حکومت نان فائلرز کےخلاف ان ایکشن،انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ

1fbrnonfilerksjdhdj.png


فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے7 لاکھ سے زیادہ نان فائلرز کو نوٹس جاری کر دیے,ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس کے بعد ٹیکس جمع نہ کرانے والوں کی موبائل فون سم بلاک کی جائیگی، دوسرے مرحلے میں ٹیکس نادہندگان کے بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے جائیں گے, ایف بی آر نے اس سال10 لاکھ سے زائد نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف رکھا ہے۔

ایم ایف مذاکرات کے تحت نان فائلرز کے بجلی کنکشن کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے,فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور عالمی مالیاتی فنڈ تکنیکی ٹیم کے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، ایف بی آر اور آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم کے ورچوئل مذاکرات میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سمیت مختلف شعبوں سے ٹیکس کی وصولی پر تبادلہ خیال ہوا۔

ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ ورچوئل مذاکرات میں منافع بخش کاروبار پر ٹیکسوں کے نفاذ پر بھی بات چیت ہوئی اور نان فائلرز کو بھجوائے گئے نوٹسز پر آئی ایم ایف ٹیم کو بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم کو بریفنگ میں بتایا کہ اب تک 7 لاکھ 46 ہزار نان فائلرز کو نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں، اس میں نان فائلرز کے خلاف بجلی کے کنکشن کاٹنے کا قدم اٹھایا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم ایف بی آر سے ہونے والے مذاکرات پر رپورٹ جاری کرے گی جب کہ آئی ایم ایف تکنیکی ٹیم اور ایف بی آر کے درمیان رواں ہفتے مذاکرات جاری رہیں گے۔

بورڈ آف ریونیو نے7 لاکھ سے زیادہ نان فائلرز کو نوٹس جاری کر دیے,ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو نوٹس آئی ایم ایف کی رہنمائی کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نان فائلرز کو نوٹس بینکوں اور بجلی کے بلوں کے مطابق جانچ کرکے بھجوائے گئے ہیں، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پرگوشوارے جمع کرائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس کے بعد ٹیکس جمع نہ کرانے والوں کی موبائل فون سم بلاک کی جائیگی، دوسرے مرحلے میں ٹیکس نادہندگان کے بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے اس سال10 لاکھ سے زائد نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف رکھا ہے۔

حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے 145 وفاقی و صوبائی اداروں سے ڈیٹا لینے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے تمام بینکوں،ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز سمیت تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں ،سول ایوی ایشن ،صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹس سمیت مجموعی طور 145 وفاقی و صوبائی اداروں کو رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس رولز2002میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے اسٹیک ہولڈرز سے آرا و تجاویز لینے کے لیے جاری کردیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ 7 دن کے اندر اندر اپنی آرا و تجاویز بھجوائیں، مقررہ میعاد کے بعد موصول ہونے والی آرا و تجاویز کو قبول نہیں کیا جائے گا اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ترمیمی رولز لاگو کردیے جائیں گے۔


مجوز رولز میں 145 اداروں کو رئیل ٹائم ڈیٹا اینالیسز ریڈار سے منسلک کرنے کا کہا گیا ہے اور ایف بی آر کے جاری نوٹیفکیشن میں وفاقی اور صوبائی محکموں سمیت بینکوں کو بھی نظام کے ساتھ منسلک ہونا ہوگا اور جو ادارے ایف بی آر کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے یا منسلک ہونے کے بعد خلاف ورزی کریں گے اور رئیل ٹائم ڈیٹا شیئر نہیں کریں گے، ان کے ذمے دار افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی جس کے تحت انہیں جرمانے اور سزائیں دی جائیں گی۔

دستاویز کےمطابق نظام کے قیام سے ٹیکس حکام کو مختلف ڈیٹا بیسز سے رئیل ٹائم معلومات دستیاب ہوں گی۔ ایف بی آر نے رئیل ٹائم نظام کے قیام کے لیے انکم ٹیکس قوانین میں ترامیم کے مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کو مختلف اداروں کے ڈیٹا بیسز تک مکمل رسائی دستیاب ہو گی۔ مجوزہ ترامیم رولز میٹ ایف بی آر نے تمام اداروں کو 15 جنوری 2024 تک ریڈار سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کا ہدف مقرر کیا ہے۔