خدا ہے بھی یا نہیں ؟

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
کیا خدا وجود رکھتا ہے ؟ کیا خدا نے یہ کائنات بنائی؟ خدا سے پہلے کیا تھا ؟


خدا ہے بھی یا نہیں ؟


اگر یہ سوالات انسانی عقل کی بھوک مٹانے واسطے کئے جاین تو سو بار کئے جایئں، لیکن جہاں تک میں نے دیکھا ، ایسے ایسے لوگ ، جن کو جزوی سے بھی کم علم رکھتے ہیں وہ فضول کی جھک مارنے میں مشغول ہیں ،


پہلی بات تو ان سوالات کی آج کل وجہ ، ان کا عقل کے تقاضے پورے کرنے واسطے نہیں ، آنا کی تسکین خاطر ہے ، انسانی جبلّت ہے اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف کرنا ، تبھی یہ طوفان بد تمیزی برپا ہے جو فیشن کہلاتا ہے ،


پتا ادرک کا نہیں ، بندر منہ اٹھاے خدا ڈھونڈنے نکلے.


اب بات ہو جائے کچھ عقلی تقاضوں کی ،


پہلے تو انسان جو خود کو سب سے زہین مخلوق گردانتا ہے ، آج تک اپنے آپ کو ہی سمجھنے سے قاصر ہے ، جو کہتا ہے میں سائنس کے کٹنگ ایج پر ہوں ، وہ احرام مصر دوبارہ نہیں بنا سکا ، نہ بنا سکتا ہے ،
اسکی تفصیل میں بعد میں جاین گے ، مگر قصہ مختصر کئے دیتا ہوں ،


ایک سوی بغیر بنانے والے نہیں بنتی ،


یہ کائنات ، سولر سسٹم ، زمین کا ایک خاص زاویے پر جھکنا ، پھر اس میں زندگی کا پیدا ہونا ؟ چہ معنی؟


دوسرا ،


ان سوال اٹھانے والوں سے ایک سوال ،


تمہارا گرو سٹیفن حوکنگس کہتا ہے ، یہ کائنات ایک جھٹکے سے پیدا کی گئی اور اس وقت فزیکل قانون نہیں تھے ، اور اگر اس دھماکے کی کلکولشن میں ایک کھرب وان حصہ بھی چوک جاتا تو کائنات تخلیق نہ ہو پاتی ،


تو میاں ، اول تو یہ بتاؤ ، وہ انرجی کہاں سے ای ؟
دوسرا ، اس انرجی کی مقدار کس نے ماپی ؟


باقی سوال بعد میں پہلے ان پر بات !
 
Featured Thumbs
http://allah.org/allah.jpg
Last edited by a moderator:

Ahud khan

Senator (1k+ posts)


ہر ذیشعور انسان نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
اور نادانوں نے دیکھ کے بھی اندیکھا کر دیا

 
Last edited:

Khubaib Alam

Minister (2k+ posts)
Saaf bat ha itne complex chemical reactions aur sophisticated biological structures awen tukke pe he nae bn jaate, TakhleeQ e Kaainaat ke raazon se abhi tk prda nae uth ska, research is still ongoing, probes are being sent to other planets to help finding how life emerged in its early form, so when you are not still sure about your hypothesis, and your research is still not able to deny the existence of GOD, then how come you may draw conclusion that there is no God. aisi baten krne waale hazraat dimaghi khalal ka shikaar hen.
 

فالتو

MPA (400+ posts)
آج صبح سے دہریوں کو گالیاں دے کر مومن اپنے گناہ بخشوا رہے ہیں
 
Last edited:

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
Beta aik bhi gaali nahin hai is mein ,

Ap victim card choro , Baat ka Jawab do.

Aur mein Momin kaheen say bhi nahin hoon, Dont worry about me.

mohtaram bhai Arbkhan sb, qasoor un logoon ka bhi hai jo bila jaane boojhe deene islam par ehtraaz thonk dete hen magar bunyaadi qasoor is ummat ka hi hai jo aik bahot badi tadaad main buri tarah jahaalat main doobi hui hai. kam log is ummat main hen jo science, philosophy aur quran par dastaras rakhte hen. yeh ummat unpadh, ghair taleem yaafta aur ghair tarbiyat yaafta logoon se bhari padi hai jin ko ghoro fikar se kuchh lena dena nahin hai.

aap agar in ko kuchh bataana bhi chahiyen to yeh jaanana hi nahin chahte keh tareeqe ki mehnat karna in ko sire hi se gawaara hi nahin hai. yeh log aasaaniyan doondhne ke chakar main apni aur apni aulaadun ki zindagiyan tabaho barbarbaad kar lete hen.

yeh jo kuchh thodi bahot deene islam ki logoon main samajh boojh baaqi hai woh bhi kuch faaqa mastun ki farz shanaasi ka nateeja hai warna khudaa kon aur ham kon.

