غدارا ن ِ پاکستان کی فہرست میں سے

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)

جس زمانے میں مستقل قومی مصیبت نے دیواروں پر لکھنا شروع کیا تھا
شہر ہمارا جنگل تمہارا ، تو نظر سے ایک تحریر گزری ، آپ لوگوں کے لئے یہاں
پوسٹ کی ہے





غدارا ن ِ پاکستان کی فہرست میں سے



آج بات کرتا ہوں اپنے وطن کے ایسے غداروں کی جو بزد ل ا ور غافل عوام کے سروں کا تاج بنے بیٹھے ہیں ۔حال کے دشمنان ِ پاکستان اور غدار ِ پاکستان کی طویل فہرست میں میرے شہر کراچی کی لسانیت، فرقہ وار یت اور قومیت پر مبنی ایک نام نہاد سیاسی مگر دہشت گرد تنظیم جو کراچی شہر کو جہیز میں ملا مال سمجھتی ہے، یا وارثت میں ملی جائداد جو آئے دن کسی نہ کسی بہانے ، کسی نہ کسی میت پر شہر کو بند کرانے کا ہنر باخوبی جانتی ہے ، نمایاں اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔



یہ ایک بار پھر اپنے اصل عزائم کے ساتھ ظاہر ہو چکے ہیں۔ ان ابتدائی سطور سے پڑھنے والے پر واضح ہوگیا ہو گا کہ اس بار چوٹ زیادہ شدید ہے اس لئے اس کا اثر لفظوں میں کوٹ کوٹ کر عیاں ہو چلا ہے۔پچھلے دنوں کراچی کے علاقے حسن ا سکوئر کی گلیوں میں گھومنے کا اتفاق ہوا۔ تو آنکھوں نے وہ پڑھا جس سے روح کو تکلیف ہوئی، اور قلم کی نوک بے اختیارچیخ اٹھی۔ وہ کہتے ہیں شہر ہمارا، جنگل تمہارا یہ نعرہ ہی ان کی ذہنی پسماندگی ، جاگیردارانہ انداز ، ظالمانہ سوچ کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے۔

اب جس کو اپنی بوری بنوانی ہو وہ ان سے سوال کرے کہ تم کس شہر کی بات کر رہے ہو؟ اس شہر کی جس کو تم نے انتشار کی نذر کر دیا، اس شہر کی جہاں اردو بولنے والے کودیگر زبان بولنے والوں سے الجھا دیا، اس شہر کی بات کرتے ہو جس کی روشنیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تاریکی کی نذرکر دیا، اس شہر کی بات کرتے ہو جس کی دیواریں لہو سے رنگین کر چکے ہو، اس نگر کی بات کرتے ہو جہاں جنگل کا قانون نافذ کئے ہوئے ہو، اس شہر کو تم شہر کہتے ہو جہاں تم بھڑئیے بن کر دوسروں کامال ہڑپ کرتے ہو ، اس شہر کی بات کرتے ہو جہاں کی عزت کو تم نیلام کرتے ہو،جہاں سب کچھ کرکے انجان و معصوم بن جاتے ہو، جہاں تم ظلم کرکے بھی مظلوم بن جاتے ہو، جہاںتم قتل کرتے ہو پھرسوگ مناتے ہو

اول تو کوئی ان سے پوچھنے کی ہمت یا حماقت نہیں کر سکتا اور اگر کوئی پوچھ بھی لے تو کہتے ہیں یہ نعرے دیواروں پر لکھنے والے ہم نہیں ہیں، کوئی ان سے بڑا معصوم نہیں اپنے ہی علاقے میں جہاں ان کی اکثریت ہے ، جہاں گلی گلی پر ان لوگوں کی بیٹھک لگتی ہے جو ہر گزرنے والی صنف ِنازک کا ایکسرے کرنا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اس تمام بیٹھک کے باوجود اپنی ہی اکثریت والے علاقوں میں دیواروں پر ایسے نعروں سے یہ بیگانے ہوتے ہیں، ہونٹوں میں انگلی دبائے ، جہاں بھر کی معصومیت چہرے پر سجائے کہتے ہیں ہم کو معلوم نہیں یہ نعرے یہاں کس نے اور کب لکھے،اُس وقت یہ دودھ پیتے بچے بن جاتے ہیں، وہی نامعلوم افراد پھر آجاتے ہیں جوازل سے ان کے پیچھے پڑے ہیں۔ یا ان کی گود میں ایسے آڑھے وقتوں کے لئے پناہ لئے ہوئے ہیں۔

زمانہ اس کو سیاست کہتا ہے ، مذہب اس کو ظلم ، جھوٹ ، منافقت جیسے نہ جانے کن کن لفظوں سے یاد کرتا ہے، انسانیت اس کو درندگی کہتی ہے اور شیطان اس کو شیطانیت کہتا ہے اور ناز کرتا ہے ، یہ دراصل اس کے ہی ہیں،کوئی سراپا ابلیس ہے تو کوئی ابلیس نما، مگر یہ سب ایک ہی جماعت کے ہیں بس نام اور چہرے مختلف ہیں۔


یہ اپنی ابتدا سے اُس نظام کے خلاف بات کرتے ہیں جس کو اپنے آپ اپنائے ہوئے ہیں، یہ پنجاب و سندھ کے جاگیرداروں کے خلاف بات کرتے ہیں ، شہر کراچی کے جاگیردار بن کر، یہ شہر کے کونے کونے کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، وراثت سمجھتے ہیں ۔ اور اپنے خلاف کسی کو برداشت نہیں کرتے ، جب زبان ان کا قائد کھولتا ہے تو شرم آتی ہے اپنے آپ کو اردو بولنے اور لکھنے والا کہہ کر، جب اردو زبان والے پورے نہ پڑے تو متحدہ کا نعرہ لگایا اور اب متحدہ کا نعرہ لگاےا تو سندھ کا بٹوارہ لسانی زبان پر کرنے کا مطالبہ کس بنیاد پر کرتے ہیں۔

