جیدا عقلی۔تیسرا حصہ

monh zorr

Minister (2k+ posts)


منہ زور کی کبھی نہ چھپنے والی کتاب" نوجوانان شرستان سے ایک صفحہ
بھائی جاوید چودہری


محترم جاوید چودہری، ٹاک شوز کی ،،مال پکڑ،، دنیا میں ایک معتبر کارندے یعنی اینکر کے کے نام سے پہچانے جاتےہیں،اینکر انگریزی زبان کا لفظ ہے،یہ بڑے بڑے جہازوں کو سمندر کی موجوں کےتھپیڑوں سے بچا کر ایک جگہ قائم رہنے میں مدد دیتا ہے،چونکہ ٹاک شو کےکچھ میزبان،قوم کے بیشتر غاصبوں کو قوم سے بچا کر انہیں اقتدار پر قابض رہنے میں مدد دیتے ہیں،اسلئے انہیں اینکر کہا جاتا ہے

آپ کی زندگی،نوجوانوں کیلئے ایک مثال ہےآپ نےدیکھتے دیکھتے ایک مقام پاکر ملک کے سسکتے،بلکتے میرٹ کی دہائیاں دیتے ہوئے نوجوانوں کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر انسان میں لگن ہو،،،اگر انسان میں محنت ہو،اگر انسان کو کام کے آدمی کی پہچان ہو،،اور اگر اسے کام کے آدمی کو پکڑ کر لٹک جانے کا فن آتا ہو،،،ہزار دکھے ،ہزار جوتے کھا کر بھی کام کے آدمی سے چپکا رہنے کی ہمت ہو تو بندہ ایک دن پنڈ کی کوٹھری سے بحریہ ٹاؤں کی کوٹھی تک پہونچ ہی جاتا ہے


تیسری قسط
جوتیاں چٹخانے سے جوتیاں لگانے کی پوزیشن تک پہونچنا کچھ ایسا آسان نہیں ہوتا، ایسے ہی جیسے گلی کے نکڑ پر چھونپڑا ہوٹل کی چارپائی سے،شیرٹن کی میز تک پہونچنا ،،اور وہ بھی دوسرے کی جیب سے۔ پھر بھی باعزت،یہ کوئی آسان کام نہیں،لیکن جس طرح محنت سے ایک انسان چائینز سیکھ سکتا ہے،محنت سے اس میں بھی ماہر ہوسکتا ہے ،لیکن قدرتی طور پرگجرات اور اسکے آس پاس کے علاقہ اس صلاحیت سے مالا مال پائے گئے ہیں،
ٹانگا نیکا کے مشہور فلسفی اور ماہر سماجیات 'جوشومالٹپاؤکا' کا قول ہے، کہ "دنیا میں نام اور مال بنانےکا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپکےآس پاس جو بڑا آدمی نظرآئے ،اس سے چپک جائیں،اور جب اس کے پاس کوئی اس سے بڑا ملنے آجائے تو پہلےکو دشنام طرازی کرتے ہوئے دوسرے سے لٹک جائیں،،آپ اس قول پر جتنا غور کریں گے،اتنا ہی سرور پائیں گے، اور شائدآپکو پتہ چل جائے کہ کل کے چپڑ قناطی،آج کے اوناسس،اور بقراط کیسے بنے پھرتے ہیں

محترم چودہری صاحب کسی کی بات مانیں نہ مانیں،اپنے مطلب کے فلاسفروں کے اقوال پر عمل کرنے اور زندگی سے عرق کشید کرنے کے قائل ہیں،جیسا کسی جگہ آپ نے فرمایا تھا،کہ میں اٹھارہ سال سے عمران خان کا دوست ہوں، نہ نہ دل پر لینے کی ضرورت نہیں،اس بات کو اگر جوشو مال ٹپاؤ کے قول کی روشنی میں پرکھیں تو انکی کاریگری اور بندے کی پرکھ کا قائل ہونا پڑتا ہے، ظاہر ہے اٹھارہ سال پہلے جب عمران ،دنیا بھر کا ہیرو اورآنکھ کا تارا بنا ہوا تھااسوقت یہ کیا تھے، کسی آخبار کے ایک ایسے کارندے جسکا کام بڑے لوگوں کی پوشیدہ " بڑائیاں"پکڑنا اور انہیں ضرب دیکر ایڈیٹر کے کان میں ڈالنا،اسکے علاوہ اور کیا حیثیت تھی، مگر ہمت تھی اور یہ وہ چیز ہے کہ اگر سعد رفیق بھی دکھاجائے تو وزیر بن جاتا ہے،وہ بھی ریلوے کا
جارج واشنگٹن نے کیا خوب کہا ہے،ہمیشہ حیثیت سے بڑھ کر قدم اٹھاؤ،کامیاب ہوگئے تو پوبارہ ،اور ناکام ہوئے تو تمہاری عزت میں کیا فرق پڑجائے گا، لوگ ہنسیں گے ،بھول جائینگے،عزت آنی جانی شے ہے ،جس دن ہاتھ پیسہ آگیا سمجھو،،پاکستان کی حد تک،،عزت ہاتھ آگئی

