مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کا حق ہے: اسپیکر پنجاب اسمبلی

sab11i1h.jpg


صوبائی دارالحکومت لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس کے بعد سنی اتحاد کونسل کا حق بنتا ہے کہ وہ مخصوص نشستیں لے۔ میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ جلد بازی میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلائے کیونکہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن نہ ہونے کے باعث ہائوس نامکمل ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 22 فروری کو بلایا جا رہا ہے جو شارٹ کٹ کے ذریعے بلانا کسی طور مناسب نہیں ہے، وزیراعلیٰ وسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو متنازع بنانا درست عمل نہیں ہے۔ آزاد امیدواروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے بعد سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملیں تو یہ معاملہ متنازع رہے گا، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنے کے بعد اجلاس بلایا جائے۔
https://twitter.com/x/status/1760008606232027492
انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیے بغیر پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا، آزاد اراکین کے کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے پر مخصوص نشستوں سے نہ محروم کیا جائے۔ سبطین خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کو کسی دوسری سیاسی جماعت میں بانٹ دینا مناسب عمل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں کس سیاسی جماعت کی اکثریت ہو گی اس کا فیصلہ رواں مہینے آخری ہفتے میں متوقع ہے تاہم ن لیگ نے 190 سے زیادہ اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ مریم نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کی مضبوط امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں میاں اسلم اقبال قائد ایوان کا انتخاب لڑیں گے اور سبکدوش سپیکر نئے سپیکر کے انتخاب کیلئے دن اور وقت کا اعلان کرینگے۔

سینئر صحافی مغیث علی نے لکھا: سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیے بغیر نہیں بلایا جا سکتا، آزاد اراکین کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوئے ہیں تو مخصوص نشستوں سے محروم نہ کیا جائے۔
https://twitter.com/x/status/1759900990617125067
 
Last edited: