طالبان کی واپسی:حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا رؤف کلاسرا کو مہنگا پڑگیا

klashai11hh1.jpg

رؤف کلاسرا کا پی ٹی آئی حکومت پرطالبان کی واپسی کا الزام، فواد چوہدری و دیگر کے جوابات

سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے سابق وزیراعظم عمران خان، جنرل قمر جاوید باجوہ و جنرل فیض پر افغانستان سے 35 ہزار طالبان کو واپس لانے کا الزام لگادیا، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری و دیگر افراد نے ان کے اس الزام کی تردید کردی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ طالبان کی واپسی سے متعلق ایک بیان پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی کابینہ نے افغانستان سے 35 ہزار طالبان کو واپس لاکرسوات و دیگر علاقوں میں بسانے کا فیصلہ کیا تھا،یہ عجیب و غریب فیصلہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ و ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض نے کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوات کے لوگوں کی مخالفت کے باوجود ان دطالبان کو واپس لایا گیا جو آپریشن کے بعد فرار ہوگئے تھے، اگر آج پاکستان میں دہشت گردی کے دوبارہ لوٹنے پر ذمہ داری قبول کرنی چاہیے تو وہ عمران خان،جنرل باجوہ و جنرل فیض ہیں، مراد سعید کو بھی ان سے ہی گلہ کرنا چاہیےاور ان افراد کو کٹہرے میں لایا جائے کہ کیسے افغان سرحد پر لگی اربوں روپے کی باڑ کاٹ کر راتوں رات وہاں سے طالبان کو واپس لایا گیا۔
https://twitter.com/x/status/1805607044298219964
رؤف کلاسرا کے اس بیان پر اس وقت کے وفاقی وزیر اور عمران خان کی کابینہ کے رکن فواد چوہدری نے جواب دیا اور کہا کہ اگر 1600 جنگجو اپنے ہتھیار پھینک دیں اور پرامن طور پر واپس آئیں تو پاکستانی شہری کے طور پر انہیں واپسی سے نہیں روکا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس اجلاس میں طالبان واپسی کی تجویز رکھی گئی اس اجلاس میں مراد سعید اور نورالحق قادر نے اعتراض اٹھایا کہ ان لوگوں کی واپسی سے مسائل پیدا ہوں گے، دوسری طرف افغانستان میں مقیم طالبان نے اپنے علاقوں کے علاوہ کہیں اور بسنے سے انکار کردیا،اس لیے یہ معاملہ اس پر رک گیا، میری تجویز تھی کہ ہم افغان حکومت کو فنڈز دیں کہ وہ ان لوگوں کو مستقل اپنے ملک میں بسالیں اور بدلے میں ہم پچیس ہزار افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دیدیں، ابھی یہ گفتگو درمیان میں تھی کہ ہماری حکومت کو چلتا کردیا گیا اور پاک افغان تعلقات نیچے جاتے رہے۔
https://twitter.com/x/status/1805614566816055670
محمد ذیشان نامی صارف نے کہا کہ کوئی رؤف کلاسرا سے پوچھے کہ یہ 35 ہزار طالبان کے اعدودشمار کہاں سے آئے؟ کیا پاکستان میں 35 ہزار طالبان کو لایا گیا؟ طالبان کی واپسی سے متعلق ملاقاتیں تو عمران خان حکومت کے جانے کے بعد بھی جاری رہیں۔
https://twitter.com/x/status/1805616526457729034
ایک صارف نے صحافی افتخار فردوسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف 30سے 40 ٹی ٹی پی طالبان مذاکرات کے نتیجے میں واپس آئے تھے ، ان کے مطالبات صرف اپنی فیملیز سے ملاقات کرنا تھا، بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور پی ٹی آئی پر الزام لگانا ناانصافی ہے۔
https://twitter.com/x/status/1805642421742555600