فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ارشدشریف پر بھونڈے الزامات،مہربخاری

Dastgir khan19

Minister (2k+ posts)


اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کوئی خاتون بھی رہائش پذیر تھی جس کے کپڑے اس کے باتھ روم سے ملے . اگر وہ دونو ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے تو اس کا مطلب صاف ہے دونو کے درمیان جسمانی تعلقات بھی ضرور ہوں گے . یہ انہونی بات نہیں کہ صحافت ایک سیکس مافیا کا روپ دھار چکی ہے . بڑے بڑے صحافتی اداروں میں بیٹھے جنسی درندے خواتین کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں . یہ بات جنرل پاشا نے بھی کمیشن کو بتائی تھی کہ صحافیوں کی اوقات ایک بوتل شراب سے زیادہ نہیں . ٹیلیوزن پر بیٹھے بڑے بڑے نام جنسی ہوس اور سیکس کے پجاری ہیں اور صحافت کی اوٹ میں چھپا شراب و شباب کا دھندہ پورے عروج پر ہے
یہ کوئی مذاق کی بات یا ٹر ولنگ نہیں کہ ارشد شریف کے تعلقات سیکس مافیا سے تھے اس بات کا گواہ مشہور یوٹیوبر صدیق جان ہے جس نے مصطفیٰ ٹاور کی رنگیں راتوں اور اس میں شامل کرداروں کے نام ظاہر کیے تو ارشد شریف نے اسے گوادر میں زدکوب کیا . یہ اس وقت کی بات ہے جب ادارے نے ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا اور اس میں مشھور زمانہ گوگی گینگ شامل ہو گیا . ایک طرف گوگی گینگ صحافیوں کی راتیں رنگین کر رہا تھا تو دوسری طرف ادارہ ان کی ویڈیو بنا رہا تھا اس سب کا مقصد ان صحافیوں کو نیازی کا وفادار بنانا تھا . اب یہ صحافی نیازی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں نیازی کے پاس ان کی وڈیوز ہیں جس کی مدد سے وہ انہیں اپنا وفادار کتا بناۓ ہوے ہے
نیازی کو ضرورت تھی جنرل باجوہ کو بلیک میل کرنے کی یا ادارے کو بلیک میل کرنے کی جب عدم اعتماد کی رات غیر معمولی واقعات ہوے . وہ واقعات انتہائی حساس نوعیت کے تھے ، جن کی وجہ سے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ خطرے میں آ سکتے تھے . نیازی نے خود تو ہمت نہ کی اصل بات اگلنے کی اس کے ہاتھ ارشد شریف کی کمزوریاں تھیں جن کو استعمال کر کے ارشد شریف کو ادارے سے لڑوا دیا . اس کے بعد نیازی نے اسے کینیا فرار کروا دیا تا کہ مزید ادارے پر مزید حملے کروا سکے . جب ارشد شریف نے نیازی کے چنگل سے بھاگنا چاہا تو اسے قتل کروا دیا گیا
نیازی گوگی گینگ کی مدد سے سیکس بطور سیاسی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور اس نے سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی رنگین یوتھنیوں کی مدد سے خریدا . وہ اپنے دھرنے میں بھی شرکا کو محظوظ کرنے کے لیے یوتھنیوں کا بندو بست کیا کرتا تھا . یہ بہت بڑا سیکس مافیا تھا اس نے عامر لیاقت کی جان لے لی تھی . نیازی انہیں کوکین کی عادت میں مبتلا کر دیتا تھا اور نشے کی لت میں بڑھتے بڑھتے ان کی جان چلی جاتی تھی
 

patwari_sab

Minister (2k+ posts)


اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کوئی خاتون بھی رہائش پذیر تھی جس کے کپڑے اس کے باتھ روم سے ملے . اگر وہ دونو ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے تو اس کا مطلب صاف ہے دونو کے درمیان جسمانی تعلقات بھی ضرور ہوں گے . یہ انہونی بات نہیں کہ صحافت ایک سیکس مافیا کا روپ دھار چکی ہے . بڑے بڑے صحافتی اداروں میں بیٹھے جنسی درندے خواتین کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں . یہ بات جنرل پاشا نے بھی کمیشن کو بتائی تھی کہ صحافیوں کی اوقات ایک بوتل شراب سے زیادہ نہیں . ٹیلیوزن پر بیٹھے بڑے بڑے نام جنسی ہوس اور سیکس کے پجاری ہیں اور صحافت کی اوٹ میں چھپا شراب و شباب کا دھندہ پورے عروج پر ہے
یہ کوئی مذاق کی بات یا ٹر ولنگ نہیں کہ ارشد شریف کے تعلقات سیکس مافیا سے تھے اس بات کا گواہ مشہور یوٹیوبر صدیق جان ہے جس نے مصطفیٰ ٹاور کی رنگیں راتوں اور اس میں شامل کرداروں کے نام ظاہر کیے تو ارشد شریف نے اسے گوادر میں زدکوب کیا . یہ اس وقت کی بات ہے جب ادارے نے ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا اور اس میں مشھور زمانہ گوگی گینگ شامل ہو گیا . ایک طرف گوگی گینگ صحافیوں کی راتیں رنگین کر رہا تھا تو دوسری طرف ادارہ ان کی ویڈیو بنا رہا تھا اس سب کا مقصد ان صحافیوں کو نیازی کا وفادار بنانا تھا . اب یہ صحافی نیازی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں نیازی کے پاس ان کی وڈیوز ہیں جس کی مدد سے وہ انہیں اپنا وفادار کتا بناۓ ہوے ہے
نیازی کو ضرورت تھی جنرل باجوہ کو بلیک میل کرنے کی یا ادارے کو بلیک میل کرنے کی جب عدم اعتماد کی رات غیر معمولی واقعات ہوے . وہ واقعات انتہائی حساس نوعیت کے تھے ، جن کی وجہ سے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ خطرے میں آ سکتے تھے . نیازی نے خود تو ہمت نہ کی اصل بات اگلنے کی اس کے ہاتھ ارشد شریف کی کمزوریاں تھیں جن کو استعمال کر کے ارشد شریف کو ادارے سے لڑوا دیا . اس کے بعد نیازی نے اسے کینیا فرار کروا دیا تا کہ مزید ادارے پر مزید حملے کروا سکے . جب ارشد شریف نے نیازی کے چنگل سے بھاگنا چاہا تو اسے قتل کروا دیا گیا
نیازی گوگی گینگ کی مدد سے سیکس بطور سیاسی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور اس نے سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی رنگین یوتھنیوں کی مدد سے خریدا . وہ اپنے دھرنے میں بھی شرکا کو محظوظ کرنے کے لیے یوتھنیوں کا بندو بست کیا کرتا تھا . یہ بہت بڑا سیکس مافیا تھا اس نے عامر لیاقت کی جان لے لی تھی . نیازی انہیں کوکین کی عادت میں مبتلا کر دیتا تھا اور نشے کی لت میں بڑھتے بڑھتے ان کی جان چلی جاتی تھی
zardari ki behen adii ke record ka tuje pta nhi?
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)


اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کوئی خاتون بھی رہائش پذیر تھی جس کے کپڑے اس کے باتھ روم سے ملے . اگر وہ دونو ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے تو اس کا مطلب صاف ہے دونو کے درمیان جسمانی تعلقات بھی ضرور ہوں گے . یہ انہونی بات نہیں کہ صحافت ایک سیکس مافیا کا روپ دھار چکی ہے . بڑے بڑے صحافتی اداروں میں بیٹھے جنسی درندے خواتین کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں . یہ بات جنرل پاشا نے بھی کمیشن کو بتائی تھی کہ صحافیوں کی اوقات ایک بوتل شراب سے زیادہ نہیں . ٹیلیوزن پر بیٹھے بڑے بڑے نام جنسی ہوس اور سیکس کے پجاری ہیں اور صحافت کی اوٹ میں چھپا شراب و شباب کا دھندہ پورے عروج پر ہے
یہ کوئی مذاق کی بات یا ٹر ولنگ نہیں کہ ارشد شریف کے تعلقات سیکس مافیا سے تھے اس بات کا گواہ مشہور یوٹیوبر صدیق جان ہے جس نے مصطفیٰ ٹاور کی رنگیں راتوں اور اس میں شامل کرداروں کے نام ظاہر کیے تو ارشد شریف نے اسے گوادر میں زدکوب کیا . یہ اس وقت کی بات ہے جب ادارے نے ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا اور اس میں مشھور زمانہ گوگی گینگ شامل ہو گیا . ایک طرف گوگی گینگ صحافیوں کی راتیں رنگین کر رہا تھا تو دوسری طرف ادارہ ان کی ویڈیو بنا رہا تھا اس سب کا مقصد ان صحافیوں کو نیازی کا وفادار بنانا تھا . اب یہ صحافی نیازی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں نیازی کے پاس ان کی وڈیوز ہیں جس کی مدد سے وہ انہیں اپنا وفادار کتا بناۓ ہوے ہے
نیازی کو ضرورت تھی جنرل باجوہ کو بلیک میل کرنے کی یا ادارے کو بلیک میل کرنے کی جب عدم اعتماد کی رات غیر معمولی واقعات ہوے . وہ واقعات انتہائی حساس نوعیت کے تھے ، جن کی وجہ سے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ خطرے میں آ سکتے تھے . نیازی نے خود تو ہمت نہ کی اصل بات اگلنے کی اس کے ہاتھ ارشد شریف کی کمزوریاں تھیں جن کو استعمال کر کے ارشد شریف کو ادارے سے لڑوا دیا . اس کے بعد نیازی نے اسے کینیا فرار کروا دیا تا کہ مزید ادارے پر مزید حملے کروا سکے . جب ارشد شریف نے نیازی کے چنگل سے بھاگنا چاہا تو اسے قتل کروا دیا گیا
نیازی گوگی گینگ کی مدد سے سیکس بطور سیاسی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور اس نے سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی رنگین یوتھنیوں کی مدد سے خریدا . وہ اپنے دھرنے میں بھی شرکا کو محظوظ کرنے کے لیے یوتھنیوں کا بندو بست کیا کرتا تھا . یہ بہت بڑا سیکس مافیا تھا اس نے عامر لیاقت کی جان لے لی تھی . نیازی انہیں کوکین کی عادت میں مبتلا کر دیتا تھا اور نشے کی لت میں بڑھتے بڑھتے ان کی جان چلی جاتی تھی
Ga..ndo [email protected]
 

atensari

President (40k+ posts)
مہر بخاری کہہ رہی ہے کے ارشد شریف کے کردار پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے
 

crankthskunk

Chief Minister (5k+ posts)


اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کوئی خاتون بھی رہائش پذیر تھی جس کے کپڑے اس کے باتھ روم سے ملے . اگر وہ دونو ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے تو اس کا مطلب صاف ہے دونو کے درمیان جسمانی تعلقات بھی ضرور ہوں گے . یہ انہونی بات نہیں کہ صحافت ایک سیکس مافیا کا روپ دھار چکی ہے . بڑے بڑے صحافتی اداروں میں بیٹھے جنسی درندے خواتین کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں . یہ بات جنرل پاشا نے بھی کمیشن کو بتائی تھی کہ صحافیوں کی اوقات ایک بوتل شراب سے زیادہ نہیں . ٹیلیوزن پر بیٹھے بڑے بڑے نام جنسی ہوس اور سیکس کے پجاری ہیں اور صحافت کی اوٹ میں چھپا شراب و شباب کا دھندہ پورے عروج پر ہے
یہ کوئی مذاق کی بات یا ٹر ولنگ نہیں کہ ارشد شریف کے تعلقات سیکس مافیا سے تھے اس بات کا گواہ مشہور یوٹیوبر صدیق جان ہے جس نے مصطفیٰ ٹاور کی رنگیں راتوں اور اس میں شامل کرداروں کے نام ظاہر کیے تو ارشد شریف نے اسے گوادر میں زدکوب کیا . یہ اس وقت کی بات ہے جب ادارے نے ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا اور اس میں مشھور زمانہ گوگی گینگ شامل ہو گیا . ایک طرف گوگی گینگ صحافیوں کی راتیں رنگین کر رہا تھا تو دوسری طرف ادارہ ان کی ویڈیو بنا رہا تھا اس سب کا مقصد ان صحافیوں کو نیازی کا وفادار بنانا تھا . اب یہ صحافی نیازی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں نیازی کے پاس ان کی وڈیوز ہیں جس کی مدد سے وہ انہیں اپنا وفادار کتا بناۓ ہوے ہے
نیازی کو ضرورت تھی جنرل باجوہ کو بلیک میل کرنے کی یا ادارے کو بلیک میل کرنے کی جب عدم اعتماد کی رات غیر معمولی واقعات ہوے . وہ واقعات انتہائی حساس نوعیت کے تھے ، جن کی وجہ سے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ خطرے میں آ سکتے تھے . نیازی نے خود تو ہمت نہ کی اصل بات اگلنے کی اس کے ہاتھ ارشد شریف کی کمزوریاں تھیں جن کو استعمال کر کے ارشد شریف کو ادارے سے لڑوا دیا . اس کے بعد نیازی نے اسے کینیا فرار کروا دیا تا کہ مزید ادارے پر مزید حملے کروا سکے . جب ارشد شریف نے نیازی کے چنگل سے بھاگنا چاہا تو اسے قتل کروا دیا گیا
نیازی گوگی گینگ کی مدد سے سیکس بطور سیاسی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور اس نے سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی رنگین یوتھنیوں کی مدد سے خریدا . وہ اپنے دھرنے میں بھی شرکا کو محظوظ کرنے کے لیے یوتھنیوں کا بندو بست کیا کرتا تھا . یہ بہت بڑا سیکس مافیا تھا اس نے عامر لیاقت کی جان لے لی تھی . نیازی انہیں کوکین کی عادت میں مبتلا کر دیتا تھا اور نشے کی لت میں بڑھتے بڑھتے ان کی جان چلی جاتی تھی
Khoote, teri pain di sri.
 

KPKInsafian

MPA (400+ posts)


اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کوئی خاتون بھی رہائش پذیر تھی جس کے کپڑے اس کے باتھ روم سے ملے . اگر وہ دونو ایک ہی باتھ روم استعمال کر رہے تھے تو اس کا مطلب صاف ہے دونو کے درمیان جسمانی تعلقات بھی ضرور ہوں گے . یہ انہونی بات نہیں کہ صحافت ایک سیکس مافیا کا روپ دھار چکی ہے . بڑے بڑے صحافتی اداروں میں بیٹھے جنسی درندے خواتین کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں . یہ بات جنرل پاشا نے بھی کمیشن کو بتائی تھی کہ صحافیوں کی اوقات ایک بوتل شراب سے زیادہ نہیں . ٹیلیوزن پر بیٹھے بڑے بڑے نام جنسی ہوس اور سیکس کے پجاری ہیں اور صحافت کی اوٹ میں چھپا شراب و شباب کا دھندہ پورے عروج پر ہے
یہ کوئی مذاق کی بات یا ٹر ولنگ نہیں کہ ارشد شریف کے تعلقات سیکس مافیا سے تھے اس بات کا گواہ مشہور یوٹیوبر صدیق جان ہے جس نے مصطفیٰ ٹاور کی رنگیں راتوں اور اس میں شامل کرداروں کے نام ظاہر کیے تو ارشد شریف نے اسے گوادر میں زدکوب کیا . یہ اس وقت کی بات ہے جب ادارے نے ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا اور اس میں مشھور زمانہ گوگی گینگ شامل ہو گیا . ایک طرف گوگی گینگ صحافیوں کی راتیں رنگین کر رہا تھا تو دوسری طرف ادارہ ان کی ویڈیو بنا رہا تھا اس سب کا مقصد ان صحافیوں کو نیازی کا وفادار بنانا تھا . اب یہ صحافی نیازی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں نیازی کے پاس ان کی وڈیوز ہیں جس کی مدد سے وہ انہیں اپنا وفادار کتا بناۓ ہوے ہے
نیازی کو ضرورت تھی جنرل باجوہ کو بلیک میل کرنے کی یا ادارے کو بلیک میل کرنے کی جب عدم اعتماد کی رات غیر معمولی واقعات ہوے . وہ واقعات انتہائی حساس نوعیت کے تھے ، جن کی وجہ سے اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ خطرے میں آ سکتے تھے . نیازی نے خود تو ہمت نہ کی اصل بات اگلنے کی اس کے ہاتھ ارشد شریف کی کمزوریاں تھیں جن کو استعمال کر کے ارشد شریف کو ادارے سے لڑوا دیا . اس کے بعد نیازی نے اسے کینیا فرار کروا دیا تا کہ مزید ادارے پر مزید حملے کروا سکے . جب ارشد شریف نے نیازی کے چنگل سے بھاگنا چاہا تو اسے قتل کروا دیا گیا
نیازی گوگی گینگ کی مدد سے سیکس بطور سیاسی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور اس نے سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی رنگین یوتھنیوں کی مدد سے خریدا . وہ اپنے دھرنے میں بھی شرکا کو محظوظ کرنے کے لیے یوتھنیوں کا بندو بست کیا کرتا تھا . یہ بہت بڑا سیکس مافیا تھا اس نے عامر لیاقت کی جان لے لی تھی . نیازی انہیں کوکین کی عادت میں مبتلا کر دیتا تھا اور نشے کی لت میں بڑھتے بڑھتے ان کی جان چلی جاتی تھی
Aap ki baat mai wazn hai, jab bilawal aur david kai raatoo kai qisday bi zuban zad aam hai, ayaan ali aur murdaari ka bi aap ko zaror pata hoga, bilawal aur murdaari kai videos b defo in k paas hai, isi liyai tou chaat raha hai mera matlab hai boots, baaqi ksi sai kuch b expect kar saktay hai albakistaan mai.
 
Sponsored Link