قرض ادائیگی میں انتظامی نہ اہلی

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
Public External Debt (Billion US $)
[87][88]
34.035.738.7 40.7/200846.449.855.353.5 48.1/201351.350.957.762.570.2/201871.5

Debt Servicing
26Total (Million US $)503027832624268431153996/20094155353143125978656746714422606456383701


Foreign exchange reserves
SBP + Scheduled Banks (Billion US Dollars)
[90][91][92][93][94]
13.213.314.618.9 13.4/200814.018.021.016.511.014.118.723.121.4 16.4/2018
https://en.wikipedia.org/wiki/Economy_of_Pakistan
جس وقت پیپلز پارٹی کو حکومت ملی اس وقت اس ملک کا بیرونی قرضہ چالیس بلین ڈالر تھا . اگر اس پر پانچ فیصد انٹرسٹ لگائیں تو اگلے پانچ سال میں اس نے پچاس ارب ڈالر ہو جانا تھا . پیپلز پارٹی کو تیرہ ارب ڈالر کے فارن ریزروز ملے تھے اور اس نے صرف آٹھ ارب ڈالر کے قرضے سے بائیس ارب ڈالر کی قرض ادائیگی (ڈیبٹ سروسنگ ) کا بندو بست کیا . نہ بجلی مہنگی کی نہ گیس نہ ہی ائی ایم ایف کو ملک بیچا
اس کے بعد نون لیگ کی حکومت ائی تو پاکستان کا قرضہ اڑتالیس ارب ڈالر تھا جو انٹرسٹ کے ساتھ اگلے پانچ سالوں میں ساٹھ ارب ڈالر تک جانا تھا . نون لیگ کو گیارہ ارب ڈالر کے ریزرو ملے . نون لیگ کی حکومت نے بائیس ارب ڈالر کے قرضوں کے ساتھ اٹھائیس ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا بندوبست کیا . اور ریزرو میں سترہ بلین ڈالر چھوڑے . نون لیگ کی حکومت نے بھی ائی ایم ایف سے ڈکٹیشن لی اور نہ ہی قرضوں کی زیادتی کا واویلا کیا ہر حال میں ملک چلایا .
اب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو ملکی قرضے ستر ارب ڈالر ہیں اور اس نے اگلے پانچ سال میں اڑتیس ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا بندو بست کرنا ہے . اب دوست ممالک سے ملے آٹھ ارب ڈالر سمیت سترہ ارب کے رزرو حکومت دو سال ملک آرام سے چلا سکتی تھی لیکن ایسا کیا ہوا کہ پہلے سال ہی ملکی معیشت کو بریکیں لگا دی گئیں . یہ سب انتظامی نہ اہلی ہے اگر کسی کے ہاتھ سے بلا لے کر اسے حکومت تھما دی جاۓ تو اس کا یہ ہی انجام نکلتا ہے . پیپلز پارٹی آٹھ ارب ڈالر کے قرضے سے بائیس ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا بندوبست کر سکتی ہے لیکن تحریک انصاف دس سے پندرہ ارب ڈالر اضافی ہونے کے باوجود واویلا ڈالے ہوے ہے جس کا نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے کہ یہ ایک نا اہل حکومت ہے
اگر پچھلوں پر ہی بات ڈالنی ہے اور حکومت زیرو قرضے سے شروع کرنی ہے تو ایسا کیسے ممکن ہے یہ تو انوکھے لاڈلوں والی بات ہے . پاکستان میں ہر حکومت ملک کو آگے لے جانے کی سوچتی رہی ہے جب کہ نیازی راج میں اسے پیچھے کی طرف لے جایا جا رہا ہے . اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نیازی راج کی نہ اہلی سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے . اب جب قرض کی ادائیگیوں کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے تو ائی ایم ایف کے پیر چھوے جا رہے ہیں اگر نو مہینے پہلے سوچا ہوتا تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی .
کپتان نیازی خود ہی چھے ماہ پہلے ائی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا عندیہ دے چکے ہیں جس کا مطلب ہے اس وقت ملک کی معاشی صورتحال ٹھیک تھی جو آج ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو چکی ہے . یہ ایک لفنگا انسان جو خواتین کو گندے گندے میسج کرتا ہے اس کی لعنت کی بدولت پاکستان جیتا میچ ہار جاتا ہے اس ملک کو برباد کر کے چھوڑے گا قوم کو چاہئیے کہ ہنگامی راشن و اشیا کا بندو بست کر لیں کیوں کے بہت جلد نیازی راج اس ملک کو کنگال کرنے والا ہے
 

