سر عام پھانسیوں کی شوقین قوم

Baadshaah

MPA (400+ posts)
پاکستان میں کوئی بھی جرم ہو، قوم کی طرف سے بس ایک ہی بات کی گونج سنائی دیتی ہے، جی سرعام پھانسی دو، سرعام کوڑے مارو، سرعام سنگسار کرو، سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ پاکستانی عوام کے یہ مطالبات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ اندر سے یہ قوم کس قدر جنگلی ہے۔ سب کو بڑا شوق ہے سرعام پھانسیاں دیکھنے کا۔ جنگلی طالبان نے نہ جانے کس وجہ سے دو افراد کو سرعام پھانسی دے کر ان کی لاشیں چوک پر لٹکادیں، پاکستانی قوم نے واہ واہ کرکے آسمان سر پر اٹھا لیا، دیکھیں جی یہ ہوتا ہے انصاف، اسے کہتے ہیں سپیڈی جسٹس، پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا جائے تو پل بھر میں سارے جرائم رک جائیں گے۔

چونکہ ہماری قوم کا پڑھنے لکھنے سے کوئی تعلق نہیں اور ننانوے فیصد پاکستانیوں نے سکول کی نصابی کتابوں کے علاوہ اور کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی، یا پڑھی بھی ہوتی ہے تو کسی لونڈے باز مولوی مفتی یا شیخ الحدیث کی لکھی ہوئی کوئی فرسودہ کتاب پڑھی ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں یہ علم نہیں کہ سرعام سزائیں کبھی بھی جرم کو نہیں روکتیں۔ بلکہ سرعام سزائیں معاشرے میں تشدد اور بے حسی کو فروغ دیتی ہیں، لوگوں کے لئے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ کسی بھی انسان کو قتل کرنا، ایک عام سی بات بن جاتا ہے۔ یہ تو ہوگئی نظری بات۔ اب پریکٹیکل بات کرتے ہیں۔

یہ جو پاکستانی عوام جنگلی طالبان کے "انصاف" کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اور ان کے جنگلی نظام کو دنیا کا اعلیٰ ترین نظام قرار دیتے ہیں۔ کتنے پاکستانی ہیں جو ان جنگلی طالبان کے قائم کئے گئے نظام سے مستفید ہونے کیلئے افغانستان جانا پسند کرتے ہیں؟ نائن الیون سے پہلے ملا عمر کی قیادت میں جنگلی طالبان افغانستان میں صدیوں پرانا فرسودہ نظام قائم کرکے بیٹھ گئے تھے، لوگوں کے ہاتھ کاٹتے تھے، عورتوں کو کوڑے مارتے تھے، سنگسار کرتے تھے اور پاکستان میں طالبان کے اس جنگلی نظام کے حق میں کالم لکھے جاتے تھے، پاکستانی عوام مثالیں دیتے تھے کہ دیکھو جو طالبان نے وہاں اسلامی نظام قائم کررکھا ہے۔ میرا سوال ہے اس دور میں کتنے پاکستانی اس حیوانی نظام سے مستفید ہونے کیلئے پاکستان سے افغانستان منتقل ہوئے؟۔ دوسری طرف یہی قوم جو امریکہ اور یورپ کو گالیاں دیتی ہے، یہ لاکھوں کی تعداد میں امریکہ اور یورپ میں جا کر رہتے ہیں، آج بھی پاکستانی قوم مرتی ہے وہاں جانے کیلئے۔ ہر سال نہ جانے کتنے ہی پاکستانی کشتیوں میں بذریعہ یونان یورپ میں انٹری لینے کی خواہش دل میں لئے ڈوب کر مرجاتے ہیں۔ سمندر میں ڈوب کر مرجاتے ہیں، مگر کبھی شرم کے پانی میں ڈوب کر نہیں مرے، ارے بھائی تم لوگ جاؤ نا افغانستان۔ اب تو طالبان وہاں پھر سے اسلامی نظام قائم کرکے جنگلی قسم کی سزائیں نافذ کرنے والے ہیں، تو کتنے پاکستانیوں کا پروگرام ہے طالبان کے افغانستان میں جانے کا؟۔۔

