دانیال عزیز نے احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ کو کلیم اللہ سلیم اللہ قرار دے

3daniaalalziskjdhjdjfgjsnkdjkd.png

مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ کو ’کلیم اللہ سلیم اللہ‘ قرار دے دیا,انہوں نے کہا ان دونوں کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں,اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں دانیال عزیز نے خود پارٹی کی طرف سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس پر ردعمل دیا, نوٹس ابھی تک موصول نہیں ہوا جب ملے گا تو جواب دوں گا۔

دانیال عزیز نے مزید کہا کیا مہنگائی سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچا؟ پارٹی کو ایسا پروگرام دینا چاہیے جس میں عوام دلچسپی لے سکیں، مہنگائی کی وجہ سے پارٹی کو بہت نقصان پہنچا ہے, قیادت میرے کردار کو جانتی ہے اور گفتگو کا بھی پتا ہے، میں کھل کر بات کرتا ہوں قیادت اس سے بخوبی آگاہ ہے، مہنگائی کے ایشوز پر بات کرنی چاہیے مجھے پارٹی ٹکٹ کی کوئی فکر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو چاہیے تمام پارٹیوں سے پوچھے آگے کا کیا پلان ہے، ن لیگ کو بھی عوام کے سامنے مستقبل سے متعلق پلان رکھنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) نے احسن اقبال کے خلاف بیان دینے پر دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کر لی,دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس پارٹی قائد نواز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی بورڈ کے پہلے اجلاس میں رانا ثنا اللہ نے جاری کیا جس میں کہا گیا دانیال عزیز نے بیان بازی کر کے پارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

نوٹس میں کہا گیا دانیال عزیز نے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہیں 7 روز میں نوٹس کا جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔

پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا آج پہلا پارلیمانی بورڈ کا اجلاس تھا جس میں سرگودھا ڈویژن کے لوگوں کو بلایا گیا تھا، اجلاس میں نواز شریف نے خود ایک ایک امیدوار کا انٹرویو کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس تقریباً 7 گھنٹے جاری رہا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے پارٹی یکجہتی کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے، پارٹی نے فیصلہ کیا ہے پارٹی ڈسپلن کو دیکھا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا دانیال عزیز نے گزشتہ دنوں جو بیانات دیے ہیں کا اس کا نوٹس لیا گیا ہے، ان کو شوکاز نوٹس دیا گیا اور 7 دن میں جواب مانگا گیا ہے، ان کو کہا گیا ہے آئندہ وہ بات کرنے میں احتیاط کریں گے۔

یکم دسمبر کو دانیال عزیز نے اپنے ایک بیان میں احسن اقبال کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا پارٹی نے مہنگائی کا نوٹس لیا ہوتا تو احسن اقبال کو برطرف کر دیا جاتا,دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ قیمتیں کنٹرول کرنا نیشنل پرائس کمیٹی کی ذمہ داری تھی، احسن اقبال نیشنل پرائس کمیٹی کے چیئرمین تھے، ان کی ذمہ داری لگائی گئی تھی انہوں نے پوری نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا مہنگائی کے ذمہ دار احسن اقبال تھے کیونکہ کمیٹی کے چیئرمین تھے، پرائس کنٹرول کمیٹی کی ہفتہ وار میٹنگ ہوتی تھی پریس ریلیز ہی پڑھ لیں، ناقص کمیٹی تھی تو احسن اقبال بتائیں انہوں نے کیا کردار ادا کیا، سب کہتے ہیں مہنگائی کی وجہ سے ن لیگ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