سپریم کورٹ:12 سال بعد سزائے کا فیصلہ کالعدم قرار،رہائی مل گئی


jalah1i12h21.jpg


سپریم کورٹ نے 12 سال بعد ایک قیدی کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے رہائی کے احکامات جاری کر دیئے,سپریم کورٹ نے حکم نامہ میں کہا مجرم محمد اعجاز پر 2010 میں شریک مجرمہ کے شوہر کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا,مقدمہ کے مطابق دونوں مجرموں کے درمیان ناجائز تعلقات تھے۔

فیصلے میں کہا گیا مدعی مقدمہ کے مطابق دونوں مجرمان مقتول کو الیکٹرک شاک دیتے پائے گئے تھے۔ مدعی مقدمہ نے رنگے ہاتھوں پکڑا تو مجرم محمد اعجاز نے فائرنگ شروع کر دی,محمد اعجازکی فائرنگ سے شریک مجرمہ کا شوہر جان کی بازی ہار گیا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا خودکشی کے کیس کو قتل قرار دیا گیا,دونوں مجرمان میں کسی کا ناجائز تعلق ثابت نہیں ہوا تھا,مقتول کو مدعی نے خاندانی وراثت سے حصہ نہیں دیا جس پر مقتول نے خودکشی کرلی,پراسیکیوٹر کے مطابق مدعی مقدمہ وقوعہ کا عینی شاہد ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا پراسیکیوٹر کے مطابق دونوں مجرمان مقتول کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ سپریم کورٹ نے ثبوتوں کا بغور جائزہ لیا۔ بیانات اور ثبوتوں میں تضادات پائے گئے,مدعی مقدمہ کے مطابق مقتول نے اسے مجرمان کے ناجائز تعلقات کا بتایا لیکن مدعی مقدمہ خود سے مجرمان کے ناجائز تعلقات کا عینی شاہد نہیں,بیانات میں تضاد ہے، مقتول نے اپنی اہلیہ اور محمد اعجازعرف بِلا کےخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا تھا۔

حکم نامے کے مطابق حیرت ہوئی کہ ماتحت عدلیہ نے بغیر کسی ثبوت کے ناجائز تعلقات قرار دے دیا۔ وقوعہ دن کی روشنی میں ہوا لیکن کسی نے مدعی مقدمہ کی کہانی کی حمایت نہیں کی,ریکارڈ کے مطابق مجرمہ اپنے شوہر کو خاندانی وراثت میں سے حصہ لینے کا دباؤ ڈالتی تھیں,سپریم کورٹ نےتمام ثبوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے محمد اعجازعرف بِلا اور نسیم اخترکو کیس سے بری کردیا۔