عمران خان کیخلاف ایک نیا کیس آرہا ہے، اعزاز سید

15azazsyeyehdawkahxase.png

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس بین السطور سنیں تو وہ اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دینے کے مترادف ہے: سینئر صحافی وتجزیہ کار

سینئر صحافی وتجزیہ کار اعزاز سید نے جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دراصل سٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی کی ایکسٹینشن ہی ہے جس میں ہر روز ایک نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے بیڈروم سے کیمرے برآمد ہوئے ہیں، ایک جج کے بہنوئی اغوا ہوئے ہیں تو عدلیہ بطور ادارہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہوئے حکومت اور سٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا نے جو پریس کانفرنس کی انہوں نے نام لے کر سپریم وہائیکورٹ کے دو ججز کا ذکر کیا، ان کی پریس کانفرنس بین السطور سنیں تو وہ اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دینے کے مترادف ہے۔ فیصل واوڈا کون ہیں؟ ان سے پوچھا جائے تو کہتے میں کسی جماعت میں نہیں حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں نے انہیں ووٹ دیا، وہ سٹیبلشمنٹ کی زبان بول رہے ہوتے ہیں اور خود کو ان کا نمائندہ کہتے نہیں کتراتے۔

https://twitter.com/x/status/1790764648305693159
انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں سٹیبلشمنٹ کا نمائندہ عدلیہ کو دھمکیاں دے رہا ہے، اسی دن عمران خان کی ضمانت کی تاریخ لگی ہے جو ہو جاتی ہے جس کے بعد ن لیگ کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ ہے اور دوسری طرف حکومت اور سکیورٹی سٹیبلشمنٹ ایک ساتھ کھڑی ہے اور یہ لائن ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف معاملات پر وہ سٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج کے اوپر تھے۔ اگلے مہینے تک عدلیہ کیسز کو جلد نپٹانے کی کوشش کرے گی تاہم سٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی زیادہ دیر تک جیل میں رہیں جس کے لیے عمران خان کے خلاف نیب نے ایک نیا کیس بھی تیار کر لیا ہے جسے جلد داخل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سٹیبلشمنٹ کے ارادے کے خلاف عدلیہ مزاحمت کرتی نظر آرہی ہے، میری اطلاعات کے مطابق عمران خان کے خلاف توشہ خانہ سے متعلقہ ہی ایک نیا کیس تیار کیا گیا ہے۔ عمران خان سے 21 اپریل کو بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی، جتنی تیزی سے عدلیہ متحرک ہے، لگتا ہے جلد یہ کیس بھی دائر کر دیا جائے گا۔

سینئر صحافی شہزاد اقبال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ٹرائل کورٹ میں جس کا ممکنہ طور پر جلد فیصلہ آ جائے گا کیونکہ 30 کے قریب گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں، نیب اسی لیے چاہتا تھا کہ ضمانت نہ ملے کیونکہ کیس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ احسن اقبال، سعد رفیق کے کیس میں بھی نیب عدالت میں جاری ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے سپریم کورٹ سے انہیں ضمانتیں مل گئی تھیں۔

https://twitter.com/x/status/1790767704145576196
نیب اگر کہہ رہا ہے کہ یہ سیکرٹ معاہدہ ہے تو انہیں یہ ثابت بھی کرنا پڑے گا، عدالت میں معاملہ دستاویزی ثبوت کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، نیب نے اب جو بھی کیس ہے وہ اکائونٹیبلٹی کورٹس میں ثابت کرنا ہے۔ سائفر کیس، عدت کیس کے باعث عمران خان کی رہائی میں تو ابھی وقت لگے گا، نیب عدالت نے اگر انہیں 190 ملین پائونڈ کیس میں سزا دے دی تو ان کی رہائی نہیں ہو پائے گی۔

میرا تجزیہ ہے کہ حکومت کوشش کرے گی کہ عمران خان رہا نہ ہو سکیں کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں رہیں گے، پی ٹی آئی اقتدار سے باہر رہے گی تو ملک کو استحکام کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی خواہش یہی ہو گی کہ جتنی دیر تک عمران خان کو جیل میں رکھا جا سکتا ہے رکھا جائے، ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب واپس آئیں گے، باہر آنے پر شاید ان کی سیاست میں مزید تلخی آ جائے اور وہ اپنے آپ کو مزید طاقتور سمجھیں۔
 

Digital_Pakistani

Chief Minister (5k+ posts)
ادارے کا خصوصی نمائندہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نظیر احمد سیاسی اور بددیانت جنرلز کو بچانے ضرور میدان میں ائے گا

full
 

patwari_sab

Chief Minister (5k+ posts)
7 lac maderchod soor fouj Khan ki aik tasweer mainstream media par afford nahi kr sakti, to Khan ka jail se bahir ana to generals k liye nightmare se Kam nahi hoga
 

Nice2MU

President (40k+ posts)
یہ جوکر اور منیرا مستری جو بھی کرلے ملک میں استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ اگلے مہینے بجٹ ہے۔ اسمیں عوام کا مزید خون نچوڑا جائیگا۔۔