طالبان کی ترکی کو وارننگ

Everus

Senator (1k+ posts)

طالبان کا افغانستان میں ترک فوجیوں کی موجودگی میں توسیع کے اعلان پر انتباہ، طالبان کی پیش قدمی کی اطلاعات

_119383165_mediaitem119382623.jpg

12 جولائی 2021
اپ ڈیٹ کی گئی 4 گھنٹے قبل

افغان طالبان نے منگل کے روز ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی افواج کی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن کے بعد افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار نہ رکھیں۔ طالبان نے ترکی کے اس فیصلے کو ’قابل مذمت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں نتائج ہوں گے جس کی ذمہ داری ترکی پر ہو گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ترکی نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے امریکہ اور بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد ترکی کے فوجی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سکیورٹی پر معمور رہے گے۔
طالبان نے اس اقدام کو ’افغانستان پر بیرونی قوتوں کے قبضے میں توسیع‘ قرار دیتے ہوئے ترکی پر واضح کیا ہے کہ یہ ایک ’بُرا فیصلہ‘ ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ معاہدے میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ تمام غیر ملکی قوتیں اگست 2021 کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے انخلا مکمل کر لیں گی۔

'اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ ممالک بشمول ترکی، جس کے وزیر خارجہ اس معاہدے پر دستخط کے وقت وہاں موجود تھے، نے اس فیصلے کی تائید کی تھی۔'
طالبان کے مطابق مگر اب چونکہ ترکی کی قیادت نے امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور 'افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے' کا اعلان کیا ہے۔
'ہم کسی بھی ملک کے ذریعے اپنے وطن میں غیر ملکی افواج کے قیام کو قبضہ مانتے ہیں اور ایسے حملہ آوروں کے ساتھ (انخلا کی ڈیڈلائن کے بعد) سنہ 2001 میں جاری ہونے والے پندرہ سو ممتاز علما کے فتوے کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ وہی فتوی ہے جس کے تحت گذشتہ 20 برسوں سے جہاد کیا گیا ہے۔'

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ترک حکام نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی اور افغانستان میں اپنی موجودگی کو طول دیا تو امارت اسلامیہ اور افغان قوم اپنے مذہبی اور حب الوطنی کے فرض کے مطابق ان کے خلاف اقدام کرے گی اور ایسی صورت میں تمام نتائج کی ذمہ داری ان لوگوں کے کندھوں پر آئے گی جو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور ایسے ناجائز فیصلے کرتے ہیں۔
ترکی کی جانب سے فی الحال اب تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

افغانستان کی تازہ صورتحال
افغانستان کے شہر غزنی میں مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی دارالحکومت غزنی کے نواح میں طالبان اور افغان حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
غزنی کے صوبائی کونسل کے ایک رکن حسن رضا یوسفی نے بی بی سی کو بتایا کہ نوآباد کے علاقے میں سکستھ سکیورٹی زون سے افغان سکیورٹی فورسز نکل چکی ہیں اور وہاں کا کنٹرول طالبان نے حاصل کر لیا ہے۔
حسن رضا یوسفی کے مطابق اگر علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو طالبان کسی بھی وقت شہر کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
طالبان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے جنگجو غزنی شہر کے مضافات تک پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب غزنی شہر کے رہائشیوں نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حال ہی میں قبضے میں لیے جانے والے علاقوں میں مقامی افراد کے گھروں کو افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف محاذوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
غزنی کے علاوہ جنوبی افغانستان میں صوبائی دارالحکومت قندھار کے قریب بھی طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
طالبان نے صوبہ بامیان میں ضلع کھمرد اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر کنٹرول کا بھی دعویٰ کیا ہے، لیکن آزاد اور سرکاری ذرائع نے ابھی تک طالبان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملے پسپا کرنے اور ہلاکتوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

MoDAfghanistan

اسی اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں جھڑپوں کے دوران 267 طالبان ہلاک اور 119 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 267 طالبان کی ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔
یاد رہے گذشتہ روز بھی افغانستان کی وزارتِ دفاع کے اکاؤنٹ سے 271 طالبان کو ہلاک اور 162 کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
افغان طالبان نے کچھ روز قبل قندوز میں سکیورٹی فورسز کے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن افغان حکومت نے اس کی تردید کی تھی۔ اب طالبان نے ایک ڈرون ویڈیو جاری کی ہیں جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ہیں جو اُن کے جنگجووں نے تباہ کیے تھے۔
اس سے ایک روز قبل افغان سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز فضائی حملے کر کے تاجکستان کی سرحد سے متصل ایک اہم شمالی صوبے کے صوبائی مرکز پر
طالبان جنگجوؤں کے حملے کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ہیلی کاپٹر