brohiniaz

Chief Minister (5k+ posts)
60099580_2443853728999208_4167380550828425216_n.jpg
 

brohiniaz

Chief Minister (5k+ posts)
۲۰۱۸
تک پٹواریوں کی سات نسلوں کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ قرض کیا بلا ہوتی ہے،شریف خاندان زرداری خاندان سارا ملک لوٹ کر کھا گے یہ سو رہے تھے۔ اور آج موجودہ حکومت کے صرف نو ماہ میں انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ قرض کیسے لیتے ہیں سود کیا بلا ہے۔ جو تعلیم پٹواریوں کی سات نسلوں میں موجود ان کے آباؤاجداد انہیں نہ دے سکے، وہ عقل عمران خان نے چند ماہ میں انہیں دے دی۔
یہ ہے اصل تبدیلی۔ پٹواریو، تم اگر اپنی تمام باجیوں کا رشتہ بھی انصافیو کو دے دو تو پھر بھی ہمارا احسان نہیں اتار سکو گے۔۔۔ آی سمجھ کے نہیں۔؟
 

brohiniaz

Chief Minister (5k+ posts)

. خان کی عداوت میں قوم پر ظلم. محب وطن تحریر کو ضرور پڑھیں.
. ایکطرف قوم کو مقروض کیا, دوسری طرف درمیان کے منافق لوگوں نے غلط اپرومنٹ سے قوم کو اذیت دینے میں لگے ہیں. . جب پی ٹی اٸی کی حکومت اٸی تو پنجاب اور وفاق میں ن لیگ باقی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی تھی اور جوڑ توڑ کی ماہر بھی ن لیگ اور پی پی پی پارٹیاں ہیں ۔ پر انہوں نے ایسا نہی کیا.
. انہوں نے ایسا کیوں نہی کیا؟ خاص کر پنجاپ میں آسانی سے حکومت بنا سکتے تھے. . وہ اسلیے کہ پاکستان نے اس سال 19 ارب ڈالر جو کہ پاک روپیہ میں 23 کھرب بنتا تھا قرضہ واپس کرنا تھا. اور بجلی کی کمپنیوں کو بھی پیسے واپس کرنے تھے۔ . اور صرف پنجاب صوبے نے جو میٹرو بنانے کی مد میں قرض لیا تھا. چین سے اسکے بھی سود سمیت 342 ارب روپے واپس کرنے تھے. یہ ایک بھاری زمہ داری تھی آنے والی حکومت کی, کہ وہ کس طرح پاکستان کو اس بحران سے نکالے. اور اگلے آنے والے سال میں بھی پاکستان کو 11 ارب ڈرلر واپس کرنا ہیں. جو کہ پچھلی حکومتوں نے قرض لیے ہیں. . ن لیگ کی ایک اہم پارٹی میٹنگ میں. یہی فیصلہ ہوا کہ بہت قرضے, آنے والے دو سال میں واجب العدا ہیں. عمران ان قرضوں کی وجہ سے سنبھل نہی پاے گا. اور اپنے وزیروں کے مطابق کام نہی کر پائےگا. اور جب یہ دو سال کے قرضے اتار لےگا, اور اسکے نتیجے میں جو مہنگاٸی ہو گی اسکی بنیاد پر پھر ہم جلسے جلوس ہنگامے شروع کریں گے. اور اسکی حکومت کو چلنے نہی دیں گے. اسطرح عمران خان کی سیاست ختم ہو جائےگی. . لیکن ایسا کچھ ہوتا دیکھاٸی نہی دے رہا. عمران نے پاکستان کا 23 کھرب کا قرض واپس کر کے, پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے. پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکل چکا ہے. ان معاشی صورت حال سے نکل کر عمران اب دوبارہ عوام میں جانا شروع ہو گیا ہے. اور ایک ماہ میں تین بڑے جلسے کر کے. یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اب بھی ان کے ساتھ. . عمران اب اپنے اصل مقصد کی طرف چل پڑا ہے. عمران نے عوامی منصوبوں کا اغاز کر دیا ہے. عمران نے ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد تھر میں رکھ دیا ہے. جو کہ سندھ حکومت کی زمہ داری تھی