Allah taala ham sab ko towfeeq de ham us ki asal taleem ko saheeh tarah se samajh saken aur doosrun ko bhi saheeh tarah se samjhaa saken.


 

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
323_5.gif

ایک زبردست تقریر ، ضرور پڑھئے

http://maududi.org/scan/?itemid=323&title=
 

AXIOM

MPA (400+ posts)
بحث کا مقصد اگر آپ سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کا تمسخر اڑانا ہے تو آپ کے سوال کا کوئی جواب بھی آپ کی ضد اور انا کی تسکین کے لئے کافی نہیں ہو گا. علم حاصل کرنا اور اس میں اضافے کی خاطر سوالات اٹھانا علم کا بنیادی جزو ہے. علم کسی کی ذاتی میراث ہوتا تو پھر کہا جا سکتا تھا کہ صاحب علم جسے چاہے عنایت فرما دے اور جسے چاہے محروم کر دے. ہر انسان یہ حق رکھتا ہے اسے جس چیز کو ماننے, پوجنے, اور جس ضابطہ قانون پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا گیا ہے کیا اس کا وجود ہے بھی یا نہیں? اگر ہے تو کیا ویسا ہی ہے جیسا پرکھوں نے بتایا ہے یا اس سے مختلف. جو قوانین اور ضابطہ حیات اس سے منسوب ہیں کیا واقعی حقیقت ہیں? یہ سب جاننے کے لئے ہر آزاد اور زی شعور انسان سچ اور حقیقت جاننے کی جستجو کرتا ہے. جبکہ ایک غلام انسان دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو سر خم تسلیم کئے اپنی زندگی ایک انجانے و لاشعوری خوف کے عالم گزار دیتا ہے کہ کہیں کسی بات پہ جو عقل کو گوارا نہیں اس پر سوال اٹھایا یا مخالفت کی تو کہیں رزق سے نا محروم کر دیا جائے, کہیں دنیا میں ذلت و رسوائی نا لکھ دی جائے, عذاب میں نا مبتلا کر دیا جائے, اولاد کی نعمت سے نا محروم ہو جاؤں اور اس طرح کے سینکڑوں انجانے خوف.
اگر مذاھب کے قوانین اور ضابطہ حیات واقعی الہامی ہیں تو ایک آزاد سوچ رکھنے والی عقل تقاضا کرتی ہے کہ یہ ہر نقص و کمی بیشی سے پاک ہونے چاہیں. اگر کوئی کمی ہے تو کیونکر? الہامی شے میں کمی کی گنجائش کیسے ممکن ہو سکتی ہے. کیا وجہ ہے کہ ہر دور میں ایک نیا مذھب اور ایک نئی الہامی کتاب وجود میں آتی ہے. خاص طور پر پچھلے چند ہزار سال سے ان کا نزول شروع ہوتا ہے جب انسان پڑھنا لکھنا سیکھتا ہے اور علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھتا ہے . نئی تھیوریاں نئے قانون نئے فلسفے جنم لیتے ہیں. اس کے بعد جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جاتا ہے ویسے ہی ہر دور کے انسان کا مذھب مختلف ہوتا جاتا ہے. ضابطہ حیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں . نئے قوانین کا وجود ہونے لگتا ہے. حالانکہ انسان کا وجود لاکھوں سال پہلے بھی اس زمین پر تھا. اگر کوئی قانون, کتاب, ضابطہ واقعی الہامی تھا تو اس دن سے وجود میں آنا چاہیے تھا جس دن انسان کا وجود ہوا جب وہ غاروں میں جانوروں سی زندگی گزار رہا تھا . لاکھوں سال بعد حال ہی میں الہامی کتابوں کا نزول ہونا اچنبھے کی بات ہے . جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جیسے آپ نے کہا کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہے اور کائنات کا خالق خدا ہے تو اس کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا کا وجود کیسے ممکن ہوا? یہ گورگھ دھندہ اتنی آسانی سے حل ہونے والا نہیں. فلحال تو اس پہ غور کیا جانا چاہیے کہ تا وقت ہمارے پاس جو مذاہب موجود ہیں جو کہ الہامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں کیا یہ الہامی ہیں یا انسان کے بنائے ہوئے ہیں
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
بحث کا مقصد اگر آپ سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کا تمسخر اڑانا ہے تو آپ کے سوال کا کوئی جواب بھی آپ کی ضد اور انا کی تسکین کے لئے کافی نہیں ہو گا. علم حاصل کرنا اور اس میں اضافے کی خاطر سوالات اٹھانا علم کا بنیادی جزو ہے. علم کسی کی ذاتی میراث ہوتا تو پھر کہا جا سکتا تھا کہ صاحب علم جسے چاہے عنایت فرما دے اور جسے چاہے محروم کر دے. ہر انسان یہ حق رکھتا ہے اسے جس چیز کو ماننے, پوجنے, اور جس ضابطہ قانون پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا گیا ہے کیا اس کا وجود ہے بھی یا نہیں? اگر ہے تو کیا ویسا ہی ہے جیسا پرکھوں نے بتایا ہے یا اس سے مختلف. جو قوانین اور ضابطہ حیات اس سے منسوب ہیں کیا واقعی حقیقت ہیں? یہ سب جاننے کے لئے ہر آزاد اور زی شعور انسان سچ اور حقیقت جاننے کی جستجو کرتا ہے. جبکہ ایک غلام انسان دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو سر خم تسلیم کئے اپنی زندگی ایک انجانے و لاشعوری خوف کے عالم گزار دیتا ہے کہ کہیں کسی بات پہ جو عقل کو گوارا نہیں اس پر سوال اٹھایا یا مخالفت کی تو کہیں رزق سے نا محروم کر دیا جائے, کہیں دنیا میں ذلت و رسوائی نا لکھ دی جائے, عذاب میں نا مبتلا کر دیا جائے, اولاد کی نعمت سے نا محروم ہو جاؤں اور اس طرح کے سینکڑوں انجانے خوف.
اگر مذاھب کے قوانین اور ضابطہ حیات واقعی الہامی ہیں تو ایک آزاد سوچ رکھنے والی عقل تقاضا کرتی ہے کہ یہ ہر نقص و کمی بیشی سے پاک ہونے چاہیں. اگر کوئی کمی ہے تو کیونکر? الہامی شے میں کمی کی گنجائش کیسے ممکن ہو سکتی ہے. کیا وجہ ہے کہ ہر دور میں ایک نیا مذھب اور ایک نئی الہامی کتاب وجود میں آتی ہے. خاص طور پر پچھلے چند ہزار سال سے ان کا نزول شروع ہوتا ہے جب انسان پڑھنا لکھنا سیکھتا ہے اور علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھتا ہے . نئی تھیوریاں نئے قانون نئے فلسفے جنم لیتے ہیں. اس کے بعد جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جاتا ہے ویسے ہی ہر دور کے انسان کا مذھب مختلف ہوتا جاتا ہے. ضابطہ حیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں . نئے قوانین کا وجود ہونے لگتا ہے. حالانکہ انسان کا وجود لاکھوں سال پہلے بھی اس زمین پر تھا. اگر کوئی قانون, کتاب, ضابطہ واقعی الہامی تھا تو اس دن سے وجود میں آنا چاہیے تھا جس دن انسان کا وجود ہوا جب وہ غاروں میں جانوروں سی زندگی گزار رہا تھا . لاکھوں سال بعد حال ہی میں الہامی کتابوں کا نزول ہونا اچنبھے کی بات ہے . جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جیسے آپ نے کہا کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہے اور کائنات کا خالق خدا ہے تو اس کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا کا وجود کیسے ممکن ہوا? یہ گورگھ دھندہ اتنی آسانی سے حل ہونے والا نہیں. فلحال تو اس پہ غور کیا جانا چاہیے کہ تا وقت ہمارے پاس جو مذاہب موجود ہیں جو کہ الہامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں کیا یہ الہامی ہیں یا انسان کے بنائے ہوئے ہیں


Dear AXIOM, the questions and the answers to the questions like the ones you have raised can be found HERE and HERE.

regards and all the best.
 
Last edited:

AXIOM

MPA (400+ posts)
Thanks for bringing all that into my attention, I couldnt follow that all though, as its too lengthy. I'll much appreciate if you write a brief summary of that over here.
Dear AXIOM, the questions and the answers to the questions like the ones you have raised can be found HERE and HERE.

regards and all the best.
 

