روح افزاء کی تاریخ

khalid100

Minister (2k+ posts)
61559415_2005983456167768_7440684266523983872_n.jpg

روح افزاء کی تاریخ

بھارت کے شہر پیلی بھیت کے رہائشی شیخ رحیم بخش کے یہاں سن 1883ء میں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام عبدالمجید رکھا گیا۔ یہی عبدالمجید آگے چل کر حکیم محمد سعید کے والد بنے۔ آٹھ برس پیلی بھیت میں رہائش کے بعد شیخ رحیم بخش دہلی کے علاقے حوض قاضی منتقل ہو گئے۔ ‎تعليم سے فراغت پر حکیم حافظ حاجی عبدالمجید بانی دواخانہ ہمدرد کا نکاح رابعہ بیگم سے ہوا۔ آپ انتہائی نیک، اطاعت اور خدمت گزار، نماز و روزہ اور پردہ کی پابند، محنتی، وفاشعار اور معاملہ فہم خاتون تھیں۔۔ ‎

حکیم محمد سعید کے والد حکیم عبدالمجید ایک مستقل مزاج شخص تھے۔ آپ کو ادویات کے خواص میں خاص دلچسپی تھی۔ شوق اور مہارت کے باعث انھوں نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے قائم کردہ ہندوستانی دواخانے میں ملازمت کرلی۔ اس عرصے میں طب کا مطالعہ بڑی گہرائی اور طب کی متعدد کتابوں کا مطالعہ بڑی باریک بینی سے کیا۔ آپ کو جڑی بوٹیوں سےگہرا شغف تھا اور ان کی پہچان کا ملکہ حاصل تھا۔ آخرکار انہوں نے نباتات کے میدان میں اترنے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ بیماریوں کی شفاء کے لیے ہندوستان بھر سے جڑی بوٹیاں حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ بقول حکیم محمد سعید ''آپ ایک بلند پایہ نبض شناس اور جڑی بوٹیوں کے ماہر تھے۔''

حکیم عبدالمجید بڑی محنت سے حکیم اجمل خان کے ساتھ کام کر رہے تھے کہ انھیں احساس ہوا کہ حکیم اجمل صاحب ان کی دیانت پر شک کرنے لگے ہیں ۔ غیرت و فطرت نے یہ شبہ برداشت نہ کیا اور اس انسان نے ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 1904ء میں ہمدرد دواخانہ کی بنیاد ڈالی اور اس کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تجارت بھی شروع کی۔ ہمدرد دکان کو چلانے کے لیے حکیم عبدالمجید نے نباتات سے دوائیں بنانا شروع کیں، ان کی اہلیہ رابعہ بیگم نے ہر مرحلے پر اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا۔ ہمدرد دواخانے کی پہلی دوائی ’’حب مقوی معدہ‘‘ تھی۔ رابعہ بیگم اور ان کی بہن فاطمہ بیگم دونوں عبدالمجید صاحب کا ہاتھ بٹاتی تھیں، اور سل بٹے سے نباتات پیس کر ہاتھ سے گولیاں بناتی تھیں۔

حوض قاضی سے ہمدرد کی منتقلی لال کنویں کی ایک دکان میں ہوئی اور جب اس کاروبار میں وسعت پیدا ہوئی تو اس کو لال کنویں سے اس کی ابتدائی جگہ منتقل کرنا پڑا۔ ‎

حکیم عبدالمجید کے ہمدرد دواخانے میں حکیم استاد حسن خان بھی طبیب اور ادویہ سازی کے شعبے سے وابستہ تھے۔ ان کا تعلق بھارتی صوبے اترپردیش کے شہر سہارنپور سے تھا، لیکن تلاش معاش میں وہ دہلی آ بسے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ سن 2003ء تک وہ کراچی میں مقیم تھے، ان کی عمر غالبا' 120 سال ہوگی۔ انہوں نے ہی ایک انٹرویو میں اپنی یادوں کے اوراق پلٹتے ہوئے روح افزا کی تیاری کی داستان سنائی۔ یہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے روح افزا کا نسخہ دوبارہ ترتیب دیا تھا۔