کوئی بھی قائد جب تقریر کرنے آتا ہے تو تیار ہو کر آتا ہے اور ان کا نام نہاد قائدپی کر آتا ہے، اس کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیا بکواس کر رہا ہے ، وہ تو جو من میں آیا خمار میں بولتا چلا جاتا ہے بعد میں اس کے نمائندے لوگوں کے سوالوں کے بے حد بھونڈے جوابات دیتے رہتے ہیں، جس کو بات کرنے کی تمیز نہیں اس کو اپنے سر پر بیٹھایا ہوا ہے۔


یہ وہ تنظیم جس نے اپنی ابتدا ہی سے کچے ذہنوں کو تعلیم چھوڑ کر ہتھیار اٹھانے کی تلقین کی، جس کا نتیجہ کہیں آنسوﺅں کا سمندر نظر آیا تو کہیں خون ہی خون، کہیں آنسو بہانے والا بھی نہیں بچا۔جانے کتنی ماﺅں کی گود اجاڑی گئی، کتنی ہتھیلیوں میں کھیلیں ٹھونکی گئیں، کتنوں کو اپاہج کیا گیا، کتنے گلوں پر چھڑی پھیری گئی۔قائد کی بھوک مٹانے کے لئے یہ بھی دیکھا کہ بیٹے نے اپنے ہی گھر میں ڈکیتی کروائی۔بھائی نے بھائی کا گریبان پکڑا، شاگرد نے استاد کو دھمکیاں دی، مارا پیٹا، کتنا لکھوں آنکھوں دیکھا حال ، ایک دفتر بھی کم ہو گا اور اگر لکھنے بیٹھ جاﺅں کانوں سنا تو شاید زندگی تمام ہوجائے مگر ان کی ظلمت کے قصے تمام نہ ہوں۔

اور یہ حقیقت ہے کہ جس خواب ، جس منصوبے کو لے کر یہ وجود میں آئے تھے ۔ یعنی جناح پور آج بھی نام بدل کر اس کے حصول کے لئے کوشاںہیں۔ آج پھربلی تھیلے سے باہر آئی تھی ، قائد خمار میںمن کی خواہش کا اظہار کر کے چلے گئے۔آج یہ فرماتے ہیں کہ جنگل تمہارا اور شہر ہمارا، جو شہر ان کے پاس تھا اس کو یہ جنگل بنا چکے ہیں ۔ لگتا ہے اب یہ کسی اور شہر میں خون خرابے کا یہ کھیل پھر سے کھیلنا چاہتے ہیں۔جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں اور جس ڈھٹائی سے مطالبہ کرتے ہیں اتنی ہی معصومیت سے اپنے کئے گئے مطالبے سے لاتعلقی کا اظہارکر دیتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے جو شہر پہلے تمہارے پاس تھا اس کا تم نے کیا کیا؟؟؟


مختصر یہ کہ یہ ایک ایسے روگ کی صورت ہیں جس کا اب بھی علاج نہ کیا گیا تو کینسر کی مانند یہ بیماری پوری دھرتی کو چاٹ جائے گی، اس پر لکھی ہر خوشی کو مٹا دے گی، ہر آنکھ میں آنسو سجا دے گی۔ یہ وہ مجرم ہیں جن کے جرم کی تلافی نہیں، جن کے جرم کی سزا نہ قید با مشقت ہے اور نہ سزائے موت ۔

ان کی سزا کچھ اور ہونا ضروری ہے جس کو دیکھ کر کوئی پھر کبھی میرے وطن میں ان کی ڈگر پر چلنے کی غلطی نہ کرے۔ بزدلوں کو خوف کی ردا اتارنا ہوگی، کل جس انداز سے انہوں نے مجھ سے کھلے عام چھینا جھپٹی کی اور محلہ ، راہ چلتے لوگ تماشہ دیکھتے رہے، کل اگر ان تماش بین پر یہ وقت آیا، یا ان کے گھر کی عورتوں کی عصمت کو یوں ہی چھینا گیا تو کیا کل مجھے تنہا چھوڑنے والے اپنے اوپر آئی آفت پر بھی خاموش رہیں گے؟؟ آج یہ اتنے دلیر ہوچکے ہیں محض لوگوں کی بزدلی کی وجہ سے کہ کل جو مال چھینتے تھے رات کی تاریکی یا تنہائی میں آج وہ یہ کام دن کی روشنی میں اور لوگوں کے سامنے کر رہے ہیں، آج یہ مال کے بھوکے ہیں کل جب عورت کی بھوک ان کی بڑھ جائے گی تو یہ جو کام رات میں کرتے ہیں ، بند کمروں میں ۔وہ دن میں ، بازاروں میں کریں گے، تو گزرے کل میں جو تماش بین بنے رہے تھے وہ آنے والے وقت میں بھی کیا تماش بین بنے رہیں گے؟؟؟ کیا وہ اپنی بربادی کا تماشہ بھی چپ چاپ دیکھتے رہیں گے، یقینا جواب یہ ہی ہوگا کہ نہیں وہ اس وقت خاموش نہیں رہیں گے، تو میرا سوال ہے پھر آج جب شہر چیخ رہا ہے ، وہ برباد ہو چلا ہے تو یہ کیوں خاموش ہیں؟؟