اب عمران خان سے دوستی کے اعلان کے بعد پتہ چلا ہے کہ شائد انہوں نے بھی جوشو مالٹپاؤ کے فلسفہ پر عمل کیا
اوربڑے لوگوں کی دربوسی اور وہاں سے کام کے آدمیوں کی کشید میں کامیاب رہے،سوچیں آج جس جگہ ہیں وہاں تک پہونچنےمیں،عمران جیسے نہ جانے کتنے ،،بڑوں،،کے گھروں سے کتنےکام کے آدمی پکڑ کر انکے کندھوں کو سیڑھی بنایا ہوگاواقعی انسان چاہے تو ایک چادر میں ہمالیہ سر کرسکتا ہے،

بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ آخر ایک بندہ لگاتار اسقدر کیسے لکھ سکتا ہے کہ بعد میں وہ اپنے کالموں،وغیرہ کو مجموعی شکل میں جمع کرکے اسے کتاب اور خود کو مصنف قرار دئے جانے کی ضد کرنے لگے، ہم اک بندے کے متعلق تو کچھ کہہ نہیں سکتے ،ہاں چونکہ چودہری صاحب کے فین اور انکی تحریروں کے عاشق ہیں ،اس لئے انکے بارے میں اپنی سمجھ کے مطابق کچھ کہہ دیتے ہیں،،،چلیں آپ بھی کیا یاد کریں گے،وہ نسخہ کیمیا بتادیتے ہیں جس سے آپ بھی ان جیسا ہی لکھنے لگیں گے
دیکھئے اگر آپکو حاکموں سے صرف یہ کہنا ہے کہ، بھائی اتنا مال جمع کرکے کیا کروگے،مرنا بھی ہے،،،،،،،تو بات کو ذرا دور سے شروع کریں،،کم ازکم دس ہزار میل دور جاپان سے،اب وہاں کے کسی حقیقی یا خیالی آدمی کو پکڑلیں،سوچتے جائیں،ایک امیر انسان کے پاس کیا کیا ہوسکتا ہے،،محل دو محلے،گاڑیاں،بوٹس،ہوائی جہاز، ٹرین، وہ اسکی بنادیں،ہوٹل ،سڑک ،پارک،جھیلیں اسکے نام کردیں،اب اسکا کھانا پینا،اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا،اسکے کھانے کی میز،اسکے باتھ روم میں لگے سونے کے نل، اورپھر بھی کالم بڑا نہ ہورہا ہو تو اسکے کتے بلی کے نام مع ولدیت، انکی آسائشین،ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کے فاقے او ر خواری،بیان کریں،جب سمجھ لیں کہ لوگ اب جلن اور حسد میں اچھی طرح مبتلا ہوچکے ہونگے تو دوسرا رخ اختیار کریں،اب کہانی چونکہ جاپان سے شروع کی تھی،
اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ چاپان میں زلزلے آتے ہیں،اسے کسی زلزلے میں مار دیں،،اسطرح آپکا لمبا چوڑا کالم بن جائیگا،،
آخر میں دو لائینوں میں اپنے ملک کے ان امیروں سے جنہیں دیکھ کر آپکو حسد آتا ہے،یا حاکموں سے ،جنکے سر کڑھائی میں نظرآتے ہوں کہدیں کے اتنے مال کا کیا کرو گے، ہنگ پنگ شنگ ،زلزلہ سے مرسکتا ہے تو تم بھی مرسکتے ہو،،آدھا ادھر کھسکا دو بھائی نئیں


اب چند سوالات اور چودہری صاحب کے جوابات،،اسکی ضرورت تو نہیں تھی مگر آپ لوگوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کیلئے دئے جاتے ہیں

ہم:آپ ایک عظیم صحافی ہیں،مطلب امریکہ میں لڑکی کے چکر میں جو عظیم پھنسے وہ نہیں،حقیقی عظیم،اوپر سے اینکر،کیا فرمائیں گے ،میڈیا اور اسکے رول کے بارےمیں

آنجناب:الکیٹرانک میڈیا کو فوری اصلاح کی ضرورت ہے،ہمیں فوری طور پر اپنی اصلاح کرنی ہوگی،ورنہ دوسری صورت میں ہم بے نام قبرستان کی بے نشا ن قبر بن جائینگے http://www.javed-chaudhry.com/

ہم: بے نشان قبر؟ کیا آپکا اشارہ ان پنگوں کی طرف ہے جو،آپ لوگ غلطی سے مافیاز سے لے لیتے ہیں،ورنہ عام طور سے عوام آپ حضرات کو انکے گھٹنوں کو ہی چھوتا دیکھتے ہیں؟

آنجناب: بات پوری سنا کرو،، ہم مجرم ہیں،ہم ریٹنگ کے چکر میں،ٹیلی ویزن کو ہزاروں فٹ گہری کھائی کے کنارے لے آئے ہیں،(یہ اس میں گر گیا تو معصوم اینکروں کا کیا ہوگا،)ہم ملک میں ہونے والی ہر منفی سرگرمی کو ہزاروں گناہ بڑھا کر دکھاتے ہیں،ہم نے ٹیلی ویژن کو کنفیوزن فیکٹری بنادیا،ہم نے اپنی اسکرینوں کو خود کش اینکروں کے حوالے کردیا

ہم: تو جناب کیوں کردیا آپ نے، کیا قوم نے آپکے ہاتھ جوڑے تھے کہ ایسا کرو،قوم کا قصور؟مروادیا ہمیں تو آپ نے

آنجناب: یہ لوگ اپنے ساتھ اپنے ساتھ ساتھ میڈیا اور معاشرے کو بھی تباہ کررہے ہیں

ہم،،،یہ لوگ،کون یہ لوگ،آپ ان میں شامل نہیں کیا،،صحافت اور اینکری کے ایوارڈ وغیرہ تو خوب لیتے ہیں آپ،اور شائد تنخواہ بھی اتنی پکڑتے ہیں کہ ملک کے صدر اور وزیرآعظم کی پوری مدت سے بھی زیادہ؟

آنجناب:میں؟ تم میرا پوچھتے ہو،ایں ،،،،،تو سنو، میں نے جولاہے کی طرح ایک ایک دھاگہ جوڑ کر اپنی زندگی کا غلاف بنا ہے،راج مزدور کی طرح ایک ایک اینٹ رکھ کر اپنی ذات کی مسجد بنائی ہے،میں نے اس غلاف کو کبھی آلودہ ہونے دیا اور نہ ہی ذات کی مسجد میں کسی بے ایمانی کو قدم رکھنے دیا،میں نے بڑی مشکل سے آزاد سوچنا،،آزاد بولنا، اورآزاد لکھنا سیکھا ہے،کسی کو یہ آزادی چھینے دونگا، نہ خریدنے دونگا، کسی میں اگر گالی دینے کی ہمت ہے تو سامنے آئے،،

ہم،،آپ بکنے خریدے جانے کی بات کررہیں ہیں،کوئی مسجد بھی آپ نے بنائی ہے بیچ میں یہ گالی کہاں سے آگئی؟،،، ویسے گالی سے یاد آیا،،آپ کو لوگوں سے شکایت ہے کہ وہ آپکو گالیاں دیتے ہیں

آنجناب: میرا میل باکس ،گالیوں سے بھرا پڑا ہے،میرے فیس بک ،ٹیوٹر کے اکاؤنٹ کا بیڑا غرق کر دیا ہے،میں کہتا ہوں ،پی ٹی آئی والوں میں ہمت ہے تو سامنے آکر،،،،،،،،،،،

ہم: پی ٹی آئی،،،،یہ اپ کیسے کہہ سکتےہیں کہ یہ گندی حرکت پی ٹی آئی والے کرتے ہیں،دیکھیں نہ ای میل کا زمانہ ہے،کوئی بھی کسی کا بھی نام لیکر،یہ کام کرسکتا ہے،،

آنجناب: تم زیادہ عقلمند ہو کہ میں

ہم: ظاہر ہے آپ

آنجناب: تو پھر بس،،میں کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی والے ہیں ،،تو ہیں،آئی سمجھ،،یا تم بھی پی ٹی آئی والے ہو؟

میں نے عمران پر تنقید کی تھی،میری مجبوری تھی،اب اسکے لوگ گالیاں نکالتے ہیں

ہم: عمران پر تنقید؟ مگر آپ نے تو کہیں فرمایا ہے ،آپ اسکے اٹھارہ سال تک دوست رہے،،پھر وجہ؟

آنجناب: وجہ،،ہاں بے وجہ تو آج نہ دوستی ہوتی ہے ،نہ دشمنی،، مگر یہاں نہیں بتا سکتاتم کہیں اکیلے ملو پھر بتاتا ہوں،،،اب ظاہر ہے چودہری شجاعت جیسے معتبر سے بندہ اکیلے میں نہیں مل سکتا، تو بس سمجھیں بات ختم ہوگئی

چودہری صاحب کوپتنگ بازی،پرویز رشید کی طرح غلیل بازی، بٹیر بازی،یا دیگر سامان ِ ممنوعہ کے ساتھ لگائے جانے والی کسی بازی کا کوئی شوق نہیں رہا،، ہاں مقابلہ بازی جس میں دوسرے آدمی سے آگے بڑھ جانا مقصود ہو، ہمیشہ کا شوق رہا ،،اور آپ انتہائی ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے بھی رہے،،جیسے،،کامران خان،اور کاشف سے سوٹ پہنے کا،،مہر سے بات کو منہ در منہ گھمانے دینے کا،شاہد مسعود سے اپنی چھوڑنے اور دوسرے کو باری نہ دینے کا،،اور شاہزیب جیسوں سے ،مکا مکی کا

آجکل عزت صحافت جناب نصرت جاوید سے نیچے جانے کا مقابلہ کررہے ہیں،دیکھیں کون پہلے تہہ تک پہونچتا ہے،،

فائینل،،،آپ بلا مبالغہ شہسوار صحافت ہیں،نوجوانوں کے منہ میں اگرانکی،کاشف،مبشر لقمان، یابادامی کی اینکری،اور بزرگوں کے منہ میں، کامران خان صاحب ،شاہد مسعود صاحب،شامی صاحب،حسن نثار صاحب کی ٹیکری دیکھ کر پانی آجاتا ہے ، انکے لئے جناب ایک مشعل کی مانند ہیں،،ایک ایسی مشعل ،،،جو ایک ایسی راہ پر لگی ہوئی ہے،جس پر نوجوان نہ ہی چلیں تو اچھا ہے

منہ زور

2014-09-20
 

ali-raj

Chief Minister (5k+ posts)
Buhat Ziada Class ho gaie hai Jidday ki.

Kahin [MENTION=46981]monh zorr[/MENTION] bhi Rashid ki tarhan ghaib na ho jaye.
 

Naj-khan

Senator (1k+ posts)
Achi khasi izzat sirf paise ke liye ganwa di. Allah jisay chahay izzat bakshay aur jisay chahe izzat de kar bhi zaleel karwa day
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
بہت اعلی ،اگرچہ مرکزی کردار یعنی جیدا کافی منحوس ہے ہر طرف سے پھر بھی تحریر کا ایک لفظ دلچسپ ہے مبارکباد .
 

Athra

Senator (1k+ posts)
لگتا ہے آپ کی جیدے کے ساتھ پرانی دوستی ہے جیسے جیدے کی دوستی عمران خان کے ساتھ تھی
 

sadani

Minister (2k+ posts)
Very nicely written, you have exposed this lifafa journalist , Awesome mind, awesome writing skills
 

monh zorr

Minister (2k+ posts)
Very nicely written, you have exposed this lifafa journalist , Awesome mind, awesome writing skills

،،،بڑی مہربانی،آپ سے غلطیوں کی نشاندہی اور تنقید کی امید ہے تاکہ آپکا یہ بھائی بھی دوچار الفاظ سلیقہ سے لکھ سکے
دعاؤں میں یادرکھئے گا
 

WatanDost

Chief Minister (5k+ posts)
ٹانگا نیکا کے مشہور فلسفی اور ماہر سماجیات 'جوشومالٹپاؤکا' کا قول ہے، کہ "دنیا میں نام اور مال بنانےکا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپکےآس پاس جو بڑا آدمی نظرآئے ،اس سے چپک جائیں،اور جب اس کے پاس کوئی اس سے بڑا ملنے آجائے تو پہلےکو دشنام طرازی کرتے ہوئے دوسرے سے لٹک جائیں،،آپ اس قول پر جتنا غور کریں گے،اتنا ہی سرور پائیں گے،
اور شائدآپکو پتہ چل جائے کہ کل کے چپڑ قناطی،آج کے اوناسس،اور بقراط کیسے بنے پھرتے ہیں


سیاست پی کے پر موجود " بانکے پٹواریوں " کو اس فارمولاے پر چسپاں کریں
جو " قلم گھیسیاں " کرتے پھرتے ہیں تو لطف دوبالا ہو جاۓ گا
:biggthumpup: