حیرت ہے ، میڈیا کو بھی افسوس ہے

Sirphira

Minister (2k+ posts)
سرِ شام ٹی وی سکرینوں پر بلند ہوتے نوحے سنیے اور سر پیٹ لیجیے،اب معصوم سنبل پر بیتی قیامت پر ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی غم زدہ ہے۔معلوم نہیں کس کا ہے لیکن کتنا حسبِ حال شعر ہے:
تمام رات جو خندق میں ریت بھرتا رہا
اسی کو شہر کی خاطر اداس بھی دیکھا
میں گزشتہ چند روز سے سنبل کیس پر الیکٹرانک میڈیا کے احباب کو درد کی تصویر بنے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں مگر مچھ بھی ایسے ہی آنسو بہاتا ہوگاصرف اتنے سے فرق سے کہ آنسو بہانے کی یہ نوٹنکی وہ میک اپ کے بغیر کرتا ہوگا۔
جان کی امان پاؤں تو عرض کروں آج ہمارا سماج بے حیا ئی،بے شرمی اور اخلاق باختگی کی جس آگ میں جل رہا ہے یہ آگ اسی میڈیا کی لگا ئی ہوئی ہے۔اپنی لگائی آگ میں جب سماج کی پوریں جل رہی ہیں تو یہ میڈیا اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے نئی نوٹنکی کرنے پر اتر آیا ہے۔سکرینوں پر بیٹھے زبان درازوںکی گز بھر لمبی زبانوں کے شر کا خوف اپنی جگہ لیکن کیا پورے سماج نے خود کو الیکٹرانک میڈیا کے طفلانِ خود معاملہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان ٹارزنوں سے کہہ سکے کہ ستم ظریفو! ہماری اقدار کو برباد کرنے کے بعد اب کسی ایک سانحہ پرریٹنگ کی ہوس میں مگرمچھ کے آنسو بہا بہا کرہماری حسیات کا خون کرنے سے بہتر ہے پل بھر کو رکو اور اپنے گریبانوں میں جھانکو،اپنی حرکتوں پر توجہ
فرماؤ اور اپنی اداؤں پر غور کرو۔
میڈیا بہت آزاد ہے،اور اس آزاد میڈیا کے لمبے ہاتھوںکے کمالات کے اعتراف کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اس کی جملہ
آنیوں جانیوں کا خلاصہ تین لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے: جنس، ہیجان اور سنسنی خیزی۔اس کے دامن میں اس کے علاوہ اگر کچھ ہے تو ہم اس بریکنگ نیوز کے منتظر ہیں۔

اب سنبل پر قیامت بیتی، سماج تو آنسو بہائے، میڈیا کیوں بہائے؟چھلنی تو بولے سو بولے چھاج کیوں بولے۔میڈیا نے آج تک دکھایا ہی کیا ہے کہ اخلاقیات کی پامالی پر وہ بھی دکھی ہو۔مارننگ شوز کا مرکزی نقطہ کیا ہے؟ احباب مجھے معاف کرسکیں تو میں عرض کروں کہ جنس۔اجنبی کلچر اس سماج پر آپ نے مسلط کر دیا۔ بے حیائی کو آپ نے فروغ دیا، عورت کو جنس بازار آپ نے بنایا، اخلاقی قدریں آپ نے پامال کیں، عورت کے وجود کو آپ نے ایک کموڈیٹی بنا دیا، سکرینوں پر خبریں اب پڑھی کم جاتی ہیں اور اچھل کود کے ساتھ جسمانی خدوخال زیادہ نمایاں کئے جاتے ہیں۔سنڈے میگزین اس وقت تک نا مکمل ہیں جب تک سرورق کسی نیم عریاں تصویر سے مزین نہ ہو،سرحد کے اس پار کسی اخلاق باختہ اداکارہ کا جسم زیرو سائز کا ہو جائے تو ہمارا میڈیا یوں پھولی سانسوں کے ساتھ اس خبر پر اٹکھیلیاں کرتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے،باقی کی ہم نصابی سرگرمیوں کو تو چھوڑیے سکرین پر ملبوسات اب یوں مختصر سے مختصر ہوتے جا رہے ہیں کہ گاہے گمان گزرتا ہے میڈیا ہاؤسز نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے،ڈرامے ایسے بے ہودہ ہیں کہ آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے،خونی رشتوں کو جنس بازار بنایا جا رہا ہے اور اسے روشن خیالی کا نام دے دیا گیا ہے، کوئی معترض ہو تو احباب منہ سے جھاگ نکال کر دہائی دیتے ہیں : لو جی مولوی آ گیا،رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہارات ہوں یا پیرہن کے پہلی ہی نظر میں معلوم ہو جاتا ہے کسی بیمار خارش زدہ جنسی ذہن کی پیداوار ہیں۔۔۔۔۔اور جب ان خرافات کے نتیجے میں سماج میں درندگی بڑھ جاتی ہے تو یہی میڈیا پرسہ دینے آ جاتا ہے۔