آپ کو ایک بھی پاکستانی نہیں ملے گا جو افغانستان جانا چاہے گا۔ یہ فرق ہے عمل اور قول میں۔ جب آپ فکری طور پر چودہ صدیوں پرانے نظریات میں جکڑے ہوں اور رہ رہے ہوں اکیسیویں صدی میں تو قول اور فعل میں ایسا ہی زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور پھر ایسی ہی منافق قوم تشکیل پاتی ہے جو تعریف افغانستان اور جنگلی طالبان کی کرتی ہے مگر رہنا یورپ میں چاہتی ہے۔۔


 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
لبرلز کی حالت خراب ہے کے اب ہم جنس پرستی، بچوں کا اغواء زیادتی کو سرے عام لٹکایا جائے گا۔
پھانسی افغانستان میں دی ہے روح یھاں لبرلز کی بری حالت میں ہے۔
 

Diesel

Chief Minister (5k+ posts)
sar e am pansi dena criminals ke liye open warning hai Ke sodar jao Nai to kal ko tomari lash bi sar e am latki hogi.. is ke ilawa speedy justice.. is mulk mei sirf fard e juram lagne mei decades of decades lag jate hai.. To insaf kahan milna..
 

Kavalier

Chief Minister (5k+ posts)
Whenever you are ready and packed all ur panties. ??
It is not me, but you who are fond of Afghan and Talban and their system. Why not move there and live a peaceful life instead of complaining everyday in Pakistan. I am totally against them, I consider them a puppet of US and Saudi and they are exactly the carbon copy of Daeesh. Same script, same execution and might even be same result.
 

khan_11

Minister (2k+ posts)
اوہ مسٹر اگر جرم کرنے والے کو عبرت ناک سزا نہ دی جائے تو جرم کرنے والے زیادہ شیر بن کر وہی جرم بار بار کرتے ہیں کیونکہ ہماری عدلیہ میں قیوم ملک،قاضی عیسی ارشد ملک اور جعفر نقوی جیسے ہزاروں انصاف کے دلال چند ٹکوں کیلئے انصاف بیچتے ہیں
 

Sn Sunny

Chief Minister (5k+ posts)
Taliban agar itnay aqal mand hotay to 70000 logo ke bejai Nawaz aur zardari jaisay logo ko martay Jin ke waja say American ko aday milay Thay
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
It is not me, but you who are fond of Afghan and Talban and their system. Why not move there and live a peaceful life instead of complaining everyday in Pakistan. I am totally against them, I consider them a puppet of US and Saudi and they are exactly the carbon copy of Daeesh. Same script, same execution and might even be same result.
You're afraid to face reality. You only dont like them because your are a biased and most probably a Khatmal.
 

Tit4Tat

Minister (2k+ posts)
پاکستان میں کوئی بھی جرم ہو، قوم کی طرف سے بس ایک ہی بات کی گونج سنائی دیتی ہے، جی سرعام پھانسی دو، سرعام کوڑے مارو، سرعام سنگسار کرو، سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ پاکستانی عوام کے یہ مطالبات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ اندر سے یہ قوم کس قدر جنگلی ہے۔ سب کو بڑا شوق ہے سرعام پھانسیاں دیکھنے کا۔ جنگلی طالبان نے نہ جانے کس وجہ سے دو افراد کو سرعام پھانسی دے کر ان کی لاشیں چوک پر لٹکادیں، پاکستانی قوم نے واہ واہ کرکے آسمان سر پر اٹھا لیا، دیکھیں جی یہ ہوتا ہے انصاف، اسے کہتے ہیں سپیڈی جسٹس، پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا جائے تو پل بھر میں سارے جرائم رک جائیں گے۔

چونکہ ہماری قوم کا پڑھنے لکھنے سے کوئی تعلق نہیں اور ننانوے فیصد پاکستانیوں نے سکول کی نصابی کتابوں کے علاوہ اور کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی، یا پڑھی بھی ہوتی ہے تو کسی لونڈے باز مولوی مفتی یا شیخ الحدیث کی لکھی ہوئی کوئی فرسودہ کتاب پڑھی ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں یہ علم نہیں کہ سرعام سزائیں کبھی بھی جرم کو نہیں روکتیں۔ بلکہ سرعام سزائیں معاشرے میں تشدد اور بے حسی کو فروغ دیتی ہیں، لوگوں کے لئے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ کسی بھی انسان کو قتل کرنا، ایک عام سی بات بن جاتا ہے۔ یہ تو ہوگئی نظری بات۔ اب پریکٹیکل بات کرتے ہیں۔

یہ جو پاکستانی عوام جنگلی طالبان کے "انصاف" کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اور ان کے جنگلی نظام کو دنیا کا اعلیٰ ترین نظام قرار دیتے ہیں۔ کتنے پاکستانی ہیں جو ان جنگلی طالبان کے قائم کئے گئے نظام سے مستفید ہونے کیلئے افغانستان جانا پسند کرتے ہیں؟ نائن الیون سے پہلے ملا عمر کی قیادت میں جنگلی طالبان افغانستان میں صدیوں پرانا فرسودہ نظام قائم کرکے بیٹھ گئے تھے، لوگوں کے ہاتھ کاٹتے تھے، عورتوں کو کوڑے مارتے تھے، سنگسار کرتے تھے اور پاکستان میں طالبان کے اس جنگلی نظام کے حق میں کالم لکھے جاتے تھے، پاکستانی عوام مثالیں دیتے تھے کہ دیکھو جو طالبان نے وہاں اسلامی نظام قائم کررکھا ہے۔ میرا سوال ہے اس دور میں کتنے پاکستانی اس حیوانی نظام سے مستفید ہونے کیلئے پاکستان سے افغانستان منتقل ہوئے؟۔ دوسری طرف یہی قوم جو امریکہ اور یورپ کو گالیاں دیتی ہے، یہ لاکھوں کی تعداد میں امریکہ اور یورپ میں جا کر رہتے ہیں، آج بھی پاکستانی قوم مرتی ہے وہاں جانے کیلئے۔ ہر سال نہ جانے کتنے ہی پاکستانی کشتیوں میں بذریعہ یونان یورپ میں انٹری لینے کی خواہش دل میں لئے ڈوب کر مرجاتے ہیں۔ سمندر میں ڈوب کر مرجاتے ہیں، مگر کبھی شرم کے پانی میں ڈوب کر نہیں مرے، ارے بھائی تم لوگ جاؤ نا افغانستان۔ اب تو طالبان وہاں پھر سے اسلامی نظام قائم کرکے جنگلی قسم کی سزائیں نافذ کرنے والے ہیں، تو کتنے پاکستانیوں کا پروگرام ہے طالبان کے افغانستان میں جانے کا؟۔۔

آپ کو ایک بھی پاکستانی نہیں ملے گا جو افغانستان جانا چاہے گا۔ یہ فرق ہے عمل اور قول میں۔ جب آپ فکری طور پر چودہ صدیوں پرانے نظریات میں جکڑے ہوں اور رہ رہے ہوں اکیسیویں صدی میں تو قول اور فعل میں ایسا ہی زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور پھر ایسی ہی منافق قوم تشکیل پاتی ہے جو تعریف افغانستان اور جنگلی طالبان کی کرتی ہے مگر رہنا یورپ میں چاہتی ہے۔۔



we are hypocrites.
 

Tit4Tat

Minister (2k+ posts)
sar e am pansi dena criminals ke liye open warning hai Ke sodar jao Nai to kal ko tomari lash bi sar e am latki hogi.. is ke ilawa speedy justice.. is mulk mei sirf fard e juram lagne mei decades of decades lag jate hai.. To insaf kahan milna..
kya guarantee hay kay sar e am phansi ku future criminal dekh raha hu ga?
 

Kavalier

Chief Minister (5k+ posts)
You're afraid to face reality. You only dont like them because your are a biased and most probably a Khatmal.
What reality? I am facing the reality and telling you that what Afghanistan is going through right now is not humane and part of a greater game in the region. You are the one who is fond of them and want the same in Pakistan, why bring them in Pakistan, why not go there and join them.

It is not me fearing them , it is in fact you and other people like you who keep advocating them but do not want to go there. You most probably are also not in Pakistan, might be sitting in EU or Canada and telling what is good for Pakistan and what not. I am biased, and I am biased for the people of Pakistan , whereas you are biased for Talban and against the people of Pakistan.
 

CANSUK

Chief Minister (5k+ posts)
طالبان افغان باشندے ہيں اور افغانستان کے زيادہ حصے پر قابض ہيں اور باقی پر بھی قابض ہو جائيں گے ۔ سمجھ سے باہر ہے کے لوگوں کی طالبان سے يہاں کيوں پھٹی پڑی ہے ۔
 

aqibarain

Minister (2k+ posts)
پاکستان میں کوئی بھی جرم ہو، قوم کی طرف سے بس ایک ہی بات کی گونج سنائی دیتی ہے، جی سرعام پھانسی دو، سرعام کوڑے مارو، سرعام سنگسار کرو، سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ پاکستانی عوام کے یہ مطالبات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ اندر سے یہ قوم کس قدر جنگلی ہے۔ سب کو بڑا شوق ہے سرعام پھانسیاں دیکھنے کا۔ جنگلی طالبان نے نہ جانے کس وجہ سے دو افراد کو سرعام پھانسی دے کر ان کی لاشیں چوک پر لٹکادیں، پاکستانی قوم نے واہ واہ کرکے آسمان سر پر اٹھا لیا، دیکھیں جی یہ ہوتا ہے انصاف، اسے کہتے ہیں سپیڈی جسٹس، پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا جائے تو پل بھر میں سارے جرائم رک جائیں گے۔

چونکہ ہماری قوم کا پڑھنے لکھنے سے کوئی تعلق نہیں اور ننانوے فیصد پاکستانیوں نے سکول کی نصابی کتابوں کے علاوہ اور کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی، یا پڑھی بھی ہوتی ہے تو کسی لونڈے باز مولوی مفتی یا شیخ الحدیث کی لکھی ہوئی کوئی فرسودہ کتاب پڑھی ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں یہ علم نہیں کہ سرعام سزائیں کبھی بھی جرم کو نہیں روکتیں۔ بلکہ سرعام سزائیں معاشرے میں تشدد اور بے حسی کو فروغ دیتی ہیں، لوگوں کے لئے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ کسی بھی انسان کو قتل کرنا، ایک عام سی بات بن جاتا ہے۔ یہ تو ہوگئی نظری بات۔ اب پریکٹیکل بات کرتے ہیں۔

یہ جو پاکستانی عوام جنگلی طالبان کے "انصاف" کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اور ان کے جنگلی نظام کو دنیا کا اعلیٰ ترین نظام قرار دیتے ہیں۔ کتنے پاکستانی ہیں جو ان جنگلی طالبان کے قائم کئے گئے نظام سے مستفید ہونے کیلئے افغانستان جانا پسند کرتے ہیں؟ نائن الیون سے پہلے ملا عمر کی قیادت میں جنگلی طالبان افغانستان میں صدیوں پرانا فرسودہ نظام قائم کرکے بیٹھ گئے تھے، لوگوں کے ہاتھ کاٹتے تھے، عورتوں کو کوڑے مارتے تھے، سنگسار کرتے تھے اور پاکستان میں طالبان کے اس جنگلی نظام کے حق میں کالم لکھے جاتے تھے، پاکستانی عوام مثالیں دیتے تھے کہ دیکھو جو طالبان نے وہاں اسلامی نظام قائم کررکھا ہے۔ میرا سوال ہے اس دور میں کتنے پاکستانی اس حیوانی نظام سے مستفید ہونے کیلئے پاکستان سے افغانستان منتقل ہوئے؟۔ دوسری طرف یہی قوم جو امریکہ اور یورپ کو گالیاں دیتی ہے، یہ لاکھوں کی تعداد میں امریکہ اور یورپ میں جا کر رہتے ہیں، آج بھی پاکستانی قوم مرتی ہے وہاں جانے کیلئے۔ ہر سال نہ جانے کتنے ہی پاکستانی کشتیوں میں بذریعہ یونان یورپ میں انٹری لینے کی خواہش دل میں لئے ڈوب کر مرجاتے ہیں۔ سمندر میں ڈوب کر مرجاتے ہیں، مگر کبھی شرم کے پانی میں ڈوب کر نہیں مرے، ارے بھائی تم لوگ جاؤ نا افغانستان۔ اب تو طالبان وہاں پھر سے اسلامی نظام قائم کرکے جنگلی قسم کی سزائیں نافذ کرنے والے ہیں، تو کتنے پاکستانیوں کا پروگرام ہے طالبان کے افغانستان میں جانے کا؟۔۔

