عمران خان کے مخالفوں کو خوف ہے کہ انہیں آزاد کردیا تو پتہ نہیں کیا کردیں

13shahhakhahakkhuf.png

سینئر صحافی وتجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پلان کرنا پڑے گا اور وسیع تر مفاہمت کرنی پڑے گی اور ایک دوسرے کا خوف دور کرنا پڑے گا۔

عمران خان سے کے مخالفوں کو خوف ہے کہ اگر انہیں کو آزاد کر دیا تو پتہ نہیں کیا کر دیں؟ آپ کو بھی ان سے خوف ہو سکتا ہے جسے دور کرنا ہو گا تبھی تو کام چلے گا، یہ ڈرانے سے کام نہیں چل سکتا۔ جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دو بٹا تین۔

https://twitter.com/x/status/1795146135616487435
سینئر صحافی مظہر عباس نے بھی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب ، یہ مطالبہ تو کر سکتے ہیں کہ میرا مینڈیٹ واپس دیا جائے لیکن وہ سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں سٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں لیکن سیاسی قوتوں سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوں، عمران خان کی بنیادی سیاسی غلطی یہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یا تو آپ یہ کہیں کہ سٹیبلشمنٹ کا پاکستانی سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور اس پر ساری سیاسی قوتیں اکٹھی ہوں اس پر بات کرنے کو تیار ہوں، یہ بات سیاسی ہو گی۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ میں سٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں لیکن سیاسی قوتوں سے بات کرنے کو تیار نہیںہوں یہ ان کی وہی غلطی ہے جو ماضی میں نوازشریف نے بھی کی اور محترمہ بینظیر نے بھی کی۔

ایک سوال کہ "تحریک انصاف کا خیال ہے کہ سیاسی قوتوں کے پاس ان کو دینے کو کچھ نہیں" کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ 1977ء میں کیا حال تھا، موجودہ حالات سے زیادہ بدترین صورتحال تھی۔ پی این اے کی تحریک میں کئی سو لوگ شہید ہو چکے تھے اس کے باوجود پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات کیے اور ایک نتیجے پر پہنچے، سیاسی قوتیں تمام تر اختلافات کے باوجود گفتگو کرتی ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1795139639419752516
 

Digital_Pakistani

Chief Minister (5k+ posts)
خوف عمران خان کا نہیں خان کے نظریے کا ہے جو عوام اور سوشل میڈیا سے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا
 

Husain中川日本

Senator (1k+ posts)
13shahhakhahakkhuf.png

سینئر صحافی وتجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پلان کرنا پڑے گا اور وسیع تر مفاہمت کرنی پڑے گی اور ایک دوسرے کا خوف دور کرنا پڑے گا۔

عمران خان سے کے مخالفوں کو خوف ہے کہ اگر انہیں کو آزاد کر دیا تو پتہ نہیں کیا کر دیں؟ آپ کو بھی ان سے خوف ہو سکتا ہے جسے دور کرنا ہو گا تبھی تو کام چلے گا، یہ ڈرانے سے کام نہیں چل سکتا۔ جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دو بٹا تین۔

https://twitter.com/x/status/1795146135616487435
سینئر صحافی مظہر عباس نے بھی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب ، یہ مطالبہ تو کر سکتے ہیں کہ میرا مینڈیٹ واپس دیا جائے لیکن وہ سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں سٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں لیکن سیاسی قوتوں سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوں، عمران خان کی بنیادی سیاسی غلطی یہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یا تو آپ یہ کہیں کہ سٹیبلشمنٹ کا پاکستانی سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور اس پر ساری سیاسی قوتیں اکٹھی ہوں اس پر بات کرنے کو تیار ہوں، یہ بات سیاسی ہو گی۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ میں سٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں لیکن سیاسی قوتوں سے بات کرنے کو تیار نہیںہوں یہ ان کی وہی غلطی ہے جو ماضی میں نوازشریف نے بھی کی اور محترمہ بینظیر نے بھی کی۔

ایک سوال کہ "تحریک انصاف کا خیال ہے کہ سیاسی قوتوں کے پاس ان کو دینے کو کچھ نہیں" کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ 1977ء میں کیا حال تھا، موجودہ حالات سے زیادہ بدترین صورتحال تھی۔ پی این اے کی تحریک میں کئی سو لوگ شہید ہو چکے تھے اس کے باوجود پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات کیے اور ایک نتیجے پر پہنچے، سیاسی قوتیں تمام تر اختلافات کے باوجود گفتگو کرتی ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1795139639419752516
خان کے آنے کا مطلب ہے دستور پاکستان کا نفاز اور دستور کے نفاز کا مطلب تم بغیرتوں کی موت ، بہت سادہ سی بات ہے