زمین کی خریدوفروخت پر شہداء، زخمی سول وفوجی ملازمین کیلئے ٹیکس استثنیٰ ہے

ali11h1h1.jpg


وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں رواں مالی سال کے بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشکل فیصلے نہ کیے جاتے تو ملکی معیشت چلانا مشکل ہو جاتا۔ پیکٹ والے دودھ پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد ادویات وزرعی ادویات پر بھی ٹیکس چھوٹ ختم کرنی پڑ سکتی ہے، پٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے۔ پلاٹوں کی خریدوفروخت پر ٹیکسوں سے استثنیٰ صرف شہداء اور جنگوں میں زخمی ہونیوالے فوجی وسول ملازمین کیلئے مخصوص ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ مشکل فیصلوں سے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنا وقت کی ضرورت تھی، آئی ایم ایف کیساتھ معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، آئندہ دنوں میں مزید پیشرفت ہو گی۔ اصلاحات کے ایجنڈے پر معاہدے کے بعد کام آگے بڑھائیں گے، ایسا نہ کیا تو آج دودھ پر جی ایس ٹی کی چھوٹ ختم ہوئی کل ادویات وزرعی ادویات پر بھی کرنی پڑے گی اور ڈی ایل بھی بڑھانا پڑیگا۔

انہوں نے نان فائلرز کو مشورہ دیا کہ فائلر بن جائیں ورنہ مشکلات میں اضافہ ہو گا، عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، معیشت درست سمت گامزن ہو چکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ بجٹ کے بعد سے تاریخی سطح پر ہے، وزیراعظم شہبازشریف نے سولر پینلز وپنشن کے حوالے سے خصوصی اقدامات کیے جس سے معیشت میں استحکام آیا جو حکومتی اقدامات کا ثمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں سے پاکستان پر خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے اور اب ملکی وبین الاقوامی جریدوں کی طرف سے مثبت رحجانات کا اظہار کیا جا رہا ہے، معاشی استحکام آئیگا۔ ملک کو اسی راستے پر استقامت کیساتھ آگے بڑھنا ہو گا، اصلاحات ضروری ہو چکیں، معاشی مسائل حل کرنے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگلے 5 سالوں میں ٹیکسوں کی شرح کی جی ڈی پی کے تناسب سے 14 سے 15 فیصد تک پہنچائیں گے، پٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے، پلاٹوں پر استثنیٰ صرف شہداء اور زخمی فوجی وسول ملازمین کیلئے مخصوص ہے۔ ملکی خساروں میں اصلاحات کے باعث کمی آرہی ہے اور ملک مشکل حالات سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہے اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مشکل فیصلے کیے گئے تاہم اس کے اثرات بھی آنا شروع ہو گئے ہیں، اگر ایس فیصلے نہ کرتے تو ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل نہیں سکتے۔ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھنے کا احساس ہے مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں زراعت، سولر پینلز اور پنشن اخراجات کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی، مالی گنجائش پیدا ہونے پر اضافی بوجھ واپس لے لیں گے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافے کو 60 روپے کی سطح پر برقرار رکھیں گے، گنجائش پیدا ہونے پر مختلف شعبوں میں ریلیف کی فراہمی شروع کر دیں گے۔ کیرٹ اینڈ سٹک پالیسی کے تحت معیشت دستاویزی بنا رہے ہین، نان فائلرز پر ٹیکس میں اضافہ کیا، مختلف شعبے ٹیکس رجیم میں لائے، تمام طبقات کو آمدنی کے مطابق ٹیکس ادائیگی کا پابند کیا، رئیل سٹیٹ شعبہ میں سٹہ بازی کے رحجان کو ختم کیا۔
 

Eagle-on-the-green

Minister (2k+ posts)
ھر طرح کا بندہ زخمی شید فوت اور معذور ھوتا ھے۔مثلاََ بجلی محکمے کا اھلکار کمبھے سے چپک کر شہید ھو جاتا ھے قومی خدمت انجام دیتے ھوۓ لیکن ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے ھی سب فوائد سمیٹتے ھیں اوریہ گروہ خود اور انکے مالکوں کے بقول ان کے لواحقین رجتے ھی نہیں۔۔یہ ملک ھیوز اور ھیو ناٹس کا ھے۔