حضرت عزیر علیہ السلام

ابابیل

Senator (1k+ posts)
story%2Buzeer.png



لیجئے ایک نبی ؑ کا قصہ سنئے جو ایک گدھے پر سوار ایک سفر پر رواں دواں تھے کہ موت نے آ لیا۔ ایک سو برس موت کی حالت میں پڑے رہے اور پھر زندہ کئے گئے، مگر زمانے کے تغیرات سے وہ بے خبر ہی تھے۔
اَوْکَا لَّذِیْ مَرَّعلٰی قَرْیَةٍ وَّھِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِھَا قَالَ اَنّٰی یُحْی ھٰذِہِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِھَا فَاَمَاتَہُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَ بَعَثَہ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرٰبِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَ نَکْسُوْھَا لَحْمًا

یا اس شخص کی مانند جس کا گذر ایک ویران بستی سے ہوا۔ اس نے کہا کہ اللہ کس طرح اِس (مُردہ بستی) کو موت کے بعد زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے اس کو بھی موت کی نیند سلا دیا اور وہ سو برس مرا پڑا رہا۔ پھر اس کو زندہ کیا۔ اس سے پوچھاکہ تم اس حال میں کتنی مدت رہے؟ عرض ہوا کہ ایک یوم یا اس کا کچھ حصہ۔ ارشاد ہوا کہ تم تو سو برس اس حال میں رہے ہو۔ پس اب تم اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو ،وہ باسی نہیں ہوئیں۔ اور اپنے گدھے کی طرف دیکھو۔ ہم تمھیں ان لوگوں کے لیے نشانی بناتے ہیں۔ ان ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ ہم کس طرح ان کو جوڑ کر گوشت پوست پہناتے ہیں ۔ (البقرة:259

ان واقعات پر اگر آپ بھی غور فرمائیں تو سمجھ میں بات آتی ہے کہ موت وارِد ہونے کے بعد کسی نبی یا بزرگ کا اس مادی دنیا کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رہتا۔ وہ ہماری آہ و فُغاں سن بھی نہیں سکتے، فریادپوری کرناتو دور کی بات ہے۔!
برا نہ مانیں بلکہ سوچیں اور قرآن پڑھیں۔ اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔ غصہ میں آنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ لیجئے اور پڑھیئے:
﴿
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَھُمْ عَنْ دُعَآئِھِمْ غٰفِلُوْنَ وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآءً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ ﴾ (الأحقاف:6-5)

اس شخص سے بڑھ کر گم کردہ راہ کون ہو گا جو اللہ کے سوا اُس کو پکارتا ہے جو روزِ قیامت تک اُس کی پکار قبول نہ کر سکے اور اس کی چیخ و پکار سے بھی بے خبر ہو۔ پھر جس روز لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو وہ ان پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے ۔
غور فرمائیں! صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس سے مراد محض بت نہیں بلکہ وہ ہستیاں مراد ہیں جن سے کوئی بُت یا قبر منسوب ہوتی ہے۔ اور جن کو لوگ عقیدت سے پکارتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آیا تو قرآن پاک کا یہ مقام پڑھیں۔ارشاد ہوا ہے:
﴿
اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًَا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَسْتَطِیْوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ ﴾(الأعراف:192-191)