،تصویر کا کیپشن
طالبان کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو سے لیا گیا سکرین شاٹ جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ہیں جو اُن کے جنگجووں نے تباہ کیے تھے
امریکہ کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کا انخلا تقریباً دو دہائیوں تک افغانستان میں جاری رہنے والی جنگ کے بعد آخری مراحل میں ہے اور اس دوران افغانستان کے مختلف حصوں سے طالبان کی پیش قدمی کی اطلاعات بدستور سامنے آ رہی ہیں۔
طالبان عہدیداروں نے جمعہ کو افغانستان کے 85 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم افغان عہدیداروں نے اس دعوے کو پروپیگینڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صوبہ تخار کے گورنر عبد اللہ قرلوق نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دشمن کے جارحانہ حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ افغان فضائیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کامیاب حملوں کے نتیجے میں 55 شدت پسند ہلاک جبکہ 90 زخمی ہوئے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق وہ آزاد ذرائع سے گورنر کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکے۔
سوموار کی صبح افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں بتایا گیا کہ تخار کے صوبائی مرکز تالقان کے نواح میں طالبان کے ٹھکانوں پر افغان فضائیہ کے فضائی حملوں میں ایک درجن سے زیادہ طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
تخار پولیس کمانڈ کے ترجمان خلیل اسیر نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ’طالبان نے کل (سنیچر) رات کو چار سمتوں سے تالقان پر حملہ کیا، لیکن انھیں سکیورٹی فورسز اور (مقامی) لوگوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔‘
طالبان تالقان پر قبضہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتے جا رہے ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں طالبان جنگجو مغربی صوبہ بادغیس کے دارالحکومت میں داخل ہوئے تھے، پولیس اور سکیورٹی مراکز پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے گورنر کے دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن خصوصی دستوں نے انھیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔

طالبان


غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان کی جانب سے افغانستان کے کئی علاقوں پر قبضے کے لیے نیا عزم دیکھا گیا ہے۔ پینٹاگون کا خیال ہے کہ ضلعی مراکز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد، طالبان صوبائی مراکز پر قبصے کے لیے زور لگائیں گے۔

افغانستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات کے پس منظر میں اقوام متحدہ نے امداد کی نئی اپیل جاری کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی آبادی کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ خوراک کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے اور انھیں امداد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے


طالبان


دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بھی متعدد مقامات پر طالبان کے قبضے اور دشمن فوج کو بھگانے کے متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی امارت اسلامی میں شمولیت کی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز 'طالبان کے خلاف دشمن کے دعوؤں اور پروپیگینڈا' کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا۔
اس میں کہا گیا تھا کہ 'جب ملک میں کٹھ پتلی دشمن بے نقاب ہوئے اور انھیں ذلت آمیز شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، ہزاروں افغان فوجیوں نے اسلامی امارت کی کھلے عام حمایت کر دی اور تقریباً دو سو اضلاع کو دشمن سے پاک کر دیا گیا، تو اب دشمن من گھڑت پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے اور بے کار حربوں پر اُتر آیا ہے۔' لہذا ہم اس کے بارے میں وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ:

  • سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات، دستاویزات، دھمکیاں اور دیگر خطوط گردش کیے جا رہے ہیں اور حتیٰ کہ کئی علاقوں میں تو ہوائی جہاز کے ذریعے ایسے پوسٹر پھینکے گئے ہیں جن میں طالبان کی جانب سے مقامی لوگوں پر پابندیوں، انھیں دھمکیاں دینے، صنفی قوانین کی نشاندہی، زندگیوں پر کنٹرول، داڑھیاں رکھنے، نقل و حرکتوں اور یہاں تک کہ بیٹیوں کی شادی کے بارے میں بے بنیاد دعوے بھی شامل ہیں۔
  • داعش کی کارروائیوں پر مبنی کئی سال پرانی ویڈیوز کو طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائیاں کہہ کر شئیر کیا جا رہا ہے۔
  • اسی طرح حال ہی میں آزاد کرائے گئے اضلاع میں مقامی افراد کے ساتھ طالبان کے ظالمانہ رویے کے متعلق دشمن کی جانب سے میڈیا میں پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
طالبان کی ہلاکتوں اور طالبان کے زیِر قبضے علاقوں کو چھڑانے کے متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں جن کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
بیان میں کہا گیا کہ امارت اسلامی ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ کسی بھی علاقے میں مرد یا عورت کسی کے ساتھ بھی غلط سلوک نہیں روا رکھا جا رہا اور نہ ہم اس کی اجازت دیتے ہیں۔
اس میں یہ بھی کیا گیا کہ دشمن کی جانب سے کیے جا رہے اس پروپیگنڈے کا مقصد ڈر و خوف پھیلانا، عوامی رائے سے توجہ ہٹانا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔
کابل یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے ریٹائرڈ پروفیسر اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق بشر دونوں جانب (طالبان اور سکیورٹی فورسز) سے کیے جا رہے
ان دعوؤں کو پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔

طالبان


بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک مجھے علم ہے افغانستان میں اکثریت کو ان دعوؤں پر یقین نہیں ہے اور وہ اسے پروپیگنڈہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان افغانستان کے 85 فیصد علاقے پر قابض ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو میرے نزدیک بالکل جھوٹ ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ حقیقت میں افغانستان کا کتنا حصہ طالبان کے زیرِ کنٹرول ہے، پروفیسر بشر نے جواب دیا ’زیادہ سے زیادہ 30-35 فیصد۔‘
سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کی ہلاکتوں کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’وہ زیادہ تر فضائی بمباری کا سہارا لے رہے ہیں اور جب آپ ہیلی کاپٹر اور جہازوں سے بمباری کرتے ہیں تو آپ کو کیا پتا کتنے لوگ ہلاک ہوئے اور ہوئے بھی یا نہیں، کیونکہ کوئی اس علاقے میں جا کر لاشیں گن کر آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتا۔‘
طالبان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈوز بھی شئیر کی جارہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی امارات اسلامی میں شمولیت کو دکھایا گیا ہے۔ پروفیسر بشر اسے برین واشنگ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’شاید کچھ اہلکاروں نے انھیں جوائن کیا ہو لیکن سینکڑوں کی تعداد میں جن افراد کی شمولیت کا دعوی کیا جا رہا ہے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘
تو اس برین واشنگ کا مقصد کیا ہے؟ پروفیسر بشر کہتے ہیں ’وہ افغانیوں کو مستقبل کے متعلق تشویش میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے افغان آج کل پاسپورٹ بنوانے اور ملک سے نکلنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔‘
’یہ افغانیوں کے لیے بھیانک خواب ہے اور بیشتر افغان سمجھتے ہیں کہ طالبان پھر سے پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے اور ان کا طرزِ حکمرانی پہلے جیسا ہی ہو گا۔‘

 

Everus

Senator (1k+ posts)

پاکستان میں رہنے اور پاکستان کا کھانے والے پاکستانی طالبانی آ کر ہماری رہنمائی کریں کہ اس لڑائی میں ہم ترکی کا ساتھ دیں ئا طالبان کا ساتھ دیں؟

دل تو کرتا ہے کہ طالبان کا ساتھ دیں لیکن ترکی بھی ہمارا اسلامی بھائی ہے اور طیب اردوان ہمارا ہیرو ہے ہینڈ سم لکنگ صاف ستھرا پرفیوم لگا کے نماز پڑھنے والا

دوسری طرف ملا عمر فورس ہے نہائے دھوئے استجنا کیے بغیر جہاد کر رہے ہیں۔

انصای بھائی اور جانی اور دوسرے طالبانی (پاکستانی) اس سلسلے میں ہمیں گائڈ کریں کہ اب ہم غریب پاکستانی کیا کریں؟

 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)

پاکستان میں رہنے اور پاکستان کا کھانے والے پاکستانی طالبانی آ کر ہماری رہنمائی کریں کہ اس لڑائی میں ہم ترکی کا ساتھ دیں ئا طالبان کا ساتھ دیں؟

دل تو کرتا ہے کہ طالبان کا ساتھ دیں لیکن ترکی بھی ہمارا اسلامی بھائی ہے اور طیب اردوان ہمارا ہیرو ہے ہینڈ سم لکنگ صاف ستھرا پرفیوم لگا کے نماز پڑھنے والا

دوسری طرف ملا عمر فورس ہے نہائے دھوئے استجنا کیے بغیر جہاد کر رہے ہیں۔

انصای بھائی اور جانی اور دوسرے طالبانی (پاکستانی) اس سلسلے میں ہمیں گائڈ کریں کہ اب ہم غریب پاکستانی کیا کریں؟

atensari jani1 Citizen X knowledge88
Get the popcorn ready. It's time to choose between Taliban and Turkish Islamic brothers ?
 

Everus

Senator (1k+ posts)

طالبان کے مطابق مگر اب چونکہ ترکی کی قیادت نے امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور 'افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے' کا اعلان کیا ہے۔

'ہم کسی بھی ملک کے ذریعے اپنے وطن میں غیر ملکی افواج کے قیام کو قبضہ مانتے ہیں اور ایسے حملہ آوروں کے ساتھ (انخلا کی ڈیڈلائن کے بعد) سنہ 2001 میں جاری ہونے والے پندرہ سو ممتاز علما کے فتوے کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ وہی فتوی ہے جس کے تحت گذشتہ 20 برسوں سے جہاد کیا گیا ہے۔'

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ترک حکام نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی اور افغانستان میں اپنی موجودگی کو طول دیا تو امارت اسلامیہ اور افغان قوم اپنے مذہبی اور حب الوطنی کے فرض کے مطابق ان کے خلاف اقدام کرے گی اور ایسی صورت میں تمام نتائج کی ذمہ داری ان لوگوں کے کندھوں پر آئے گی جو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور ایسے ناجائز فیصلے کرتے ہیں۔
 

iltaf

Chief Minister (5k+ posts)
Turkey shall find other ways to appease US instead of going for providing security. Turkey is playing its cards to repair recent relation with US esp some defense deals.