صلیبی جنگ جو چھپائے نہیں چھپتی

ONLYISLAM

Banned
صلیبی جنگ جو چھپائے نہیں چھپتی

قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
ابو زید

Soldiers-in-Classroom.jpg
بی بی سی اور دوسرے اخبارات میں شائع ہونے والی یہ رپورٹیں ایک نظر خود پڑھ لیجئے، گو ہمارے اعتدال پسند اسلام کے فروخت کنندگان کو اس پر یقین کرنا مشکل ہی رہے گا کیونکہ اتنا یکلخت سچ اپنے امریکی دوستوںکی جانب سے کم ہی سامنے آتا ہے۔ ذیل میں ان کے ویب لنک دیے گئے ہیں،
بی بی سی
بی بی سی اردو
واشنگٹن پوسٹ
آئی بی این
ٹائمز آف انڈیا

ان رپورٹوں کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کو دئیے گئے ایک کورس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اعتدال پسند اسلام نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کورس کے انسٹرکٹر لیفٹنٹ کرنل ڈولے کہتے ہیں کہ اب ہمیں سمجھ آ گئی ہے کہ معتدل اسلام نامی کوئی (تصور) ہے ہی نہیں۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ امریکہ ہمارے ارادوں کو واضح کرے۔ اس وحشیانہ تصور کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسلام اپنے آپ کو بدلے ورنہ ہمیں اس کی تباہی میں آسانی پیدا کرنی ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جینیوا کنوینشن جیسے بین الاقوامی قانون کے مطابق مسلح کشمکش میں عام لوگوں کے تحفظ کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔اخباری رپورٹوں کے مطابق اس کورس میں اسلام کے خلاف ہیروشیما کا انداز کی مکمل کی جنگ کی وکالت کی گئی ہے۔ بہرحال امریکی ذرائع کے مطابق اعلی عہدے داروں نے خبر ملتے ہیں اپریل سے اس کورس پر پابندی لگادی تھی۔ یہ پتہ نہیں ہے کہ یہ کورس کب سے دیا جارہا تھا اور اب تک کتنے امریکی فوجی اس کورس سے "فیض یاب" ہوچکے ہیں۔
"اعتدال پسند" اسلام یعنی ایک ایسا نظریہ جو اس نظرئیے کے دشمنوں کے لئے معتدل اور پسندیدہ ہو۔ ایسا ہلکا اسلام جو ہماری زمینوں کو روندنے والے صلیبیوں کوآسانی سے ہضم ہوجائے۔ایسا اسلام جس سے افغانستان اور عراق میں ہماری بچیوں کی عزتوں کو تار تار کرنے والے نفسیاتی درندوں کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ ایسا اسلام جو ہمیں اس بات سے لا تعلق رکھے کہ کچھ لوگ ہماری زمینوں پر بم پھینک پھینک کر ہمارے پانیوں اور غذاؤں کو الودہ کر کے کینسر زدہ اور بگڑی ہوئی ہیئت کے بچے پیدا ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ ایسا اسلام جو ہمیں اس بات سے بے حس کردے کہ ہمارے اطراف میں کیا ہورہا ہے۔ ایسا اسلام جس کے ماننے والے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کریں کہ اسی اسلام کے ماننے والوں کے ساتھ کیا ہورہا۔
