شاہنواز کا اعتراف جرم، اہلیہ کو طلاق دینے کا بھی دعویٰ کر ڈالا

2sarainaammurdercase.jpg

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی پاکستانی نژاد کینیڈین بیوی سارہ انعام کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں طلاق دینے کا دعویٰ کیا ہے۔

سیشن کورٹ اسلام آباد میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے پاکستانی نژاد کینیڈین شہری سارہ انعام قتل کیس میں چالان سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا جس میں کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز نے سارہ انعام کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

چالان رپورٹ کے مطابق ملزم شاہنواز نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ سارہ انعام اسے رقم نہیں بھیجتی تھی، قتل سے چند روز پہلے سارہ کے ساتھ فون پر تلخ کلامی کے بعد سارہ کو طلاق دے دی تھی۔


پولیس کے مطابق طلاق کے بعد 22 ستمبر کو سارہ انعام ابوظہبی سے ملزم شاہنواز کے فارم ہاؤس میں آئی، رات کو بیڈ روم میں سارہ انعام نے تکرار شروع کر دی اور رقم کا حساب مانگنے لگی جس پر پہلے سارہ انعام کو شو پیس مارا، زخمی ہونے کے بعد سارہ انعام نے شور کرنا شروع کیا تو ڈمبل اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔

اگلے روز 23 ستمبر کو مرکزی ملزم کی والدہ ثمینہ شاہ نے جائے وقوعہ پر پولیس کو بتایا کہ ان کے بیٹے کا اپنی بیوی سارہ انعام سے لڑائی جھگڑا ہوا اسی دوران میرے بیٹے نے سارہ انعام کو سر پر ڈمبل مار کر قتل کر دیا ہے۔

گرفتاری کے بعد مرکزی ملزم شاہنواز امیر نے اعتراف کیا کہ دوران لڑائی جھگڑا اس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا، مرکزی ملزم نے پولیس کو بتایا کہ بیوی کی لاش باتھ روم کے ٹب میں چھپا دی۔

پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر لاش اور جس ڈمبل سے سارہ انعام کو قتل کیا گیا برآمد کیا، ملزم کی شرٹ ، ہاتھوں اور ڈمبل پر خون اور بال لگے تھے، ملزم سے پانچ پاسپورٹ ، پانچ موبائل اور نکاح نامہ کی کاپی قبضہ میں لی گئی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر سارہ انعام کا پرس جس میں کارڈ نقدی تھی برآمد کئے گئے، سارا انعام کی شرٹ اور مرسیڈیز گاڑی برآمد کی گئی، پولی کلینک سے ملزم کا چیک اپ کرا کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا، مقتولہ کا لیپ ٹاپ ، پرس ، سی سی ٹی وی کیمروں کی ڈی وی آر قبضے میں لی گئی۔

سیشن جج ایسٹ عطا ربانی نے مرکزی ملزم شاہنواز اور اس کی والدہ ثمینہ شاہ پر فرد جرم عائد کر دی، ملزمان نے صحت جرم سے انکارکر دیا، عدالت نے شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کی ڈسچارج کرنے کی درخواست خارج کر دی ہے، 14 دسمبر کو پراسیکیوشن کے گواہ طلب کر لئے۔
 

Citizen X

President (40k+ posts)
I give kudos to the parents here, who chose to stand with the truth and did the right thing and unlike most elite or influential people try to cover it up or somehow try to help their offspring out of it.
 
Sponsored Link