عالمی جریدوں میں پاک چین تعلقات پر آرٹیکلز،احسن اقبال نے ملبہ PTIپر ڈال دیا

10ahsananiqbabablttititi.png


وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے پاک چین تعلقات خراب کرنے کا الزام پاکستان تحریک انصاف پر لگا دیا جس پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ احسن اقبال کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ چند دنوں سے ایک سیاسی جماعت چندروز سے پاک چین تعلقات پر پروپیگنڈا کررہی ہے، یہ کہنا کہ چین نے پاکستان سے تعلقات کو ڈاؤن گریڈ کر دیا ہے دشمن کا پراپیگنڈا ہے جسے یہ اپنائے ہوئے ہیں۔

احسن اقبال کے بیان پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری نے اپنے پیغام میں لکھا:پنجابی میں کہتے ہیں“ڈگی کھوتی توں غصہ کمہار تے”چین سے تعلقات ڈاؤن گریڈ ہونے کا آرٹیکل جاپان اور امریکہ کے اخبار نے دیا اور احسن اقبال 25 منٹ سے دھمکیاں تحریک انصاف کو لگا رہا ہے، ان جیسے احمق وزراء اور مشیر پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں کیونکہ یہ سیاسی حدت میں کمی نہیں آنے دیتے!

https://twitter.com/x/status/1803407015173034420
سینئر صحافی عمران ریاض خان نے لکھا: وہ احسن اقبال جو اپوزیشن کے دوران بلاجواز سی پیک کی ناکامی اور چین سے تعلقات کا ملبہ تحریک انصاف پر ڈالنے کی کوشش میں رہتے تھے آج پاک چین تعلقات پر عالمی میڈیا کی خبر پر بھی تحریک انصاف پر ہی چڑھ دوڑے ہیں۔ اس وقت ان کا صرف ایک مقصد ہے کہ کسی طرح خان کو روکو اور اپنی جعلی حکومت کو بچاؤ!

https://twitter.com/x/status/1803410095377703271
معروف قانون دان انتظار حسین پنجوتھا نے لکھا: نالائق ارسطو نے آج ثابت کیا کہ وہ کیوں نالائق ہے اور کتنا بڑا نالائق ہے، سی پیک یا چین سے تعلقات تحریک انصاف کی وجہ سے خراب نہیں ہوئے لیکن الزام تحریک انصاف پر ہے، اتنی گھٹیا سیاست اور اتنی گھٹیا سیاسی جماعت دنیا کی تاریخ میں نہیں آئی ہوگی، اس جیسے ترجمانوں کے ہوتے تحریک انصاف کو ن لیگ کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں یہ خود ہی اپنی تباہی کے لیے کافی ہیں

https://twitter.com/x/status/1803413564587159810
نادر بلوچ نے لکھا: پروفیسر احسن اقبال نے غیرملکی جریدے کی خبر کی ترید کرتے یہ ملبہ بھی پی ٹی آئی پر ڈال دیا! ویسے پی ٹی آئی کی حکومت کے دنوں میں پروفیسر صاحب روزانہ پریس کانفرنس کرکے سی پیک پر لیکچر جھاڑنا اپنا فرض سمجھتے تھے، اُس وقت انہیں ریاست کا مفاد عزیز نہیں تھا یا اب ریاست کے معنی و مفاہیم ہی بدل گئے ہیں؟

https://twitter.com/x/status/1803408051510133177
میر محمد علی خان نے لکھا: آرٹیکل لکھا جاپانی جریدے نے اور نزلہ گر رہا ہے پی ٹی آئی پر! مقدمہ کریں اُس جاپانی جریدے پر۔ جھوٹ ثابت کریں، پاکستان کا نام بُلند کریں، سبق سکھائیں!

https://twitter.com/x/status/1803410386697244840
عمران افضل راجہ نے لکھا: ن لیگ میں جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہے وہ اتنا ہی گھٹیا اور بے شرم ہے! ریاست کے نام پر اپنے مخالفین کو کچلوانے والوں کی بقا اسی میں ہے کہ کوئی ایماندار باقی نا رہے، اس غلیظ کی اوقات پورے پاکستان نے دیکھی جب اس نے بزور طاقت ایک فیملی سے معافی منگوائی اور لگڑبگے کی طرح ہنس رہا تھا!

https://twitter.com/x/status/1803423571613528493
امجد خان نے لکھا:ن لیگیوں کو '' عمران فوبیا '' ہوگیا ہے اپنی ساری نالائقیوں اور ناکامیوں کہ ذمہ دار عمران خان کو سمجھتے ہیں جو پچھلے ایک سال سے ناحق جیل میں ہے!

https://twitter.com/x/status/1803421150644506778
علینہ شگری نے احسن اقبال کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: وزیراعظم اور ان کی ٹیم جس نے چائنا کا دورہ کیا یہ جوش وجذبے چائنا کے ساتھ تعلقات بارے دکھاتی تو وہ کسی بلاک بسٹر ہٹ سے کم نہیں ہوتا، پاکستان کو تب بھی فائدہ ہی پہنچتا!

https://twitter.com/x/status/1803414875730747638
ارسلان بلوچ نے لکھا: امریکہ اور جاپان کے اخباروں نے پاکستان اور چین کے تعلقات کمزور ہونے پر ارٹیکل لکھا لیکن احسن اقبال عرف ارسطو کے مطابق اسکی ذمہ تحریک انصاف ہے۔ عجیب کھوتا دماغ ہے ان کا!

https://twitter.com/x/status/1803414771342938226
واضح رہے کہ غیرملکی جریدے میں ایک آرٹیکل چھپا تھا جس میں چین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ڈاؤن گریڈ کرنے بارے لکھا گیا تھا۔ احسن اقبال نے اپنے بیان یں کہا تھا کہ تحریک انصاف چین سے تعلقات خراب ہونے کا تاثر دے رہی ہے، کسی کو سیاسی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

احسن اقبال کا کہناتھاکہ کسی زید بکر کے آرٹیکل سے ریاستی پالیسی ظاہرنہیں ہوتی، دنیا بھر میں آرٹیکل لکھے اور لکھوائے جاتے ہیں، کوئی ملک اور ریاست اپنی پالیسی آرٹیکلز کے مطابق نہیں بناتی، پالیسی کے فیصلے حکومتوں کے درمیان طے پانے ہیں۔ اختلافات ہوسکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی مفاد کیساتھ کھیلیں؟ ہمارا فرض ہے پاکستانی ریاست کے مفادات کا دفاع کریں!
 

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
PDM2 crooks blame PTI to divert attention from their own incompetence and mistakes.The fact is there is not a single person in PDM2 who has any vision,any personality or charisma or courage to make tough decisions.This fake Aristotle took the easy option to blame PTI instead of refuting reports by US and Japanese media.
 

Jaguar707

MPA (400+ posts)
It is no secret that China, Saudi, Qatar and UAE has shown concern on lingering anti state activity by Pakistan's own political forces as they worry about securing their investment in a country at the brink of civil war.
 

Choudhry ji

Senator (1k+ posts)
Pakistan adopted North Korean model .... our powerful are lucky because they are supressing a dead nation ..in deep sleep .
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
اس گشتی کے بچے احسن اقبال فراڈئے کی گشتی ماں نثار فاطمہ
وہ گشتی عورت تھی جس نے خورد اور اس گشتی کے حرام زادے باپ
یعنی اس بجو حرامی کے کنجر نانے جس کا نام شاید محمد حسین تھا
اس نے
پاکستان بننے کے خلاف مہم چلائی کانگریس نے اس دور میں
اسکو ہزاروں روپے دئے اور اس پیسے کے بدلے اس نے اپنی ماں چ۔۔ کر مسلم لیگ کے
خلاف الیکشن لڑا ایک مسلم لیگی معمولی مزدور اور عام ورکر کے خلاف
کانگریس کی
ٹکٹ پر الیکشن لڑا اس حرام زادے کو ٹکٹ مجبوری
میں دی کانگریس نے کیونکہ
اور کوئی حلالی
ماں باپ کی حلالی اولاد اور مسلمان امیدوار پاکستان بنانے والی قائداعظم کی
مسلم لیگ کے کسی بھی امیدوار کے خلاف الیکشن لڑنا
ہی نہیں چاہتا تھا لیکن جب کوئی اور با اثر مسلمان پاکستان اور قائد اعظم کے امیدوار کے
خلاف الیکشن لڑنے پر تیار نا ہوا
اس وقت اس کے حرامی نانے نے اپنی ماں چ۔۔ کر یہ پاکستان مخالف الیکشن لڑا اور اسکے
مخالف نے ہزاروں ووٹ لے کر اس کے نانے اور کانگریسی چیلے حرام زادے کی ضمانت ضبط
کرادی جس نے صرف بیس بائیس ووٹ
لئے اسطرح زلیل ہونے کے بعد اس کے حرامی نانے
اور اسکی ماں پھاتو گشتی ناروالی یعنی
نثار فاطمہ
نے قائد اعظم اور مسلم لیگ اور پاکستان کے خلاف اور زیادہ بھونکنا شروع کردیا
لیکن اللہ کی
شان اور ہمیشہ ہی زلیل ہوتی رہی
لیکن پھر جب جنرل ضیا نے مارشل لا لگایا تو وہ
گشتئ عورت اس جھوٹ کے ساتھ ضیا سے ملی کہ
جس بہادر دلیر لڑکی اور مسلم لیگی لڑکی نے لاہور سیکریٹریٹ پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا وہ پاکستان
سے محبت کرنے والی وہ مسلمُ لیگی لڑکی وہ خود تھی
یعنی وہ لڑکی نثار فاطمہ تھی
جبکہ وہ لڑکی جو کہ اس وقت تک عورت بن چکی تھی وہ کوئی اور تھی اور وہ مسلم لیگی عورت تھی
لیکن یہ گشتی تو کانگریسی عورت تھی اور پاکستان کے خلاف تھی
لیکن یہ جھوٹ بھونک کر نثار فاطمہ نامی وہ جھوٹی مکار گشتی عورت
جنرل ضیا کے پاس اس مسلم لیگی لڑکی کے نام پر پہنچی اور حکومت میں داخل ہوئی اور شاید وزیر
یا کوئی
مشیر بنی لیکن جب ایک بار اس گشتی جھوٹی لعنتئ کانگریسی عورت نثار فاطمہ نے حکومت میں آنے کے
بعد دوبارہ اپنے نام سے یہ جھوٹا کلیم کیا
اور ایک اخباری انٹرویو میں یہ دعوئی کیا وہ جھنڈا لہرانے
والی مسلم لیگی بہادر لڑکی یہ خود نثار فاطمہ تھی
تو اس وقت بھی چند صحافی بہت محنت کرکے اس اصلی لڑکی کو ڈھونڈھ
کر
سامنے لے آئے جس نے اصل میں لاہور سیکریٹریٹ پر انگریزی فوج اور گارڈز کی موجودگی میں وہ
جھنڈا لہرایا تھا اور جس کا جھوٹ بھونک کر وہ جھوٹی مکار لعنتئ عورت نثار فاطمہ
ضیا کی
حکومت میں شامل ہوئی لیکن جب اخباری نمائندوں نے اسکا جھوٹ بے نقاب کیا اور اسکی پول کھولی
تو وہ حرام زادی اس راز کھلنے کے بعد کچھ دن تو تک
شرم سے مونہہ چھپائے پھری اور چند دن غائب رہی
لیکن پھر اس گشتی عورت قائداعظم کو گالیاں بھونکنے والی کانگریسی کتیا ڈھیٹ اور جھوٹی گشتی عورت
نے دوبارہ اپنے یہ جھوٹ کی گرد بیٹھے کے بعد اس
نے پھر مارشل لا کے کرپٹ ٹولے اور انکی لوٹ مار میں
اپنا حصہ وصول کرنا شروع کردیا اور جھوٹ کی بنیاد
پر آئی ہوئی اس گشتی عورت نے اپنے بجو کی شکل کے بیٹے احسن اقبال کو بھی جنرل ضیا کی اس بات سے فائدہ اٹھایا کہ جنرل ضیا کو نعتیں بہت پسند تھیں
اور بجو کنجر احسن اقبال فراڈیا گانے بہت اچھے گاتا تھا شاید کنجر اور میراثی دادے جی وجہ سے
اس کی آواز کی وجہ سے اس گشتی عورت نے جنرل ضیا کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو نعتیں
یاد کرانا شروع کردیں اور یہ بجو احسن اقبال فراڈیا اپنی گشتی ماں کے ساتھ جنرل ضیا کو نعتیں سنانے پہنچ جاتا تھا
کے پاس لیجانا شروع کردیا اور اس طرح یہ حرام زادہ جنرل ضیا کا نعت خوان بن کر سیاست میں آیا
جنرل ضیا کو اس سے زیادہ ریڈیو اور ٹی وی کا اناونسر اورپھر ڈائرکٹر شاعر منصور تابش کی آواز بہت پسند تھی جس نے مشہور زمانہ نعت گائی تھی
یہ تو تیرا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے اور جنرل ضیا کی بہت کی تقریبات میں
منصور تابش نعت خواں ہوتا تھا اور قاری خوشی محمد تلاوت قرآن پاک قرائت کے ساتھ سناتے تھے
جنرل ضئا کی اسئ پسند کو گشتی نثار فاطمہ کانگریسی
حرامن نے کیش کرایا اس بہانے سے ضیا سے مفادات
حاصل کرنے کے لئے بس یہ اوقات ہے اس کنجر ارسطو بجو حرام زادے کی
اس کنجر کی
اوقات دیکھو اور اس کا بھونکنا سنو تو حیرت ہوتی ہے
کیسے کیسے مایک اور حرامی یسے کیسے اپنی ماں کے دلے بن کر انکو امب لینے ضیا کے پاس لیجا کر گھٹیا نیچ اور دلوں کنجروں والے طریقے سے سیاست میں داخل ہوئے