مجھے شرم آتی ہے کہ موجودہ صحافتی نمائندے اتنے کمزور،کمپرومائزڈ ہیں،عامرمتین

amirmahshaiahsaad.jpg

معروف اینکر اور صحافی عامرمتین کاکہنا ہے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ موجودہ صحافتی نمائندے اتنے کمزور،کمپرومائزڈ ہیں کہ ہم آپنی آزادی اظہار کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں عامرمتین کا کہنا تھا کہ عامرمتین کا کہنا تھا کہ صرف تاریخ اور یاد دھانی کے لیے عدلیہ تحریک اک ناکام تحریک تھی۔ پہلے دن صرف چند درجن وکیلوں نے بھی حوصلہ نہی کیا تھا۔ جب صحافی اس میں شامل ہوئے اور اس کو میڈیا پر دکھانا شروع ہوا تو یہ تحریک بنی۔ آج کالے کوٹ والے کہاں ہیں جب میڈیا کے لیے خوفناک قدغنیں آ چکیں ہیں۔ہمیں کون بچائے گا

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ موجودہ صحافتی نمائندے اتنے کمزور،کمپرومائزڈ ہیں کہ ہم آپنی آزادی اظہار کی حفاظت نہیں کر سکتے۔اس سے بڑی قیامت تو مارشل لاء میں نہیں آئی مگر صحافتی آڑ میں چھپے گماشتےخاموش ہیں۔ ہمیں اپنی صفیں درست کرنی پڑیں گیں۔ ورنہ یہ ایجنٹ ہمیں سمیت آئین اور جمہوریت کو بیچ دیں گیں

عامر متین نے مزید کہا کہ موجودہ بحران،آئین، جمہوریت کی بے حرمتی کے زمہ دار سپریم کورٹ بھی ہے۔بڑی کرسیوں پر بھیٹھے بونے اپنی زاتی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔بحث یہ نہی کہ کون ٹھیک ہے یا غلط۔مگر سب اس بے توقیری کے زمہ دار ہیں۔ عدالتوں کی کوئ حیثیت نہی رہئ۔انکا کوئ ڈر نہی۔لڑتے رہیں مگر لڑائ ان کے گھر بھی پہنچے گی

انہوں نے کہا کہ جب عدالتیں لیٹ جائیں تو پھر کس کو الزام دیں۔ زمہ دار وہ جج بھی ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات بچانے کے لیے انصاف کے تقاضے پورے نہی کیے۔ اور وہ جج بھی جو اس کی مزاحمت کی آڑ میں جانتے بوجھتے یا معصومیت میں استعمال ہوئے۔ اب ہم آئینی اختمام کے دھانے پر آ پہنچے ہیں۔ مبارک ہو آپ کو

سینئر صحافی کے مطابق جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت مارشل لا میں پیش کیا تھا۔باقی جج بھی ضیا اور مشرف کے مارشل لا میں جھکے تھے۔ موجودہ ججوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ جمہوریت-جیسی کیسی ہی سہی-میں سر نگوں ہوئے۔ شرم آتی ہے کہ ہم آپ کی آزادی کے لیے لڑتے رہے۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو کوئ بھی فتح یاب نہی ہو گا

عامرمتین کا کہنا تھا کہ ہمارے ارشد شریف شہید ہو چکے جس کی تفتیش میں آپ کا کردار بہت مشکوک ہے۔ آپ نے بہت کمزوری دکھائ۔ سینکڑوں صحافی اس وقت جعلی مقدمات لڑ رہے ہیں۔ عمران ریاض کا پتہ نہی وہ زندہ ہے یا نہی۔ کئ اور ملک بدر ہو چکے۔آپ بھی بچیں گیں نہی۔شائد آپ کو بھی افتخار چوہدری کی طرح بالوں سے گھسیٹا جائے۔

انہوں نے دعا کی کہ خدا ایسا دن نہ دکھائے مگر ایسا ہو تا ہماری طرف مت دیکھیے گا کیونکہ آپ نے ہماری اور آئین کی پاسبانی نہی کی۔ بس لڑتے رہیں۔ اس مقولے کی طرح کہ میں چپ ہوا کیونکہ ……بس جب ہاتھ آپ کے گریبان پر پڑیں گے تو آپ کو بچانے کے لیے کوئ نہی رہ گیا ہو گا۔ کیونکہ آپ وقت پر کھڑے نہی ہوئے۔

عامرمتین نے کہا کہ میں کسی سیاسی پارٹی کے حق یا مخالفت میں نہی کہ رہا۔ گزارش ہے کہ جو بھی فیصلے کرنے ہیں کر دیں تا کہ ہمیں پتہ چلے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ تاریخ اور جورسپروڈنس کو چھوڑیں عام آدمی کو فیصلہ کرنے دیں۔ جو بھی کریں بس فیصلہ کر دیں۔ کیونکہ لٹکانا منافقت ہے۔ کمزوری ہے۔جواب دیں۔
 
Sponsored Link