عدالت ایجنسیوں کوٹیلیفونک گفتگوریکارڈ کرنے سےروکے،جاسوسی آلات ہٹانےکاحکم دے

12phonetapingkfjfjkfjgj.png

وکیل اور موکل کی گفتگو کو ریکارڈ کرکے پبلک کرنے سے قانونی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا: موقف

سابق وزیراعظم وچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی طرف سے ان کے اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو لیک کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔


ذرائع کے مطابق سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ان کی آڈیو کال لیک کرنے اور اسے پبلک کر کے میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواست دائر کر دی ہے۔

بشریٰ بی بی کی طرف سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں اور سردار لطیف کھوسہ ان کے وکیل ہیں جن کے ساتھ ان کی آڈیو کال کو ریکارڈ کر کے پبلک کیا گیا ہے اور توڑ مروڑ کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ لطیف کھوسہ کے ساتھ ان کی آڈیو کال کو ریکارڈ کر کے پبلک کرنے کا مقصد مجھے ہراساں کرنا اور میری نجی زندگی پر منفی اثرات ڈالنا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ، دفاع، سیکرٹری وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ملک کی کسی بھی خفیہ ایجنسی کو کسی شہری کی خفیہ ریکارڈنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک وکیل اور اس کے موکل کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرکے پبلک کرنے سے قانونی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔

بشریٰ بی بی کی طرف سے دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے اور ایجنسیوں نے نہ صرف میری اپنے وکیل کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کو ریکارڈ کیا بلکہ پبلک کر کے میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش بھی کیا گیا۔ استدعا ہے کہ عدالت ایجنسیوں اور متعلقہ اداروں کو ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کر کے پبلک کرنے سے روکے اور تمام جاسوسی آلات کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

واضح رہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تصدیق کر دی تھی۔ لطیف کھوسہ نے آڈیو لیکس بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وکیل اور اس کے موکل میں ہونے والی گفتگو ہے جسے لیک کرنے والے کو شرم آنی چاہیے۔ کسی شہری کی ذاتی گفتگو اور کالز لیک کون کرتا ہے؟ جسٹس بابر ستار بھی آرڈر دے چکے ہیں کہ یہ آڈیوز کو لیک کر رہا ہے؟