عاشق رسول حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ حض

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)

عاشق رسول حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ
u4_15.jpg

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا نام ہونٹوں پر آتا ہے تو دیدۂ و دل میں خوشبو کے چراغ جھلملانے لگتے ہیں اور پلکیں اس عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام میں جھک جاتی ہیں۔

جنگِ اُحد میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور اس سچے عاشقِ رسول تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے ایک ایک کرکے اپنے سارے دانت شہید کر ڈالے کہ معلوم نہیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کون سا دانت شہید ہوا ہو گا۔ حضرت اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ کو بظاہر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت نصیب نہیں ہوئی، لیکن چشمِ تصور ہر لمحہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہء انور کے طواف میں مصروف رہتی۔

حضرت اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ قرن کے رہنے والے تھے۔ وہ اپنی ضعیف والدہ کو تنہا چھوڑ کر طویل سفر اختیار نہیں کر سکتے تھے اور پھر یہ خیال بھی دامنگیر تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ کر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلووں کی تاب بھی لاسکوں گا کہ نہیں۔

آقائے محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان تھا کہ قرن میں اویس نام کا ایک شخص ہے، جو روزِ محشر بنو ربیعہ اور بنو مضر کی بھیڑوں کے بالوں کی تعداد کے برابر میری اُمت کے لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غلام سے کتنی محبت فرماتے ہوں گے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
إن خير التابعين رجلٌ يقال له أويس، وله والدة، وکان به بياض. فمروه فليستغفرلکم.
مسلم، الصحيح، 4 : 1968، کتاب فضائل الصحابه، رقم : 22542
حاکم، المستدرک، 3 : 456، رقم : 35720

تابعین میں سب سے افضل شخص ایک آدمی ہے، جس کا نام اویس ہو گا، اور اُس کی والدہ حیات ہے، اُس کو برص کی بیماری ہے، پس اُس سے کہو کہ وہ تمہارے لئے مغفرت کی دُعا کرے۔

تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس عاشقِ رسول کے پاس پہنچ گئے، اس وقت حضرت اویسِ قرنی رضی اللہ عنہ بارگاہِ خُدا وندی میں سجدہ ریز تھے۔ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام پہنچایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کی خاطر دعا کے لئے عرض کیا۔
ابونعيم، حلية الاولياء، 2 : 80 - 582
ابنِ عساکر، تاريخ، 6 : 145 - 166


























 

karachiwala

Prime Minister (20k+ posts)
​Jazakallah brother. May Allah SWT accept your efforts and give you and all of us the nearness to these souls on the day of judgement.
 

such bolo

Chief Minister (5k+ posts)
عاشق عشق وغیرہ جیسے گھٹیا اور بازاری الفاظ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے لئے استعمال نا ہی کیے جائیں تو بہتر ہے....قرآن و حدیث میں لفظ "محبت" وارد ہوا ہے جو ماں باپ بھائی بہن انبیاء صحابہ اولیا سب کے لئے بولا جاسکتا ہے اور کوئی قباحت نہیں

عاشق بازاری لفظ ہے...یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس لفظ کو ماں اور بہن کے لئے استعمال نہیں کرتے
لاشعور میں ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لفظ بازاری ہے
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)


سلام ماں جی ، عرب میں ، عرب سے ، عرب میں قرن سے ، قرن میں اویس قرنی سے ، بس ایک سبق سیکھا ، عشق رسول
pbuh ، محبت ماں جی
اکثر بات بڑھی ، بڑھتی رہی ، حوالہ کون بنا ؟ اویس قرنی رضی الله عنہہ ، مثال ایسی ، تمثیل کیسی ؟ سنا تو سنسنی دوڑ چلی ، پڑھا تو آنکھ اشکبار ہوئی ، سلام اویس قرنی ، سلام ماں جی ، سب ماؤں کا سلام ، سب صحابہ رضی الله عنہہ کا سلام ، سلام محمدpbuh ، درود آپ پر سلام آپ پر ، بات کہاں سے چلتی ہے ربط کہاں تک جا بنتا ہے ، اسی کا نام محبت ہے ، اسی کا نام تقدس ہے ، یہ دولت نا ہوئی تو ، فقیری ہی فقیری ہے ، مفلسی ہی مفلسی ہے
______________________________________________________

