حکومت کے پاس سرمایہ کاری کے لیے درکار پیپرورک تیار کرنے کی صلاحیت نہیں،ملک

14musadqkamaislkskdjdjdk.png

وفاقی وزیر وسینئر رہنما مسلم لیگ ن مصدق ملک نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان ود شہزاد اقبال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم ملک کو صرف پی ٹی آئی کے کیمپین کے زاویئے سے نہیں دیکھا جا سکتا، وہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں ملک برباد نہ کریں۔

بیرونی سرمایہ کاری بارے سوال پر حکومتی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمایہ کاری میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ڈیمانڈ کا مسئلہ ہے، 15 ہزار ملین ڈالر کے پراجیکٹ مرتب کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اس ایس آئی ایف سی کے تحت ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کے لیے درکار پیپرورک تیار کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اپنے سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں آنے والی سرمایہ کاری کو لیڈ پرائیویٹ سیکٹر کرے گا۔

وزیراعظم نے آج ایک اجلاس میں پوچھا کہ کون کون جائے گا جس پر بتایا گیا فلاں سیکرٹری، فلاں ایڈیشنل سیکرٹری جائے گا جس پر انہوں نے کہا جنہوں نے کاروبار کرنا ہے وہ کہاں ہیں؟ اور سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا لگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ وفد جا رہا ہے مگر پرائیویٹ سیکٹر کہاں ہے؟ کل اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا کہ 19 سیکٹر کی پرائیویٹ کمپنیوں کو بلا کر بتایا جائے انہیں کس بنیاد پر بلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ: سعودی عرب کے پاس ہم ریفائنری کیلئے تجویز لے کر گئے تھے، اس کے ساتھ منرلز کی ویلیو ایڈیشن کے منصوبے کیلئے سعودی عرب کی 2 ،2 پارٹیاں آ چکی ہیں اور وہ رابطے میں ہیں۔ نئی ریفائنری کا بھی ایک پراجیکٹ کی تجویز ہے جس کے لیے ہمیں 6 سے 8 مہینے تک سٹڈی کرنی پڑے گی اور اس پر بھی اس دفعہ بات ہو گی اور بہت سے معاملات پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1795017329262137610
مصدق ملک کی طرف سے حکومتی نااہلی کے اعتراف پر سوشل میڈیا پر ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چودھری فواد حسین نے لکھا:سوال یہ ہے کہ جب پاکستان کے اپنے سرمایہ کار پاکستان میں پیسہ نہیں لگا رہے تو عرب کیوں پاکستان میں پیسے لگائیں گے؟

انہوں نے لکھا کہ: حقیقت یہ ہے کہ ملکوں کو اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا ہوتا ہے اور عوام کو اپنے ملک پر اعتماد ہوتا ہے! مصدق ملک کی حکومت پر پاکستانی اعتبار نہیں کرتے کیونکہ لوگوں کی عزت محفوظ نہیں، باہر سے پیسہ آنا خام خیالی ہے!

https://twitter.com/x/status/1795067275747176716
سعد نامی سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: اور یہ بات ان کو سوا سال بعد پتہ چلی ہے کہ ہمارے حلومتی سیکٹر کے پاس سرمایہ کاری کو ہینڈل کرنے کیلئے پیپر ورک تیار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں! زبردست، تالیاں، اس سپیڈ پہ کام کرتے رہے تو انشاءاللہ جلد ہی سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آجائے گی۔

https://twitter.com/x/status/1795069883278893522
ایک اور صارف نے لکھا:نجی سیکٹر نے یہ سب کچھ کرنا ہے تو اسے ایس آئی ایف سی کی کیا ضرورت ہے، وہ خود بھی یہ کام کر سکتے ہیں!

https://twitter.com/x/status/1795075480007155926