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
بحث کا مقصد اگر آپ سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کا تمسخر اڑانا ہے تو آپ کے سوال کا کوئی جواب بھی آپ کی ضد اور انا کی تسکین کے لئے کافی نہیں ہو گا. علم حاصل کرنا اور اس میں اضافے کی خاطر سوالات اٹھانا علم کا بنیادی جزو ہے. علم کسی کی ذاتی میراث ہوتا تو پھر کہا جا سکتا تھا کہ صاحب علم جسے چاہے عنایت فرما دے اور جسے چاہے محروم کر دے. ہر انسان یہ حق رکھتا ہے اسے جس چیز کو ماننے, پوجنے, اور جس ضابطہ قانون پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا گیا ہے کیا اس کا وجود ہے بھی یا نہیں? اگر ہے تو کیا ویسا ہی ہے جیسا پرکھوں نے بتایا ہے یا اس سے مختلف. جو قوانین اور ضابطہ حیات اس سے منسوب ہیں کیا واقعی حقیقت ہیں? یہ سب جاننے کے لئے ہر آزاد اور زی شعور انسان سچ اور حقیقت جاننے کی جستجو کرتا ہے. جبکہ ایک غلام انسان دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو سر خم تسلیم کئے اپنی زندگی ایک انجانے و لاشعوری خوف کے عالم گزار دیتا ہے کہ کہیں کسی بات پہ جو عقل کو گوارا نہیں اس پر سوال اٹھایا یا مخالفت کی تو کہیں رزق سے نا محروم کر دیا جائے, کہیں دنیا میں ذلت و رسوائی نا لکھ دی جائے, عذاب میں نا مبتلا کر دیا جائے, اولاد کی نعمت سے نا محروم ہو جاؤں اور اس طرح کے سینکڑوں انجانے خوف.
اگر مذاھب کے قوانین اور ضابطہ حیات واقعی الہامی ہیں تو ایک آزاد سوچ رکھنے والی عقل تقاضا کرتی ہے کہ یہ ہر نقص و کمی بیشی سے پاک ہونے چاہیں. اگر کوئی کمی ہے تو کیونکر? الہامی شے میں کمی کی گنجائش کیسے ممکن ہو سکتی ہے. کیا وجہ ہے کہ ہر دور میں ایک نیا مذھب اور ایک نئی الہامی کتاب وجود میں آتی ہے. خاص طور پر پچھلے چند ہزار سال سے ان کا نزول شروع ہوتا ہے جب انسان پڑھنا لکھنا سیکھتا ہے اور علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھتا ہے . نئی تھیوریاں نئے قانون نئے فلسفے جنم لیتے ہیں. اس کے بعد جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جاتا ہے ویسے ہی ہر دور کے انسان کا مذھب مختلف ہوتا جاتا ہے. ضابطہ حیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں . نئے قوانین کا وجود ہونے لگتا ہے. حالانکہ انسان کا وجود لاکھوں سال پہلے بھی اس زمین پر تھا. اگر کوئی قانون, کتاب, ضابطہ واقعی الہامی تھا تو اس دن سے وجود میں آنا چاہیے تھا جس دن انسان کا وجود ہوا جب وہ غاروں میں جانوروں سی زندگی گزار رہا تھا . لاکھوں سال بعد حال ہی میں الہامی کتابوں کا نزول ہونا اچنبھے کی بات ہے . جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جیسے آپ نے کہا کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہے اور کائنات کا خالق خدا ہے تو اس کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا کا وجود کیسے ممکن ہوا? یہ گورگھ دھندہ اتنی آسانی سے حل ہونے والا نہیں. فلحال تو اس پہ غور کیا جانا چاہیے کہ تا وقت ہمارے پاس جو مذاہب موجود ہیں جو کہ الہامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں کیا یہ الہامی ہیں یا انسان کے بنائے ہوئے ہیں

No, A simple no.
All the religions we have today Especially Islam. Are NOT FROM THE ALMIGHTY as interpreted today.

Khuda ka Deen itna Tang nazar nahi ho sakta jitna in Mullaon ka deen hay.

Jahan tak baat rahi Gorakh dhanday aur philosophy ki.
To i am talking about empirical proofs here not theories
 

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
بحث کا مقصد اگر آپ سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کا تمسخر اڑانا ہے تو آپ کے سوال کا کوئی جواب بھی آپ کی ضد اور انا کی تسکین کے لئے کافی نہیں ہو گا. علم حاصل کرنا اور اس میں اضافے کی خاطر سوالات اٹھانا علم کا بنیادی جزو ہے. علم کسی کی ذاتی میراث ہوتا تو پھر کہا جا سکتا تھا کہ صاحب علم جسے چاہے عنایت فرما دے اور جسے چاہے محروم کر دے. ہر انسان یہ حق رکھتا ہے اسے جس چیز کو ماننے, پوجنے, اور جس ضابطہ قانون پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا گیا ہے کیا اس کا وجود ہے بھی یا نہیں? اگر ہے تو کیا ویسا ہی ہے جیسا پرکھوں نے بتایا ہے یا اس سے مختلف. جو قوانین اور ضابطہ حیات اس سے منسوب ہیں کیا واقعی حقیقت ہیں? یہ سب جاننے کے لئے ہر آزاد اور زی شعور انسان سچ اور حقیقت جاننے کی جستجو کرتا ہے. جبکہ ایک غلام انسان دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو سر خم تسلیم کئے اپنی زندگی ایک انجانے و لاشعوری خوف کے عالم گزار دیتا ہے کہ کہیں کسی بات پہ جو عقل کو گوارا نہیں اس پر سوال اٹھایا یا مخالفت کی تو کہیں رزق سے نا محروم کر دیا جائے, کہیں دنیا میں ذلت و رسوائی نا لکھ دی جائے, عذاب میں نا مبتلا کر دیا جائے, اولاد کی نعمت سے نا محروم ہو جاؤں اور اس طرح کے سینکڑوں انجانے خوف.
اگر مذاھب کے قوانین اور ضابطہ حیات واقعی الہامی ہیں تو ایک آزاد سوچ رکھنے والی عقل تقاضا کرتی ہے کہ یہ ہر نقص و کمی بیشی سے پاک ہونے چاہیں. اگر کوئی کمی ہے تو کیونکر? الہامی شے میں کمی کی گنجائش کیسے ممکن ہو سکتی ہے. کیا وجہ ہے کہ ہر دور میں ایک نیا مذھب اور ایک نئی الہامی کتاب وجود میں آتی ہے. خاص طور پر پچھلے چند ہزار سال سے ان کا نزول شروع ہوتا ہے جب انسان پڑھنا لکھنا سیکھتا ہے اور علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھتا ہے . نئی تھیوریاں نئے قانون نئے فلسفے جنم لیتے ہیں. اس کے بعد جیسے جیسے انسان ترقی کرتا جاتا ہے ویسے ہی ہر دور کے انسان کا مذھب مختلف ہوتا جاتا ہے. ضابطہ حیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں . نئے قوانین کا وجود ہونے لگتا ہے. حالانکہ انسان کا وجود لاکھوں سال پہلے بھی اس زمین پر تھا. اگر کوئی قانون, کتاب, ضابطہ واقعی الہامی تھا تو اس دن سے وجود میں آنا چاہیے تھا جس دن انسان کا وجود ہوا جب وہ غاروں میں جانوروں سی زندگی گزار رہا تھا . لاکھوں سال بعد حال ہی میں الہامی کتابوں کا نزول ہونا اچنبھے کی بات ہے . جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جیسے آپ نے کہا کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہے اور کائنات کا خالق خدا ہے تو اس کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا کا وجود کیسے ممکن ہوا? یہ گورگھ دھندہ اتنی آسانی سے حل ہونے والا نہیں. فلحال تو اس پہ غور کیا جانا چاہیے کہ تا وقت ہمارے پاس جو مذاہب موجود ہیں جو کہ الہامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں کیا یہ الہامی ہیں یا انسان کے بنائے ہوئے ہیں

Mein is theory say Ittafaq nahi kerta kay insan ibtida mein janwaron ki si zindagi per tha.
Infact the so called primitive man was more intellectual than us today. And i have proofs for my claim
 

AXIOM

MPA (400+ posts)
No, A simple no.
All the religions we have today Especially Islam. Are NOT FROM THE ALMIGHTY as interpreted today.

Khuda ka Deen itna Tang nazar nahi ho sakta jitna in Mullaon ka deen hay.

Jahan tak baat rahi Gorakh dhanday aur philosophy ki.
To i am talking about empirical proofs here not theories

I think I couldn't get what you really meant in your thread. Whats your say on religions, Are they really divine or just a man made words? Whats your concept of a divine power? Does angels, hell & heaven sort of things exist? Whats the purpose of life on earth?