سپریم کورٹ تاریخ ساز اور جرات مندانہ فیصل&#172

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)

syedmunawarhasan-li-ping33.gif



یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ایک تاریخ ساز اور جرأت مندانہ فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم توسپریم کورٹ کے 26اپریل کے فیصلے کے وقت ہی نااہل ہوگئے تھے مگر اپنی ہٹ دھرمی، پیپلز پارٹی اوراس کی اتحادی جماعتوں کی عدالتی فیصلوں کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دینے کی وجہ سے وہ زبر دستی اس عہدے پر براجمان رہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور کابینہ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر قانونی قرار دینے سے ملک و قوم کو جس آئینی بحران کا سامنا ہے پیپلز پارٹی 26اپریل کے فیصلے کو تسلیم کرلیتی تو اس سے بچا جاسکتا تھا ۔
سیدمنور حسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پوری تاریخ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی توہین کی اور عدلیہ سے تصادم کی روش اپنائے رکھی ،موجودہ دور حکومت نے سپریم کورٹ کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھی اور اس کے فیصلوں پر عمل در آمد نہیں کیا گیا اور جان بوجھ کران فیصلوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد اور حق حکمرانی کھو چکی ہے وہ عوام کو ڈلیور کرنے اور اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور ملک وقوم کو بھی ا س نے شدید بحرانوں سے دوچارکیاہے ۔زرداری نیا وزیر اعظم نامزد کرنے کے ساتھ عام انتخابات کا اعلان کریں اور ایک متفقہ عبوری حکومت کی نگرانی میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے انعقاد کویقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس تاریخ ساز فیصلے سے عدلیہ نے اپنے وجود کو تسلیم کروایا ہے اور امید ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی کیلئے اپنا جرأت مندانہ کردار جاری رکھے گی