سوئس بینک میں پاکستانیوں کے ایک ارب ڈالر

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
150209021745_cn_hsbc_union_jack_624x351_reuters.jpg

سنہ 2007 سات میں ایچ ایس بی سی سے چوری کیے جانے والے دستاویزات میں ایک لاکھ سے بھی زائد اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام ہیں

صحافیوں کی ایک عالمی ٹیم کی تحقیق کے مطابق ایچ ایس بی سی کے سوئٹزرلینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک کے لیک ہونے والے اکاونٹس میں پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ڈالر اکاؤنٹ رکھنے والے ممالک میں 48ویں نمبر پر آیا ہے۔

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس کی رپورٹ سوئس لیکس میں پاکستان سے تقریباً پچاسی کروڑ دس لاکھ ڈالر ایچ ایس بی سی کی سوئس بینک میں رکھے گئے تھے۔

یہ اعداد و شمار سنہ 1988 سے لے کر 2006 تک کا جائزہ کر رہے ہیں۔سوئس لیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے منسلک اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ رقم تیرہ کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی ہے جس کے کھاتہ دار کی شناخت ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 1970 اور 2006 کے درمیان پاکستان سے منسلک بینک اکاؤنٹس رکھنے والے 648 کھاتہ داروں نے ایچ ایس بی سی سوئس بینک میں 314 اکاؤنٹس کھلوائے۔ ان میں سے 34 فیصد کھاتہ دار پاکستانی قومیت رکھتے ہیں۔

بی بی سی کو حاصل شدہ معلومات کے مطابق ایچ ایس بی سی کے سوئٹزرلینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک نے دنیا کے کئی اہم سیاستدانوں، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیتوں اور مجرموں کو ان کے ممالک کی حکومتوں سے ٹیکس بچانے یا پھر ٹیکس کی چوری کرنے میں مدد کی تھی۔

150209123704_pakistan_swiss_leaks_624x351_icij_nocredit.jpg

ایچ ایس بی سی سوس بینک: پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ڈالر اکاؤنٹ رکھنے والے ممالک میں 48 پر آیا ہے

بی بی سی اور بین الاقوامی میڈیا کے بعض اداروں کو سنہ 2007 میں لیک کی جانے والی دستاویزات کے مطابق
بینک نے اپنے بہت سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ٹیکس کی چوری میں مدد کی ہے۔

ایچ ایس بی سی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے بینک کی خفیہ سروسز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر اعلانیہ اکاؤنٹ کھولے تھے۔تاہم بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اب ااکاؤنٹس کھولنے کی شرائط میں تبدیلیاں کی ہیں اور سنہ 2007 کے بعد سے اس نے سوئٹزرلینڈ کے اس قسم کے اکاؤنٹ میں 70 فی صد کی کمی کی ہے۔

واضح رہے کہ ان بین الاقوامی میڈیا اداروں میں بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس بھی شامل ہے جس نے کئی ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام شائع کیے ہیں۔ ان میں سیاست دانوں کے علاوہ بڑے صنعت کاروں کے ساتھ این آر آئي اور ہیرے کے بعض بڑے تاجروں کے نام بھی شامل ہیں۔

http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150209_pakistan_hsbc_ak

 
Last edited:

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
Re: http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150209_pakistan_hsbc_ak

معاشی دہشت گردوں کے چیلے ابھی بھی مسجد مدرسے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی بات کریں گے. معاشی دہشت گرد اچھے دہشت گرد جو ٹھرے
 
Last edited:

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
?????? ???? ?? ?????????? ?? ????? ??? ????? ? ???. ????? ???? ?? ???? ???????? ?? ???? ?? ?? ???? ??? ?? ???? ??? ?????? ?????? ???? ??? ??? ?? ???? ???

 

ranaji

President (40k+ posts)
13 crore saqoo dakoo tandoorchi aur Munshi ki haraam karion ki kamai hai isko ulta tango sabb kuchh bakk daigaa
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
دو ارب ڈالر تو اسحٰق دار خود مانا تھا اسمبلی میں
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
Re: http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150209_pakistan_hsbc_ak

معاشی دہشت گردوں کے چیلے ابھی بھی مسجد مدرسے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی بات کریں گے. معاشی دہشت گردی اچھے دہشت گرد جو ٹھرے

تم بھی مفت میں بندے نہی مارتے
اب یہ علیحدہ بات ہے کہ تم صرف حلوے پر بک جاؤ اور تمہارا اکائونٹ خالی ہو
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
Re: http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150209_pakistan_hsbc_ak


تم بھی مفت میں بندے نہی مارتے
اب یہ علیحدہ بات ہے کہ تم صرف حلوے پر بک جاؤ اور تمہارا اکائونٹ خالی ہو
بھرتیاں تم کرتے ہو. ممبر سازی کی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہو. اس میں زیادہ کمائی نہیں ہوتی؟
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد کیسے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ان افراد میں کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔
یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بےداغ طریقے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔
دستاویزات میں دنیا کے 72 حالیہ یا سابقہ سربراہانِ مملکت، بشمول آمروں، کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا الزام ہے۔
پاناما پیپرز، جس کی بنیاد پر یہ انکشاف ہوا ہے، اس نے پاور پلیئرز کے عنوان کے تحت دنیا کے کئی اہم لوگوں کی فہرست دی ہے، اور اس فہرست میں نواز شریف کے تین بچوں کا بھی ذکر ہے۔
٭سوئس بینک میں پاکستانیوں کے تقریباً ایک ارب ڈالرآئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیرارڈ رائل کہتے ہیں کہ یہ دستاویزات پچھلے 40 برسوں میں موساک فونسیکا کی روزمرہ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا: میرے خیال سے یہ انکشافات آف شور دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوں گے۔
اس ڈیٹا میں ان خفیہ آف شور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد کے خاندانوں اور ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔
موساک فونسیکا کیسے کام کرتی تھی


  • پاناما میں قائم قانونی ادارے موساک فونسیکا کے پاس موجود ایک کروڑ سے زائد دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔ بی بی سی پینوراما 78 ملکوں کے ان 107 میڈیا اداروں میں شامل ہے جو ان دستاویزات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
  • بی بی سی کو ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔
  • ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمپنی کیسے اپنے گاہکوں کا کالا دھن سفید کرنے، پابندیوں سے بچنے اور ٹیکس چوری کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔
  • موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں تک بےداغ طریقے سے کام کرتی رہی ہے، اور ان پر کبھی کسی قسم کا مجرمانہ الزام نہیں لگا۔

اس کے علاوہ اس میں ایک ارب ڈالر پر مشتمل کالا دھن سفید کرنے والے ایک گروہ کا بھی ذکر ہے جسے ایک روسی بینک چلاتا ہے اور جس کے روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ دولت کی ترسیل آف شور کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جن میں سے دو کے سرکاری طور پر مالک روسی صدر کے قریبی دوست تھے۔
موسیقار سرگے رولدوگن لڑکپن سے روسی صدر کے ساتھی ہیں اور وہ پوتن کی بیٹی ماریا کے سرپرست (گاڈ فادر) بھی ہیں۔
کاغذوں میں رولدوگن نے مشتبہ سودوں میں کروڑوں ڈالر کمائے ہیں۔ لیکن ان کی کمپنیوں کی دستاویزات کے مطابق: یہ کمپنی ایک پردہ ہے جس کے قیام کا مقصد اس کے اصل مالک کی شناخت چھپانا ہے۔
کمپنی کا موقف

موساک فونسیکا کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن احتیاط سے کام کرتی ہے اور اگر اس کی خدمات کا غلط استعمال ہوا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔
اگر ہمیں کسی مشکوک سرگرمی یا بدمعاملگی کا پتہ چلا تو ہم فوراً اسے حکام کے علم میں لاتے ہیں۔ اسی طرح جب حکام ہمارے پاس کسی قسم کی بدمعاملگی کے شواہد لاتے ہیں تو ہم ہمیشہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔
موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ آف شور کمپنیاں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اور انھیں کئی جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔



کہانی کو شیئر کریں شیئرنگ کے بارے میں

http://www.bbc.com/urdu/world/2016/04/160403_tax_havens_leak_zis
 

MashraQi Larka

Minister (2k+ posts)
ایک ارب ڈالر تو بہت تھوڑے ہیں۔ صِرف مشرف نے ہی وار آن ٹیرر میں 32 ارب ڈالر بنا لئے تھے۔
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)
ایک ارب ڈالر تو بہت تھوڑے ہیں۔ صِرف مشرف نے ہی وار آن ٹیرر میں 32 ارب ڈالر بنا لئے تھے۔


وار ان ٹیرر میں جس طرح روپوں کی ریل پیل ہوئی تھی ، سول / ملٹری اسٹیبلیشمنٹ سے سنبھالے نا سنبھلتی تھی

اس کاروباری جنگ کا پہلا اور فوری بینیفشری ملک ریاض / بحریہ ٹاؤن تھا ، بہت سے خاکی و غیر خاکی ، دن رات کی کمائی اکٹھی کرتے ، ملک صاحب کی طرف جھونک دیتے ، اتنا گھمسان کا رن پڑا ، کہ ؟ حساس و زمہ دار اداروں کے چند لوگ روز حاضری لگوا کر ، رئیل سٹیٹ سے متعلق ہاوسز میں روز پہنچ جاتے ، سارا دن خرید ہوتی ، کبھی کبھی معمولی سی فروخت ، شام کو جرنیل صاحب کو رپورٹ پیش ہوتی ، سر ! مال بہترین ٹھکانے لگا ، مطمئن رہیں ، اب دن دوگنی رات چوگنی بڑھتا رہے گا ، اس کے علاوہ ، بھی راولپنڈی اسلام آباد کے نواح میں بڑے بڑے رقبوں / فارم ہاؤسز پر بھی دھڑا دھڑ ہاتھ پڑے ، بس یہ سمجھیں ؟ ایک ادارہ صرف اور صرف سرمایہ کار کمپنی بن چکا تھا
 

Porus

MPA (400+ posts)


وار ان ٹیرر میں جس طرح روپوں کی ریل پیل ہوئی تھی ، سول / ملٹری اسٹیبلیشمنٹ سے سنبھالے نا سنبھلتی تھی

اس کاروباری جنگ کا پہلا اور فوری بینیفشری ملک ریاض / بحریہ ٹاؤن تھا ، بہت سے خاکی و غیر خاکی ، دن رات کی کمائی اکٹھی کرتے ، ملک صاحب کی طرف جھونک دیتے ، اتنا گھمسان کا رن پڑا ، کہ ؟ حساس و زمہ دار اداروں کے چند لوگ روز حاضری لگوا کر ، رئیل سٹیٹ سے متعلق ہاوسز میں روز پہنچ جاتے ، سارا دن خرید ہوتی ، کبھی کبھی معمولی سی فروخت ، شام کو جرنیل صاحب کو رپورٹ پیش ہوتی ، سر ! مال بہترین ٹھکانے لگا ، مطمئن رہیں ، اب دن دوگنی رات چوگنی بڑھتا رہے گا ، اس کے علاوہ ، بھی راولپنڈی اسلام آباد کے نواح میں بڑے بڑے رقبوں / فارم ہاؤسز پر بھی دھڑا دھڑ ہاتھ پڑے ، بس یہ سمجھیں ؟ ایک ادارہ صرف اور صرف سرمایہ کار کمپنی بن چکا تھا


تھا ؟ تو آپ سمجھتے ہیں تبدیلی آ چکی ہے؟
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)

تھا ؟ تو آپ سمجھتے ہیں تبدیلی آ چکی ہے؟


سابقہ مراسلہ ہے تھا اسی لیے "تھا" ہے


حالیہ ؟ چند ماہ پہلے جنرل راحیل شریف کا پہلا کاروباری "وکٹم" بھی ملک ریاض تھا

ملک صاحب نے ، ڈی ایچ اے کے کرتا دھرتا جرنیلوں کو ساتھ ملا کر ، ڈی ایچ اے ویلی میں بہت بڑا گھپلا کیا ، اور مطمئن بیٹھا رہا ، وجہ ؟ ملک صاحب کے دفتر میں جائیں تو ، ملک ریاض صاحب فخریہ پوچھتے تھے ؟ کرنل کے ہاتھ کی چاے پئیں گے ، یا جرنیل صاحب سے ؟ پہلا وار ہی بہت سوں کو عاجز و مسکین بنا دیتا ، اسی کار گزاری اور میل ملاپ کی وجہ سے ملک صاحب پر ہاتھ ڈالنا یا پوچھ گچھ کرنا ناممکن تھا ، پھر ہوا یوں ؟ جی ایچ کیو میں ایک تقریب میں ، ایک فوجی کی بیوہ نے پلاٹ کی فائل واپس کی ، بہت بہت شکریہ ، ہمیں یہ کاغذ نا دیا کریں ، انکار کر دیا کریں ، شہداء سے مخول نا کیا کریں ، آرمی چیف کے لیے ، اتنا ہی تبصرہ کافی تھا ، فوری ایک کرنیل صاحب کو سمجھا دیا گیا ، یہ مسلہ خود دیکھو اور انجام تک پہنچاؤ ، ایکشن شروع ہو گیا

ملک صاحب ، سے رابطہ ہوا ، ملک صاحب نے کرنل صاحب صاحب کو پہلی ملاقات میں ، پرانا سا جواب دے دیا ، چھوڑیں کرنل صاحب ، یہ معاملات چلتے رہتے ہیں ، آپ (اپنا) کام بتائیں ، بندہ تابعدار ، حاضر ہے ، لیکن کرنیل صاحب کام نہیں بتا سکتے تھے ، کیوں کہ ڈیڈ لائن ، چند گھنٹوں کی تھی ، نتیجہ ، ہاوسنگ سوسائٹی میں فوری کام شروع ہوا ، ہنگامی بنیادوں پر ملک صاحب نے پیسے پورے کئیے ،

سوال یہ ہے ؟ رئیل سٹیٹ سے متعلق ، اس کالے دھندے میں موجود ، کھربوں روپوں کی مزید "پروٹیکٹڈ" کرپشن ، پر ہاتھ کون رکھے گا ، ہر کوئی راحیل شریف یا نواز شریف کے قریب تو نہیں ہوتا ،

(bigsmile)نہیں تبدیلی ہنوز دور است ، تبدیلی ابھی دور ، بہت دور ہے
 
Sponsored Link