اگر آج نہیں بولے، شہر کی چیخوں کے ساتھ اپنی آواز نہ ملائی تو کل یہ زمین بھی ان کو پناہ نہیں دے گی۔ان کو بتانا ہوگا کہ شہر ہمارا تھا جس کو جنگل تم نے بنا دیا ہے۔ان کو بتا نا ہوگا کہ ایک شہر کوتمہارے ہاتھوں جنگل ہم نے اپنے خوف کے سبب بنوا دیا اب مزید شہروں کو تمہاری بھوک کی نذر نہیں کریں گے۔بلکہ جس شہر کو تم نے جنگل بنایا ہے اس کو تمہاری ظلمت سے پاک کر کے پھر سے گلستاں بنائیں گے۔اتحاد، اتفاق، محبت کا بھلایا ہوا درس پھر یاد کریں گے۔ لسانی ، سیاسی، قومیت کی تمام دیواروں کو گرا دیں گے۔ اور تاریکی میں ڈوبے شہر کو پھر روشن کریں گے۔اور ان کو ہر جگہ تنہا کرتے چلے جائیں گے۔ یہ ہی ان کی سزا ہے اور یہ ہی ان کا انجام۔
 

PkRevolution

Chief Minister (5k+ posts)
Tum naya Pakistan maango to inqilab, hum naya sooba maangen to ghaddar :)...


یہ دیکھو کہ کون مانگ رہا ہے۔ کراچی کی دھشت گرد جماعت جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں وہ ایسے مطالبے کرنا شروع کردیں تو پھر قانون کو بھی ساتھ ہی زندہ دفن کر دو۔

پہلے مہاجر صوبہ، جب ناکام ہوئے تو اب صوبے بناو۔
 

auqab

Minister (2k+ posts)
once upon a time mqm leaders used to sound little bit logical! but blaming PTI for not allowing making new provinces its utterly illogical!

as if PTI was in power for last 30 years and stopping the creation of new provinces!

its basically all vs PTI! #MunafiqeenVsPTI
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
Bx4_hD1CIAAGdNy.jpg
 

Neutral man

Senator (1k+ posts)
TUm pathan sindhi Punjabi kabhi nahi sudar skate,,, begherato tareekh ko parh kr hi dek lo k Bangladesh q juda hua tha,,, tum apne apne mufad k liye sari haden tor dete ho,,, khuda ka khof karo,,, jab tmhe smjhao to kehte ho k Pakistan Allah ne banaya he kabhi tooot nahi skta,,, abe choo..tia logo,, kon se aasmani sahife me likha he ye,,,
kabhi dekho western countries ki boundries kesi hen or hmari countries ki kia halat he,,, hme apni islah ki zaroorat he,,, hazrat umar ka dor yad karo,,,,,, wo asal muslim hakmaran the,,, jin ko apni riaya se kitni mohabat thi,, or aj karachi walay jb govt. or army jobs me hissa mangte hen,,, intazami set up mangte hen to tm hme ghaddar kehte ho laannnat he tmhari pedaish pr,,, salo asal pakistan k dushman tm log ho k tm se mehnat to hoti nahi ,,, ghar beth kr 2sro ka haq marte ho,,, begherto balochistan se sabak seekho,,, kahin ye injection pakistan ko poison na sabit ho,,,,
ab bolo ge dunya hme khtm krna chati he,,, dunya nahi tm khudkash log ho,,, BC tm log lofar ho,,,
 

Neutral man

Senator (1k+ posts)
once upon a time mqm leaders used to sound little bit logical! but blaming PTI for not allowing making new provinces its utterly illogical!

as if PTI was in power for last 30 years and stopping the creation of new provinces!

its basically all vs PTI! #MunafiqeenVsPTI

PTI was against status quo,,, so why they against province in sindh,,
ITS DEFINITELY ALL VS KARACHITIES # LOOFER VS KARACHITIES
 

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)
TUm pathan sindhi Punjabi kabhi nahi sudar skate,,, begherato tareekh ko parh kr hi dek lo k Bangladesh q juda hua tha,,, tum apne apne mufad k liye sari haden tor dete ho,,, khuda ka khof karo,,, jab tmhe smjhao to kehte ho k Pakistan Allah ne banaya he kabhi tooot nahi skta,,, abe choo..tia logo,, kon se aasmani sahife me likha he ye,,,
kabhi dekho western countries ki boundries kesi hen or hmari countries ki kia halat he,,, hme apni islah ki zaroorat he,,, hazrat umar ka dor yad karo,,,,,, wo asal muslim hakmaran the,,, jin ko apni riaya se kitni mohabat thi,, or aj karachi walay jb govt. or army jobs me hissa mangte hen,,, intazami set up mangte hen to tm hme ghaddar kehte ho
laannnat he tmhari pedaish pr,,, salo asal pakistan k dushman tm log ho k tm se mehnat to hoti nahi ,,, ghar beth kr 2sro ka haq marte ho,,, begherto balochistan se sabak seekho,,, kahin ye injection pakistan ko poison na sabit ho,,,,
ab bolo ge dunya hme khtm krna chati he,,, dunya nahi tm khudkash log ho,,,
BC tm log lofar ho,,,


محترم میں نے شہر ہمارا جنگل تمہارا پر بات کی ہے، اور دیگر باتیں کی ہیں
آپ تحریر پڑھیں اور اپنی بات اور اختلاف کو تحریر مٰیں جو لکھا گیا ہے
وہاں تک رکھیں
اور جس زبان میں بات کی گئی ہے اس زبان میں بات کریں اپنی
جماعت کی زبان میں بات کرنا ہے تو اپنی جماعت والوں ہی سے بات کریں


 

Neutral man

Senator (1k+ posts)


محترم میں نے شہر ہمارا جنگل تمہارا پر بات کی ہے، اور دیگر باتیں کی ہیں
آپ تحریر پڑھیں اور اپنی بات اور اختلاف کو تحریر مٰیں جو لکھا گیا ہے
وہاں تک رکھیں
اور جس زبان میں بات کی گئی ہے اس زبان میں بات کریں اپنی
جماعت کی زبان میں بات کرنا ہے تو اپنی جماعت والوں ہی سے بات کریں