ایسے اعتدال پسند اسلام کو بیچنے والے یہاں بہت تھے اور ہیں۔ دوسری طرف ایسے پر سکون(Pacific) اسلام کے خریدار بھی بہت ہیں۔ لیکن برا ہو اس کمبخت لیفٹنٹ کرنل میتھو ڈولے کا کہ سب کی منافقت کا پردہ فاش کردیا۔صاف صاف بتادیا کہ اسلام کا ہلکا اور قابل ہضم ایڈیشن نہیں ہے۔امن کے افیون بیچنے والے کتنے مسلمان تو اسی ہلکے، اعتدال پسند اور بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترنے والے اسلام کی وجہ سے کہاں سے کہاں پہونچ گئے۔ امریکہ بھی کیا کرے کرنل ڈُولے کو کوئی سزا بھی نہیں دے سکتا بس انکی پوزیشن تبدیل کردی۔ سزا دے تو کس بات کی؟ انہوں نے بات تو وہی کہی تھی جو سب کو پتہ ہے بس حکمت عملی کی وجہ سے کسی کی زبان پر نہیں ہے۔اس پالیسی کے باوجود وہ اپنے دیانت دار اور کھرے لوگوں کی قدر جانتا ہے۔
ویسے اس واقعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صلیبیوں کے ظرف کتنا ہے۔ ابھی تو مسلمانوں نے کچھ بھی نہیں کیا، بس ہلکا سا دفاع کیا ہے وہ بھی کمزور اور نہتے مسلمانوں نے۔ ابھی تک تو ہماری حکومتیں انہی کے قبضے میں ہیں اور اتنی جلدی تمام حکمت عملیوں کا لبادہ اتار کر اپنی اصلیت ظاہر کردی!! ایک ہم مسلمان ہیں دوسو سال سے مسلسل صلیبیوں اور اس کے ایجنڈا برداروں کی چیرہ دستیاں سہتے آرہے ہیں اور ہمارے ذرا سے رد عمل کو بھی شدت اور دہشت کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
مسلمانو!! یہ صلیبی جنگ ہی ہے۔ کچھ مصلحتیں انہیں اس بات سے روکتی ہیں کہ اس کو صلیبی جنگ مان لیں۔ ورنہ بش نے روز اول سے ہی اسے کروسیڈ کا نام دیا تھا۔ اور پھر ایسے کچھ جوشیلے ہیں جو کھلم کھلا اعلان کرنے سے نہیں چوکتے۔
پرامن اسلام کا افیون بیچنے والو!! گھبراؤ نہیں۔ امریکہ باتیں بنانا خوب جانتا ہے۔ تمہارا کھوٹا مال مزید بکے گا۔ امریکہ میں اس کی ابھی بھی بہت کھپت ہے۔
ذرائع ابلاغ کے دانشورو!! تم اعلان کرو کہ یہ کرنل ڈولے کی ذاتی حرکت ہے۔ یہ امریکی پالیسی کے خلاف ہے۔ یہ امریکی اقدار کے خلاف ہے۔ وغیر وغیرہ۔۔۔ باقی سب خیر ہے۔

