شہباز حکومت کے وزیر نے بجٹ کے 20 فیصد منصوبوں کو فراڈ قرار دے دیا

14jamkamalfraude.png


وفاقی بجٹ کے 20 فیصد منصوبے فراڈ، پورا مافیا کام کرتا ہے، جام کمال خان کی تنقید

وفاقی وزیر برائے صنعت و تجارت جام کمال نے وفاقی بجٹ کے منصوبوں کو فراڈ قرار دے دیا,انہوں وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا وفاقی ترقیاتی بجٹ کے 20 فیصد تک منصوبے فراڈ ہوتے ہیں,شہباز کابینہ کے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں کئی ایسے منصوبے ہیں، جو سیاست دانوں کے نہیں ہیں بلکہ فراڈ منصوبے گمنام ہوتے ہیں جن کا کوئی اونر نہیں ہوتا۔

جام کمال نے کہا گمنام اور فراڈ منصوبے دور دراز علاقوں کے ڈلوائے جاتے ہیں تاکہ رسائی نہ ہو,اِن گمنام اسکیموں کے پیچھے پورا مافیا ہوتا ہے جو منصوبے منظور کرواتا ہے اور ٹینڈرز کے پیچھے پورا مافیا کام کرتا ہے,زیادہ تر ایسے منصوبے اریگیشن کے ہوتے ہیں۔ سینیٹرز کے علاوہ ایسے لوگ بھی منصوبے ڈلوا لیتے ہیں جو انتخابات ہار چکے ہیں۔

دوسری جانب مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم وفاقی بجٹ کو حکومت اور آئی ایم ایف کا ایک ہائبرڈ بجٹ قرار دے چکے ہیں, انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا چناؤ آئی ایم ایف اور اخراجات کا حکومت نے کیا ہے، ٹیکس کا بوجھ عام عوام پر آئی ایم ایف کا اور ٹیکس چھوٹ حکومت کا فیصلہ ہے۔

دودھ، ادویات ٹیکس آئی ایم ایف کا مقامی کارساز ٹیکس چھوٹ حکومت کا سکرپٹ ہے، بجلی، گیس، پٹرول قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف جبکہ سرکاری مراعات میں اضافہ حکومت کا ہے,تعلیم، صحت اور زراعت پر کٹوتی آئی ایم ایف کا فیصلہ ہے، ترقیاتی اخراجات میں ایم این ایز کیلئے 75 ارب مختص کرنا حکومتی فیصلہ ہے، بجٹ صرف آئی ایم ایف کا ہے اور حکومت مکمل شراکت دار ہے۔