عمران خان آڈیو لیک، کیا سپریم کورٹ کا کارروائی کا ارادہ ہے؟

leakedh111i.jpg


سابق وزیراعظم وبانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سپریم کورٹ میں 6 جون کو پیشی کے موقع پر کیس کی سماعت کے دوران ان کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے کچھ گزارشات رکھی گئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ بینچ کے ساتھ عمران خان کی ہونے والی اس گفتگو کی آڈیو گزشتہ روز لیک ہو گئی تھی جس پر تحقیقات کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے تاہم سپریم کورٹ اس معاملے پر ابھی کسی انکوائری کا ارادہ نہیں رکھتی نہ ہی اس معاملے پر کوئی ہدایات جاری کی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ آڈیولیک تحقیقات کے معاملے پر ابھی تک کوئی ہدایات جاری نہیں ہوئیں تاہم کسی بھی پیشرفت کی صورت میں بذریعہ پریس ریلیز آگاہ کر دیا جائیگا۔

دوسری طرف نجی ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حسن ایوب نے آڈیولیکس معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما مرزا شہزاد اکبر کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر حسن ایوب اپنے پیغام میں لکھا: کیا آج یہ سوال نہیں بنتا کہ مسلسل ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے والے اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے عمران خان کی غیرقانونی آڈیولیک کرنے والے شہزاد اکبر کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت کس کی طرف سے دی گئی؟
https://twitter.com/x/status/1800582975656198239
حسن ایوب کی پوسٹ پر ردعمل میں مرزا شہزاد اکبر نے اپنے پیغام میں لکھا: عمران خان کی یہ آڈیو غیرقانونی کیسے ہو گئی؟ آج میں ایک آزاد ملک میں رہ رہا ہوں جہاں آزادی رائے ہے، جس کسی کو تکلیف ہے وہ یہاں پر آ جائے، میدان اور گھوڑا دونوں حاضر ہیں۔

یاد رہے کہ نیب ترامیم کیس کی 16 مئی کو ہونے والی سماعت کے موقع پر جب عمران خان پہلی بار اڈیالہ جیل راولپنڈی سے بذریعہ ویڈیولنک سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوتے تھے تو ان کی ایک تصویر لیک ہو گئی تھی جو بعدمیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، اسلام آباد پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں لیکن کسی کو سزا نہیں دی گئی۔

عمران خان 6 جون کو سپریم کورٹ میں دوبارہ ویڈیولنک کے ذریعے پیش ہوئے تو ان کی طرف سے شکوہ کیا گیا کہ اس کیس کی براہ راست نشریات کیوں بند کی گئیں؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی غیرذمہ دار شخص نہیں کہ کوئی غیرذمہ دارانہ بیان دیتے۔ جسٹس امین الدین خان نے ان کے جواب میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں آپ کو ویڈیولنک کے ذریعے پیش ہونے کی غیرمعمولی سہولت فراہم کی گئی ہے۔