 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)

[h=2]امریکی محکمہ دفاع کی اسلام دشمنی[/h]
مظفر اعجاز



مسلمان امت بن کر رہتے ہوں یانہ رہتے ہوں مغرب اور امریکا نے ان کے ساتھ ایک امت والا معاملہ ہی کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ 9/11 اس حوالے سے ایک فیصلہ کن یا بہت واضح موڑتھا۔ اس کے بعد سے مسلمان ساری دنیا میں نشانہ بن رہے ہیں لیکن مساوات‘ انسانی اقدارآزادیوں اورجمہوریت کا سب سے بڑا چیمپئن امریکا نہایت منصوبہ بندطریقے سے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جارہاہے۔ خواہ پاکستانی ہو عرب ہو یا غیرعرب امتیازی سلوک کے لیے مسلمان ہونا کافی ہے۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع امریکی بحریہ کے جوانوںکو تربیت دینے کے لیے تختہ مشق پر مسلمان عورت کی تصویریاکٹ آئوٹ بناتی ہے یا پھرکوئی قرآنی آیت ہوتی ہے جس کو ہدف بنایاجاتاہے۔ امریکی بحریہ کے لیے تربیت اور فائرنگ رینج کے طورپر استعمال کیاجانے والا 26 ہزار500 اسکوائرفٹ کا علاقہ مختص کیاگیاہے۔ اس میں بیک وقت چارگروپس کو فائرنگ کی تربیت دی جاتی ہے جن چیزوں کو نشانہ بنایاجاتاہے ان میں مسجد ‘بینک ‘ پوسٹ آفس وغیرہ ہیں ہدف میں اسکارف پہنے ہوئے عورت کی تصویریاکٹ آئوٹ اور قرآنی آیت ہوتی ہے۔ تربیت کے اس میدان کو مقتل بھی کہاجاتاہے۔ Kill House میں ہدف کے لیے مسلمان عورت کی تصویر اورقرآنی آیت کو استعمال کرنے پرامریکا میں مسلمانوں کی معروف تنظیم نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان پرزوردیاہے کہ بحریہ کے جوانوں کی تربیت کے لیے اسکارف پہنے ہوئے مسلم خاتون کے کٹ آئوٹ اور اس کی پشت پر قرآنی آیت کو استعمال نہ کریں۔ تنظیم کے ایگزیکٹوڈائریکٹر نہاد عواد نے کہاکہ اس قسم کے عمل سے نہ صرف فوجیوں میں منفی پیغام جاتاہے اورجن ممالک میں ان کو متعین کیاجاتاہے وہاں بھی غلط پیغام جائے گا۔ نہاد عواد نے لیون پینیٹا کے نام اپنے خط میں کہاہے کہ یہ امریکی محکمہ دفاع کے لیے تربیت کے طریقوں اوراشیاء کے استعمال کے حوالے سے ایک اورمثال ہے کہ اسے تمام چیزوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور اسلام سے متعلق امور پر جید علماسے مشورہ کرناہوگا۔ تنظیم نے اس حوالے سے نورفلوک اسٹاف کالج کے ایک انسٹرکٹرکوبرطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس نے دوران تربیت فوجیوں سے کہاکہ امریکا کے تحفظ کے لیے اسلام کے خلاف مکمل جہادکی ضرورت ہے اور ہیروشیما والا طریقہ کاراختیارکرناپڑے گا۔ سویلین کو ہدف بنائیں اورجنیواکنونشن کو بالائے طاق رکھیں۔اگرچہ مذکورہ انسٹرکٹرکو صرف تربیت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیاگیاتھا یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ گزشتہ سال امریکی محکمہ دفاع نے اس قسم کے ٹریننگ مواد کا مکمل ازسرنوجائزہ لینے کا حکم دیاتھا اس کاخیرمقدم بھی کیاگیا لیکن اس کے باوجود متعصب ٹرینرزاب بھی اس قسم کی باتوں میں مصروف ہیں۔ اصل معاملہ کیاہے۔ ہمارے خیال میں اصل معاملہ امریکی حکمران اورمیڈیا ہیں۔امریکی حکمرانوں کو اب الیکشن جیتنے کے لیے امریکی عوام کے مسائل کے بجائے مسلمانوں اسامہ بن لادن‘ القاعدہ اور اس قسم کے مانیٹرزدکھانا زیادہ آسان لگتاہے چنانچہ جو زیادہ بڑھ کر بڑھک مارے وہ جیت جاتاہے۔ اوباما بھی مکہ مدینہ پرچڑھائی کی بات کرکے جیت گئے۔ اس طرح امریکی میڈیا بھی مسلمانوں کو دہشت گرد ظاہرکرنے کی کوشش کرتاہے لہذا جب کبھی اس میڈیا مہم کا اثرہوتاہے تو پھر عام امریکی کا ذہن متاثرہوجاتاہے اوروہ اپنے دائرہ اختیارمیں اس تعصب کا اظہارکردیتاہے۔ پھر اس کی کوئی حدتو نہیں ہوتی۔ نفرت کی آگ تو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ خوامخواہ میں داڑھی اور اسکارف دیکھ کر غصہ آنے لگتاہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نفسیات کی پرورش کے ذمہ دارامریکی حکمران ہیں امریکی قوم نہیں لیکن ان حکمرانوں اورمیڈیا کی محنت رنگ لاچکی ہے اور نفرت رفتہ رفتہ نیچے اترتی جارہی ہے۔ اب امریکی حکام بھی اس کو آسانی سے نہیں روک سکیں گے۔ اگرامریکی حکمران امریکاکو محفوظ بناناچاہتے ہیں تو نفرت سے نہیں محبت کے ذریعہ انصاف کے ذریعہ محفوظ بناسکتے ہیں۔