خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں کتنے سو روپے کمی متوقع ہے؟

gheem1n11h.jpg

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں کمی کے بعد عوام کو گھی، آٹے کی قیمتوں میں جلد کمی کرنے کی خوشخبری دے دی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ مشکل حالات میں اس پیشرفت کو خوش آئند سجھتے ہیں کہ بین الاقوامی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر تک آگئی ہیں جو کہ 123 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھیں۔ جیسے ہی حکومت قیمتوں میں کمی سے مستفید ہو گی تو عوام کو بھی قیمتوں میں کمی کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام کو گھی 100 سے 150 روپے تک سستا ہونے کی نوید سنا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متوازن اور مناسب بجٹ منظور کیا ہے جس میں صرف امیر طبقے سے قربانی دینے کا کہا اور غریب عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہیں جلد ہی عوام کو ریلیف فراہم کرینگے۔

وفاقی وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان تاریخی خسارہ اور انتہائی کم زرمبادلہ ذخایر چھوڑ کر گئے تھے جبکہ معیشت تباہ حال تھی، اس بجٹ سے معیشت جلد اپنے پائوں پر کھڑی ہو گی۔ اگر چین ہمارا ساتھ نہ دیتا تو حالات مزید مشکل ہوتے، چین نے پاکستان کو 2۔4 ارب ڈالر دیئے جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخایر بہتر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جلد ہی آئی ایم ایف سے بات کریں گے اور یہ معاملہ بھی طے پا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آٹا 40 رپے اور چینی 70 روپے فی کلو فروخت کر رہی ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آٹے کی قیمتوں میں مزید کمی ہو، گندم کی قیمتوں میں کمی کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی میں گندم خریدنے کیلئے ٹینڈر تیار کر لیا گیا ہے جبکہ 17 سو ڈالر فی ٹن کے حسان سے گھی اور تیل کی قیمتوں ریکارڈ پر آ گئی تھیں وہ اب ایک ہزار ڈالر پر آ گئی ہیں، امید ہے گھی بھی 100 سے 150 روپے تک سستا ہو جائیگا۔

بجلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ کہ پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے جھوٹ ہے، سچ یہ ہے کہ پنجاب اور کراچی میں بارشیں آنے سے قبل کراچی میں بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ سے بڑھ گئی تھی اور پاکستان کی پیداواری صلاحیت 23 ہزار میگاواٹ ہے جس وجہ سے بجلی کا شارٹ فال ابھی بھی موجودہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کے ابتدا میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شروع ہونا تھا جو نہ ہو سکا تاخیر کی وجہ سے ملک کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ حویلی بہادر شاہ ٹو کے نام سے پراجیکٹ تھا جس کی مشینیں 2018 میں آ گئی تھیں 2019 کو شروع ہونا تھا لیکن اسے ابھی تک چالو نہیں کیا جا سکا جسے ہم جلد شروع کر دیں گے، جس سے لوڈشیڈنگ میں واضح کمی نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ 10 ایل این جی ونڈوز خریدنے کیلئے ٹینڈر کروائے تھے مگر کسی کا بھی جواب نہیں آیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ مارکیٹ انتہائی سخت ہو گئی ہے کوئی جواب نہیں دیتا، اسی لیے ایندھن خریدنے میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے پچھلے دور حکومت میں 5 ہزار میگاواٹ کے پلانٹس بند پڑے تھے کیونکہ گیس اور تیل نہیں تھا اب حکومت میں آئے ہیں تو ساڑھے 7 ہزار میگاواٹ کی قلت کا سامنا تھا۔ دونوں پلانٹس کو مرمت کروا کر اور ایندھن بھی فراہم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انرجی بحران کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی، جب 4 ڈالر تک کی ایل این جی گیس عالمی مارکیٹ میں موجود تھی خریداری کر لی جاتی تو پاکستان کو اس بحران کا سامنا نا کرنا پڑتا، ہمارے پچھلے دور اقتدار میں خریدے گئے ایندھن کی وجہ سے پاکستان چلا رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے وہی ایل این جی 36 ڈالر میں خریدی، اور ہمیں خریداری پر جیل میں ڈالا گیا۔

وزیر خزانہ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشکل حالات کے باعث بجلی، گیس، پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کرنا مجبوری بن گیا تھا اگر ایسا نہ کرتے تو ملکہ کا دیوالیہ نکل گیا ہوتا، اس سب کے ذمہ دار صرف اور صرف سابق وزیراعظم عمران خان ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ امیر لوگوں کو مراعات دیں جبکہ ہماری حکومت غریب عوام کو مفت بجلی فراہم کرنا چاہ رہی ہے تو عمران خان کی پارٹی وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کے اس عوام دوست اقدام کے آڑے آ رہی ہے۔
 

disgusted

Chief Minister (5k+ posts)
Not so fast. Muftah is going to shove it up the posterior of this sleeping nation. Some oil will be needed to make the passage slightly easy. How are Ganjas going to get their revenues they lost for three and a half years.
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Corrupt mixed achar beggars have ruined the economy and now all they talk about is that inflation is because of International prices.