یہ سن 1907 کی بات ہے۔اس زمانے میں مختلف پھلوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کے شربت انفرادی طور پر دستیاب تھے۔ مثلا شربت گلاب، شربت صندل، شربت انار، شربت سنگترہ، شربت کیوڑہ، وغیرہ وغیرہ، جو اپنی تاثیر اور ذائقے کے لحاظ سے مختلف تھے۔ ہمدرد دوا خانہ کے بانی چاہتے تھے کہ پھلوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کو ملا کر ایک ایسا بےنظیر و بےمثال نسخہ ترتیب دیا جائے جو ذائقے اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہو، اور ایسا معتدل ہو کہ بچے سے بوڑھا تک ہر مزاج کا شخص اس کو استعمال کر سکے۔ جسکے لیے انہوں نے نسخہ کا نام تبدیل کرکے اسکو کاروبار بنایا یہیں سے روح افزا کی تیاری پر کام شروع ہوا۔ حکیم استاد حسن خان نے اپنی تمام حکمت اور خواص، جڑی بوٹیوں کا تجربہ روح افزا کے نسخہ و ترکیب میں مزید سمو دیا۔ اگر صرف روح افزا کی تیاری پر ہی ان کو استاد کے لقب سے نوازا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ لیکن کیسی افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ یہ شخص گمنامی کی زندگی بسر کرگیا ورنہ بجا طور پر تمغہ حسن کار کردگی کا مستحق تھا انڈیا کے ہمدرد وقف دواخانہ و لیبارٹریز کی ویب سائٹ پر ان کا تعارف بحیثیت روح افزا کے اولین نسخہ ساز کی حیثیت سے درج ہے۔ ‎روح افزا میں شامل چیدہ چیدہ اجزا اپنی تاثیر میں بےمثل تھے۔ جڑی بوٹیوں میں حکیم صاحب نے تخم خرفہ، منقہ، کاسنی، نیلوفر، گاؤزبان، ہرا دھنیا وغیرہ، پھلوں میں سنگترہ، انناس، گاجر، تربوز، وغیرہ۔ سبزیوں میں سے پالک، پودینہ، ہرا کدو، وغیرہ۔ پھولوں میں گلاب، کیوڑہ، لیموں اور نارنگی کے پھولوں کا رس، خوشبو اور ٹھنڈک میں بےمثال خس اور صندل کی لکڑی وغیرہ۔ ان تمام اجزا اور عرقیات کو ایک خاص ترتیب سے ملا کر جو شربت تیار ہوا، وہ بلاشبہ روح افزا کہلانے کا ہی مستحق تھا لیکن مزاج کے اعتبار سے یہ بلکل اصولوں کے خلاف تھا ۔ مگر پھر بھی جو دیکھتے ہی دیکھتے طب مشرق پر چھا گیا، اور آج تقریبا'' 110 سال گزرنے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ ‎

مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے کہ جب جون جولائی کی تپتی گرمیوں میں دوپہر کے قیلولے کے بعد شام چار پانچ بجے کے قریب گھر میں روح افزا تیار کیا جاتا تھا اور ایک گلاس برف سے یخ بستہ خوشبودار اور شیریں روح افزا، جسم میں ایک عجیب سکون اور ٹھنڈک کا احساس جگا دیتا تھا۔ کسی گھر میں روح افزا بنتا تو پڑوس تک اس کی مہک جاتی تھی اس وقت ہمدرد دواخانہ اجزاء درست اور مکمل ڈالتا تھا۔ افطار اور روح افزا تو تب سے گویا لازم و ملزوم ہیں۔ رات کو سوتے وقت ایک گلاس دودھ میں تین بڑے چمچ روح افزا مستقل استعمال کرنے سے رنگ گورا ہو جاتا ہے، اور دماغی سکون ملتا ہے۔ آج بھی قلفی اور فلودہ پر روح افزا کی ڈاٹ لگا کر کھایا جاتا ہے۔ فروٹ کریم چاٹ، فیرنی، کسٹرڈ، کھیر وغیرہ پر بھی روح افزا کی سرخی اور مہک لطف دوبالا کر دیتی ہے۔ تپتی گرمی میں لو سے بچاؤ کے لیے روح افزا کا ثانی نہیں۔ تربوز کے شربت میں روح افزا اور تخم ملنگا شامل کر کے ایک انتہائی نفیس شربت تیار کیا جاتا ہے جو شدید گرمی کا توڑ ہے۔ کچھ جاہل لوگ لسی میں بھی روح افزا شامل کر دیتے ہیں۔ گرمیوں میں خربوزے یا چھوٹے گرمے کو درمیان سے چاک کر کر بیج نکالنے کے بعد اس میں ملک پیک بالائی ڈالیں اور اس پر روح افزا ڈال کر چمچے سے کھائیں تو مزہ آجاتا ہے۔ اسی طرح اسٹرا بیریز کو کریم اور روح افزا میں ڈبو کر کھائیں تو اصل لطف آتا ہے۔

گو یہ مشروب تاثیر میں ٹھنڈا ہے لیکن رمضان خواہ گرمیوں کے ہوں یا جاڑوں کے، افطار میں روح افزا ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھل فروشوں کی دکان پر آپ کو لازمی روح افزا بھی ملے گا۔ مختلف مواقع پر تحفے تحائف کے ساتھ جو پھلوں کا ٹوکرا جس کو ڈالی بھی بولا جاتا ہے، اس میں آپ کو ست رنگے پھلوں کے ساتھ روح افزا کی بوتل لازمی ملے گی۔ مہندی مایوں کی تقریب میں بھیجی جانے والی ڈالی میں بھی روح افزا کی بوتلوں کی جوڑی لازمی سجائی جاتی ہے۔ اب سے کوئی بیس پچیس برس قبل ہمدرد اپنے روح افزا کے اشتہار میں دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اب تک اس مشروب کی اتنی بوتلیں تیار کر چکے ہیں کہ اگر ان بوتلوں کو قطار سے زمیں پر رکھا جائے تو پورے کرہ ارض کے گرد ایک حلقہ مکمل ہو جائے گا۔

افسوس کہ اب روح افزا کی نہ وہ خوشبو ہے اور نہ وہ معیار۔ پھر بھی حکیم سعید کی زندگی تک تک روح افزا بہرحال اپنا معیار ایک حد تک برقرار رکھے ہوئے تھا، لیکن ان کے بعد روح افزا بھی گویا اپنی روح سے محروم ہوگیا اس کی ایک تووجہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ روح افزا کی تیاری میں شامل کچھ اجزا اب انتہائی مہنگے داموں ملتے ہیں جسکی وجہ سے انکو ہمدرد دواخانہ استعمال نہیں کرتا اور کچھ اجزا کو غالبا بھارت سے بھی امپورٹ کیا جاتا ہے۔
 
Last edited by a moderator: