فوج کو اصل میں بازار میں آنے کی بھی اجازت نھیں ہوتی

Shehbaz

Senator (1k+ posts)

یہ کیسی فوج ہے جو بڑے بڑے ادارے چلاتی ھے اور ھر بندہ ٣۔ ٣۔ تین تین عہدوں پر فائز


فوج کو اصل میں بازار میں آنے کی بھی اجازت نھیں ہوتی یہ کیسی فوج ہے جو بڑے بڑے ادارے چلاتی ھے اور ھر بندہ ٣۔ ٣۔ تین تین عہدوں پر فائز ھیں تین تین تنخواہیں لیتے
ہیں کاروبار کرتی ہے ایسی فوج کسی اور ملک کی بھی نھیں۔ بلکل سہی کہا فوج کے بارے میں۔ احمدفراز نے

احمد فراز کی وہ نظم جو انہوں‌ نے پاک فوج کیلئے لکھی۔


میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں
جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا
آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے
جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے
پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے
یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے
جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے
ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں


فوج اور شیطانوں کے کیخلاف لڑائی؟۔۔۔۔!!
اگر یہ فوج شیطانوں‌ کے خلاف جنگ کا ارادہ کرلے تو سب سے پہلے اسے اپنے ہی اوپر حملہ کرنا پڑے گا۔ اور۔۔ میرے خیال میں‌تو
جنگ کھیڈ نئیں ایں، زنانیاں دیاں

جناب افضل صاحب نے یزید وقت پرویز مشرف کی بدنام زمانہ کتاب ”ان دی لائن آف فائر “ پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے تربیتی نظام کے متعلق کچھ حقائق کو ذکر کیا ہے ، امید کہ اس سے پاک فوج کی ”نفسیات“ کو سمجھنے میں مدد ملے گی

”ویسے یہ بات ذہن نشین رہےکہ ہماری فوج کا سیٹ اپ کچھ اسطرح ہے کہ مزہبی اور محبِ وطن آدمی ترقی پاکر اوپر آہی نہیں سکتا۔ یہ پرانی بات نہیں ہے جب پرویز صاحب نے چن چن کر فوج سے اسلامی ذہن رکھنے والوں کو نکالا اور اب ان میں کچھ تبلیغی جماعت ميں ہیں اور کچھ گھروں میں آرام فرما رہے ہیں۔ ابھی تک ہم نے کسی چیف آف سٹاف یا آرمی چیف کو داڑھی میں نہیں دیکھا۔ اگر کوئی آرمی آفیسر اسلام کی طرف راغب ہو کر داڑھی رکھ بھی لیتا ہے تو وہ بریگیڈیئر سے اوپر نہیں جا پاتا۔

ہماری فوج کی ٹریننگ ابھی تک پرانے” انگلستانی طور طریقوں“ پر ہورہی ہے جس میں آفیسروں کے ذہن میں یہ خناس بٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ اعلٰی مخلوق ہیں اور اگر انہوں نے کامیاب ہونا ہے تو سپاہیوں اور ایروں غیروں سے فاصلہ رکھیں۔ اکثر کیڈٹ شروع میں ہی داڑھی مونچھ صاف کرا دیتے ہیں اور پھر ان کو رہن سہن اور چلنا پھرنا اسطرح سکھایا جاتا ہے کہ ان کی گردن ہمیشہ اکڑی رہتی ہے۔ تربيت کے بعد جب کيڈٹ آفيسر بنتا ہے تو آدھا ديسي گورا بن چکا ہوتا ہے اور آرمي کي بڑي آسامي پر پہنچتے پہنچتے وہ پورا ديسي گورا بن جاتا ہے۔ آرمي کے بڑے صاحب ريٹائر ہو کر بھي گورا پن ترک نہيں کرتے اسي لئے ہميشہ سر پر کيپ اور ہاتھ ميں چھڑي نظر آتي ہے جو مرتے دم تک ان کي جان نہيں چھوڑتي۔

اگر فوج کو اقتدار سے دور رکھنا ہے اور اسے محبِ وطن بنانا ہے تو پھر فوجی تربیت کے طریقوں کو اسی طرح بدلنا ہوگا يعني انگريزي نظامِ تربيت کو چھوڑ کر اسلامي طرزِ تربيت اپنانا ہوگا۔ ليکن موجودہ حکومت سے اس بات کي توقع عبث ہے کيونکہ وہ تو اس کے الٹ پہلے ہي ہمارے تعليمي نصاب سے اسلامي شعار يعني جہاد وغیرہ کو نکال رہي ہے اور اس کي جگہ پر محبت کي داستانوں کا اضافہ کر کے قوم کو روشن خيال بنارہي ہے۔ اللہ جانے اس کا فوج کو کیا فائدہ ہوگا کیونکہ فوج کا وجود ہی جہاد سے ہے اور اگر آنے والی نسلوں سے جہاد کا خیال نکال دیا گیا تو پھر فوجی کہاں سے بھرتی کئے جائیں گے اور اگر بھرتی کر بھی لئے تو وہ کس بنیاد پر جنگ کریں گے۔

بحث کو اسطرح سمیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اس فوجی سیٹ اپ کی وجہ سے جو بھی آرمی چیف بنے گا وہ جنرل ایوب، جنرل ضیا اور جنرل پرویز مشرف سے مختلف نہیں ہوگا۔ آرمي چيف کے اسلامي ہونے کيلئے ضروري ہے کہ فوج کے بنيادي ڈھانچے ميں تبديلي کي جائے۔“


 
Last edited by a moderator:

Wake Up Pakistan

Chief Minister (5k+ posts)
America kay $$ kay liya yeah Fauj kisi be bazar mai kuch bee kar sakti hai

Even Yeah Raaand BAzar mai bee koi karobaar dhoond lai gee

Talented hai bohat
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)

فوج کو اصل میں بازار میں آنے کی بھی اجازت نھیں ہوتی



ان کو بازارِ حُسن میں آنے کی تو کھلی اجازت ہے

اودا کی کرنا اے؟؟؟

Shehbaz


کرنا کیہہ اے نوٹ وکھاؤ تے چڑھدے جا ؤ کوٹھے تے
یہ نازنینیں سجیلے جوانوں کے وصال کا ہی نتیجہ ہیں انہی کی بیٹیاں ہیں اولادیں ہیں
 

israr0333

Minister (2k+ posts)
Still the same situation even after long time

musharraf_cartoon.jpg