سپریم کورٹ فیصلے کی ٹائمنگ اور غداری کے مقدمات

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
اللہ ناکرے پاکستان میں سرا لنکا والے حالات ہوں
سنا ہے سرا لنکا میں آرمی چیف اور چند کرپٹ جرنیلو ں کو
جو کرپٹ فیملی کا ساتھ دے رہے تھے انہوں نے اس آرمی
چیف اور چند جرنیلوں کو مار مار کر کتے والی حالت کردی
جرنیلو ں اور وزیروں کو ننگا کرکے انکی تشریف پر لتر مار مار کر کتے
اور سور والی حالت کردی خاص طور پر آرمی چیف کی
کیونکہ وہ حرام زادہ خنزیر کا بچہ حرام کا نطفہ عوام کی امنگ کے خلاف
اپنے چند جرنیلوں کی مدد سے اس کرپٹ ٹبر کو بچانے کی حرام زدگی کررہا تھا لیکن
عوام نے چیف اور صرف
ان جرنیلوں کو مار مارکر سور بنا دیا جو کرپٹ ٹبر کو اپنی ماں کا خصم
بنا کر ان کو تحفظ دینے کی حرام زدگی اور ملک دشمنی کر ریے تھے۔
اس لئے پاکستان میں سرا لنکا والے حالات نہیں ہونے چاہیں
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
یہ آدمی یہاں غلط بیانی کر رہا ہے - ہماری عسکری قیادت کو بھی خط کا اس وقت پتا چلا جب خان صاحب نے پبلک میں اسے لہرایا - یہ بات بہت بار ہو چکی ہے - تحقیقات کے لئے سلامتی کمیٹی کا اجلاس حکومت نے بلانا تھا اور اس میں یہ خط پیش کیا جانا تھا مگر یہ اجلاس پبلک میں خان صاحب کے انکشاف کے بھد ہوا - خان صاحب کو خط سات مارچ کو ملا اگر اگلے ایک ہفتے میں یہ اجلاس بلا کر خود بھی تحقیقات کا حکم دیتے اور عسکری ادارے کو بھی کہتے تو اتنا دباؤ بن جاتا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جاتی مگر خان صاحب کو ان کی خود اعتمادی لے بیٹھی - انہوں نے سوچا میں بڑے آرام سے یہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنا دونگا اور اس خط کی ضرورت ہی نہیں رہے گی مگر تحریک عدم اعتماد کی یقینی کامیابی دیکھ کر آخری ہتھیار کے طور پر خط کو لایا - یہ آخری کی بجائے پہلے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تو کامیابی یقینی تھی
 

LNG

Politcal Worker (100+ posts)
جو دیا ہے وہ تھوڑا ہی بتائے گا
باہر آ کر تو یہی کہے گا زہر دے دیا

عمران ریاض کے ساتھ مکافاتِ عمل اتنی تیز رفتاری سے ہوگا کسی نے سوچا نہیں تھا

تھوڑے دن پہلے یہ اور سمع ابراہیم دونوں مطیع اللہ جان جیسے معزز اور خالص صحافی کا مذاق اڑا رہے تھے۔ کیمروں کے سامنے اس بیچارے کو کہتے تھے فوج میں اسکے ساتھ بدفعلی کی جاتی تھی وہ صبر اور بے بسی سے اشتعال میں آئے بغیر انکی تہمتیں برداشت کرتا رہا

اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ کچھ دنوں بعد چکوال تھانے میں اگلوں نے عمران ریاض کی ماری اور ویڈیو بھی بنا لی
دو دن پہلے سمیع ابراہیم کو سرِ بازار ہیجڑوں نے چھتر مارے​
 

BeggersForSale

MPA (400+ posts)
یہ آدمی یہاں غلط بیانی کر رہا ہے - ہماری عسکری قیادت کو بھی خط کا اس وقت پتا چلا جب خان صاحب نے پبلک میں اسے لہرایا - یہ بات بہت بار ہو چکی ہے - تحقیقات کے لئے سلامتی کمیٹی کا اجلاس حکومت نے بلانا تھا اور اس میں یہ خط پیش کیا جانا تھا مگر یہ اجلاس پبلک میں خان صاحب کے انکشاف کے بھد ہوا - خان صاحب کو خط سات مارچ کو ملا اگر اگلے ایک ہفتے میں یہ اجلاس بلا کر خود بھی تحقیقات کا حکم دیتے اور عسکری ادارے کو بھی کہتے تو اتنا دباؤ بن جاتا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جاتی مگر خان صاحب کو ان کی خود اعتمادی لے بیٹھی - انہوں نے سوچا میں بڑے آرام سے یہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنا دونگا اور اس خط کی ضرورت ہی نہیں رہے گی مگر تحریک عدم اعتماد کی یقینی کامیابی دیکھ کر آخری ہتھیار کے طور پر خط کو لایا - یہ آخری کی بجائے پہلے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تو کامیابی یقینی تھی
how come the establishment came to know about it after jalsa when the cipher is also sent to army and ISI chief at the same time? The thing is IK has already mentioned that initially cipher was also kept hidden from him and so he only knew about it late and when he discussed this with establishment then they suggest him to not discuss this while OIC conference is happening. Only after OIC conference when IK saw that nothing is being done by our agencies who are supposed to work against any foreign conspiracies only then he mentioned about this letter in public.
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
how come the establishment came to know about it after jalsa when the cipher is also sent to army and ISI chief at the same time? The thing is IK has already mentioned that initially cipher was also kept hidden from him and so he only knew about it late and when he discussed this with establishment then they suggest him to not discuss this while OIC conference is happening. Only after OIC conference when IK saw that nothing is being done by our agencies who are supposed to work against any foreign conspiracies only then he mentioned about this letter in public.
بھائی صاحب یہ سائیفر فورن آفس سے جس جس کو کاپی پراسیس کے مطابق جا سکتی تھی گئی لیکن اسے معمول کے مطابق کسی نے توجو ع نہیں کی کیونکے ایسے مراسلے روزانہ کی بنیاد پر کئی آتے ہیں اور کوئی پڑھتا بھی نہیں - اگر خان صاحب کو سات مارچ کو یہ مل گیا تھا تو آٹھ یا نو مارچ کو نیشنل سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلاتے اور ان کے کان بھی کھینچتے کہ آپ کو بھی ملا ہو گا آپ نے ایکشن کیوں نہیں لیا - یہ تو کوئی نہیں مان سکتا کہ جس کی حکومت جا رہی ہے وہ ایک مھینے تک سیکورٹی کمیٹی سمیت کسی کا اجلاس نہ بلائے اور جن کا اس محاملے سے برائے راست تحلق نہیں وہ شور مچائیں - فارن آفس نیشنل سیکورٹی کونسل سب وزیر اعظم کے ماتحت ہیں اگر وہ بغیر وزیر اعظم کی مرضی کے شور مچائیں تو وزیر اعظم کہہ سکتا ہے اس میں تو کچھ نہیں آپ ہمارے دوسرے ملکوں سے تحلقات خراب کر رہے ہیں - سپریم کورٹ بھی یہی کہتا ہے سات مارچ سے ستائیس مارچ خط جیب میں کیوں ڈال کر رکھا اور سپیکر کی رولنگ کیس میں خط ہی نہیں دکھایا گیا صرف اس کے متن کا کچھ حصہ انہیں کی زبانی بتایا گیا - سپریم کورٹ کہتا ہے آپ کو اپنی ابتدائی تحقیق ان دنوں میں کر کے اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانی چاہئے تھی کہ واقعی یہ مسلہ ہے اب اس پر کمیشن بنائیں -کمیشن بھی انہیں دنوں میں حکومت نے بنانا تھا کیونکے سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے سپریم کورٹ حکومت کی اس میں مدد کر سکتا ہے کوئی جے آئی ٹی بنا سکتا ہے مگر کمیشن بنانا حکومت نے ہی ہوتا ہے سپریم کورٹ کو آئین کے تحت یہ اختیار ہی نہیں ہے خود سے کمیشن بنانے کا - کہتے ہیں سابقہ چیف سیکٹری اور خان صاحب کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں خان صاحب کہتے ہیں سب اتحادی جا چکے اب تو یہ سائیفر ہی رہ گیا ہے چلو اسے ہی لے آتے ہیں - یہ لیک آنے والے دنوں میں پبلک ہو سکتی ہے