کیا یہ لوگ ان کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو کچھ پیدا تو نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ ان کی مدد کی قوت بھی نہیں رکھتے اور اپنے لیے بھی کچھ نہیں کر سکتے ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْ ھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا ﴾ (الأعراف:195-194)
بیشک جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ وہ تمہاری طرح کے بندے ہیہیں پس تم ان کو پکار دیکھو، اگر تم سچے ہو تو وہ تمہاری پکار کو قبول کریں۔ کیا ان کے پاوٴں ہیں؟ جن سے وہ چل سکیں۔ کیا ان کے ہاتھ ہیں؟ جن سے وہ پکڑ سکیں۔ کیا ان کی آنکھیں ہیں؟ جن سے وہ دیکھ سکیں۔ کیا ان کے کان ہیں؟ جن سے وہ سن سکیں ۔
سوچئے! کہ اس شخص سے بڑھ کر کون قابلِ رحم ہو سکتا ہے۔ جو اللہ قادرِ مطلق کو چھوڑ کر بزرگوں کو پکارتا ہے۔ جو ہماری طرح کے بندے تو ہیں مگر اُن کے اعضاء کام نہیں کرتے۔ یہ بُت نہیں بلکہ
عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ(تمہاری طرح کے بندے) ہیں ۔۔۔

پھر فرمایا:
﴿ وَالَّذِینَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَیْرُُاَحْیَآءٍ وَّمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ﴾ (النحل:21-20) اور اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے ۔بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ وہ تویہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔
بتوں کو اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بزرگ ہی ہیں۔ ان کو معلوم تک نہیں کہ انکو پکارا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن وہ انکار کر دیں گے بلکہ جھگڑیں گے:
﴿
وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآوٴُکُمْ فَزَیَّلْنَابَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآوٴُ ھُمْ مَّاکُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًامْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ ﴾ (یونس:29-28) اُس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر شریک بنانے والوں کو کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر ہم ان کو الگ الگ کر دیں گے۔ جن کو وہ اللہ کا شریک بناتے رہے ہوں گے وہ کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے کہ تم ہماری عبادت ہر گز نہیں کرتے تھے۔ ہم تو تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے ۔
اللہ کرے کہ اب آپ سمجھ گئے ہوں کہ یہ جھگڑنے والے بُت نہیں، بلکہ بزرگ ہیں۔ کیونکہ اللہ نے ان سے بھی جواب طلبی فرمائی ہے اور وہ اپنا دامن صاف کرنے کے لئے جھگڑ رہے ہیں:


﴿
وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مَنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓوٴُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ قَالُوْاسُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَآءَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًام بُوْرًا فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ بِمَاتَقُوْلُوْنَ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا ﴾ (الفرقان:19-17)
جس دن اللہ کے سوا عابد و معبودوں کو اکٹھا کیا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی گم کردہ راہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات تو پاک ہے۔ ہم کو تو خود یہ بات زیب نہیں دیتی تھی کہ تیرے سوا کسی کو کارساز بنا لیں مگر تو خود ہی ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو فائدے دیتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ تیرا ذکر بُھلا کر ایک ہلاک ہونے والی قوم ہو گئے۔ (اے مشرکو !) جو دعویٰ تم آج کر رہے ہو، اس میں وہ تم کو جھوٹا قرار دیں گے۔ تم اللہ کے عذاب کا رُخ نہ پھیر سکو گے اور تمہارا کوئی حامی و ناصر نہ ہو گا ۔
میرے بھائیو! کیا اب بھی آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ بُت ہی ہیں،بزرگ نہیں ہیں ۔ لیجئے ،ایک بزرگ ہی کا نام لے کر آپ کی غلط فہمی رفع کر دیتا ہوں۔


ارشاد ہے:
﴿ وَاِذْ قَالَ اللهُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِی وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہ فَقَدْ عَلِمْتَہ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٓ اَنِ اعْبُدُواللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ ﴾ (المآئدة: 117-116)

جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابنِ مریم (علیہ السلام)! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ کارساز بنا لینا؟ وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات تو پاک ہے۔ مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں وہ بات کہوں جو کہنے کا مجھے حق نہ پہنچتا ہو۔ اگر میں نے کہا بھی ہوتا تو تجھ کو علم ہوتا کیونکہ تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے دل کی بات نہیں جان سکتا۔ بے شک تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔ میں نے اس کے سوا انہیں کچھ نہیں کہا تھا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم فرمایا تھا۔ اور وہ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو،جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان کو دیکھتا رہا۔ لیکن جب تو نے مجھ کو دنیا سے اٹھا لیا تو ان کا نگہبان تو ہی تھا۔ بے شک ہر چیز کو دیکھنے والا تو ہی ہے ۔

جو اَب بھی نہ سمجھے اس کا کیا علاج؟ میں نے کہا تھا کہ بُت پرست دنیا میں کوئی نہیں۔ بُت کی پوجا سے مراد دراصل بزرگ کی پوجا ہے۔ موت کے بعد کوئی بزرگ ہمارے حالات سے آگاہ نہیں۔ یہ بزرگ ہماری عبادت کا انکار کر کے اپنا دامن صاف کرنے کے لئے جھگڑیں گے، جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔ مسلمان بھائیو! سوچو! ہم کیا کر رہے ہیں؟
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
گِرے آگ پر بہرِ سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
 
Last edited by a moderator:

omerbest

MPA (400+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

............................
 
Last edited:

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

mera aik sawal hay chota sa.
Kia koi insan. Mustaqbil ka haal bata sakta hay?
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہو تی هے
ہوس چهپ چهپ که سینوں میں بنا لیتی هے تصویریں
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

mera aik sawal hay chota sa.
Kia koi insan. Mustaqbil ka haal bata sakta hay?
نہیں بالکل بهی نہیں عالم الغیب صرف الله کی ذات هے اور بس
 

Aamir Shehzad

Councller (250+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

نہیں بالکل بهی نہیں عالم الغیب صرف الله کی ذات هے اور بس
Bro Quran e Pak me hi hazrat khizar AS aur hazrat mussa AS qissa he jis k mutabiq wo mustaqbil k halat jante he is k ilawa
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

Bro Quran e Pak me hi hazrat khizar AS aur hazrat mussa AS qissa he jis k mutabiq wo mustaqbil k halat jante he is k ilawa
با لکل ٹهیک مگر حضرت خضر علیه السلام وهی بتاتے تهے جو الله نے ان کو بتایا تها نه کم نه زیاده
 

karachiwala

Prime Minister (20k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

Bro Quran e Pak me hi hazrat khizar AS aur hazrat mussa AS qissa he jis k mutabiq wo mustaqbil k halat jante he is k ilawa


In the story of Ghizr AS there is no mention of Hazrat Ghizr AS saying anything about future. He just says that whatever he did, he did not do it of his own accord. So if ALLAH SWT ordered him to do something and told him why he has to do that then this will not mean that he knew about the future. And ALLAH SWT knows best.
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

نبی اکرم کی زندگی میں ایسے کئی پریشانی کے مواقع آئے
مگر آپ غیب کا علم نہیں رکھتے تھے
آپ اس وقت تک اس پریشانی میں مبتلا رہے جب تک الله سبحان و تعالی نے آپ کو وحی کے ذریعے بتا نہیں دیا
 

Aamir Shehzad

Councller (250+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

با لکل ٹهیک مگر حضرت خضر علیه السلام وهی بتاتے تهے جو الله نے ان کو بتایا تها نه کم نه زیاده

G bhai mustaqbil k bare me aagahi dedne wali Allah hi ki zat thi
 

mubashirrao

MPA (400+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

آپکی بات سے سو فیصد اتفاق ہے لیکن ایک بات آپ غلط کر رہے ہیں آپ قرآن میں ان ایک حضرت کے واقعے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ نبی قبر میں زندہ نہیں ہوتا ، لیکن جب کے الله کے رسول نے ہمیں بتایا ہے کہ میں نے موسیٰ علیہ اسلام کو قبر میں زندہ پایا اور نماز پڑھتے پایا ، صحابہ نے جگہ دریافت کی تو آپ نے نہیں بتائی
آپ نے فرمایا انبیا قبروں میں زندہ ہوتے ہیں کیونکہ آپ نے خود جو موسیٰ علیہ اسلام کو نماز پڑھتے جو پایا .
الله کے علاوہ کسی سے بھی بے شک نبی ہوں یا الله کے بندے مانگنا حرام ہے ، دینے والی ذات صرف الله کی ہے یہی ہمیں ہمارے نبی نے سکھایا ہے

الله کے نبی سے جب صحابہ نے قیامت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں بھی اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم جانتے ہو ، مختلف احادیث اس بارے میں بلکل کلیر ہیں جن میں آپ نے خود فرمایا میں غیب کا علم نہیں رکھتا ،

لیکن میں حیران ہوں لوگ ان حدیثوں پر کیوں نہیں عمل کرتے؟ لوگ اس بات کو کیوں نہیں قبول کرتے کہ الله کے نبی محمد رسول الله
بھی ایک انسان ہی تھے لیکن وہ الله کی مخلوق میں سب سے بہترین مخلوق اور انسانوں میں سب سے بہترین انسان تھے جب آپ کلمہ کہتے ہیں تب بھی آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں "محمد عبد و رسوله
 

M javed

Banned
بلھے شاہ اساں مرنا ناہین گور پیا کوی ھور

سب درست مگر خدا پر فتوے تو نہ لگاو

اگر وہ خود کچھ کرنا چاہے تو کیا تم اس پر پابندی لگا سکتے ہو

وہ تو مرضی کا مالک ہے وہ کسی سے پوچھ کر تو کچھ نہں کرتا

ایک حدیث قدسی کے مطابق جب ایک مومن توافل کے ذریعے اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے تو الله کی ذات فرماتی ہے میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بات کرتا ہے میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ کام کرتا ہے میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے

محبت ایک فنایت کا نام ہے جس میں انفرادیت ختم ہو جاتی ہے

عبادت اور عشق میں فرق ہے

ایک مخلص عبادت عشق کا دروازہ کھول سکتی ہے لیکن عشق کبھی یکطرفہ نہں ہوتا

عبادت اکثر یکطرفہ ہوتی ہے - اس لیے کہ عبادت الله کا آپ پر حق ہے

عشق کے لیے ضروری ہے کہ جس سے تم عشق کرو وہ تمہارا ہاتھ تھام لے

اسلام زندگی گزارنے کا ایک طریقہ بھی ہے

نبی اللہ کے پیغام سے ایک قدم یا ایک سانس بھی آگے نہں جا سکتے

اور الله کی ذات ہر ایک سے عشق نہں کرتی

اور نا ہر ایک الله کی ذات سے عشق کرتا ہے

جس سے وہ عشق کرتا ہے اس کو وہ آرام سے نہں بیٹھنے نہں دیتا

لہٰذا کتابی باتیں کچھ اور ہیں قطرے کا سمندر میں ڈوب جانا یا ایک ذرے سے سورج کی چمک کا آنا کچھ اور ہے

بہتر ہے عبادت تک ہی رہو - حقایق کو آپس میں خلط ملط نا کرو

 
Last edited:

sameer

MPA (400+ posts)
who is poet by the way who wrote it all
@aba beel


کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
 
Last edited:

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام

با لکل ٹهیک مگر حضرت خضر علیه السلام وهی بتاتے تهے جو الله نے ان کو بتایا تها نه کم نه زیاده

acha ji? yeh kaheen likha hay quran mein?
 

Ali raza babar

Chief Minister (5k+ posts)
Re: حضرت عزیر علہ السلام


In the story of Ghizr AS there is no mention of Hazrat Ghizr AS saying anything about future. He just says that whatever he did, he did not do it of his own accord. So if ALLAH SWT ordered him to do something and told him why he has to do that then this will not mean that he knew about the future. And ALLAH SWT knows best.

Read Surah kahf.
Apni taraf say bongian na mara kero jahilo.
Apnay matlab ki khatir quran ko badal daitay ho tum log sharam kero zara
 
Sponsored Link