دیگر ممالک کے راستے نیٹو کی سپلائی

insaan

MPA (400+ posts)
دیگر ممالک کے راستے نیٹو کی سپلائی
nato-supply2.jpg
نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے پاکستان کے ساتھہ مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل راسموسن نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ازبکستان ۔ قرقیزستان اور قزاقستان کے ساتھہ معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہیں ۔ راسموسن نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس سلسلے میں ماضی میں روس کے ساتھہ بھی ایسا سمجھوتہ رہا ہے کہا کہ اب ان تین ملکوں کے ساتھہ طے پانے والے سمجھوتے سے افغانستان سے فوجی ساز و سامان زمینی راستے یورپ منتقل کرنا آسان ہوجائیگا۔ نیٹو کے شیکاگو اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق سنہ 2013 کے وسط تک افغانستان میں سیکیورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر افغان فوجیوں کے سپرد کردی جائیگی اور سنہ 2014 کے اختتام تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو واپس بلالیا جائیگا۔ سنہ 2010 کے نیٹو کے لزبن اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق سنہ 2014 میں افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء شروع ہونا تھا مگرطالبان کے حملوں اور نیٹو کے بڑھتے ہوئے جانی نقصان کی بناء پر نیٹو کے بعض رکن ممالک نے قبل از وقت ہی افغانستان سے فوجی انخلاء کا منصوبہ بنالیا جیساکہ فرانس نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک وہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لے گا ۔ اس سے قبل کینیڈا نے اعلان کیا تھا کہ وہ سنہ 2014 سے پہلے ہی اپنے فوجیوں کو واپس بلائےگا ۔ نیٹو کے بعض رکن ملکوں کے ان فیصلوں نے اس تنظیم کو مختلف مسائل و مشکلات سے دوچار کردیا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ پاکستان سے راستہ بند ہوجانے کے بعد افغانستان سے زمینی راستے سے نیٹو کے فوجی ساز و سامان کی منتقلی کا ہے اسلئے کہ نیٹو کے رکن ممالک ابتک پاکستان کے راستے اپنے سارے وسائل منتقل کرتے رہے ہیں مگر نومبر سنہ 2011 سے نیٹو کیلئے یہ راستہ بند ہوگیا ہے ۔ امریکہ ان طالبان کے خلاف مہم کے بہانے جنھوں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے ابتک بارہا پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور گذشتہ گیارہ برسوں کے دوران ہونے والے حملوں میں پاکستان کے 35 ہزار سے زائد عام شہری اور درجنوں فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد نے گذشتہ سال نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے نیٹو کے حملے کو اپنے قومی اقتدار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نیٹو کی سپلائی لائن بند کردی ہے اور پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سے نیٹو کا ضروری سامان روس سے ہوائی راستے سے افغانستان منتقل کیا جارہا ہے جس پر بہت زیادہ اخراجات آرہے ہیں جن کا تخمینہ ماہانہ ایک سو چار ملین ڈالرلگایاگیا ہے جو پاکستان کے راستے آنے والے اخراجات کے مقابلے میں 512 فیصد اضافے کا غماز ہے جبکہ اس کے علاوہ اور بھی ایسے مسائل ہیں جو نیٹو کیلئے باعث مشکلات بنے ہوئے ہیں منجملہ یہ کہ روس نے اپنے راستے سے نیٹو کیلئے فوجی ساز و سامان کی منتقلی کی اجازت نہیں دی ہے ۔ نیٹو کے رکن ممالک کو امید تھی کہ شیکاگو کانفرنس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو دعوت نامہ دیکر انھیں نیٹو سپلائی کی بحالی پر رضامند کرلیا جائیگا مگر پاکستان نے اس سپلائی کی بحالی کیلئے اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر امریکہ کی جانب سے عذرخواہی۔ ہر کینٹینر پر پانچ ہزار ڈالر کے ٹیکس اور پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند کئے جانے جیسی تین شرطیں عائد کی ہیں جنھیں امریکہ ماننے پر آمادہ نہیں اور اسی بناء پر پاکستان کے ساتھہ ہونے والے مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے جسکی بناء پر نیٹو تنظیم اپنے فوجی ساز و سامان اور دیگر ضروری سامان کی منتقلی کیلئے بھاری اخراجات کے باوجود متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
 

barca

Prime Minister (20k+ posts)
اچھی بات ہے اب پیسے دے رہے ہیں اور خجل بھی پہلے مفت خوری لگائی تھی
 

Star Gazer

Chief Minister (5k+ posts)
They are most welcome to do as they see fit for the exit.
They have to look after their interests and we have our interests. Peace!