Qasam se ye tarika PTI walon se hi seekha he,,, yaqeen na aye to ksi se b poch lo,,, Bat jis tarf b ki gayi he,, lagi karachi walo ko he,,,
 

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)
Qasam se ye tarika PTI walon se hi seekha he,,, yaqeen na aye to ksi se b poch lo,,, Bat jis tarf b ki gayi he,, lagi karachi walo ko he,,,


میرے بھائی اختلاف کو ذاتی نہ بنانا کبھی
اور اگر کچھ سیکھنا ہے تو اولیا اللہ اور انبیا اور
صحابہ کی تعلیمات سے سیکھیں
میرے لکھے پر اعتراض کرنے کا پورا حق
ہے اور اپنی بات کہنے کا بھی پورا حق ہے
مگر دوست کوشش کیا کریں کہ اچھے الفاظ
میں گفتگو کی جائے
میری کہی گئی کسی بھی بات پر اعتراض کرنا
آپ کا حق ہے اور اس سے روکنا یہ آپ کے
اعتراض پر آپ کو برا بھلا کہنا قطعی درست طریقہ نہیں
اگر تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے اراکین اور کارکن
اس سوچ پر عمل پیرا ہوجائیں تو یقین مانیں
کچھ ہو نہ ہو ... ملک میں امن ضرور ہو جائے گا


اللہ ہمارے درمیان پاکستانیت ، انسانیت کا رشتہ
بحال فرمائے.... آمین



 

Neutral man

Senator (1k+ posts)

میرے بھائی اختلاف کو ذاتی نہ بنانا کبھی
اور اگر کچھ سیکھنا ہے تو اولیا اللہ اور انبیا اور
صحابہ کی تعلیمات سے سیکھیں
میرے لکھے پر اعتراض کرنے کا پورا حق
ہے اور اپنی بات کہنے کا بھی پورا حق ہے
مگر دوست کوشش کیا کریں کہ اچھے الفاظ
میں گفتگو کی جائے
میری کہی گئی کسی بھی بات پر اعتراض کرنا
آپ کا حق ہے اور اس سے روکنا یہ آپ کے
اعتراض پر آپ کو برا بھلا کہنا قطعی درست طریقہ نہیں
اگر تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے اراکین اور کارکن
اس سوچ پر عمل پیرا ہوجائیں تو یقین مانیں
کچھ ہو نہ ہو ... ملک میں امن ضرور ہو جائے گا


اللہ ہمارے درمیان پاکستانیت ، انسانیت کا رشتہ
بحال فرمائے.... آمین

yar dil dukhta he jab apna haq nahi milta,, nokrion me hissa nahi milta,,, lekin mene wording galat use ki,,, us k liye SORRY :sorry:
 

Haqiqat-

Banned

میرے بھائی اختلاف کو ذاتی نہ بنانا کبھی
اور اگر کچھ سیکھنا ہے تو اولیا اللہ اور انبیا اور
صحابہ کی تعلیمات سے سیکھیں
میرے لکھے پر اعتراض کرنے کا پورا حق
ہے اور اپنی بات کہنے کا بھی پورا حق ہے
مگر دوست کوشش کیا کریں کہ اچھے الفاظ
میں گفتگو کی جائے
میری کہی گئی کسی بھی بات پر اعتراض کرنا
آپ کا حق ہے اور اس سے روکنا یہ آپ کے
اعتراض پر آپ کو برا بھلا کہنا قطعی درست طریقہ نہیں
اگر تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے اراکین اور کارکن
اس سوچ پر عمل پیرا ہوجائیں تو یقین مانیں
کچھ ہو نہ ہو ... ملک میں امن ضرور ہو جائے گا


اللہ ہمارے درمیان پاکستانیت ، انسانیت کا رشتہ
بحال فرمائے.... آمین

آئو میں تمہاری زبان میں تم سے بات کروں۔
کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ شہر کراچی کی سب سے سپر دہشتگرد جماعت جماعت اسلامی تھی اور ابھی تک ہے۔
جو کہ کسی نہ کسی شکل میں کراچی میں دہشت گردی بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھی اور ہے۔
جس کے بارے میں مشہور تھا اور ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی جلسے میں بمب بلاسٹ کرواتے ہیں۔
جن کے بارے میں مشہور تھا اور ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو مار کر انکی لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔
کراچی کی عوام نے انکو منسو خ کیا رد کیا باہر نکال پھینکا
کراچی کی عوام باشعور ہے
نڈر ہے
تو پتا نہیں کس گینگ وار کے محلے میں رہتا ہے!!۔
کراچی کی عوام نے اپنے ہاتھوں سے جماعت کا کراچی میں قلا قمہ کیا
کراچی کی عوام بہتر جانتی ہے کہ کون ہماری بہتری میں ہے
اور کون نقصاندہ
سب جانتے ہیں جماعت کتنی مضبوط تھی
کہ ان کی مرضی سے کراچی میں ایک پتا بھی نہیں ہلتا تھا
سب جانتے ہیں کلاشنکوف کلچر طلبہ تک پہچانے میں جماعت کا کتنا بڑا ہاتھ ہے تاہم اسکا سہرہ بھی ان کے سر جاتا ہے
طالبان کے حامی سب کے سب حرامی۔۔۔
اور
عمران تہ ابھی کچا امرود ہے
دکھنے میں نمرود ہے
اسکی برگر فیملی ووٹرز صرف کلفٹن کی حد تک ہی محدوود ہے
متوسط طبقہ آج بھی ایم کیو ایم کی جانب گامزن ہے
اور رہے گا بھی

 

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)
yar dil dukhta he jab apna haq nahi milta,, nokrion me hissa nahi milta,,,
lekin mene wording galat use ki,,, us k liye SORRY :sorry:





اچھی بات یہ ہے کہ آپ میں ہمت ہے اپنی
غلطی پر معذرت کرنے کی اور یہ واقعی بہت خوش آئند
بات ہے، آپ میں حوصلہ اور بہادری ہے کوشش کریں
اس حوصلے اور بہادری کو درست سمت میں استعمال میں لایا جائے
یاد رکھیں
ہم جیسے روز مر رہے ہیں
میں آپ سے ابھی بات کر رہا ہوں
معلوم نہیں گھر جانا نصیب ہو کہ نہیں
تو یوں بے مقصد جینے اور مرنے کا کیا فائدہ
مرنا تو لازم ٹھہرا تو کیوں ناں
بکھرے ہوئوں کو جوڑنے میں
زندگی تمام کر دی جائے
سیاست سے بڑھکر پاکستانیت کے لئے کچھ
کیا جائے، یاد رکھیں
ہم 65 کی جنگ فوج اور عوام مل کر جیتے تھے
اور 71 کی جنگ میں اپنا بازو باہمی اختلافات
کی وجہ سے کاٹ بیٹھے
ہم کو 65 کے بعد سے کمزور پر کمزور کیا جا رہا ہے
ہمارے اندر پاکستانیت ختم کرکے
لسانیت کا بیج بویا گیا
قومیت کا بیج بویا گیا
اور اس کا پھل
لاقانونیت
غفلت
ظلمت
فرقہ واریت
کی صورت میں ملا
جس نے ہم کو قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کیا
ہم میں پاکستانیت کو ختم کیا
اب دشمن کے لئے ہم ریت کی گرتی دیوار بن چکے ہیں


ہم نے لوگوں سے سنا
پاکستان کیا ایٹم بم کھائے گا
اس سے بہتر تھا ہم انڈیا سے مل جائیں
یہ وہ سوچ تھی جو دشمن ہمارے ذہنوں میں
پیدا کرنا چاہتا تھا ہم کو تقسیم کرکے
اور ہم سیاست، مسلک ، قومیت کے پیچھے
تقسیم ہوتے گئے


آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے
جو بہادر ہوں جن میں اخلاقی جرات ہو
کوشش کریں اپنی زبان اور عمل سے اپنے مخا لف کو بھی
اپنا کر لیں
اسلام کی بھی یہ ہی تعلیم ہے
اور پاکستان کا بھی یہ ہی پیغام ہے
اسکو دنیا سے اسکے باسی ہی مٹائیں گے
اگر وہ آپس میں مل کر نہ رہے


اللہ ہم سب کو ہدایت سے نوازے ..................آمین
 

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)
آئو میں تمہاری زبان میں تم سے بات کروں۔
کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ شہر کراچی کی سب سے سپر دہشتگرد جماعت جماعت اسلامی تھی اور ابھی تک ہے۔
جو کہ کسی نہ کسی شکل میں کراچی میں دہشت گردی بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھی اور ہے۔
جس کے بارے میں مشہور تھا اور ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی جلسے میں بمب بلاسٹ کرواتے ہیں۔
جن کے بارے میں مشہور تھا اور ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو مار کر انکی لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔
کراچی کی عوام نے انکو منسو خ کیا رد کیا باہر نکال پھینکا
کراچی کی عوام باشعور ہے
نڈر ہے
تو پتا نہیں کس گینگ وار کے محلے میں رہتا ہے!!۔
کراچی کی عوام نے اپنے ہاتھوں سے جماعت کا کراچی میں قلا قمہ کیا
کراچی کی عوام بہتر جانتی ہے کہ کون ہماری بہتری میں ہے
اور کون نقصاندہ
سب جانتے ہیں جماعت کتنی مضبوط تھی
کہ ان کی مرضی سے کراچی میں ایک پتا بھی نہیں ہلتا تھا
سب جانتے ہیں کلاشنکوف کلچر طلبہ تک پہچانے میں جماعت کا کتنا بڑا ہاتھ ہے تاہم اسکا سہرہ بھی ان کے سر جاتا ہے
طالبان کے حامی سب کے سب حرامی۔۔۔
اور
عمران تہ ابھی کچا امرود ہے
دکھنے میں نمرود ہے
اسکی برگر فیملی ووٹرز صرف کلفٹن کی حد تک ہی محدوود ہے
متوسط طبقہ آج بھی ایم کیو ایم کی جانب گامزن ہے
اور رہے گا بھی





بھائی میں کون سا جماعت اسلامی کا حامی ہوں
کوشش کریں سیاسی وابستگی کا لبادہ اتار کر کچھ سوچیں
کراچی میں سپر پاور مستقل قومی مصیبت کے روپ
میں ہے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی اس کے
اپنے علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز ہیں
علاقے کچرے کا ڈھیر بن رہے ہیں
اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ جماعت کہنے والی
اپنے یونٹس کے لڑکوں سے موبائل چوری جیسی واردات
کروانے کے بجائے
علاقے صاف کرواتی تو کیا ہی بات تھی


کراچی کی عوام مظلوم نہیں بلکہ خاموشی کی ردا اوڑھ کے ظالم کا ساتھی
بنی ہوئی ہے


ان کو عروج کیوں ملا؟؟؟ جماعت اسلامی کی دہشت گردیوں سے تنگ لوگوں
نے ان کو مسیحا سمجھا، یہ مقبول ہوئے اور پھر
یہ اپنے ہی انڈے کھانے لگے تو ان کی بھی حقیقت سامنے آ گئی
بھائی گیری کا کلچر عام ہوا
حقائق بہت ہیں
مگر اگر آپ اپنے جھوٹ پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو شوق
سے رہیں آپ کو اپنے انداز سے جینے کا حق ہے
مگر کسی دوسرے پر اپنا انداز تھوپنے اور مسلط کرنے کا حق نہیں
جو آپ لوگ اکثر یوم سوگ مناتے ہوئے کرتے ہیں


اللہ ہم سب کو ہدایت دے ... آمین
 

mehwish_ali

Chief Minister (5k+ posts)

mak-the-one
ان صاحب کی تحریر "دوغلے رویوں" عکاس ہے۔

۔1۔ ان سے کھوٹ "فقط اور فقط" متحدہ اور مہاجروں میں نظر آیا۔ بقیہ پاکستان کے گناہوں پر انکے قلم سے 1 لفظ نہیں نکلا۔

۔2۔ اصول ہے کہ جو برائی میں پہل کرتا ہے، اس پر ہی ساری ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے یہاں پر یہ اصول بدل ڈالے۔

۔3۔ ان سے بقیہ پاکستان کے مشرقی پاکستان میں سلوک کے متعلق پوچھا گیا۔ مگر یہ چپ۔

۔4۔ انہیں فقط متحدہ کی غنڈہ گردی نظر آئی، حالانکہ اسکی ابتدا متحدہ نے نہیں کی تھی اور جو کچھ بقیہ پاکستانی کراچی کی یونیورسٹیوں میں کر رہے تھے، وہ انہیں نظر نہیں آئی۔ قائد تحریک الطاف حسین کہتے ہیں جب میں کراچی یونیورسٹی گیا تو وہاں ہر قومیت کی سٹوڈنٹ پارٹی موجود تھی، چاہے وہ سندھی سٹوڈنٹ آرگنائزیشن ہو یا پشتون یا پنجابی یا سرائیکی کے نام پربننے والی تنظیمیں۔
اور غنڈہ گردی تھی تو وہ جماعت اسلامی کی تھی جنہیں ایک بار پھر یہ ہضم کر گئے۔

۔5۔ انہیں الزام لگانا آیا کہ متحدہ نے "مہاجروں کے حقوق" کی بات کر کے تفریق ڈالی۔ مگر انکو نظر نہ آیا کہ متحدہ سے قبل ہی کوٹہ سسٹم کے نام پر یہ شہری سندھی اور دیہی سندھ کی تفریق قائم ہو چکی تھی، کوٹہ سسٹم کے نام پر تمام محکموں سے مہاجروں کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا تھا، اور یونیورسٹیز میں بھی یہ ہی صورتحال تھی۔

۔6۔ انہیں فقط اور فقط متحدہ اور مہاجروں کے ہاتھوں میں اسلحہ نظر آیا۔
مگر یہ انکی منافقت ہے کہ کراچی کے بیچوں بیچ جو کئی دھائیوں سے سہراب گوٹھ اور وہاں کی موجود پشتون کمیونٹی غیر قانونی مہلک اسلحے کے انبار پر انبار لگائے ہوئے تھی، وہ انہیں نظر نہ آ سکی۔ کئی دھائیوں تک سہراب گوٹھ میں لٹنے والی جائیدادوں کے لیے مہاجر روتے رہے، وہاں سے اٹھنے والے اسلحے مافیا، لینڈ مافیا، ڈرگز مافیا، سمگل شدہ مال مافیا وغیرہ کے خلاف احتجاج کرتے رہے، مگر ان بقیہ پاکستانیوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

مگر متحدہ کے پاس تو 1987 تک اسلحہ کے نام پر ایک پستول تک نہ تھی۔ اسی وقت پھر سانحہ قصبہ کالونی پیش آجاتا ہے، جسے ایک بار پھر یہ صاحب ڈکار مارے بغیر ہضم کر جاتے ہیں۔
سانحہ قصبہ کالونی کیا تھا؟ اس میں پشتون کمیونٹی کے جرائم پیشہ افراد اپنے غیر قانونی اسلحے کے ساتھ اترے اور انہوں نے قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالونی میں موجود مہاجر کمیونٹی پر فائر کھول دیے، انکے گھروں کو آگ لگا دی، انکی عزتیں لوٹیں۔ 300 افراد اس حادثے میں شہید ہوئے اور کئی سو مزید زخمی۔
پھر اس سانحہ کی عدالتی تحقیقات ہوئیں، اور رپورٹ مرتب ہوئی۔ مگر اس رپورٹ کو پھر کبھی شائع نہیں کرنے دیا گیا اور بہانہ بنایا گیا کہ یہ رپورٹ شائع کر دی گئی تو پاکستان کی ایک بڑی کمیونٹی (پشتون کمیونٹی) کو برا لگے گا۔

صرف اس حادثے کے بعد جا کر الطاف حسین نے مہاجر قوم کو کہا کہ وہ زیور بیچیں اور اسلحہ خریدیں اور اپنی حفاظت خود کریں۔
ان بغض میں ماروں کو الطاف حسین کا یہ بیان تو نظر آتا ہے، مگر اسکے پیچھے سانحہ قصبہ کالونی میں جو 300 مظلوم و معصوم مارے گئے، انکا خون نظر نہیں آتا۔


۔7۔ ان صاحب کی ذہنی حالت دیکھو۔
اگر کسی نے لکھ دیا ہے "شہر ہمارا، جنگل تمہارا" تو اس پر انہوں نے آنسوؤں کے سمندر بہا دیے۔
لیکن کوئی انہیں ناانصافی دکھائے کہ پچھلی کئی دھائیوں سے کوٹہ سسٹم کے نام پر کیا ہو رہا ہے تو یہ اندھے ۔۔۔ کوئی انہیں دکھائے کہ سہراب گوٹھ کے اٹھنے والے فتنے کیسے شہر میں اسلحے کو پھیلا رہے ہیں، تو وہاں کے فتنوں کے نام سے یہ اندھے۔۔۔۔
کوئی انہیں دکھائے کہ 670 ارب روپے دیہی سندھ کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے، مگر فقط اور فقط 30 ارب روپے شہری سندھ (کراچی ، حیدر آباد اور سکھر) کے لیے، تو اس شدید ناانصافی پر یہ ایک بار پھر اندھے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے
یہ وہ لوگ ہیں جو خود ہر ہزار خون معاف رکھتے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دوسرے کی آنکھ میں تنکا تو نظر آتا ہے، مگر اپنی آنکھ میں موجود شہتیر نہیں۔

10649440_762486760459064_4356927376415559466_n.jpg


 
Last edited:

Neutral man

Senator (1k+ posts)


اچھی بات یہ ہے کہ آپ میں ہمت ہے اپنی
غلطی پر معذرت کرنے کی اور یہ واقعی بہت خوش آئند
بات ہے، آپ میں حوصلہ اور بہادری ہے کوشش کریں
اس حوصلے اور بہادری کو درست سمت میں استعمال میں لایا جائے
یاد رکھیں
ہم جیسے روز مر رہے ہیں
میں آپ سے ابھی بات کر رہا ہوں
معلوم نہیں گھر جانا نصیب ہو کہ نہیں
تو یوں بے مقصد جینے اور مرنے کا کیا فائدہ
مرنا تو لازم ٹھہرا تو کیوں ناں
بکھرے ہوئوں کو جوڑنے میں
زندگی تمام کر دی جائے
سیاست سے بڑھکر پاکستانیت کے لئے کچھ
کیا جائے، یاد رکھیں
ہم 65 کی جنگ فوج اور عوام مل کر جیتے تھے
اور 71 کی جنگ میں اپنا بازو باہمی اختلافات
کی وجہ سے کاٹ بیٹھے
ہم کو 65 کے بعد سے کمزور پر کمزور کیا جا رہا ہے
ہمارے اندر پاکستانیت ختم کرکے
لسانیت کا بیج بویا گیا
قومیت کا بیج بویا گیا
اور اس کا پھل
لاقانونیت
غفلت
ظلمت
فرقہ واریت
کی صورت میں ملا
جس نے ہم کو قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کیا
ہم میں پاکستانیت کو ختم کیا
اب دشمن کے لئے ہم ریت کی گرتی دیوار بن چکے ہیں


ہم نے لوگوں سے سنا
پاکستان کیا ایٹم بم کھائے گا
اس سے بہتر تھا ہم انڈیا سے مل جائیں
یہ وہ سوچ تھی جو دشمن ہمارے ذہنوں میں
پیدا کرنا چاہتا تھا ہم کو تقسیم کرکے
اور ہم سیاست، مسلک ، قومیت کے پیچھے
تقسیم ہوتے گئے


آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے
جو بہادر ہوں جن میں اخلاقی جرات ہو
کوشش کریں اپنی زبان اور عمل سے اپنے مخا لف کو بھی
اپنا کر لیں
اسلام کی بھی یہ ہی تعلیم ہے
اور پاکستان کا بھی یہ ہی پیغام ہے
اسکو دنیا سے اسکے باسی ہی مٹائیں گے
اگر وہ آپس میں مل کر نہ رہے


اللہ ہم سب کو ہدایت سے نوازے ..................آمین

to q na sobon ka nam qomiat se badal kr division ki bunyad pr sobe bna diye jayen,, aese jawaz hi nahi rahe ga k koi qomiat ka card khel sake,,, me to khud chata hun ye muhajir ki chaap hat jaye lekin pPP ki sindhi or pmln ki punjabi politics ki waja se karachities ko ye card khelne wale ka 7 dena parta he,,, May Allah bless Pakistan
 

Altaf Lutfi

Chief Minister (5k+ posts)
Kutt*y ki dum nalki main daali magar aaj bhi waisi ki waisi hai. isi rawayyay ne 1971 main Bangla Desh banwa dia, aaj Karachi ki bari hai. lekin darya ko ulti samat bahana na 1971 main mumkin tha aur na aaj hai.
 

MAK-THE-ONE

MPA (400+ posts)

mak-the-one
ان صاحب کی تحریر "دوغلے رویوں" عکاس ہے۔

۔1۔ ان سے کھوٹ "فقط اور فقط" متحدہ اور مہاجروں میں نظر آیا۔ بقیہ پاکستان کے گناہوں پر انکے قلم سے 1 لفظ نہیں نکلا۔

۔2۔ اصول ہے کہ جو برائی میں پہل کرتا ہے، اس پر ہی ساری ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے یہاں پر یہ اصول بدل ڈالے۔

۔3۔ ان سے بقیہ پاکستان کے مشرقی پاکستان میں سلوک کے متعلق پوچھا گیا۔ مگر یہ چپ۔

۔4۔ انہیں فقط متحدہ کی غنڈہ گردی نظر آئی، حالانکہ اسکی ابتدا متحدہ نے نہیں کی تھی اور جو کچھ بقیہ پاکستانی کراچی کی یونیورسٹیوں میں کر رہے تھے، وہ انہیں نظر نہیں آئی۔ قائد تحریک الطاف حسین کہتے ہیں جب میں کراچی یونیورسٹی گیا تو وہاں ہر قومیت کی سٹوڈنٹ پارٹی موجود تھی، چاہے وہ سندھی سٹوڈنٹ آرگنائزیشن ہو یا پشتون یا پنجابی یا سرائیکی کے نام پربننے والی تنظیمیں۔
اور غنڈہ گردی تھی تو وہ جماعت اسلامی کی تھی جنہیں ایک بار پھر یہ ہضم کر گئے۔