آپ کو ایک بھی پاکستانی نہیں ملے گا جو افغانستان جانا چاہے گا۔ یہ فرق ہے عمل اور قول میں۔ جب آپ فکری طور پر چودہ صدیوں پرانے نظریات میں جکڑے ہوں اور رہ رہے ہوں اکیسیویں صدی میں تو قول اور فعل میں ایسا ہی زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور پھر ایسی ہی منافق قوم تشکیل پاتی ہے جو تعریف افغانستان اور جنگلی طالبان کی کرتی ہے مگر رہنا یورپ میں چاہتی ہے۔۔




iss aadmi ki sar e aam buuund maro... yah bohat kush ho ga...
 

Diesel

Chief Minister (5k+ posts)
kya guarantee hay kay sar e am phansi ku future criminal dekh raha hu ga?
guarantee kisi ki bi nahi Lekin Islam mei sakht saza dene ka maqsad juram se baz rakna hai Nahi to anjam bohat bora hona hai.. sakht saza dene se dosre ibrat pakre..
 

Diesel

Chief Minister (5k+ posts)
طالبان افغان باشندے ہيں اور افغانستان کے زيادہ حصے پر قابض ہيں اور باقی پر بھی قابض ہو جائيں گے ۔ سمجھ سے باہر ہے کے لوگوں کی طالبان سے يہاں کيوں پھٹی پڑی ہے ۔
Taliban se koyi issue nahi agar Taliban aj western democracy ko accept kare. Issue strict islamic sharia law hai world powers ke liye.
 

alihaider_

New Member
ہو سکھتا ہے کہ طالبان غلط ہوں لیکن جس نظام کو آپ حیوانی کہتے ہو وہی نظام ہمارے نبی نے ریاست مدینہ میں نافظ کیا تھا اور ہاں اگر طالبان اسلامی قوانین کی پاسداری کرے جہاں ہر کسی کے ساتھ انصاف ہو تو میں اسلامی نظام کے اندر رہنا پسند کروں- اپ مغرب سے متاثر ہوں اور ہر وہ کام کرنا چاہتے ہوں جسکی اجاذت اسلام نہیں دیتا اور کسی سے خوفذدہ نا ہوں
 

Baadshaah

MPA (400+ posts)
Taliban se koyi issue nahi agar Taliban aj western democracy ko accept kare. Issue strict islamic sharia law hai world powers ke liye.

جنگلی طالبان کی شریعت صرف مغربی ممالک کیلئے ہی نہیں، ہر مہذب قوم کیلئے باعث تشویش ہے۔۔ پاکستانی قوم بھی جنگلی طالبان کی شریعت کو اپنے اوپر نافذ نہیں کرنا چاہتی۔۔ پورے پاکستان سے کوئی ایک مومن دکھا دیں جو جنگلی طالبان کی شریعت انجوائے کرنے کیلئے افغانستان جانے کیلئے قصدِ سفر کررہا ہو۔۔۔
 
Sponsored Link