pbuhیتیم مکہ


وہ آپ pbuhسے عشق میں انتہا پر ہیں ، محبت میں معراج پر ہیں ، تو آپ سے ملنے آتے کیوں نہیں ؟
جواب ملا ، سارا دن اونٹ چراتے ہیں ، اجرت لے کر شام گھر کو لوٹ جاتے ہیں ، گھر دنیا میں ضعیف ماں جی ہیں ، آنکھوں سے معزور ہیں ، بینائی سے محروم ہیں ، ان کی خدمت سے غافل ہو نہیں سکتے ، انہیں تنہا چھوڑ نہیں سکتے ، یہی عذر مانع ہے ، حاضر ہو نہیں سکتے ، ان کا نام اویس قرنی ہے ، ان کی سفارش سے بہت سے لوگ جنت میں جائیں گے ، ان سے ملو تو ، میرا سلام کہنا ، امت کے لیے دعا کا کہنا ، یمن ، یمن میں بھی قرن ، قرن میں جناب اویس قرنی رضی الله عنہہ ، اونٹوں کا چرانا ، ماں جی کی خدمت کرنا ، اور جناب محمدصلی للہ علیہ وسلم کی تکلیف پر خود پر وہی کیفیت خود پر طاری کر لینا. کسی نے کہا ، یہ عمل کی نعت ہے ، کسی نے کہا یہ الم کا ماتم ہے ، کسی نے کہا یہ جذب ہے ، محبت ہے ، کسی نے سمجھایا ، یہ مقام عاشقی ہے ، سب کہتے گیے ، ہم سنتے گیے .



http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?316719-یتیم-مکہ
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
عاشق عشق وغیرہ جیسے گھٹیا اور بازاری الفاظ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے لئے استعمال نا ہی کیے جائیں تو بہتر ہے....قرآن و حدیث میں لفظ "محبت" وارد ہوا ہے جو ماں باپ بھائی بہن انبیاء صحابہ اولیا سب کے لئے بولا جاسکتا ہے اور کوئی قباحت نہیں

عاشق بازاری لفظ ہے...یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس لفظ کو ماں اور بہن کے لئے استعمال نہیں کرتے
لاشعور میں ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لفظ بازاری ہے



ہم الله کے لیے بھی تو "تو" کا لفظ استعمال کرتے ہیں
جبکہ "تو" دنیا میں کسی کے لئے قابل احترام نہیں ہوتا
 

khan27

Minister (2k+ posts)
عاشق عشق وغیرہ جیسے گھٹیا اور بازاری الفاظ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے لئے استعمال نا ہی کیے جائیں تو بہتر ہے....قرآن و حدیث میں لفظ "محبت" وارد ہوا ہے جو ماں باپ بھائی بہن انبیاء صحابہ اولیا سب کے لئے بولا جاسکتا ہے اور کوئی قباحت نہیں

عاشق بازاری لفظ ہے...یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس لفظ کو ماں اور بہن کے لئے استعمال نہیں کرتے
لاشعور میں ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لفظ بازاری ہے

ase phir love u sister ya mother b na kaho yeh ajeeb chawali mari hai
 

swing

Chief Minister (5k+ posts)
کچھ الفاظ دوستوں کے لیے امام غزالی صاحب کی کتاب سے
وہ نصیحت ضرور پڑھیں جو آخر میں اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے کی تھی
0001.jpg



0003.jpg
 
Last edited:

swing

Chief Minister (5k+ posts)
عاشق عشق وغیرہ جیسے گھٹیا اور بازاری الفاظ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے لئے استعمال نا ہی کیے جائیں تو بہتر ہے....قرآن و حدیث میں لفظ "محبت" وارد ہوا ہے جو ماں باپ بھائی بہن انبیاء صحابہ اولیا سب کے لئے بولا جاسکتا ہے اور کوئی قباحت نہیں

عاشق بازاری لفظ ہے...یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس لفظ کو ماں اور بہن کے لئے استعمال نہیں کرتے
لاشعور میں ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لفظ بازاری ہے
او ، یاروں تے پراؤ ، ٹھنڈ رکھو
فلحال وہ محسوس کرو جس بات پر تھریڈ بنایا گیا ہے ،باقی یہاں فورمز پر تو پہلے بڑی چولیں بیٹھی ہیں جو ٹرول کرنے کے بہانے ڈھونتی ہیں
اور لفظ سیدھے کروانے والی بات ، پرسنل میسج میں ،مک مکا لو ،باقی آپ کی بات پر غور کے بعد تبصرہ ہوگا
 

such bolo

Chief Minister (5k+ posts)
ہم الله کے لیے بھی تو "تو" کا لفظ استعمال کرتے ہیں
جبکہ "تو" دنیا میں کسی کے لئے قابل احترام نہیں ہوتا

ہ"تو" یا "تم" دراصل اردو لفظ ہے...اور یہ واحد کے لئے بولا جاتا ہے
ہ"آپ" بھی اردو کا لفظ ہے جو احتراما فرد واحد کے لئے بولا جاتا ہے اور اسکے علاوہ جمع کے لئے بھی بولا جاتا ہے

عربی میں ایسا کوئی امتیاز نہی، عربی زبان میں انت یا انتم "وحد و جمع مذکر مخاطب" کے لئے بولا جاتا ہے

چونکہ اسلام دین توحید ہے...اور جس جس لفظ یا عمل سے توحید پر شبہ آنے کا احتمال ہو اسے ترک کردینا عین مطلوب ہے
اسی لئے الله کو پکارنے کے لئے لفظ
"آپ" کے بجاۓ "تو یا تم" کو ترجیح دی جاتی ہے کیوں کے اس میں جمع کا احتمال نہیں

اور یہ مسلہ اردو زبان کا ہے...عربی کا نہیں

جبکہ لفظ
"عشق" بھی عربی کا ہے اور "حب" بھی عربی کا ہے
اور دونوں الفاظ میں سے "حب" ہی وہ لفظ ہے جو قران و سنت میں وارد ہوا ہے "عشق" تو قرآن و حدیث میں کہیں استعمال ہی نہیں ہوا
یہ تو ہمارے انڈیا پاکستان کے شعرا اور صوفیاء کے ہاں مستعمل رہا ہے

حقیقت یہ ہے کہ "عشق" ہمیشہ بازاری معنوں میں ہی استعمال رہا ہے...یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے کوئی نہیں کہتا کہ میں اپنی ماں کا عاشق ہوں...یا میری بہن کا عاشق ہوں...حتی کہ شادی کے بعد بیوی کے لئے بھی محبت کا ہی لفظ مستعمل ہے
عشق کا لفظ تو اکثر ناجائز تعلقات پر ہی بولا جاتا ہے...اور بدقسمتی سے اور انتہائی بدقسمتی سے الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے بھی بولا جانے لگا ہے ایک طبقے کی طرف سے...العیاذ باللہ

امید ہے بات واضح ہوگئی ہوگی
 
Last edited:

alibaba007

Banned
header-networklogo.png



آخری اشاعت: جمعرات 25 جمادی الاول 1435هـ - 27 مارچ 2014م KSA 08:18 - GMT 05:18

شام: حضرت اویس قرنی کا مزار، مسجد دھماکے سے تباہ
القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم داعش نے ذمہ دار قبول کر لی

8ef834f4-4a4d-491e-91aa-9e6071a10f16_16x9_600x338.jpg


القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام [ داعش] نے شامی شہر الرقہ میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا مزار اور اس سے ملحقہ مسجد عمار بن یاسر کو دھماکے سے اڑا دیا۔
خیال رہے کہ حضرت اویس قرنی کا مزار اور اس سے متصل جامع مسجد عمار بن یاسر لبنان، عراق اور ایران سے آنے والے شیعہ مسلک زائرین کی ایک اہم زیارت گاہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب سے الرقہ شہر پر شدت پسند تنظیم "داعش" نے قبضہ جمایا ہے تب سے وہاں پر تنظیم نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کر رکھی ہے۔


88db4f75-5cfe-4a83-ba8e-f1ffba8e9a82_4x3_296x222.jpg



تباہ شدہ مزار اور متاثرہ جامع مسجد عمار بن یاسر کو دکھایا گیا ہے، جس کے بیرونی حصے، دیواریں ملبے کا ڈھیر دکھائی دی ہیں۔ جامع مسجد کا سفید اور فیروزی رنگوں سے مزین مینار بھی زمین بوس ہو چکے ہیں۔ "ٹیوٹر" پر تین تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ ایک میں مسجد عمار بن یاسر کا بیرونی حصہ دکھایا گیا ہے۔ دوسری تصویر میں مزار اور مسجد کے تباہ ہونے والے بیرونی حصوں کا سڑک پر پڑا ملبہ اور تیسری میں مزار کا اندرونی حصہ جو بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے دکھایا گیا ہے۔
درایں اثناء شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا ہے بدھ کے روز القاعدہ کی منحرف تنظیم داعش نے مسجد عمار بن یاسر اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے مزار کو اڑانے کے لیے دو الگ الگ بم دھماکے کیے۔واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر جنگ "داعش" جیسے شدت پسند گروپوں کے خیال میں اہل تشیع "کافر" ہیں اور مزارات ان کے بت ہیں جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہل تشیع کے مذہبی مراکز کو اسلام کی خدمت سمجھ کر تباہ کر رہے ہیں۔شام کے مختلف شہروں میں بزرگ شخصیات کے مزارات کو دھماکوں سے اڑانے کے بعد ترکی میں بھی ایسے واقعات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ شامی شہر الرقہ ہی میں دریائے فرات کے دوسرے کنارے پر خلافت عثمانیہ کے ترک فرمانروا سلیمان شاہ کا مزار بھی خطرے میں ہے تاہم اس پر ترکی نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔گوکہ شہر کا یہ علاقہ فی الحال شام کے کنٹرول میں ہے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ سنہ 1921ء میں فرانس کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت یہ علاقہ ترکی کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ ترک خلیفہ سلیمان شاہ کے مزار پر کسی قسم کا حملہ ترکی کی سر زمین حملہ تصور کیا جائے گا اور دوسرے کسی بھی فریق کو اس مزار پر حملے کاخمیازہ بھگتنا ہو گا۔ترک صدر عبداللہ گل کا کہنا ہے کہ انقرہ ترک خلیفہ کے مزار کی اسی طرح حفاظت کرے گا جس طرح وہ اپنے وطن کے کسی بھی شہر کی حفاظت کر رہا ہے۔
 
Brother Qaisar it is an over glorified incident no offence to haZrat awais he is so respectable for us because what he did was not right neither Islam appriciate it neither prophet appriciate it .if you look at the list the list of people who were near hazor specially 4 caliphs haZrat fatimah haZrat bilal do u think they had less love for hazor of that was right way haZrat fatimah would have broken her teath haZrat Ali haZrat umar and haZrat abubakar . Don't u remmeber haZrat umar beat haZrat abubakar when he didn't accept Islam to a level where haZrat Abu Bakar lost his Sences but when he recover he said take me to prophet I want to see him if he is ok and his wife's draged him to prophet . When haZrat Abu baker was brought to prophet he paryed to god oh Allah give strength to Islam by umar bin khatab . And haZrat umar accepted Islam next day .. But the point is what haZrat awais did we can never qout it as example as what he did was not appropriate . It is same as if today some one cut his neck in the memory of haZrat hussain that his head was cut .. Hazarat bilal I still prime example how he remaind firm in love with prophet even when his skin was smeared on sand .. Do not get yourself traped in negative glory
 

such bolo

Chief Minister (5k+ posts)


سلام ماں جی ، عرب میں ، عرب سے ، عرب میں قرن سے ، قرن میں اویس قرنی سے ، بس ایک سبق سیکھا ، عشق رسول
pbuh ، محبت ماں جی
اکثر بات بڑھی ، بڑھتی رہی ، حوالہ کون بنا ؟ اویس قرنی رضی الله عنہہ ، مثال ایسی ، تمثیل کیسی ؟ سنا تو سنسنی دوڑ چلی ، پڑھا تو آنکھ اشکبار ہوئی ، سلام اویس قرنی ، سلام ماں جی ، سب ماؤں کا سلام ، سب صحابہ رضی الله عنہہ کا سلام ، سلام محمدpbuh ، درود آپ پر سلام آپ پر ، بات کہاں سے چلتی ہے ربط کہاں تک جا بنتا ہے ، اسی کا نام محبت ہے ، اسی کا نام تقدس ہے ، یہ دولت نا ہوئی تو ، فقیری ہی فقیری ہے ، مفلسی ہی مفلسی ہے
______________________________________________________

pbuhیتیم مکہ


وہ آپ pbuhسے عشق میں انتہا پر ہیں ، محبت میں معراج پر ہیں ، تو آپ سے ملنے آتے کیوں نہیں ؟
جواب ملا ، سارا دن اونٹ چراتے ہیں ، اجرت لے کر شام گھر کو لوٹ جاتے ہیں ، گھر دنیا میں ضعیف ماں جی ہیں ، آنکھوں سے معزور ہیں ، بینائی سے محروم ہیں ، ان کی خدمت سے غافل ہو نہیں سکتے ، انہیں تنہا چھوڑ نہیں سکتے ، یہی عذر مانع ہے ، حاضر ہو نہیں سکتے ، ان کا نام اویس قرنی ہے ، ان کی سفارش سے بہت سے لوگ جنت میں جائیں گے ، ان سے ملو تو ، میرا سلام کہنا ، امت کے لیے دعا کا کہنا ، یمن ، یمن میں بھی قرن ، قرن میں جناب اویس قرنی رضی الله عنہہ ، اونٹوں کا چرانا ، ماں جی کی خدمت کرنا ، اور جناب محمدصلی للہ علیہ وسلم کی تکلیف پر خود پر وہی کیفیت خود پر طاری کر لینا. کسی نے کہا ، یہ عمل کی نعت ہے ، کسی نے کہا یہ الم کا ماتم ہے ، کسی نے کہا یہ جذب ہے ، محبت ہے ، کسی نے سمجھایا ، یہ مقام عاشقی ہے ، سب کہتے گیے ، ہم سنتے گیے .



http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?316719-یتیم-مکہ

1604707_251685551665157_1468677504_n-1-jpg.6922