سچ اور ضمیر کی انگڑائی

khalilqureshi

Senator (1k+ posts)
مارچ کی ایک سیاہ رات جب پاکستان کے بالادست طبقے کے چند بیضمیر اور کرپٹ لوگوں نے بیضمیرگداگروں چوروں کو ملک پر مسلط کردیا تو ابتدائی تجزئے میں سمجھا گیا کہ یہ سیاہ رات پچھلی تین ملٹری ڈکٹیٹرز کی مسلط کردہ راتوں سے زیادہ طویل اور زیادہ گہری ھوگی. لیکن اگلے ھی دن عوامی ردعمل نے نکالے جانے والوں اور گداگروں اور ان کو لانے والوں کو بھی ششدر کرکے رکھ دیا
عوام کے اسی اچانک اور شدید ردعمل نے امید کی شمع روشن کردی. اس نومولود امید سے' اس سیاہ رات میں سچ کی چند کرنیں نکلنے لگیں اور ضمیر کی کونپلیں پھوٹنے لگیں. اسی امید نے معاشرے کے چند باضمیر اور سچ کہنے والےطبقات خصوصاً چند سیاستدان، چند وکیل، چند منصفین، چند رٹائرڈ فوجی افسران اور چند صحافی سچ پر ڈٹ گئے. سچ پر بغیر سمجھوتے پر ڈٹ جانے والی اقلیت جلد ھی اکثریت میں بدلنے لگی. کرنوں نے سورج کا روپ دھار لیا اور کونپلیں تناور درختوں میں تبدیل ھوگئیں. وہ گہری سیاہ رات جو کئی دھائیوں تک مسلط رہ سکتی تھی چند ھی مہینوں میں ان باظمیر اور سچ پر ڈٹ جانے والی اقلیت نے اپنی شبانہ روز جدوجہد اور قلم اور دلیل کی طاقت سے امید کی شمع جلادی ھے اور یہ سنگدل اور چور گداگر اور انکے بدبخت سہولت کاروں نے پیچھے ھٹنا شروع کردیا ھے. اب وہ راہ فرار ڈھونڈ رھے ھیں لیکن اب تمام راھیں ان لٹیروں کے لئے مسدود ھوتی جارھی ھیں.

اب اس سیاھ رات کے جلد ڈھلنے کا وقت آیا ھی چاھتا ھے کہ افق کے اس پار روشنی کی کرنیں نمودار ھونا شروع ھوگئی ھیں ان کرنوں کو طاقت اورجلا دینے والے سچے اور باضمیر افراد کو عوام کی مسلسل اور غیرمشروط حمایت جاری رھنی چاھئے. میرا عوام کی طرف سے ان سب باضمیر اور سچے لوگوں کو سلام کہ سچ کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی اور جہل جھوٹ اور ظلم کی بنیادوں پر کوئی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی ، ان طاقتوں کو راہ فرار اختیار کرنی ھی پڑتی ھے اور سچ کا سورج طلوع ھوکر رھتا ھے​
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
مارچ کی ایک سیاہ رات جب پاکستان کے بالادست طبقے کے چند بیضمیر اور کرپٹ لوگوں نے بیضمیرگداگروں چوروں کو ملک پر مسلط کردیا تو ابتدائی تجزئے میں سمجھا گیا کہ یہ سیاہ رات پچھلی تین ملٹری ڈکٹیٹرز کی مسلط کردہ راتوں سے زیادہ طویل اور زیادہ گہری ھوگی. لیکن اگلے ھی دن عوامی ردعمل نے نکالے جانے والوں اور گداگروں اور ان کو لانے والوں کو بھی ششدر کرکے رکھ دیا
عوام کے اسی اچانک اور شدید ردعمل نے امید کی شمع روشن کردی. اس نومولود امید سے' اس سیاہ رات میں سچ کی چند کرنیں نکلنے لگیں اور ضمیر کی کونپلیں پھوٹنے لگیں. اسی امید نے معاشرے کے چند باضمیر اور سچ کہنے والےطبقات خصوصاً چند سیاستدان، چند وکیل، چند منصفین، چند رٹائرڈ فوجی افسران اور چند صحافی سچ پر ڈٹ گئے. سچ پر بغیر سمجھوتے پر ڈٹ جانے والی اقلیت جلد ھی اکثریت میں بدلنے لگی. کرنوں نے سورج کا روپ دھار لیا اور کونپلیں تناور درختوں میں تبدیل ھوگئیں. وہ گہری سیاہ رات جو کئی دھائیوں تک مسلط رہ سکتی تھی چند ھی مہینوں میں ان باظمیر اور سچ پر ڈٹ جانے والی اقلیت نے اپنی شبانہ روز جدوجہد اور قلم اور دلیل کی طاقت سے امید کی شمع جلادی ھے اور یہ سنگدل اور چور گداگر اور انکے بدبخت سہولت کاروں نے پیچھے ھٹنا شروع کردیا ھے. اب وہ راہ فرار ڈھونڈ رھے ھیں لیکن اب تمام راھیں ان لٹیروں کے لئے مسدود ھوتی جارھی ھیں.

اب اس سیاھ رات کے جلد ڈھلنے کا وقت آیا ھی چاھتا ھے کہ افق کے اس پار روشنی کی کرنیں نمودار ھونا شروع ھوگئی ھیں ان کرنوں کو طاقت اورجلا دینے والے سچے اور باضمیر افراد کو عوام کی مسلسل اور غیرمشروط حمایت جاری رھنی چاھئے. میرا عوام کی طرف سے ان سب باضمیر اور سچے لوگوں کو سلام کہ سچ کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی اور جہل جھوٹ اور ظلم کی بنیادوں پر کوئی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی ، ان طاقتوں کو راہ فرار اختیار کرنی ھی پڑتی ھے اور سچ کا سورج طلوع ھوکر رھتا ھے

برادر خلیل! ہزاروں برس کی انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تاریخ سے جو سبق سامنے آتا ہے وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ ہر سوئی ہوئی اور سرکش قوم کو جگانے کیلیے ایک بہادر، بااصول، ایماندار اور بردبار راہنما کی ضرورت رہی ہے . اسی ضمن میں الله ﷻ کی طرف سے ہر بھیجا جانے والا رسول اور نبی الله کے احکامات کو پہنچانے کیلیے بھیجا گیا تاکہ اسوقت کی سوئی ہوئی قوم جاگ سکے
رسولِ کائنات، امام الانبیاء جناب محمد الرسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم بھی اس دنیا میں لوگوں کو الله کا پیغام پہنچانے کے لیے تشریف لائے . الله ﷻ کی جانب سے سلسلہِ نبوت کے اختمام کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ کا احاطہ کریں تو ہر دور میں، ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ایسا لیڈر پیدا ہوا جس نے اپنی خواب غفلت میں گھری قوم کو جگایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم نے ترقی کی بے تحاشا منازل طے کیں
وطن عزیز کی چوہتر سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو قائد اعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر پیدا ہی نہ ہوا کہ قوم جاگتی . ثابت یہ ہوا کہ ایک درد دل رکھنے والے محب وطن لیڈر کا ہونا بہت ضروری ہی نہیں بلکہ کامیابی کی کنجی ہے . پہلے آپ یہ غزل پڑھیں اور پھر دل پر ہاتھ رکھکر اپنے آپ سے سوال کریں کہ اس وقت ملک میں جو بیداری کی لہر، جسکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، دیکھنے میں آ رہی ہے اسکے پیچھے کون ہے؟ یہ کیوں پیدا ہوئی؟ اور اسے پیدا ہونے میں اتنی دہائیاں کیوں لگیں؟؟؟

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون
راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر
تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون

مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیب
کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون

تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو جھٹلانا مگر
منہ میں رکھ کر لقمۂ تر سچ کو سچ کہتا تو کون

آدمی تو خیر سے بستی میں ملتے ہی نہ تھے
دیوتا تھے سو تھے پتھر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب حقیقت میں ابھرتا جب بھی سچ لگتا نہ تھا
خواب میں ہوتے اجاگر سچ کو سچ کہتا تو کون

یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔ
سوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کون


جی ہاں آپ ٹھیک پہنچے...... عمران خان کے بناء وطن عزیز میں اس معجزے کا وقوع پذیر ہونا ایک ناقابل تصور اور ناقابل یقین حقیقت تھا

اپنے اس ہیرے کی حفاظت کیجئیے اور اسے دو تہائی اکثریت دے کر دوبارہ ایوان میں پہنچایے تاکہ وہ اس بیدار ہو کر انگڑائی لیتی قوم کو مکمل جگا کر دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں کھڑا کر سکے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذر ا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

حکیم الامّت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں امید کی ایسی کرن کی مانند ہے جو پژمردہ اور یاسیت میں ڈوبے قلوب و اذہان کو حیاتِ نو کا پیغام دیتی ہے
 

khalilqureshi

Senator (1k+ posts)

برادر خلیل! ہزاروں برس کی انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تاریخ سے جو سبق سامنے آتا ہے وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ ہر سوئی ہوئی اور سرکش قوم کو جگانے کیلیے ایک بہادر، بااصول، ایماندار اور بردبار راہنما کی ضرورت رہی ہے . اسی ضمن میں الله ﷻ کی طرف سے ہر بھیجا جانے والا رسول اور نبی الله کے احکامات کو پہنچانے کیلیے بھیجا گیا تاکہ اسوقت کی سوئی ہوئی قوم جاگ سکے
رسولِ کائنات، امام الانبیاء جناب محمد الرسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم بھی اس دنیا میں لوگوں کو الله کا پیغام پہنچانے کے لیے تشریف لائے . الله ﷻ کی جانب سے سلسلہِ نبوت کے اختمام کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ کا احاطہ کریں تو ہر دور میں، ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ایسا لیڈر پیدا ہوا جس نے اپنی خواب غفلت میں گھری قوم کو جگایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم نے ترقی کی بے تحاشا منازل طے کیں
وطن عزیز کی چوہتر سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو قائد اعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر پیدا ہی نہ ہوا کہ قوم جاگتی . ثابت یہ ہوا کہ ایک درد دل رکھنے والے محب وطن لیڈر کا ہونا بہت ضروری ہی نہیں بلکہ کامیابی کی کنجی ہے . پہلے آپ یہ غزل پڑھیں اور پھر دل پر ہاتھ رکھکر اپنے آپ سے سوال کریں کہ اس وقت ملک میں جو بیداری کی لہر، جسکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، دیکھنے میں آ رہی ہے اسکے پیچھے کون ہے؟ یہ کیوں پیدا ہوئی؟ اور اسے پیدا ہونے میں اتنی دہائیاں کیوں لگیں؟؟؟

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون
راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر
تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون

مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیب
کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون

تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو جھٹلانا مگر
منہ میں رکھ کر لقمۂ تر سچ کو سچ کہتا تو کون

آدمی تو خیر سے بستی میں ملتے ہی نہ تھے
دیوتا تھے سو تھے پتھر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب حقیقت میں ابھرتا جب بھی سچ لگتا نہ تھا
خواب میں ہوتے اجاگر سچ کو سچ کہتا تو کون

یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔ
سوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کون


جی ہاں آپ ٹھیک پہنچے...... عمران خان کے بناء وطن عزیز میں اس معجزے کا وقوع پذیر ہونا ایک ناقابل تصور اور ناقابل یقین حقیقت تھا

اپنے اس ہیرے کی حفاظت کیجئیے اور اسے دو تہائی اکثریت دے کر دوبارہ ایوان میں پہنچایے تاکہ وہ اس بیدار ہو کر انگڑائی لیتی قوم کو مکمل جگا کر دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں کھڑا کر سکے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذر ا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

حکیم الامّت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں امید کی ایسی کرن کی مانند ہے جو پژمردہ اور یاسیت میں ڈوبے قلوب و اذہان کو حیاتِ نو کا پیغام دیتی ہے
Very well said. Agreed.
 

Sach Bolo

Senator (1k+ posts)
not gonna happen...... the power of a retired DG ISI is worth peanuts as compare to a in uniform Captain ......

PTI was betting on a mutiny against Army Chief and after 3 months have realized its not gonna happen......two more months, change of Army command and every thing will be back to square zero for Imran
 

Wadaich

Prime Minister (20k+ posts)
But this invitation also have two aspect. One is..China and Turkey wants to confirm the story of Neutrals side from listening PTI..Second..They were requested by Neutrals to force or influence IK for total cool down and just sit and wait..Due to IMF loan..FATF decision..


برادر خلیل! ہزاروں برس کی انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تاریخ سے جو سبق سامنے آتا ہے وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ ہر سوئی ہوئی اور سرکش قوم کو جگانے کیلیے ایک بہادر، بااصول، ایماندار اور بردبار راہنما کی ضرورت رہی ہے . اسی ضمن میں الله ﷻ کی طرف سے ہر بھیجا جانے والا رسول اور نبی الله کے احکامات کو پہنچانے کیلیے بھیجا گیا تاکہ اسوقت کی سوئی ہوئی قوم جاگ سکے
رسولِ کائنات، امام الانبیاء جناب محمد الرسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم بھی اس دنیا میں لوگوں کو الله کا پیغام پہنچانے کے لیے تشریف لائے . الله ﷻ کی جانب سے سلسلہِ نبوت کے اختمام کے بعد چودہ سو سال کی تاریخ کا احاطہ کریں تو ہر دور میں، ہر قوم میں کوئی نہ کوئی ایسا لیڈر پیدا ہوا جس نے اپنی خواب غفلت میں گھری قوم کو جگایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم نے ترقی کی بے تحاشا منازل طے کیں
وطن عزیز کی چوہتر سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو قائد اعظم کے بعد کوئی ایسا لیڈر پیدا ہی نہ ہوا کہ قوم جاگتی . ثابت یہ ہوا کہ ایک درد دل رکھنے والے محب وطن لیڈر کا ہونا بہت ضروری ہی نہیں بلکہ کامیابی کی کنجی ہے . پہلے آپ یہ غزل پڑھیں اور پھر دل پر ہاتھ رکھکر اپنے آپ سے سوال کریں کہ اس وقت ملک میں جو بیداری کی لہر، جسکا آپ نے تذکرہ کیا ہے، دیکھنے میں آ رہی ہے اسکے پیچھے کون ہے؟ یہ کیوں پیدا ہوئی؟ اور اسے پیدا ہونے میں اتنی دہائیاں کیوں لگیں؟؟؟

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون
راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر
تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون

مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیب
کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون

تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو جھٹلانا مگر
منہ میں رکھ کر لقمۂ تر سچ کو سچ کہتا تو کون

آدمی تو خیر سے بستی میں ملتے ہی نہ تھے
دیوتا تھے سو تھے پتھر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب حقیقت میں ابھرتا جب بھی سچ لگتا نہ تھا
خواب میں ہوتے اجاگر سچ کو سچ کہتا تو کون

یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔ
سوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کون


جی ہاں آپ ٹھیک پہنچے...... عمران خان کے بناء وطن عزیز میں اس معجزے کا وقوع پذیر ہونا ایک ناقابل تصور اور ناقابل یقین حقیقت تھا

اپنے اس ہیرے کی حفاظت کیجئیے اور اسے دو تہائی اکثریت دے کر دوبارہ ایوان میں پہنچایے تاکہ وہ اس بیدار ہو کر انگڑائی لیتی قوم کو مکمل جگا کر دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں کھڑا کر سکے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذر ا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

حکیم الامّت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں امید کی ایسی کرن کی مانند ہے جو پژمردہ اور یاسیت میں ڈوبے قلوب و اذہان کو حیاتِ نو کا پیغام دیتی ہے

Very well said. Agreed.
CDc1dDGUUAEiXn5