اور بلاول نے اسکا وعدہ بھی کیا تھا. پر عمران نے عوام کی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے تھر میں ایک بڑے ہسپتال کا اغاز کیا ہے. . عمران نے 2 یونیورسٹیوں کا سنگ بنیاد فاٹا میں بھی رکھ دیا ہے. جو فاٹا کی اہم ضرورت تھی. اور فاٹا میں 21 ہزار لڑکوں کو پولیس میں ملازمت دینے پر بھی کام شروع کر دیا ہے. اور آنے والے 2 سال میں صرف فاٹا میں 3 بڑے ہسپتال کا. بھی آغاز ہو گا. اور دہشت گردی میں جو نقصان عام عوام کا ہوا تھا. اسکے پیسے بھی دٕنے شروع کر دیے ہیں اور اسکا اغاز ٹانگ تحصیل سے سب سے پہلے شروع کر دیے ہیں ۔ . عمران خان نے اپنی دوسری یونیورسٹی القادر کا سنگ بنیاد سھاوا میں کر دیا ہے یہ ساٸنس اینڈ اسلامک ریسرچ یونیورسٹی ہوگی.
. عمران کل ایک بڑے ہسپتال کا سنگ بنیاد راولپنڈی میں کریں گے. یہ ہسپتال زچہ اور بچہ پر مشتمل ہوگا. اسطرح یہ پاکستان کا پہلا زچہ بچہ سپیشلسٹ ہسپتال ہوگا. اور دو سال میں عوام کی خدمت کرنا شروع کر دے گا. . اس رمضان میں عوام بجلی کی ترسیل کے حوالے سے بھی پہلے کی نسبت زیادہ بہتری محسوس کر رہی ہے. بے شک اس کام میں عمر ایوب تعریف کے حقدار ہیں. . نیا بلدیاتی سسٹم آنے والا ہے, اسمیں فنڈ بلدیاتی نماٸندوں کو ملیں گے. اور اس سے عام گلی محلے کے ترقیاتی کام ہو سکیں گے. . اپنا گھر سکیم کا آغاز بھی شروع کر دیا گیا ہے. ابتداٸی طور پر 1 لاکھ 35 ہزار گھروں کی تعمیر تین بڑے شہروں کے قریب نیے شہر اباد ہوں گے. اور اگلے سال مزید علاقوں میں اپنا گھر سکیم کا اغاز ہو جاے گا. . صرف پنجاب میں پولیس کے عدادوشمار کے مطابق 6فیصد جراٸم میں کمی واقع ہوٸی ہے. . اصل چیلنج کرپشن کو روکنا ہے ۔ . اسمیں ابھی چھوٹیاں ریکوریاں ہوٸی ہیں بڑی ریکوریاں ہونا باقی. . سرمایہ کاری اب پھر پاکستان کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے. صرف تین بڑی سرمایہ کاری سے چالیس ہزار نوکریاں عوام کو ملیں گیں, ان میں سے ایک کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے. . ابتداٸی چند ماہ میں کچھ غلطیاں بھی ہوٸی ہیں. بیوروکریٹس کی کرپشن پر نیا سسٹم پر بھی کام شروع ہو چکا ہے. . پی اٸی اے اور پاکستان پوسٹ اب منافع کی طرف چل پڑے ہیں. . جو لوگ یہ کہتے تھے کہ سٹیل مل کے ساتھ پی اٸی اے فری لے لیں. اب انکو شرم تو اتی ہوگی. . اہم کا م پاکستان کی معدنیات کو۔نکالنا ہے جتنا جلدی ہو یہ کام ہونا چاہیے. . خارجہ محاز پر پاکستان کو بہت بڑی کامیابیاں ملی ہیں ۔اسمیں شاہ محمود قریشی کی جتنی تعریف کی جاے کم ہے ۔پہلی بار ملڑی اور خارجہ پالیسی ساتھ ساتھ ہیں ۔ اور ہمارے دشمن انڈیا کیساری اکڑ بھی نکال دی ہے ۔ کشمیر پھر دنیا میں ایشو بن گیا ہے ۔ . ثمرات تو ملنا شروع ہوگیے ہیں. پر اسمیں ابھی بہت تیزی لانی ہے. میرا کسی شخص سے تو اختلاف ہو سکتا ہے پر پاکستان کی بہتری اور ترقی پر مجھے کسی سے کوٸی اختلاف نہی. پاکستان کو ہر صورت رہنا ہے
 

araein

Chief Minister (5k+ posts)
U have given wrong figures.

When PTI got the govt. the external debt was more tham 90 Billion$.

And this was only external debt.