خیبرپختونخوا کے سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں VIP شخصیات کے مفت قیام پر پابندی

kpk-resh1i111h.jpg


خیبرپختونخوا کے سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں وی آئی پی شخصیات اور ان کی فیملیز کے مفت قیام پر پابندی عائد کر دی گئی

صوبائی مشیر سیاحت، ثقافت و آثار قدیمہ زاہد چن زیب نے سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں وی آئی پی شخصیات اور فیملیز کے مفت قیام پر پابندی کے حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

مشیر سیاحت خیبرپختونخوا زاہد چن کا کہنا تھا کہ وی آئی پی اور انکی فیملیز مفت کئی کئی روز تک قیام کرتے تھے،اس بار ے میں مشیر سیاحت کو عوامی حلقوں کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

مشیر سیاحت کا کہنا تھا کہ عوامی شکایات پرسرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام پر پابندی لگائی ہے، وی آئی پیز اور ان کے خاندان کی وجہ سے عوام کے لئے سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں جگہ نہیں ہوتی تھی۔

مشیر زاہد چن زیب نے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کلچرل اینڈ ٹورازم اتھارٹی سمیت، کیلاش، گلیات، کاغان، اپر سوات اور کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے سربراہان سمیت تمام متعلقہ حکام کو بھی ہدایت جاری کر دی,مشیر سیاحت کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ سیاحت کے اعلیٰ حکام سے لیکر وہ خود یا ان کی فیملیز بھی گنجائش کے مطابق ان ریسٹ ہاؤسز میں قیام کریں تو ان سے بھی قانون کے مطابق واجبات وصول کئے جائیں۔

اس سے قبل خیبرپختونخوا کی حکومت نے 170 سے زائد سرکاری ریسٹ ہاوسز کو عوام کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا، نتھیا گلی میں قائم گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، اسپیکر ہاؤس اور کرناک ہاؤس سمیت 170 سے زائد سرکاری ریسٹ ہاوسز کو عوام کیلئے کھولا تھا۔

سیاحت اور امور نوجوانان کے صوبائی وزیر محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے نتھیا گلی میں عام لوگوں کے لئے گورنر ہاوس، وزیراعلی ٰ ہاوس، سپیکر ہاوس اور کرناک ہاوس سمیت170 سے زائد سرکاری ریسٹ ہاوسز کو عام آدمی کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام سرکاری عمارتوں تک عوام کو رسائی دینے کے وزیراعظم کے وعدے کو پورا کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ اس سے سرکاری اثاثوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے ذریعے آمدنی بڑھانے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