر فارم 45 میں جعلسازی کی گئی اور قومی اسمبلی کے کم از کم 80 انتخابی حلقوں کے نتائج تبدیل کرکے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی جیت کو ہار میں تبدیل کردیا گیا. لیکن تمام حربوں کے باوجود پی ٹی آئی 91 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

الیکشن کمیشن نے الیکشن رولز 94 اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کامیاب امیدواروں کو آزاد ڈکلیر کردیا اور مخصوص نشستوں کےلیے آئین کے آرٹیکل 51 ذیلی آرٹیکل 6 کے مطابق کامیابی کے نوٹیفکیشن کے تین دن کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا کہا گیا. قومی اسمبلی میں ایک یا ایک سے زائد نشستیں حاصل کرنے والی 13 جماعتوں کا تعین کیا گیا لیکن پی ٹی آئی کےلیے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ان جماعتوں میں شامل ہونا ممکن نہیں تھا. پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا ایک دیرینہ تعلق رہا ہے اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے پی ٹی آئی کے اتحادی کے طور پر پی ٹی آئی کا انتخابی نشان مانگا تھا اور قومی اسمبلی کے حلقے این اے 104 سے کامیاب ہوا۔

ماضی میں الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 51 ذیلی آرٹیکل 6 کی تشریح اس طرح کی کہ وہ جماعت جس نے عام انتخابات میں نہ تو حصہ ب لیا اور نہ ہی ترجیحی لسٹ جمع کی لیکن اسے بھی مخصوص نشستیں دی گئیں. مذکور آرٹیکل میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ آزاد امیدوار ایسی سیاسی جماعت شامل ہوگا جس نے عام انتخابات میں کم از کم ایک جنرل سیٹ جیتی ہو. الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 میں بھی ایسی کوئی قدغن نہیں کہ ترجیہی لسٹ ہر حال میں عام انتخابات سے پہلے جمع کی جائے گی۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 86، پنجاب اسمبلی میں 107، خیبر پختون خواہ اسمبلی میں 91 اور سندھ اسمبلی میں 9 اراکین متناسب نماءندگی کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کے مجاز ہیں. الیکشن کمیشن کی طرف سے سنی اتحاد کونسل/پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نماءندہ حثیت ختم ہوجائے گی. سنی اتحاد کونسل /پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں کسی اور جماعت کو نہیں دی جاسکتیں، کسی اور سیاسی جماعت کو یہ نشستیں دینا غیر آئینی، غیر منصفانہ اور غلط ہوگا کسی جماعت کو تناسب سے زیادہ مخصوص نشستیں نہیں مل سکتیں۔

ہر سیاسی جماعت کو ایوان میں موجود ان کی نمائندگی کی بنیاد پر متناسب نمائندگی کے مطابق مخصوص نشستیں ملیں گی. پی ٹی آئی نے عام انتخابات سے پہلے مخصوص نشستوں کے لیے ترجیہی لسٹ جمع کی ہے جبکہ لسٹ میں شامل امیدواروں نے بھی کاغذات نامزدگی پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق کے حلف نامے سمیت جمع کیے ہیں. سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینا عوام کی مرضی سے انکار، پی ٹی آئی، اس کی حمایتیوں اور امیدواروں کے ساتھ ظلم اور انتخابی فراڈ ہوگا. جبکہ غیر نمائندہ پارلیمنٹ کے ذریعے ریاست کے آئینی اور قانونی ڈھانچے میں ترامیم کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا، اس کا راستہ جمہوریت کے اصول اور نمائندہ پارلیمنٹ کے زریعے ہی روکا جاسکتا ہے
https://twitter.com/x/status/1806125100439044467
 

Jaguar707

MPA (400+ posts)
Bari jaldi yadd agaya..........................after day 4 of hearing 😀😃😄😁😆🤣

phir kehtay hain Qazi marta hay !