۔5۔ انہیں الزام لگانا آیا کہ متحدہ نے "مہاجروں کے حقوق" کی بات کر کے تفریق ڈالی۔ مگر انکو نظر نہ آیا کہ متحدہ سے قبل ہی کوٹہ سسٹم کے نام پر یہ شہری سندھی اور دیہی سندھ کی تفریق قائم ہو چکی تھی، کوٹہ سسٹم کے نام پر تمام محکموں سے مہاجروں کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا تھا، اور یونیورسٹیز میں بھی یہ ہی صورتحال تھی۔

۔6۔ انہیں فقط اور فقط متحدہ اور مہاجروں کے ہاتھوں میں اسلحہ نظر آیا۔
مگر یہ انکی منافقت ہے کہ کراچی کے بیچوں بیچ جو کئی دھائیوں سے سہراب گوٹھ اور وہاں کی موجود پشتون کمیونٹی غیر قانونی مہلک اسلحے کے انبار پر انبار لگائے ہوئے تھی، وہ انہیں نظر نہ آ سکی۔ کئی دھائیوں تک سہراب گوٹھ میں لٹنے والی جائیدادوں کے لیے مہاجر روتے رہے، وہاں سے اٹھنے والے اسلحے مافیا، لینڈ مافیا، ڈرگز مافیا، سمگل شدہ مال مافیا وغیرہ کے خلاف احتجاج کرتے رہے، مگر ان بقیہ پاکستانیوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

مگر متحدہ کے پاس تو 1987 تک اسلحہ کے نام پر ایک پستول تک نہ تھی۔ اسی وقت پھر سانحہ قصبہ کالونی پیش آجاتا ہے، جسے ایک بار پھر یہ صاحب ڈکار مارے بغیر ہضم کر جاتے ہیں۔
سانحہ قصبہ کالونی کیا تھا؟ اس میں پشتون کمیونٹی کے جرائم پیشہ افراد اپنے غیر قانونی اسلحے کے ساتھ اترے اور انہوں نے قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالونی میں موجود مہاجر کمیونٹی پر فائر کھول دیے، انکے گھروں کو آگ لگا دی، انکی عزتیں لوٹیں۔ 300 افراد اس حادثے میں شہید ہوئے اور کئی سو مزید زخمی۔
پھر اس سانحہ کی عدالتی تحقیقات ہوئیں، اور رپورٹ مرتب ہوئی۔ مگر اس رپورٹ کو پھر کبھی شائع نہیں کرنے دیا گیا اور بہانہ بنایا گیا کہ یہ رپورٹ شائع کر دی گئی تو پاکستان کی ایک بڑی کمیونٹی (پشتون کمیونٹی) کو برا لگے گا۔

صرف اس حادثے کے بعد جا کر الطاف حسین نے مہاجر قوم کو کہا کہ وہ زیور بیچیں اور اسلحہ خریدیں اور اپنی حفاظت خود کریں۔
ان بغض میں ماروں کو الطاف حسین کا یہ بیان تو نظر آتا ہے، مگر اسکے پیچھے سانحہ قصبہ کالونی میں جو 300 مظلوم و معصوم مارے گئے، انکا خون نظر نہیں آتا۔


۔7۔ ان صاحب کی ذہنی حالت دیکھو۔
اگر کسی نے لکھ دیا ہے "شہر ہمارا، جنگل تمہارا" تو اس پر انہوں نے آنسوؤں کے سمندر بہا دیے۔
لیکن کوئی انہیں ناانصافی دکھائے کہ پچھلی کئی دھائیوں سے کوٹہ سسٹم کے نام پر کیا ہو رہا ہے تو یہ اندھے ۔۔۔ کوئی انہیں دکھائے کہ سہراب گوٹھ کے اٹھنے والے فتنے کیسے شہر میں اسلحے کو پھیلا رہے ہیں، تو وہاں کے فتنوں کے نام سے یہ اندھے۔۔۔۔
کوئی انہیں دکھائے کہ 670 ارب روپے دیہی سندھ کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے، مگر فقط اور فقط 30 ارب روپے شہری سندھ (کراچی ، حیدر آباد اور سکھر) کے لیے، تو اس شدید ناانصافی پر یہ ایک بار پھر اندھے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے
یہ وہ لوگ ہیں جو خود ہر ہزار خون معاف رکھتے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دوسرے کی آنکھ میں تنکا تو نظر آتا ہے، مگر اپنی آنکھ میں موجود شہتیر نہیں۔




یہ جن صاحب کی تحریر ہے
انھوں نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ
فہرست میں سے ایک کا ذکر کر رہا ہوں


آپ تحریر کے آغاز کو پڑھ لیں
باقی تمام آپ کی باتوں کا جواب دینا
ایک لاحاصل بحث کا آغاز کرنے کے مترادف ہے
کیونکہ آپ نے جذبات میں آ کر تحریر کو سمجھا نہیں اور
اظہار ِ جذبات کر بیٹھیں
میرا پیغام پاکستانیت ہے
اور بس آپ کے بھائی لوگ
پاکستان کی بات کریں گے تو میری آواز ان کی آواز
کیساتھ ہوگی
مگر اس سے پہلے انکو اپنے ماضی کے ہر گناہ اور جرم
کا اعتراف کرنا ہوگا اور اپنی صفوں میں سے قصور وار
اور مجرموں کو نکالنا ہوگا


مانا برائی پہلے سے موجود تھی مگر
اس کے خاتمے کے لئے بھائی سے کس نے کہا
تھا کہ آپ اس سے بڑی برائی بن جائیں


مختصر یہ کہ آپ کا حق اعتراض کرنا ہے وہ آپ استعمال کریں


اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کی بات سمجھنے والا بنا دے .....آمین