شاہد خاقان عباسی اور گیس معاہدے

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
پچھلے پندرہ سال میں قدرتی گیس کی قیمت زیادہ تر ۲ سے چار ڈالر اور برینٹ آئل کی قیمت ۵۰ سے ستر ڈالر فی گیلن کے درمیان رہی۔کبھی کبھی مارکیٹ کنڈیشنر کی وجہ سے یہ قیمت دو سے چار مہینے اپنی بریکٹ سے نکلتی ہیں لیکن واپس آجاتی ہے، آج کل بھی کرونا کی وجہ سے قدرتی گیس ۱،۸۰ ڈالر اور برینٹ آئل ۲۵ سے تیس ڈالر کے درمیان ہے۔

دوہزار سولہ میں تیل کی قیمت ۱۵ سال کی کم ترین سطح پر گری تو قطر نے قدرتی گیس کی قمیت کو خام تیل سے نتھی کرکے لانگ ٹرم معاہدے کرنے چاہے ۔ ایک سیلز مین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا منافع بڑھائے۔ ان کی نظر میں تھا کہ آئل کی قمیت دوبارہ اوپر جائے گی تو فائدہ ہوگا۔ ان کی خوش قسمتی کہ پاکستان میں رینٹ پر ملنے والی اقامہ شدہ قیادت تھی۔
پاکستان نے برینٹ آئل کے ۱۳،۳۷ فی صد پر معاہدہ کرلیا۔اسوقت خام تیل کی قیمت ۳۵ سے ۴۰ ڈالر پر بھی یہ معاہدہ قدرتی گیس کے پندرہ سالہ ٹرینڈ سے اوسطا ۵۰ فی صد مہنگا تھا۔کونسا خریدار ایسا معاہدہ کرے گا۔

پھر جیسے جیسے آئل مہنگا ہوتا گیا، یہ معاہدہ مزید مہنگا ہوتا گیا۔ آج خام تیل کی قیمت پھر گری ہے تو جائزہ لیتے کیا یہ معاہدے تیل کی کم قیمتوں پر سود مند ہیں تو جواب پھر بھی مکمل نفی میں ہے۔ آج جب تیل کی قیمت تقریبا بیس سال کی کم ترین سطح پر ہے تو بھی پاکستان کو خام قدرتی گیس ۴ ڈالر پر پڑرہی ہے جبکہ اسکی کی مارکیٹ پرائس ۲ ڈالر سے کہیں نیچے ہے،

یعنی یہ معاہدہ تیل کی کم ترین سطح پر بھی تقریبا دوگنا مہنگا ہے۔ اس تحریر کے ساتھ دیئے گئے گراف میں سے سرخ لائن وہ ہے اگر پاکستان نے معاہدہ نہ کیا ہوتا اور سبز لائن وہ قیمت ہے جو پاکستان ادا کررہا ہے۔

اس حساب سے پاکستان جو تقریبا ۳ ارب ڈالر سالانہ کی گیس خریدتا ہے تو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہے اور یہ بھی اسوقت جب تیل ۳۰ ڈالر کے پاس ہو۔ مزے کی بات ہے انہی معاہدوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستان ان معاہدوں پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کرسکتا اور نہ ہی انہیں اپنی عوام کو دکھا سکتا ہے
ایسے وارداتیے ہیں، کہ جب شاہد خاقان سے کہا جاتا ہے کہ گیس مہنگی لی ہے تو کہتا ہے جتنی بھی مہنگی ہو تیل سے سستی پڑتی ہے۔ یہی نہیں، ایل این جی ٹرمینل لگائے گئے جن میں نام نہاد ڈیلی چارجز ۱۸۰ ملین ڈالر سالانہ شامل کئے گئے۔ شاہد خاقان عباسی ٹی وی پر آکر کہتا رہا کہ ایل این جی ٹرمینلز ڈیلی چارجز کے بغیر نہیں لگائے جاسکتے۔ موجودہ حکومت میں تین ایل این جی ٹرمینلز لگائے جارہے ہیں جن میں ڈیلی چارجز نہیں ہیںَ

یہ تو ایک کہانی ہے، ایسے ہی معاہدے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ہیں۔ ڈیلی چارجز ہیں۔ بلیک میلنگ ہے کہ معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان کو پوری طرح سے باندھا ہوا ہے۔

سالانہ بیس ارب ڈالر کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ جس سے پاکستان کو امپورٹڈ اشیا کی تجارت میں دھکیل کر جی ڈی پی گروتھ لائی گئی، ٹیکسٹائل کو گھونٹ کر چینی کی انڈسٹری کو ترقی دی گئی ۔کوئی ایسا مین رہنما نہیں جس نے منی لانڈرنگ نہ کی ہو۔ کوئی پندرہ بیس آٹے ، چینی ، پیڑول کے بحران اس کے علاوہ ہیں۔ بڑی معصومیت سے کہہ رہے ہیں سب کچھ بھول بھال کر حکومت ہمیں دوبارہ دے دی جائے۔

یہاں پر دیئے گئے تمام کوائف انٹرنیٹ پر دس منٹ لگاکر ڈھونڈے جاسکتے ہیں
getAsset.aspx
۔ اگر آپ کو پتہ ہو کہ کرنا کیا ہے۔ ایک مثال یہ ہے
 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
اس بات کا مشاہدہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ پاکستان میں گیس بجلی دنیا میں سب سے مہنگی ہے
اس سے صنعت کار کی کمر ٹوٹ گئی ہے کہ اس کا بنایا مال دوسرے ممالک سے ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے . اور امپورٹ مافیا کی چاندی ہے کہ وہ چین سے مال لا کر بیچتا ہے
صنعت ہوتی تو نوکریاں ہوتیں ، امپورٹ ہے تو بے روزگاری ہے
 

Yaldarum

Politcal Worker (100+ posts)
اس بات کا مشاہدہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ پاکستان میں گیس بجلی دنیا میں سب سے مہنگی ہے
اس سے صنعت کار کی کمر ٹوٹ گئی ہے کہ اس کا بنایا مال دوسرے ممالک سے ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے . اور امپورٹ مافیا کی چاندی ہے کہ وہ چین سے مال لا کر بیچتا ہے
صنعت ہوتی تو نوکریاں ہوتیں ، امپورٹ ہے تو بے روزگاری ہے
jab statesman k bajaye Businessman ko leader banao gay tou yehi hoga. Plus, jis ka pakistan main mafaad hi na ho woh kia sochay ga. Hum main say kitnay hain jo Brazil ya Philipince k baray main sochtay hongay. Hamaray leaders aur afsaron ka Pakistan k baray main yehi khayal hai
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
پہلا پیرا گراف ہی پڑھا تو پتا چل گیا کہ لکھنے والے کو کچھ نہیں پتا ، قدرتی گیس برٹش تھرمل یونٹس میں ماپی جاتی اور ملین برٹش تھرمل یونٹس میں فروخت کی جاتی ہے ، پروپیگنڈا کرنے سے پہلے ایل این جی کے یونٹس پر ایک نظر ڈال لیں

EVTIhcPXQAIz580


یہ جو معاہدہ کیا گیا یہ برینٹ کے تیرہ فیصد پر کیا گیا ، آج برینٹ بیس ڈالر پر بیرل ہے تو یہ فی ملین برٹش تھرمل یونٹس ڈھائی ڈالر کے قریب بنتا ہے ، ساری دنیا میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے ، پندرہ سال پہلے جب ایل این جی فروخت ہونا شروع ہوئی تھی اس وقت فکس ریٹ پر معاہدے ہوتے تھے اب نہیں ہوتے ، اس بات کی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ معاہدہ بالکل ٹھیک ریٹ پر ہوا بلکہ اس وقت کے حساب سے دنیا میں سب سے سستا ہوا اور اس حکومت نے بھی اس معاہدے کو جاری رکھا ، سپاٹ پرچیز ایک بالکل مختلف چیز ہے

بہت سے ایسے مواقع آئے جب سپاٹ پرچیز پرائس ہمارے معاہدے والے ریٹ سے زیادہ تھی بعض دفعہ کم بھی تھی ، جیسے آج کل-

آج سپاٹ پرچیز پونے دو ڈالر کے قریب ہے اگر باقی دنیا سے ڈیمانڈ کم نہ ہوتی تو یہ بھی تین ڈالر سے کم نہ ہوتی ، دوسرے یہ معاہدہ آپ کو سپاٹ پرچیز سے نہیں روکتا


EVTJTF3XkAACRJ-


 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
پہلا پیرا گراف ہی پڑھا تو پتا چل گیا کہ لکھنے والے کو کچھ نہیں پتا ، قدرتی گیس برٹش تھرمل یونٹس میں ماپی جاتی اور ملین برٹش تھرمل یونٹس میں فروخت کی جاتی ہے ، پروپیگنڈا کرنے سے پہلے ایل این جی کے یونٹس پر ایک نظر ڈال لیں

EVTIhcPXQAIz580


یہ جو معاہدہ کیا گیا یہ برینٹ کے تیرہ فیصد پر کیا گیا ، آج برینٹ بیس ڈالر پر بیرل ہے تو یہ فی ملین برٹش تھرمل یونٹس ڈھائی ڈالر کے قریب بنتا ہے ، ساری دنیا میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے ، پندرہ سال پہلے جب ایل این جی فروخت ہونا شروع ہوئی تھی اس وقت فکس ریٹ پر معاہدے ہوتے تھے اب نہیں ہوتے ، اس بات کی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ معاہدہ بالکل ٹھیک ریٹ پر ہوا بلکہ اس وقت کے حساب سے دنیا میں سب سے سستا ہوا اور اس حکومت نے بھی اس معاہدے کو جاری رکھا ، سپاٹ پرچیز ایک بالکل مختلف چیز ہے

بہت سے ایسے مواقع آئے جب سپاٹ پرچیز پرائس ہمارے معاہدے والے ریٹ سے زیادہ تھی بعض دفعہ کم بھی تھی ، جیسے آج کل-

آج سپاٹ پرچیز پونے دو ڈالر کے قریب ہے اگر باقی دنیا سے ڈیمانڈ کم نہ ہوتی تو یہ بھی تین ڈالر سے کم نہ ہوتی ، دوسرے یہ معاہدہ آپ کو سپاٹ پرچیز سے نہیں روکتا


EVTJTF3XkAACRJ-


بجلی کے معاہدوں پر بھی الجھن رفع کر دیں . ہم مہنگا یونٹ خریدتے ہیں پھر بھی سرکلر ڈیبٹ کیوں چڑھتا گیا ؟
 

ranaji

President (40k+ posts)
پہلی بات تو یہ کہ اگر کوئی معاہدہ صاف شفاف ہے تو اسکو چھپانے کی کیا ضرورت ہے ؟ دوسری بات جیسے فائز عیسیٰ جیسے حرام خور چور فراڈی بیغرت نے اپنی ماں بہن بیوی بیٹی بہو کا سودا کر کے حدبیہ کے کیس می حرام زدگی کی اس حرام کے پیسے کو منی لانڈر کیا یہاں جائیداد خریدی اور جب منی ٹریل مانگی تو دینے سے انکار کر دیا اور دوسروں پر بھونکنا شروع کر دیا اسی ترہ تو اس حرام خور چور لعنتی نے بھی بھونکا تھا کہ اس کیس کے بارے می میڈیا نا کچھ ڈسکس کرے گا نا کچھ لکھے گا کیا اس حرام خور نے عوام کو بیوقوف سمجھا تھا کہ اگر تم نے کوئی حرام زدگی نہیں کی تو کیوں بھونکتے ہو کے اس کو میڈیا کوریج نہیں ہوگی اسی ترہ ہے اس حرام زادے لعنتی بیغرت چور بو بکرے کا معاہدہ جسکا باپ مردود خنزیر ضیاء یق کا وزیر تھا اور وزارت می ہی کسی کتے کی موت مرا تھا اور اس حرامی کرپٹ نطفے بو بکرے کو چھوڑ گیا اور اس ضیا ال یق کے غلیظ گٹر می پیدا ہونے والے خنزیر اگر معاہدہ شفاف تھا تو حرام کے نطفے خفیہ کیوں رکھا
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)

بجلی کے معاہدوں پر بھی الجھن رفع کر دیں . ہم مہنگا یونٹ خریدتے ہیں پھر بھی سرکلر ڈیبٹ کیوں چڑھتا گیا ؟

بجلی کی قیمت میں دو حصے ہوتے ہیں ، فیول پرائس اور پیداواری لاگت ، فیول میں سب سے سستے قدرتی ذرائع ہیں ، جیسے ونڈ انرجی یا شمسی توانائی ، ان دونوں سے بجلی کی پیداواری لاگت زیادہ ہے اور انڈسٹریل لیول پر بجلی حاصل نہیں ہوسکتی ، بجلی کی پیداوار میں یکسانیت نہیں ہے

پھر پانی سے بجلی بنانے میں فیول تو خرچ نہیں ہوتا البتہ رائلٹی دینا پڑتی ہے ، ڈیم کی تعمیر ایک مشکل اور لمبا اور مہنگا عمل ہے ، ایک دفعہ بن جائے تو پھر وارے نیارے

ایٹمی توانائی اور کوئلے سے پن بجلی کے خرچے پر بجلی بنائی جا سکتی ہے ، ہمارے پاس ایٹمی توانائی کے بڑے پلانٹ نہیں ہیں ، دو پلانٹ ابھی لگ رہے ہیں دو پچھلے دور میں لگے تھے اس سے پہلے والے جو پلانٹ تھے ان سے اتنی کم بجلی پیدا ہوتی تھی کہ انتظامی اخراجات بھی پورے کرنا مشکل تھے

کوئلے سے پہلی بار پچھلے دور حکومت میں بجلی بنانی شروع کی گئی اور اسی دوران ایل این جی کے پلانٹ بھی لگے ، یہ سارے پلانٹ حکومت کی ملکیت ہیں ان کو جو بھی پیسے کیپسٹی چارجز کی مد میں دئے جاتے ہیں وہ دراصل حکومت کو ہی جاتے ہیں ، اگر ان سے بجلی بنائیں گے تو باقی ذرائع کی نسبت جن میں فاسل فیول استعمال ہوتا ہے یہ پلانٹ سستی بجلی بناتے ہیں اور ماحول کو کم آلودہ کرتے ہیں

پاکستان نے نوے کی دہائی میں فرنس آئل سے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے ، انہیں بیس سال کیلئے کیپسٹی چارجز ادا کرنے تھے ان سے معاہدے ختم ہوگئے ہیں اگر ہم ان سے بجلی نہ بنائیں تو انہیں کیپسٹی چارجز ادا نہیں کرنے ہوتے ، کچھ پلانٹ زرداری کے دور میں لگے یہ ڈیزل سے چلنے والے پلانٹ ہیں اور بہت مہنگے ہیں انہیں رینٹل پلانٹ کہا گیا ، ندیم بابر کا پلانٹ بھی ان میں شامل ہے

اب آتے ہیں گردشی قرضوں کی طرف ، حکومت پاکستان نے بلوچستان میں تیس ہزار ٹیوب ویلوں کو مفت یا رعایتی نرخوں پر بجلی مہیا کرنے کا معاہدہ ٢٠٠١ میں کیا جو اب تک جاری ہے ، حکومت کو ہر ماہ تئیس ارب روپے اس مد میں دینا ہوتے ہیں ، اسی طرح تب سے ہی فاٹا میں بجلی کی قیمت وصول نہیں کی جا سک رہی لیکن بجلی مل رہی ہے اس کے پیسے بھی گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہیں ، بجلی چوری اور لائن لاسز بھی ایک بڑی وجہ ہیں ، زرداری دور میں ایک کمپنی بنائی گئی جس کے ذریعے قرضے لیکر ان گردشی قرضوں کو ختم کیا جاتا ہے ان قرضوں پر سود بھی ان گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہے
،​
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)
پہلی بات تو یہ کہ اگر کوئی معاہدہ صاف شفاف ہے تو اسکو چھپانے کی کیا ضرورت ہے ؟ دوسری بات جیسے فائز عیسیٰ جیسے حرام خور چور فراڈی بیغرت نے اپنی ماں بہن بیوی بیٹی بہو کا سودا کر کے حدبیہ کے کیس می حرام زدگی کی اس حرام کے پیسے کو منی لانڈر کیا یہاں جائیداد خریدی اور جب منی ٹریل مانگی تو دینے سے انکار کر دیا اور دوسروں پر بھونکنا شروع کر دیا اسی ترہ تو اس حرام خور چور لعنتی نے بھی بھونکا تھا کہ اس کیس کے بارے می میڈیا نا کچھ ڈسکس کرے گا نا کچھ لکھے گا کیا اس حرام خور نے عوام کو بیوقوف سمجھا تھا کہ اگر تم نے کوئی حرام زدگی نہیں کی تو کیوں بھونکتے ہو کے اس کو میڈیا کوریج نہیں ہوگی اسی ترہ ہے اس حرام زادے لعنتی بیغرت چور بو بکرے کا معاہدہ جسکا باپ مردود خنزیر ضیاء یق کا وزیر تھا اور وزارت می ہی کسی کتے کی موت مرا تھا اور اس حرامی کرپٹ نطفے بو بکرے کو چھوڑ گیا اور اس ضیا ال یق کے غلیظ گٹر می پیدا ہونے والے خنزیر اگر معاہدہ شفاف تھا تو حرام کے نطفے خفیہ کیوں رکھا

گالیوں کے بغیر بات کرو تو تمہاری تمام باتوں کا جواب دیا جا سکتا ہے ، عمران خان کی حکومت نے حدیبیہ کا فیصلہ چیلنج کیوں نہیں کیا؟؟
 

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
یہ حرامی حرام خور میٖڈیا جو پاکستان کو نوچنے کھسوٹنے کا ذمہ دار ہے
 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
بجلی کی قیمت میں دو حصے ہوتے ہیں ، فیول پرائس اور پیداواری لاگت ، فیول میں سب سے سستے قدرتی ذرائع ہیں ، جیسے ونڈ انرجی یا شمسی توانائی ، ان دونوں سے بجلی کی پیداواری لاگت زیادہ ہے اور انڈسٹریل لیول پر بجلی حاصل نہیں ہوسکتی ، بجلی کی پیداوار میں یکسانیت نہیں ہے

پھر پانی سے بجلی بنانے میں فیول تو خرچ نہیں ہوتا البتہ رائلٹی دینا پڑتی ہے ، ڈیم کی تعمیر ایک مشکل اور لمبا اور مہنگا عمل ہے ، ایک دفعہ بن جائے تو پھر وارے نیارے

ایٹمی توانائی اور کوئلے سے پن بجلی کے خرچے پر بجلی بنائی جا سکتی ہے ، ہمارے پاس ایٹمی توانائی کے بڑے پلانٹ نہیں ہیں ، دو پلانٹ ابھی لگ رہے ہیں دو پچھلے دور میں لگے تھے اس سے پہلے والے جو پلانٹ تھے ان سے اتنی کم بجلی پیدا ہوتی تھی کہ انتظامی اخراجات بھی پورے کرنا مشکل تھے

کوئلے سے پہلی بار پچھلے دور حکومت میں بجلی بنانی شروع کی گئی اور اسی دوران ایل این جی کے پلانٹ بھی لگے ، یہ سارے پلانٹ حکومت کی ملکیت ہیں ان کو جو بھی پیسے کیپسٹی چارجز کی مد میں دئے جاتے ہیں وہ دراصل حکومت کو ہی جاتے ہیں ، اگر ان سے بجلی بنائیں گے تو باقی ذرائع کی نسبت جن میں فاسل فیول استعمال ہوتا ہے یہ پلانٹ سستی بجلی بناتے ہیں اور ماحول کو کم آلودہ کرتے ہیں

پاکستان نے نوے کی دہائی میں فرنس آئل سے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے ، انہیں بیس سال کیلئے کیپسٹی چارجز ادا کرنے تھے ان سے معاہدے ختم ہوگئے ہیں اگر ہم ان سے بجلی نہ بنائیں تو انہیں کیپسٹی چارجز ادا نہیں کرنے ہوتے ، کچھ پلانٹ زرداری کے دور میں لگے یہ ڈیزل سے چلنے والے پلانٹ ہیں اور بہت مہنگے ہیں انہیں رینٹل پلانٹ کہا گیا ، ندیم بابر کا پلانٹ بھی ان میں شامل ہے

اب آتے ہیں گردشی قرضوں کی طرف ، حکومت پاکستان نے بلوچستان میں تیس ہزار ٹیوب ویلوں کو مفت یا رعایتی نرخوں پر بجلی مہیا کرنے کا معاہدہ ٢٠٠١ میں کیا جو اب تک جاری ہے ، حکومت کو ہر ماہ تئیس ارب روپے اس مد میں دینا ہوتے ہیں ، اسی طرح تب سے ہی فاٹا میں بجلی کی قیمت وصول نہیں کی جا سک رہی لیکن بجلی مل رہی ہے اس کے پیسے بھی گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہیں ، بجلی چوری اور لائن لاسز بھی ایک بڑی وجہ ہیں ، زرداری دور میں ایک کمپنی بنائی گئی جس کے ذریعے قرضے لیکر ان گردشی قرضوں کو ختم کیا جاتا ہے ان قرضوں پر سود بھی ان گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہے
،​
یعنی دو ہزار دس میں اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد اٹھارہ تک آپ کی صوبائی حکومت سستے منصوبے نہ بنا سکی ؟ جب کہ اٹھارویں ترمیم آپ کی حکومت نے ہنسی خوشی مان لی تھی
چلیں نون لیگ کے نااہل ہونے پر تو ہم متفق ہوئے
 

mhafeez

Chief Minister (5k+ posts)

یعنی دو ہزار دس میں اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد اٹھارہ تک آپ کی صوبائی حکومت سستے منصوبے نہ بنا سکی ؟ جب کہ اٹھارویں ترمیم آپ کی حکومت نے ہنسی خوشی مان لی تھی
چلیں نون لیگ کے نااہل ہونے پر تو ہم متفق ہوئے

اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بجلی پیدا کرنے کے اختیارات مل گئے ، مگر پاور پلانٹ امپورٹ کرنے کے اختیارات اور ان کے لئے قرضے حاصل کرنے اختیارات وفاق کے پاس ہی تھے ، نندی پور پاور پلانٹ ایک مثال ہے ، جس میں وزارت قانون نے سالوں منظوری ہی نہیں دی حالانکہ پاور پلانٹ کا معاہدہ ہوچکا تھا لیکن وفاق نے پلانٹ کو پورٹ سے باہر لانے کی منظوری ہی نہیں دی ، پورٹس ابھی بھی وفاق کے زیر انتظام ہیں
 

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
پہلا پیرا گراف ہی پڑھا تو پتا چل گیا کہ لکھنے والے کو کچھ نہیں پتا ، قدرتی گیس برٹش تھرمل یونٹس میں ماپی جاتی اور ملین برٹش تھرمل یونٹس میں فروخت کی جاتی ہے ، پروپیگنڈا کرنے سے پہلے ایل این جی کے یونٹس پر ایک نظر ڈال لیں

EVTIhcPXQAIz580


یہ جو معاہدہ کیا گیا یہ برینٹ کے تیرہ فیصد پر کیا گیا ، آج برینٹ بیس ڈالر پر بیرل ہے تو یہ فی ملین برٹش تھرمل یونٹس ڈھائی ڈالر کے قریب بنتا ہے ، ساری دنیا میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے ، پندرہ سال پہلے جب ایل این جی فروخت ہونا شروع ہوئی تھی اس وقت فکس ریٹ پر معاہدے ہوتے تھے اب نہیں ہوتے ، اس بات کی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ معاہدہ بالکل ٹھیک ریٹ پر ہوا بلکہ اس وقت کے حساب سے دنیا میں سب سے سستا ہوا اور اس حکومت نے بھی اس معاہدے کو جاری رکھا ، سپاٹ پرچیز ایک بالکل مختلف چیز ہے

بہت سے ایسے مواقع آئے جب سپاٹ پرچیز پرائس ہمارے معاہدے والے ریٹ سے زیادہ تھی بعض دفعہ کم بھی تھی ، جیسے آج کل-

آج سپاٹ پرچیز پونے دو ڈالر کے قریب ہے اگر باقی دنیا سے ڈیمانڈ کم نہ ہوتی تو یہ بھی تین ڈالر سے کم نہ ہوتی ، دوسرے یہ معاہدہ آپ کو سپاٹ پرچیز سے نہیں روکتا


EVTJTF3XkAACRJ-


Mr Hafeez, when I read your first line, I knew that you do not know anything.
Lie 1-Brent is 20 dollars. It is not 20 dollars. it is 31 dollars right now,I sell and buy daily as a speculator. So the 13.37 percent is 4 dollars. This is exactly as I wrote.
My whole claim is: Spot price in the past 4 years of this contract has never been above the crude linked price, now pakistan is bound to buy a certain amount from Qatar at expensive rates, the rest pakistan of course buys on spot.

Would you give up your PML N spokes man ship , if you prove wrong
go here and see the brent price
You based your whole argument on the case the brent was 20. Even if it was 20, the price would be 40% expensive than the spot price.Now tell me a time in history when 13,37 %Brent was cheaper than LNG price
 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بجلی پیدا کرنے کے اختیارات مل گئے ، مگر پاور پلانٹ امپورٹ کرنے کے اختیارات اور ان کے لئے قرضے حاصل کرنے اختیارات وفاق کے پاس ہی تھے ، نندی پور پاور پلانٹ ایک مثال ہے ، جس میں وزارت قانون نے سالوں منظوری ہی نہیں دی حالانکہ پاور پلانٹ کا معاہدہ ہوچکا تھا لیکن وفاق نے پلانٹ کو پورٹ سے باہر لانے کی منظوری ہی نہیں دی ، پورٹس ابھی بھی وفاق کے زیر انتظام ہیں
بائے دی وے میں نے پاور پلانٹ نہ لگانے کا پواینٹ نہیں لگایا تھا ، سستی بجلی کے منصوبوں کا پواینٹ لگایا تھا
بولے تو پن بجلی اور ایٹمی بجلی کے منصوبے
 

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
This is again another lie in the post below that wind and solar are expensive. Wind and solar energy both are produced at around 5 cents while N league produced oil and coal at 14cents. That is 3 times expensive
بجلی کی قیمت میں دو حصے ہوتے ہیں ، فیول پرائس اور پیداواری لاگت ، فیول میں سب سے سستے قدرتی ذرائع ہیں ، جیسے ونڈ انرجی یا شمسی توانائی ، ان دونوں سے بجلی کی پیداواری لاگت زیادہ ہے اور انڈسٹریل لیول پر بجلی حاصل نہیں ہوسکتی ، بجلی کی پیداوار میں یکسانیت نہیں ہے

پھر پانی سے بجلی بنانے میں فیول تو خرچ نہیں ہوتا البتہ رائلٹی دینا پڑتی ہے ، ڈیم کی تعمیر ایک مشکل اور لمبا اور مہنگا عمل ہے ، ایک دفعہ بن جائے تو پھر وارے نیارے

ایٹمی توانائی اور کوئلے سے پن بجلی کے خرچے پر بجلی بنائی جا سکتی ہے ، ہمارے پاس ایٹمی توانائی کے بڑے پلانٹ نہیں ہیں ، دو پلانٹ ابھی لگ رہے ہیں دو پچھلے دور میں لگے تھے اس سے پہلے والے جو پلانٹ تھے ان سے اتنی کم بجلی پیدا ہوتی تھی کہ انتظامی اخراجات بھی پورے کرنا مشکل تھے

کوئلے سے پہلی بار پچھلے دور حکومت میں بجلی بنانی شروع کی گئی اور اسی دوران ایل این جی کے پلانٹ بھی لگے ، یہ سارے پلانٹ حکومت کی ملکیت ہیں ان کو جو بھی پیسے کیپسٹی چارجز کی مد میں دئے جاتے ہیں وہ دراصل حکومت کو ہی جاتے ہیں ، اگر ان سے بجلی بنائیں گے تو باقی ذرائع کی نسبت جن میں فاسل فیول استعمال ہوتا ہے یہ پلانٹ سستی بجلی بناتے ہیں اور ماحول کو کم آلودہ کرتے ہیں

پاکستان نے نوے کی دہائی میں فرنس آئل سے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے ، انہیں بیس سال کیلئے کیپسٹی چارجز ادا کرنے تھے ان سے معاہدے ختم ہوگئے ہیں اگر ہم ان سے بجلی نہ بنائیں تو انہیں کیپسٹی چارجز ادا نہیں کرنے ہوتے ، کچھ پلانٹ زرداری کے دور میں لگے یہ ڈیزل سے چلنے والے پلانٹ ہیں اور بہت مہنگے ہیں انہیں رینٹل پلانٹ کہا گیا ، ندیم بابر کا پلانٹ بھی ان میں شامل ہے

اب آتے ہیں گردشی قرضوں کی طرف ، حکومت پاکستان نے بلوچستان میں تیس ہزار ٹیوب ویلوں کو مفت یا رعایتی نرخوں پر بجلی مہیا کرنے کا معاہدہ ٢٠٠١ میں کیا جو اب تک جاری ہے ، حکومت کو ہر ماہ تئیس ارب روپے اس مد میں دینا ہوتے ہیں ، اسی طرح تب سے ہی فاٹا میں بجلی کی قیمت وصول نہیں کی جا سک رہی لیکن بجلی مل رہی ہے اس کے پیسے بھی گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہیں ، بجلی چوری اور لائن لاسز بھی ایک بڑی وجہ ہیں ، زرداری دور میں ایک کمپنی بنائی گئی جس کے ذریعے قرضے لیکر ان گردشی قرضوں کو ختم کیا جاتا ہے ان قرضوں پر سود بھی ان گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب ہے
،​
 

Abdul Baqi

MPA (400+ posts)
پہلا پیرا گراف ہی پڑھا تو پتا چل گیا کہ لکھنے والے کو کچھ نہیں پتا ، قدرتی گیس برٹش تھرمل یونٹس میں ماپی جاتی اور ملین برٹش تھرمل یونٹس میں فروخت کی جاتی ہے ، پروپیگنڈا کرنے سے پہلے ایل این جی کے یونٹس پر ایک نظر ڈال لیں

EVTIhcPXQAIz580


یہ جو معاہدہ کیا گیا یہ برینٹ کے تیرہ فیصد پر کیا گیا ، آج برینٹ بیس ڈالر پر بیرل ہے تو یہ فی ملین برٹش تھرمل یونٹس ڈھائی ڈالر کے قریب بنتا ہے ، ساری دنیا میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے ، پندرہ سال پہلے جب ایل این جی فروخت ہونا شروع ہوئی تھی اس وقت فکس ریٹ پر معاہدے ہوتے تھے اب نہیں ہوتے ، اس بات کی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ معاہدہ بالکل ٹھیک ریٹ پر ہوا بلکہ اس وقت کے حساب سے دنیا میں سب سے سستا ہوا اور اس حکومت نے بھی اس معاہدے کو جاری رکھا ، سپاٹ پرچیز ایک بالکل مختلف چیز ہے

بہت سے ایسے مواقع آئے جب سپاٹ پرچیز پرائس ہمارے معاہدے والے ریٹ سے زیادہ تھی بعض دفعہ کم بھی تھی ، جیسے آج کل-

آج سپاٹ پرچیز پونے دو ڈالر کے قریب ہے اگر باقی دنیا سے ڈیمانڈ کم نہ ہوتی تو یہ بھی تین ڈالر سے کم نہ ہوتی ، دوسرے یہ معاہدہ آپ کو سپاٹ پرچیز سے نہیں روکتا


EVTJTF3XkAACRJ-


سب دو نمبر ہے ...
 

Abdul Baqi

MPA (400+ posts)
OK noon league was right they got us the cheapest deal in the world but why there are capacity charges? why we have to buy a minimum supply of gas? these are very serious corruption loop holes which noon league has always tried to hide
 

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
گالیوں کے بغیر بات کرو تو تمہاری تمام باتوں کا جواب دیا جا سکتا ہے ، عمران خان کی حکومت نے حدیبیہ کا فیصلہ چیلنج کیوں نہیں کیا؟؟
چلیں میں آپ سے کچھ سوال کرتا ہوں گالیوں کے بغیر
جہاں تک آپ نےمجھےغلط یونٹ کے استعمال پر رگڑا ہے، میں ایل این جی مارکیٹ میں فیوچر ٹریڈنگ کرتا ہوں اور ایم ایم بی ٹی یو مجھےازبر ہے لیکن کسی کوسمجھ نہیں آتا۔
۔ اب میرے سوالوں کےجواب دیں
میں آپ کی منطق ایک ایک کرکے غلط ثابت کروں گا۔ لیکن اگر آپ کے دل میں ایمان ہوا تو پھر مانوگے
پہلے ایک سوال کا جواب بتائیں
پچھلےچارسالوں میں وہ وقت جب ن لیگ کا معاہدہ سپاٹ پرائس کی نسبت فائدے میں تھا۔یہ وقت کبھی نہیں آیا۔ کیاآپ ایسےخریدیں گے کہ مارکیٹ میں پندرہ سال کے لئے ایک قصائی سے کہیں کہ میں ہمشہ آپ سے پانچ کلو مرغی خریدوں گا اوروہ بھی مارکیٹ ریٹ سے مہنگی ے

اس بات سے کس نے انکار کیا ہے کہ پاکستان سپاٹ پرائس پر نہیں خریدسکتا۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے پاکستان کا
معاہدہ ہے کہ ایک خاص مقدار خریدنی ہی خریدنی ہےجو کہ آپ کی ڈیمانڈ کابڑا حصہ ہے
ایک اور سوال ہے کہ برینٹ آئل اس وقت ۳۱ ڈالر ہے۔ اور ایل این جی ۱،۸۰ ڈالر کے قریب ہے، آپ کی کیلکولیشن کیا کہتی ہے، پاکستان کو کتنا نقصان ہورہا ہے
ایک اور سوال۔ موجودہ حکومت جو ایل این جی ٹرمینلز لگارہی ہے ان میں کیپیسٹی چارجز کیوں نہیں ہیں۔
ایک اور سوال۔ سولر اور ونڈ انرجی کسطرح کوئلے اور تیل سے مہنگی ہے، کسی موجودہ تخمینے سے ثابت کریں اور بتائیں کتنی مہنگی ہے، میں یورپ کی سب سے بڑی انرجی کمپنی میں ایک بڑی پوسٹ پر کام کرتا ہوں، دیکھتا ہوں میری کمپنی منافع غلط کمارہی ہے اور جھوٹی بیلنس شیٹ چھاپتی ہے یا آپ کی معلومات غلط ہیں
 

Ahmed Jawad

MPA (400+ posts)
OK noon league was right they got us the cheapest deal in the world but why there are capacity charges? why we have to buy a minimum supply of gas? these are very serious corruption loop holes which noon league has always tried to hide
sorry abdul baqi, N league did not get us the cheapest deal, this is sheer lie. A few questions from N league supprters


پچھلےچارسالوں میں وہ وقت جب ن لیگ کا معاہدہ سپاٹ پرائس کی نسبت فائدے میں تھا۔ کیاآپ ایسےخریدیں گے کہ مارکیٹ میں پندرہ سال کے لئے ایک قصائی سے کہیں کہ میں ہمشہ آپ سے پانچ کلو مرغی خریدوں گا اوروہ بھی مارکیٹ ریٹ سے مہنگی ے

اس بات سے کس نے انکار کیا ہے کہ پاکستان سپاٹ پرائس پر نہیں خریدسکتا۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے پاکستان کا
معاہدہ ہے کہ ایک خاص مقدار خریدنی ہی خریدنی ہےجو کہ آپ کی ڈیمانڈ کابڑا حصہ ہے
ایک اور سوال ہے کہ برینٹ آئل اس وقت ۳۱ ڈالر ہے۔ اور ایل این جی ۱،۸۰ ڈالر کے قریب ہے، آپ کی کیلکولیشن کیا کہتی ہے، پاکستان کو کتنا نقصان ہورہا ہے
ایک اور سوال۔ موجودہ حکومت جو ایل این جی ٹرمینلز لگارہی ہے ان میں کیپیسٹی چارجز کیوں نہیں ہیں۔
ایک اور سوال۔ سولر اور ونڈ انرجی کسطرح کوئلے اور تیل سے مہنگی ہے، کسی موجودہ تخمینے سے ثابت کریں اور بتائیں کتنی مہنگی ہے، میں یورپ کی سب سے بڑی انرجی کمپنی میں ایک بڑی پوسٹ پر کام کرتا ہوں، دیکھتا ہوں میری کمپنی منافع غلط کمارہی ہے اور جھوٹی بیلنس شیٹ چھاپتی ہے یا آپ کی معلومات غلط ہیں
 
Sponsored Link