غزہ میں اسرائیلی حملوں کو8ماہ مکمل،اسرائیل اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل

2unisrlsjdjd.png

اقوام متحدہ نے اسرائیل کو غزہ میں بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پربلیک لسٹ میں شامل کرلیا,عرب میڈیا کے مطابق یو این بلیک لسٹ میں روس،افغانستان، صومالیہ، شام، یمن، داعش اور بوکو حرام بھی شامل ہیں, جب کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ جون کے آخر تک شائع کر دی جائے گی۔

ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی مندوب نے فیصلے پر کڑی تنقید کردی,انہوں نے اس فیصلے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا انہیں جمعے کے روز اس فیصلے کی باضابطہ طور پر اطلاع دی گئی۔

بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب مجرموں کی عالمی فہرست بچوں اور مسلح تنازعات پر ایک رپورٹ کا حصہ ہے جو 14 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جائے گی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفین ڈوجارک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔


اور مسلح تنازعات پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی رپورٹ بچوں کے قتل، انہیں معذور کرنے، ان کے ساتھ جنسی زیادتی، ان کے اغوا، بچوں تک امداد تک رسائی سے انکار اور اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنائے جانے کا احاطہ کرتی ہے۔

فہرست دو حصوں پر مشتمل ہے جس کے پہلے حصے میں وہ ممالک اور فریق شامل ہیں جو بچوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کر چکے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں وہ ممالک اور فریق شامل ہیں جو ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں,اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مندوب کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو ان ممالک اور فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو بچوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں,غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج پر کن خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔


عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب مجرموں کی عالمی فہرست میں شامل کیا جانا متوقع تھا اور یہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھا,انہوں نے ان تمام ممالک کی مذمت بھی کی جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا سب سے زیادہ شکار بچے ہی ہوئے ہیں اور غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ساڑھے 15 ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں,بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق غزہ میں ہر 10 میں سے 9 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں یعنی ان کی روزانہ کی خوراک 2 یا اس سے کم فوڈ گروپ پر مشتمل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں ہر 5 میں سے 4 بچے ہر 3 دنوں میں سے کم از کم ایک دن بھوکے رہتے ہیں۔ڈفینس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں ہزاروں فلسطینی بچے زخمی ہوئے ہیں جو زندگی بھر اس جنگ کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات سے نکلنے کی کوشش کرتے رہیں گے,آج غزہ میں اسرائیلی حملوں کو آٹھ ماہ مکمل ہوچکے ہیں.