insaan
MPA (400+ posts)
لکھنا تو مجھے مصر میں جاری احتجاجی تحریک اور غیر ملکی این جی اوز کے کردار پر تھا
مگر شام میں ہونے والے خوفناک سانحہ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دمشق کے نواحی علاقے میں
بدھ کی صبح ایک میزائیل حملہ کیا گیا جس میں کیمیائی مواد بھی موجود تھا۔ اس حملے کے
نتیجے میں علاقے میں موجود ایک ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی
میڈیا کی جاری کی گئی تصاویر میں بچوں، خواتین اور مردوں کی دل دہلادینے والی تصاویر
شامل ہیں۔
دمشق کے نواحی علاقے میں یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب باغی بری طرح پسپا ہورہے
ہیں۔ ایک آزاد و خودمختار کرد ریاست کے اعلان کے بعد سے کرد اور القاعدہ کے اراکین ایک
دوسرے کے مقابلے پر آگئے ہیں۔ سرکاری افواج بتدریج باغیوں کے زیرقبضہ علاقے خالی
کروارہی ہیں اور دنیا بھر کی توجہ شام سے ہٹ کر مصر کی طرف مبذول ہوچکی تھی۔
حملے کے لئے ایسا وقت چنا گیا جب شامی حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کے انسپکٹروں
کی ایک ٹیم کے دمشق پہنچنے میں صرف ایک دن باقی تھا ۔ اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی یہ
ٹیم خان الاصل پر کیمیائی حملے کی تحقیق کے لئے بلائی گئی ہے۔ خان الاصل پر حملہ 19
مارچ کو کیا گیا تھا ۔ شامی باغیوں نے اس کی ذمہ داری شامی حکومت پر اور حکومت نے اس
کی ذمہ داری باغیوں پر عائد کی تھی۔ اس حملے میں 26 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے تھے
جس میں سے سرکاری افواج کے اہلکاروں کی تعداد 16 تھی جبکہ بقیہ دیگر دس افراد سویلین
تھے۔ چونکہ اس میں جاں بحق ہونے والوں کی بڑی تعداد سرکاری اہلکاروں کی تھی ، اس لئے
اس موقع پر امریکی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی تھی کہ اس وہ کچھ
نہیں کہہ سکتیں کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔
روسی حکومت کے امور خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لیوکاش وچ نے کہا ہے کہ اس حملے
میں بھی وہی میزائیل استعمال کیا گیا ہے جو خان الاصل پر ہونے والے حملے میں استعمال کیا
گیا تھا۔ روسی ترجمان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایسی کوشش کی گئی کہ اقوام متحدہ کی
سلامتی کونسل پر اثر انداز ہوا جائے اور جنیوا2 کے مذاکرات کو سبوتاژ کیا جائے جو 28
اگست کو ہونے والے ہیں۔
چونکہ اس حملے میں باغیوں کی جانب سے حملے کے قوی شواہد موجود تھے، اس لئے شامی
حکومت نے اپنی بریت ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی ٹیم کو شام کے معائنے کی دعوت دی
تھی۔ بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں جوابات سے زیادہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ سب سے
پہلا تو سوال یہی ہے کہ شامی حکومت کو ایسے وقت میں کیمیائی حملہ کرنے کی کیا ضرورت
تھی جبکہ اقوام متحدہ کے انسپکٹر بس دمشق پہنچا ہی چاہتے تھے۔ ان حملہ آوروں نے حملہ
کرنے سے پہلے شام کی سرکاری فوج کی وردی میں باقاعدہ اپنی وڈیوبنوائی جس میں انہوں نے
سویلین افراد کو للکارا اور برا بھلا کہا اور پھر حملہ کردیا۔ یہ وڈیو فوری طور پر سوشل میڈیا
پر پوسٹ بھی کردی گئی۔ اگر شام کی سرکار کو ہی یہ حملہ کرنا تھا تو پھر اس کی وڈیو بنوانے
اور پوسٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور سب سے اہم ترین سوال، پورا بین الاقوامی میڈیا اس
وقت شام کی سرکاری افواج کو اس کا مورود الزام ٹھیرا رہا ہے۔ اب اس کے بعد ناٹو ، امریکا
اور اتحادیوں کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا؟
گذشتہ حملے کے موقع پر 20 مارچ کو میں نے ایک آرٹیکل شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے
http://www.masoodanwar.com/2013/03/شام-میں-کیمیائی-ہتھیاروں-کا-استعمال/
استعمال کے عنوان سے لکھا تھا جو میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس آرٹیکل
میں ، میں نے نشاندہی کی تھی کہ ناٹو نے باغیوں کو کیمیائی ہتھیار فراہم کردئے ہیں۔
مذکورہ آرٹیکل میں ، میں نے لکھا تھا کہ اس امر کے خدشات پہلے سے تھے کہ بشارالاسد پر
قابو پانے میں ناکامی کے بعد شام پر ایک باقاعدہ حملے کی وجوہ گڑھنے اور ایک اسٹیج کی
تیاری کے لئے دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے داعی کسی بھی وقت شام میں
کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا انسانی جانوں پر کیا اثر ہوگا،
آنے والی نسلیں اس کا بھگتان کب تک اور کس کس طرح بھگتیں گی، ان کو اس کی کوئی پرواہ
نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق میں پہلے سے اور مسلسل نیوکلیئر وار ہیڈز استعمال کئے جارہے
ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملوں میں بھی یہی نیوکلیئر وار ہیڈز استعمال کئے جارہے ہیں۔
اسی آرٹیکل میں مزید لکھا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صرف یہی غرض
و غایت نہیں ہے کہ شامی افواج پر باغیوں نے ایسا میزائیل فائر کیا جس کے پھٹنے کے نتیجے
میں کیمیائی گیسوں کا اخراج ہوا بلکہ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ امریکی صدر اوباما پہلے سے
ہی اس کی تنبیہہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں کیمیائی
ہتھیاروں کا استعمال ریڈ لائن ہوگا۔ اور سب جانتے ہیں کہ سرخ نشان کو پار کرنے کا کیا نتیجہ
ہوسکتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شامی حکومت اس حملے کے نتیجے میں یہ سرخ نشان پار کرچکی
ہے اور شام کے خلاف جنگ کا ڈھول پٹنے والا ہے۔ میں نے اپنے 20 مارچ کے آرٹیکل کا
اختتام ان الفاظ میں کیا تھا کوئی دن جاتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام شام کی
ریاستی فوج پر لگادیا جائے گا اور بین الاقوامی میڈیا کورس میں شام کی حکومت کے خلاف
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راگ الاپ رہا ہوگا۔
مگر شام میں اصل کھیل کیا ہورہا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں رہا ہے ۔ یہ جنگ نہ تو سنّیوں کو
شیعہ سے نجات دلانے کی ہے، نہ ہی ایک ڈکٹیٹر کو رخصت کرکے وہاں پر عوام کی حکومت
بحال کرنے کی ہے، نہ ہی یہ حقوق انسانی کی بحالی کے لئے ہے ۔ یہ جنگ صرف اور صرف
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لئے ہے۔ اس کے بعد اگلا مرحلا درپیش
ہو گا وہ ہے ایران پر حملہ۔
اب محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے
قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔
ہشیار باش۔
مگر شام میں ہونے والے خوفناک سانحہ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دمشق کے نواحی علاقے میں
بدھ کی صبح ایک میزائیل حملہ کیا گیا جس میں کیمیائی مواد بھی موجود تھا۔ اس حملے کے
نتیجے میں علاقے میں موجود ایک ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی
میڈیا کی جاری کی گئی تصاویر میں بچوں، خواتین اور مردوں کی دل دہلادینے والی تصاویر
شامل ہیں۔
دمشق کے نواحی علاقے میں یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب باغی بری طرح پسپا ہورہے
ہیں۔ ایک آزاد و خودمختار کرد ریاست کے اعلان کے بعد سے کرد اور القاعدہ کے اراکین ایک
دوسرے کے مقابلے پر آگئے ہیں۔ سرکاری افواج بتدریج باغیوں کے زیرقبضہ علاقے خالی
کروارہی ہیں اور دنیا بھر کی توجہ شام سے ہٹ کر مصر کی طرف مبذول ہوچکی تھی۔
حملے کے لئے ایسا وقت چنا گیا جب شامی حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کے انسپکٹروں
کی ایک ٹیم کے دمشق پہنچنے میں صرف ایک دن باقی تھا ۔ اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی یہ
ٹیم خان الاصل پر کیمیائی حملے کی تحقیق کے لئے بلائی گئی ہے۔ خان الاصل پر حملہ 19
مارچ کو کیا گیا تھا ۔ شامی باغیوں نے اس کی ذمہ داری شامی حکومت پر اور حکومت نے اس
کی ذمہ داری باغیوں پر عائد کی تھی۔ اس حملے میں 26 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے تھے
جس میں سے سرکاری افواج کے اہلکاروں کی تعداد 16 تھی جبکہ بقیہ دیگر دس افراد سویلین
تھے۔ چونکہ اس میں جاں بحق ہونے والوں کی بڑی تعداد سرکاری اہلکاروں کی تھی ، اس لئے
اس موقع پر امریکی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی تھی کہ اس وہ کچھ
نہیں کہہ سکتیں کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔
روسی حکومت کے امور خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لیوکاش وچ نے کہا ہے کہ اس حملے
میں بھی وہی میزائیل استعمال کیا گیا ہے جو خان الاصل پر ہونے والے حملے میں استعمال کیا
گیا تھا۔ روسی ترجمان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایسی کوشش کی گئی کہ اقوام متحدہ کی
سلامتی کونسل پر اثر انداز ہوا جائے اور جنیوا2 کے مذاکرات کو سبوتاژ کیا جائے جو 28
اگست کو ہونے والے ہیں۔
چونکہ اس حملے میں باغیوں کی جانب سے حملے کے قوی شواہد موجود تھے، اس لئے شامی
حکومت نے اپنی بریت ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی ٹیم کو شام کے معائنے کی دعوت دی
تھی۔ بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں جوابات سے زیادہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ سب سے
پہلا تو سوال یہی ہے کہ شامی حکومت کو ایسے وقت میں کیمیائی حملہ کرنے کی کیا ضرورت
تھی جبکہ اقوام متحدہ کے انسپکٹر بس دمشق پہنچا ہی چاہتے تھے۔ ان حملہ آوروں نے حملہ
کرنے سے پہلے شام کی سرکاری فوج کی وردی میں باقاعدہ اپنی وڈیوبنوائی جس میں انہوں نے
سویلین افراد کو للکارا اور برا بھلا کہا اور پھر حملہ کردیا۔ یہ وڈیو فوری طور پر سوشل میڈیا
پر پوسٹ بھی کردی گئی۔ اگر شام کی سرکار کو ہی یہ حملہ کرنا تھا تو پھر اس کی وڈیو بنوانے
اور پوسٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور سب سے اہم ترین سوال، پورا بین الاقوامی میڈیا اس
وقت شام کی سرکاری افواج کو اس کا مورود الزام ٹھیرا رہا ہے۔ اب اس کے بعد ناٹو ، امریکا
اور اتحادیوں کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا؟
گذشتہ حملے کے موقع پر 20 مارچ کو میں نے ایک آرٹیکل شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے
http://www.masoodanwar.com/2013/03/شام-میں-کیمیائی-ہتھیاروں-کا-استعمال/
استعمال کے عنوان سے لکھا تھا جو میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس آرٹیکل
میں ، میں نے نشاندہی کی تھی کہ ناٹو نے باغیوں کو کیمیائی ہتھیار فراہم کردئے ہیں۔
مذکورہ آرٹیکل میں ، میں نے لکھا تھا کہ اس امر کے خدشات پہلے سے تھے کہ بشارالاسد پر
قابو پانے میں ناکامی کے بعد شام پر ایک باقاعدہ حملے کی وجوہ گڑھنے اور ایک اسٹیج کی
تیاری کے لئے دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے داعی کسی بھی وقت شام میں
کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا انسانی جانوں پر کیا اثر ہوگا،
آنے والی نسلیں اس کا بھگتان کب تک اور کس کس طرح بھگتیں گی، ان کو اس کی کوئی پرواہ
نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق میں پہلے سے اور مسلسل نیوکلیئر وار ہیڈز استعمال کئے جارہے
ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملوں میں بھی یہی نیوکلیئر وار ہیڈز استعمال کئے جارہے ہیں۔
اسی آرٹیکل میں مزید لکھا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صرف یہی غرض
و غایت نہیں ہے کہ شامی افواج پر باغیوں نے ایسا میزائیل فائر کیا جس کے پھٹنے کے نتیجے
میں کیمیائی گیسوں کا اخراج ہوا بلکہ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ امریکی صدر اوباما پہلے سے
ہی اس کی تنبیہہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں کیمیائی
ہتھیاروں کا استعمال ریڈ لائن ہوگا۔ اور سب جانتے ہیں کہ سرخ نشان کو پار کرنے کا کیا نتیجہ
ہوسکتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شامی حکومت اس حملے کے نتیجے میں یہ سرخ نشان پار کرچکی
ہے اور شام کے خلاف جنگ کا ڈھول پٹنے والا ہے۔ میں نے اپنے 20 مارچ کے آرٹیکل کا
اختتام ان الفاظ میں کیا تھا کوئی دن جاتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام شام کی
ریاستی فوج پر لگادیا جائے گا اور بین الاقوامی میڈیا کورس میں شام کی حکومت کے خلاف
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راگ الاپ رہا ہوگا۔
مگر شام میں اصل کھیل کیا ہورہا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں رہا ہے ۔ یہ جنگ نہ تو سنّیوں کو
شیعہ سے نجات دلانے کی ہے، نہ ہی ایک ڈکٹیٹر کو رخصت کرکے وہاں پر عوام کی حکومت
بحال کرنے کی ہے، نہ ہی یہ حقوق انسانی کی بحالی کے لئے ہے ۔ یہ جنگ صرف اور صرف
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لئے ہے۔ اس کے بعد اگلا مرحلا درپیش
ہو گا وہ ہے ایران پر حملہ۔
اب محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے
قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔
ہشیار باش۔