عمران خان کو 5 سال تک جیل میں رکھنے کابیان،احسن اقبال کو سخت ردعمل کا سامنا

6ahsaniqbalabackifire.png

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو ملک کی ترقی کیلئے عمران خان کو پانچ سال جیل میں رکھنے سے متعلق بیان دینا مہنگا پڑگیا، سوشل میڈیا پر صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کرنا شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایک بیان میں کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو عمران خان کو اگلے پانچ سال تک کیلئے جیل میں ہی رکھا جائے۔

احسن اقبال کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین بشمول صحافیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا، صحافی عبید بھٹی نے احسن اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکی کی ترقی کیلئے ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور ان کے ہینڈلرز کو چوکوں میں لٹکانا چاہیے۔

https://twitter.com/x/status/1802291214672130480
صحافی احمد نورانی نے کہا کہ اپنی کرپشن بچانے کے چکر میں پڑے چند لوگ یہی کہتے ہیں، مگر پھر بھی ن لیگی قیادت کو دنیا کے مختلف ممالک میں بنائی گئیں جائیدادیں اور کاروباروں کا حساب دینا ہوگا۔

https://twitter.com/x/status/1802212874862895270
اکبر نامی صارف نے کہا کہ یہ ڈکٹیٹروں کی سوچ ہوتی ہے جو مقبول لیڈر کو جیل میں رکھ کر حکومت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس عوامی سپورٹ نہیں ہوتی جس وجہ سے یہ مقبول لیڈر کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مارشل لاء کی پیدوار ن لیگ سے ایسا شکست خوردہ بیان خلاف توقع نہیں ہے۔

https://twitter.com/x/status/1802269389451923569
سعد نامی صارف نے کہا کہ ملک ترقی کرتا ہے قانون کی حکمرانی سے، عدل سے، انصاف سے، فیصل سازی میں نوجوان طبقے کی شمولیت سے اور عوام کے فیصلے کے سامنے سرنگوں کرنے سے۔یہ اجزاء نہ ہوں تو ہمارے جیسا ملک کیا سویت روس جیسی سپر پاورز بھی تباہ ہوجاتی ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1802287190518407232
ایک صارف نے کہا کہ عوام نے دو تہائی اکثریت سےعمران کو وزیراعظم منتخب کیا ، مگر اقلیتی پارٹی نے بندوق برداروں کے ساتھ ملکر عوامی حقوق پہ ڈاکہ ڈال کر اقتدار پہ قبضہ کیا ،عوام غاصبین سے یر غمال پاکستان کو چھڑاوائیں گے اور قبضہ کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا۔

https://twitter.com/x/status/1802227965280882928
ایک صارف نے کہا کہ یہ وہ 88 لوگ ہیں جو 25 کروڑ عوام میں سے نواز شریف کی تقریر سنتے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1802290212657082446
ایک دوسرے صارف نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ آپ سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں اور آپ چوروں سے اپنا مینڈیٹ واپس چاہتے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1802257600320258192
 

Jaguar707

MPA (400+ posts)
Ahsan Iqbal should have rather bragged about taking the AC down of Imran Khan in front of few thousand Americans or should have proudly informed the American crowd that Rana Sana Muchar is enjoying solitary confinement.
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
اس گشتی کے بچے احسن اقبال فراڈئے کی گشتی ماں نثار فاطمہ
وہ گشتی عورت تھی جس نے خورد اور اس گشتی کے حرام زادے باپ
یعنی اس بجو حرامی کے کنجر نانے جس کا نام شاید محمد حسین تھا
اس نے
پاکستان بننے کے خلاف مہم چلائی کانگریس نے اس دور میں اسکو ہزاروں روپے دئے اور اس پیسے کے بدلے اس نے اپنی ماں چ۔۔ کر مسلم لیگ کے خلاف الیکشن لڑا ایک مسلم لیگی معمولی مزدور اور عام ورکر کے خلاف
کانگریس کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اس حرام زادے کو ٹکٹ مجبوری میں دی کانگریس نے کیونکہ
اور کوئی حلالی ماں باپ کی حلالی اولاد اور مسلمان امیدوار پاکستان بنانے والی قائداعظم کی
مسلم لیگ کے کسی بھی امیدوار کے خلاف الیکشن لڑنا
ہی نہیں چاہتا تھا لیکن جب کوئی اور با اثر مسلمان پاکستان اور قائد اعظم کے امیدوار کے
خلاف الیکشن لڑنے پر تیار نا ہوا
اس وقت اس کے حرامی نانے نے اپنی ماں چ۔۔ کر یہ پاکستان مخالف الیکشن لڑا اور اسکے
مخالف نے ہزاروں ووٹ لے کر اس کے نانے اور کانگریسی چیلے حرام زادے کی ضمانت ضبط کرادی جس نے صرف بیس بائیس ووٹ
لئے اسطرح زلیل ہونے کے بعد اس کے حرامی نانے اور اسکی ماں پھاتو گشتی ناروالی یعنی
نثار فاطمہ نے قائد اعظم اور مسلم لیگ اور پاکستان کے خلاف اور زیادہ بھونکنا شروع کردیا
لیکن اللہ کی شان اور ہمیشہ ہی زلیل ہوتی رہی
لیکن پھر جب جنرل ضیا نے مارشل لا لگایا تو وہ گشتئ عورت اس جھوٹ کے ساتھ ضیا سے ملی کہ
جس بہادر دلیر لڑکی اور مسلم لیگی لڑکی نے لاہور سیکریٹریٹ پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا وہ پاکستان
سے محبت کرنے والی وہ مسلمُ لیگی لڑکی وہ خود تھی
یعنی وہ لڑکی نثار فاطمہ تھی
جبکہ وہ لڑکی جو کہ اس وقت تک عورت بن چکی تھی وہ کوئی اور تھی اور وہ مسلم لیگی عورت تھی
لیکن یہ گشتی تو کانگریسی عورت تھی اور پاکستان کے خلاف تھی
لیکن یہ جھوٹ بھونک کر نثار فاطمہ نامی وہ جھوٹی مکار گشتی عورت
جنرل ضیا کے پاس اس مسلم لیگی لڑکی کے نام پر پہنچی اور حکومت میں داخل ہوئی اور شاید وزیر
یا کوئی
مشیر بنی لیکن جب ایک بار اس گشتی جھوٹی لعنتئ کانگریسی عورت نثار فاطمہ نے حکومت میں آنے کے
بعد دوبارہ اپنے نام سے یہ جھوٹا کلیم کیا
اور ایک اخباری انٹرویو میں یہ دعوئی کیا وہ جھنڈا لہرانے
والی مسلم لیگی بہادر لڑکی یہ خود نثار فاطمہ تھی
تو اس وقت بھی چند صحافی بہت محنت کرکے اس اصلی لڑکی کو ڈھونڈھ
کر
سامنے لے آئے جس نے اصل میں لاہور سیکریٹریٹ پر انگریزی فوج اور گارڈز کی موجودگی میں وہ
جھنڈا لہرایا تھا اور جس کا جھوٹ بھونک کر وہ جھوٹی مکار لعنتئ عورت نثار فاطمہ
ضیا کی
حکومت میں شامل ہوئی لیکن جب اخباری نمائندوں نے اسکا جھوٹ بے نقاب کیا اور اسکی پول کھولی
تو وہ حرام زادی اس راز کھلنے کے بعد کچھ دن تو تک
شرم سے مونہہ چھپائے پھری اور چند دن غائب رہی
لیکن پھر اس گشتی عورت قائداعظم کو گالیاں بھونکنے والی کانگریسی کتیا ڈھیٹ اور جھوٹی گشتی عورت
نے دوبارہ اپنے یہ جھوٹ کی گرد بیٹھے کے بعد اس
نے پھر مارشل لا کے کرپٹ ٹولے اور انکی لوٹ مار میں
اپنا حصہ وصول کرنا شروع کردیا اور جھوٹ کی بنیاد
پر آئی ہوئی اس گشتی عورت نے اپنے بجو کی شکل کے بیٹے احسن اقبال کو بھی جنرل ضیا کی اس بات سے فائدہ اٹھایا کہ جنرل ضیا کو نعتیں بہت پسند تھیں
اور بجو کنجر احسن اقبال فراڈیا گانے بہت اچھے گاتا تھا شاید کنجر اور میراثی دادے جی وجہ سے
اس کی آواز کی وجہ سے اس گشتی عورت نے جنرل ضیا کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو نعتیں
یاد کرانا شروع کردیں اور یہ بجو احسن اقبال فراڈیا اپنی گشتی ماں کے ساتھ جنرل ضیا کو نعتیں سنانے پہنچ جاتا تھا
کے پاس لیجانا شروع کردیا اور اس طرح یہ حرام زادہ جنرل ضیا کا نعت خوان بن کر سیاست میں آیا
جنرل ضیا کو اس سے زیادہ ریڈیو اور ٹی وی کا اناونسر اورپھر ڈائرکٹر شاعر منصور تابش کی آواز بہت پسند تھی جس نے مشہور زمانہ نعت گائی تھی
یہ تو تیرا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے اور جنرل ضیا کی بہت کی تقریبات میں
منصور تابش نعت خواں ہوتا تھا اور قاری خوشی محمد تلاوت قرآن پاک قرائت کے ساتھ سناتے تھے
جنرل ضئا کی اسئ پسند کو گشتی نثار فاطمہ کانگریسی
حرامن نے
کیش کرایا اس نعت خوانی کے بہانے سے ضیا سے زاتی مفادات
حاصل کرنے کے لئے بس یہ اوقات ہے اس کنجر ارسطو بجو حرام زادے کی
اس اپنی ماں کے دلے کی
اوقات دیکھو اور اس کا بھونکنا سنو تو حیرت ہوتی ہے
کیسے کیسے مایک اور حرامی سیاست میں کیسے کیسے حرامی طریقے سے داخل ہوئے