اور پھر پرسہ کے نام پر بھی ایک تماشا، وہی جنسی لذت کے نام پر کاروبار اور وہی ریٹنگ کا بازاری چکر۔مزید مسالا لگانے کے لئے سکرین پر لکھ دیا جاتا ہے بچے نہ دیکھیں اور پھر ایک رقصِ ابلیس۔مٹی کا ایک مادھو، کل چیخ چیخ کر سکرین پر کہہ رہا تھا : ہم بتائیں گے آپ کو سنبل کے ساتھ ایک گھنٹہ اور بائیس منٹ کیا ہوتا رہا، جائیے کہیں نہیں ہمارے ساتھ رہیے۔کسی کی عزت لٹ گئی ان بے شرموں اور بے حیاؤں کے ہاتھ ایک تماشا لگ گیا۔بازار کا ماحول بھی ایسی صحافت سے تو بہتر ہی ہوتا ہو گا۔اگر یہی صحافت ہے تو پھر بے شرمی کیا ہے۔ادھر کسی کی بیٹی کی عزت لٹتی ہے ادھر نیم خواندہ اور ناتراشیدہ نیوز ڈائرکٹر کے حکم پر کیمرہ مینوں اور رپورٹرز کی فوج پہنچ جاتی ہے۔گاہے حیرت ہوتی ہے یہ لوگ کس ماں کی گود میں پروان چڑھے ہیں یا کس ورکشاپ پر تیار ہوئے ہیں۔معصوم بچی کی ماں سے ایک رپورٹر نے سوال کیا: آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟بے چاری دکھی ماں اس رپورٹر کو ٹک ٹک دیکھتی ہی رہ گئی۔حالانکہ اس کا جواب یہ تھا کہ جوتا اتار لیتی اور اس بطلِ صحافت کو بتاتی کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔

میڈیا اگر خود احتسابی نہیں کرتا تو پھر اس کا احتساب ہونا چاہیے۔چند ناتراشیدہ لوگوں کو جنہوں نے اپنا ضمیر اور ایمان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاں بیچ رکھا ہے یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس سماج کی بنیادوں میں بارود بھرتا رہے۔اس معاشرے میں ہم نے رہنا ہے اور ہماری نسلوں نے رہنا ہے۔ ہمیں اس کو محفوظ بنانے کا سوچنا ہوگا اور اس کام میں آزادئ صحافت کی دم پر تھوڑا سا پاؤں بھی آ جا ئے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔آزادئ صحافت کا یہ مطلب نہیں کہ نیم خواندہ اور نا تراشیدہ اہل ہوس کا ہجوم مذہب اور اخلاقیات کو سینگوں پر لے لے اور ہم اپنی بربادی کا تماشا دیکھتے رہیں۔
 

sjpti

Minister (2k+ posts)
شاباش سرپھرے آج تو کمال کردیا خود کا تو سر پھرا ھوا ہےتمھارا اپن کابھی مغز پھیر کے رکھدیا

 

the.paki

Senator (1k+ posts)
these reporters are illiterate people working in round about 10k salaries .this is what you get
they dont talk in nice manner with any one
atleast tv channels can give them basic communication skills training
 
Sponsored Link