صدر مملکت کا نگران وزیراعظم کی سمری کے لہجے اور الزامات پر تحفظات کا اظہار

anwah11i1h31.jpg


صدر مملکت نے نگران وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی جانے والی سمری میں نگران وزیر اعظم کے لہجے اور لگائے گئے الزامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نگران وزیراعظم کے لب و لہجے قابل افسوس قرار دیدیا,ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو عام طور پر سمریوں میں ایسے مخاطب نہیں کیا جاتا، یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے صدر مملکت کو پہلے صیغے میں مخاطب کیا، صدر آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت ریاست کا سربراہ اور جمہوریہ کے اتحاد کی علامت ہے، بحیثیت صدر مملکت، نگران وزیراعظم کے جواب پر تحفظات ہیں۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی منظوری مخصوص نشستوں کے معاملے کے الیکشن کے 21 ویں دن تک حل کی توقع کے ساتھ دی ہے,صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم نے سمری میں ناقابل قبول زبان استعمال کی اور بے بنیاد الزامات لگائے، صدر کی حیثیت میں اپنے حلف اور ذمہ داریوں کے مطابق ہمیشہ معروضیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کو برقرار رکھا، صدر انتخابی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور حکومت قائم کرنے کے عمل سے غافل نہیں ہو سکتا۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صدر کو قوم کی بہتری اور ہم آہنگی کیلئے قومی مفاد کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے، صدر کی جانب سے وزیراعظم کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق سمری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے عین مطابق واپس کی گئی، میرا مقصد آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی کی تکمیل تھا، مگر میرے عمل کو جانبدار عمل کے طور پر لیا گیا۔

صدر کا کہنا تھا کہ قرارداد مقاصد کے مطابق عوام کو اپنے ملک کے ایگزیکٹو فیصلوں میں حصہ لینے سے محروم نہیں کیا جا سکتا، صدر مملکت سمری کے کچھ پیراز میں لگائے گئے آئین کی خلاف ورزی کے الزامات پر وقت صرف نہیں کرنا چاہتے۔
https://twitter.com/x/status/1762935092161224810
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بات ياد دلانے کی بھی ضرورت نہیں کہ نگران وزیراعظم کی ذمہ داری محض آئین کے تحت اور وقت کے اندر پرامن، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے جبکہ مختلف کیسز کو چیلنج بھی کیا جا رہا ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کا سب احترام کریں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے سمری 26 فروری کی رات کو موصول ہوئی، سمری میں وقت کی غلطی موجود ہے، وزیراعظم نے دوبارہ غور کرنے کیلئے سمری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے مطابق واپس نہیں کی، صدر کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ آئین پاکستان کو اس کے حرف اور روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے اگرچہ موجودہ انتخابی عمل میں ایسا نہیں کیا جا رہا,اعلامیے کے مطابق صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سمری کے پیرا 14 میں نگران وزیراعظم کی تجویز پر صدر مملکت اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہیں، آئین کے آرٹیکل 51 اور 91 دو پر سب کو عمل کرنا چاہیے اور اُن کی روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں سے الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت مشق کر رہا ہے، آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت ہونے والی مشق کو 21 دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے تھا، تاہم ابھی تک الیکشن کمیشن اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا۔اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی کا کہنا تھا مینڈیٹ، آرٹیکل 51 دو میں دیے گئے وقت، مذکورہ تحفظات اور 21 ویں دن تک مخصوص نشستوں کے معاملے کے حل کی اُمید کے پیشِ نظر قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کیا جاتا ہے۔
 

ranaji

President (40k+ posts)
یہ حرام زادہ بلوچیوں کا غدار جس سور کے بچے حرام کےنطفے ککڑ نے جب قائد اعظم کے فرمان پر
اور اسرائل والے سٹانس پر کسی گشتی کے بچے کی طرح بھونکا تھا اس کتی کی نسل کے کتے اور سور کے بچے نے اپنی ہی بلوچی قوم سے غداری کرنے والا تھرڈ کلاس کنجر کی تھوڑی میں زیادہ گھس گیا ہے
جب بھی کسی تھرڈ کلاس گھٹیا نیچ کنجر حرامئ کو
اس کی اوقات سے بہت اوپر بٹھا دو تو
وہ حرام
زادہ گشتی کا بچہ گھٹیا نیچ دوٹکے کا کنجر اپنے
آپ کو
شہنشاہ سمجھنے لگتا ہے جیسیے یہ کنجر چپراسی کی
اوقات والا ککڑ پھٹنے لگتے ہے قصور اسکا نہیں
اسکو لگانے والے کنجروں کا ہے
 

Digital_Pakistani

Chief Minister (5k+ posts)
باجوا کے بعد یہ دوسرا ادمی ہے جو ملک کو تقریبا تباہ کرنے کے بعد جا رہا ہے
 

khan_11

Chief Minister (5k+ posts)
یہ بندہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے اس لیئے اس کو اسٹیبلشمنٹ کی چاپلوسی اور جی حضوری کا انعام سینٹ میں چیئرمین بنا کر دیا جا رہا ہے جو بندہ چند ٹکوں کے لیئے افغانی شہری بن سکتا ہے اس سے عوام کو اور کیا توقع ہو سکتی ہے اس پر اور اس کے بیٹے پر نگران وزیراعظم بننے سے پہلے نیب کے کیسز تھے لگتا ہے ان فائلوں کو کارپٹ کے نیچے چھپا دیا ہے زرداری طاقتور حلقوں میں اپنے پنجے مضبوط رکھنے کے لیئے اس کو پی پی پی میں شامل کر کے چیئرمین بنانے پر ایسے ہی راضی نہیں ہوا ہو گا کیونکہ اقتدار اس کی زندگی ہے کیونکہ اس نے سندھ میں اتنے ظلم کیئے ہیں کہ اقتدار کے بغیر یہ سندھ میں ایک دن آزادی سے نہیں رہ سکتا