جہلم،نامعلوم افرادکی فائرنگ سےسابق فوجی افسرکا قتل،بھارتی میڈیا کاپراپیگنڈا

5ameerhammzksjsjjprooaganns.png

جہلم میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بریگیڈئر ریٹائرڈ امیر حمزہ کی موت پر بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈا جاری۔ سابق فوجی افسر پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق بریگیڈیئر ریٹائرڈ امیر حمزہ کو جہلم میں پنڈدادنخان للہ موٹروے انٹرچینج کے قریب دوران سفر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔فائرنگ کے واقعہ میں انکی بیٹی زخمی ہوئیں جبکہ اہلیہ محفوظ رہیں۔ امیر حمزہ ریسکیو 1122 پنجاب میں بطور ڈائریکٹر بھی خدمات سر انجام دے چکے تھے۔

بھارتی میڈیا نے سابق فوجی افسر کی موت کے بعد پرپیگنڈا شروع کر دیا اور ان پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔

بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا 'پاکستان کی جاسوسی ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے آپریٹو امیر حمزہ پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔ چاروں افراد نے آئی ایس آئی کے سابق افسر پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ ان کا ٹارگٹ مر چکا ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ حملے کے وقت امیر حمزہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور انہیں بھی معمولی چوٹیں آئیں'۔

بھارتی میڈیا نے الزام لگایا کہ امیر حمزہ کو انسداد دہشت گردی ایجنسیوں کے لیے اس شخص کے طور پر جانا جاتا تھا جو بھارت کے خلاف آئی ایس آئی کی جانب سے کیے جانے والے آپریشنز میں ملوث تھا اور اسے 2018 میں بھی جموں و کشمیر کے سنجوان آرمی کیمپ پر حملے کے پیچھے دماغ میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ اس حملے میں چھ فوجی مارے گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔

بھارتی میڈیا نے دعوی کیا وہ سنجوان حملے میں ملوث دوسرے پاکستانی ہیں جنہیں ختم کر دیا گیا ہے۔

Capture.jpg

گزشتہ نومبر میں، لشکر طیبہ کے کمانڈر خواجہ شاہد عرف میاں مجاہد، جو ایک اور اہم سازشی سمجھے جاتے تھے، کو ایل او سی کے قریب پی او کے میں سر کاٹ دیا گیا تھا۔

سابق فوجی افسر کی بیوی اور بیٹی، جو گاڑی میں ان کے ساتھ تھیںانہوں نے پولیس کو بتایا کہ شوٹروں نے کوئی سامان نہیں لیا۔ مقتول آئی ایس آئی کے شخص کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ پاکستانی پولیس نے کہا ہے کہ یہ ایک ٹارگٹ قتل تھا۔

بھارتی میڈیا نے ایکسپریس ٹریبیون نے قوٹ کر کے کہا کہ حمزہ کے بھائی ایوب اس حملے کے گواہ تھے کیونکہ وہ حملے کے وقت اپنے بھائی کی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے۔ اگرچہ وہ مدعی ہیں، وہ بھی پولیس کی نظر میں ہیں۔ ریسکیو 1122 سروس، جو موقع پر پہنچی، نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی موت اور اس کی بیوی اور بیٹی کو پہنچنے والے زخموں کی تصدیق کی۔ پولیس نے کہا "ہم اسے 'اندھا قتل کیس' کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔ ہم نے ایک کیس درج کر لیا ہے اور حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

بریگیڈیئر امیر حمزہ نے اپنی ریٹائرمنٹ تک کلیدی نگران عہدے سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کا آخری عہدہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی (1122) کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر تھا۔

یہ پاکستانیوں کے قتل کی ایک سلسلہ وار کہانی میں تازہ ترین واقعہ ہے۔ اپریل میں، عامر سرفراز کو لاہور میں نامعلوم مسلح افراد نےقتل کر دیا تھا ۔ نامعلوم افراد نے دسمبر میں کراچی میں عدنان احمد عرف ابو ہنزلہ کو بھی گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ اکتوبر میں سیالکوٹ میں ایک مسجد میں نامعلوم حملہ آوروں نے شاہد لطیف کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

https://twitter.com/x/status/1803677789427548567
 
Last edited by a moderator: