دو نمبر

Veila Mast

Senator (1k+ posts)
دو نمبر

"آور ڈیموکریسی ہیز بین ہیکڈ" عجب کہانی ہے علم کو اٹھالیے جانےکی بازگشت ہے، مگر استاد نام کی سمجھ پلے نہیں پڑی، روبوٹ ہی کیوں؟

ابراہیم مغرب میں بالعموم نئے سال کی آمد پر جشن کا سماں ہوتا ہے، نئی صدی کا استقبال تو یگانہ ہونا تھا، مگر وہی گر، خوف، جو ہمیشہ لوگوں پر مسلط کر کے من مانی فیصلے کیے گئے، اب کی بارطریقہ نیا تھا، سرخ انقلاب بھی اپنی مدت پوری کر چکا تھا، آسمان کے مقیم بھی چہل قدمی کے موڈ میں نہ تھے، ایک نئی ایجاد نے دنیا کو خیرہ کیا تھا ، اسے بھی پرانے ہتھیار کے طور پر استعمال کیاگیا، وائے ٹو کے، ایک اور ناگہانی عفریت ، انجام وہی ہونا تھا جو پہلے ہوا، نرا وہم، نئی صدی نے انگڑائیاں لی، اس سے قبل یہ پھلتی پھولتی، پوری صدی کو ہی دنیا کے معماروں نے آپریشن تھیٹر میں ڈال دیا، انستھیزیا کے باعث مریض نے کبھی افغانستان قے کی تو کبھی عراق، جب نشہ اترا تو معلوم ہوا دوران آپریشن معماروں نے اسے پلاسٹک کے تابوت سے تبدیل کر دیا تھا، ہاں اختیار اسی کے پاس تھا، چاہے تو وہ اپنی نئی حالت کو قبول کر لے، یا پھر دوسرا تابوت پسند کر لے، لکڑی کا تابوت

استاد وہ اپنے لوگوں سے محبت کرتے ہیں، ہماری طرح تھوڑی ہیں، پہلے تو بات صرف فلسطین و کشمیر کی تھی اب تو برما میں بھی قیامت بپا ہے، مجال ہے کوئی داد رسی کو پہنچے، ہم ہی دو نمبر ہیں، ابراہیم نے ہنس کے کہا

ابراہیم محصولات سے عاجز عوام نے جب علم بغاوت بلند کیا اور بالآخر ۱۷۷۶ میں ان قوتوں سے چھٹکارا پایا مگر دوبارہ قبضے سے خائف ایک بل آف رائٹس تشکیل دیا، امینڈمنٹ نمبر دونے عوام کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی تاکہ وہ نوزائیدہ ریاست کا دفع ممکن بنا سکیں،یہ کمانڈمنٹ ہر گز نہ تھی جسے خدائی فیصلہ سمجھ کر ہمیشہ کے لیے سر تسلیم خم کیے رکھنے تھا، انسانوں کا بنایا قانون تھا، مگر آج تک یہ پوری آب و تاب سے قائم ہے، کم بیش تین سو ملین گن لوگوں کے قبضے میں ہیں، جس طرح خوردنی اشیا بازار سے دستیاب ہوں، اسی طرح ان کی فراہمی ہے

استاد اس میں کیا مضائقہ ہے، ابراہیم نے حیرت سے پوچھا

گزشتہ برسوں کے شماریات احاطے سے باہر، رواں سا ل کا ایک ماہ بھی نہیں گزر ا مگراس سے متعلق تین ہزار واقعات ہو چکے، ۷۷۹ ہلاکتیں، ۳۴ بچے اور ۱۶۳ نوجوان بھی شامل جو ہلاک یا زخمی ہوئے، بعض ریاستوں میں اندھوں کو بھی گن رکھنے کی اجازت، ادویات کو بچوں کی پہنچ سے دوری سہی مگر گن تک رسائی کو ان کے لیے سہل بنا دیا گیا، سکولوں میں وہ چڑھ دوڑے اور اپنے ہی ہم مکتبوں کو خون سے رنگ دیا

استاد یہ تو بڑی گھمبیر صورتحال ہے، وہاں نہ تو مذہبی جنونی ہیں، نہ لسانی تعصب ہے، سیکولر معاشرہ ہے، وہاں کوئی سول سوسائٹی نہیں یا کوئی این جی اویا پھر آزاد میڈیا جو رائے عامہ ہموار کرے

ابراہیم رواں صدی کے آغاز میں یونائٹیڈ نیشن کا بنیادی نعرہ تبدیلی کا تھا، ایجنڈا ۲۱، اکسس آف ایول کا ڈھنڈورا پیٹ کر بہت کچھ حاصل کر لیا مگر اپنوں کو سمجھانے بڑے بڑے نام بھی نکلے تو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے، تبدیلی آج بھی اپنی راہ تک رہی ہے

پھر بھی استاد اختلاف تو ہوا گا، فاونڈنگ فادر ز کوآڑے ہاتھوں لیا گیاہو گاکہ کس سوغات کا تحفہ دے گئے، آئین کا مزاق اڑا گیا ہو گا، اسے کالا قانون گردانا گیا ہوگا، اس کے حامیوں کو شدت پسندی کے طعنے دئیے گئے ہونگے، ابراہیم نے سوال کیا

اختلاف تو ہوا، مگر کسی نے ان قانون دانوں کو گالیاں دی، نہ قانون کو، نہ ہی انہیں جو اس قانون کے حامی تھے، یہ طرہ امتیاز ہمارا کہ ہم عرش والے کے بنائے ہوئے قانون پر بھی زبان درازی سے نہیں کتراتے، آخر آزاد جو ٹھہرے

خیر ابراہیم تم سناو، آج کل کس دھیان میں ہو

نہ پوچھ استاد ، دل انتہائی افسردہ ہے، کینیڈا میں کسی نوجوان نے سکول پر دھاوا بول دیا،نجانے دنیا کو کس کی نظر لگ گئی، پر استاد انتظار ہی رہا کوئی کینیڈا کا جھنڈا لگانے کو ترغیب دے، ہاتھوں پر دستانے اس طرح بھی چڑھائے جاتے ہیں
 
Sponsored Link