عالمی اداروں سے کس کا مفاد وابستہ ہے؟

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
images




علامہ اقبال ؒنے کیاخوب کہاتھاکہ۔ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرا ر بولہبی دیکھاجائے تو اقبال کے مذکورہ شعرسے مکمل اسلامی تاریخ وابستہ ہے۔ جس طرح بعض عالمی قوتیں اسلامی ممالک کی طاقت کوغیرمستحکم کرنے اور اس کے قدرتی وسائل پرقبضہ جمانے اورمسلمانوں کے بے دریغ قتل عام کے لیے عالمی استعماروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اسے واضح طورپر سمجھنے کے لیے حالات کا درست تناظرمیں سمجھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی اداروں نے جن کی کمان غیرمسلموں کے ہاتھوں میں ہے لاشعوری طورپرکرہ ارض کو دوحصوں میں تقسیم کررکھاہے یعنی مسلم دنیا اورغیرمسلم دنیا۔ اگرارضیاتی طورپردیکھاجائے توہردوکے بارے میں فیصلے کرنے اور ان فیصلوں پرعمل درآمدکروانے اورپالیسیاں بنانے کا کلی اختیارغیرمسلم دنیا کے یہودی اورعیسائی مفکرین اورماہرین کو حاصل ہے۔ جوعالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ اورامریکا کے ذریعہ سے کسی بھی طرزعمل کے بارے میں اپنی پسندیاناپسند کا اظہارکرتے ہیں اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین پرعمل درآمداورپابندیاں لگانے اوراٹھانے کے بہانے اورجوازتلاش کرتے ہیں۔ اس کے لیے ان کا دوہرامعیارہے اورہردوکے لیے ترجیحات الگ الگ ہیں۔

صدرضیاء الحق کے دورمیں ایٹم بم کی تیاری میں پیشرفت کو مغربی میڈیا نے اسلامی بم کانام دیاتھا اور پورا مغرب اس پرچراغ پاہورہاتھا۔ اگریہ بم پاکستان کی بجائے کوئی اوراسلامی ملک بھی بناتاتو اسے اسلامی بم کا ہی نام دیاجاتا اب دوسری طرف دیکھیے کہ بھارت نے جب ایٹم بم کی تیاری میں پیش رفت کی تو کسی نے بھی اسے ہندوبم کے نام سے نہیں پکارا۔ وزارت خارجہ کا منصب کسی کے پاس بھی ہومغربی اکابرین اورعالمی اداروں کے ماہرین کو وہی کچھ کرنا ہے جو ان کی پالیسی کا طے شدہ حصہ ہے۔ بس طریقہ واردات میں موقع محل کے لحاظ سے تبدیلی کرلی جاتی ہے۔ پوری دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ کوسووکی جنگ میں ناٹو کے فضائی حملے میں بلغرادمیں واقع چین کے سفارت خانہ پردانستہ یا نادانستہ طورپرجوبمباری کی گئی اور اس کے نتیجہ میں جانی ومالی نقصان ہوا اس پرناٹو کے ذمہ داران کی طرف سے نہ صرف معذرت کی گئی بلکہ نیوزی لینڈمیں امریکی صدرنے چین کے صدرسے ملاقات بھی کی۔ یہ بھی یادہوگا کہ جب اسی جنگ کے دوران ناٹو کے جہازوں نے نہتے مسلمانوں کے ایک قافلہ پر بم برسائے اوراس سے بڑے پیمانے پرجانی نقصان ہوا‘انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت احتجاج کے باوجودکسی نے بھی اس معاملے میں معذرت کرنا ضروری نہ سمجھا۔ اس کے علاوہ کوسوواوربوسنیا کے مسلمانوں کا جس طرح قتل عام کیاگیا اور ان پرجو غیرانسانی مظالم ڈھائے گئے وہ سب کے سامنے ہے۔ ماضی میں لیبیا اور عراق پر جس طرح سخت پابندیاں لگائی گئیں وہاں معصوم عوام اور بچے خوراک اورادویات سے تر سائے گئے یہ منظرساری دنیا نے دیکھا۔ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے عالمی اداروں کے بینرتلے اس کے تمام ہتھیار ضائع کردیے گئے اس کے بعد خطرناک جراثیمی ہتھیاروں کی تلاش کی آڑ میں کوئی سترہ کے قریب ممالک نے عراق پر حملہ کردیا جہاں خطرناک ہتھیارتو نہ ملے البتہ مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیاگیا اورصلیبی جنگ کے بہانے خوب مسلمانوں کاخون بہایاگیا۔ افغانستان جہاں خالصتاً اسلامی نظام کے نفاذ کی تگ ودوجاری تھی وہاں بھی ایسا ہی کچھ کیاگیا صلیبی جنگ کے نام پر ناٹو اور اس کے حواری ملکوں نے انسانی حقوق کو بڑی بیدردی سے پامال کیا۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ معصوم لوگ یہاں تک کہ ان کے اپنے اتحادی پاکستان کے فوجیوں کوبھی بلاجواز ہلاک کیاگیا اور اس پر معذرت کرنے سے بھی انکارکردیاگیا۔ عالمی ادارے لب بستہ یہ سب تماشادیکھ رہے ہیں جبکہ مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی اور انہیں کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا۔ ان واقعات کوکون سے انصاف‘ انسانی حقوق اور آزادی کے زمرے میں ڈالاجائے۔ کشمیرکاساٹھ سالہ پرانا مسئلہ اب تک حل طلب ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوام متحدہ کے بینرتلے اہل کشمیرکو استصواب رائے کا حق دیاجاتا اور اس پرعمل کرکے اس دیرینہ مسئلہ کو حل کردیاجاتا۔ مگرایسا نہیں کیاگیاکیونکہ کشمیرکی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔

اب دوسری طرف دیکھیے انڈونیشیا کے علاقے مشرقی تیمورکی اکثریتی آبادی عیسائی ہے وہاں کس تیزی کے ساتھ اقوام متحدہ کے پرچم تلے ریفرنڈم کرایاگیا اور ایک الگ آزاد ریاست قائم کردی گئی۔ مگر یہی عالمی کرتادھرتا کشمیرکے مسئلہ پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ یہی وہ دوہرامعیار ہے جس کے تحت پسند اورناپسندکا تعین کیاجاتاہے۔ افریقی مسلمان ملک سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ گیاہے۔ عراق کی ابوغریب جیل اورگوانتاناموبے جیل میں انسانیت سوزمظالم کو رکوانا کیا عالمی اداروں کی دسترس سے باہرہے اب برماکے مسلمانوں کا قتل عام کیاجارہاہے مگرکوئی عالمی تنظیم اس کو رکوانے کے لیے تیارنہیں۔ علامہ اقبال نے شائد اسی نقطہ کو واضح کرنے کے لیے کہاتھا۔ طہراں ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے



 
Last edited: